غریب پاکستانی اور مہنگائی
13 جنوری 2020 2020-01-13

چند دن پہلے کراچی میں 5بچوں کے باپ نے اس لیے خودکشی کر لی کیونکہ اس کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ وہ اپنے بچوں کی فرمائش یا ضد پوری کر سکتا۔ وہ بیروزگار تھا۔ اس لیے اپنے بچوں کے لیے سردیوں کے نئے کپڑے نہیں خرید سکا۔ وہ کتنے کرب، تکلیف اور غم کی کیفیت میں مبتلا رہا ہو گا۔ اس کے دل و دماغ پر کیا گزری ہو گی جو اپنے بچوں کو ہنستا کھیلتا دیکھ کر جیتا ہو گا۔ اپنے بچوں کے چہروں پر ایک مسکراہٹ لانے کے لیے کتنے جتن کرتا ہو گا مگر وہ بچوں کی خواہش پوری نہ کر سکنے پر ہمیشہ کے لیے انہیں چھوڑ کر چلا گیا۔ اس نے اپنے بچوں کی آنکھوں میں ایسا کیا دیکھا ہو گا جو اس سے برداشت نہیں ہوا۔ اس نے اپنے بچوں کے چہروں پر ایسا پڑھا لیا کہ دنیا چھوڑ گیا۔

کیا وہ پاکستانی سماج میں اکیلا ایسا شخص تھا جو اس کرب اور تکلیف سے گزر رہا تھا۔ ہمارے ملک کے عوام کی اکثریت اسی کیفیت میں مبتلا ہے۔ جسم اور روح کا رشتہ برقرار رکھنا مشکل سے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ غربت اور مہنگائی نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ خاص طور پر مہنگائی نے تو لوگوں سے مسکراہٹ اور چھوٹی چھوٹی خوشیاں بھی چھین لی ہیں۔ انہیں روزانہ اپنی چھوٹی چھوٹی خواہشات اور آرزوؤں کو بھی قتل کرنا پڑتا ہے۔ جب آرزوؤں اور خواہشات کو مسلسل دبانا اور ان کا گلا گھونٹنا مشکل ہوتا جاتا ہے تو پھر لوگ اپنی زندگی کے

خاتمے کو ترجیح دیتے ہیں۔ حکومتی معاشی ماہرین تو معیشت کے استحکام کے لیے کوشاں ہیں۔ انہیں تو آئی ایم ایف اور عالمی بینک کو مطمئن کرنا ہے۔ انہیں خوش رکھنا ہے۔ اشرافیہ کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ ان کے پاس اتنا وقت کہاں ہے کہ وہ غریبوں کے تلخ حالات زندگی کے بارے میں سوچیں۔ عوام اور حقائق سے اکٹھے ہوئے ماہرین اور اشرافیہ کو احساس ہی نہیں ہوتا کہ ضروریات زندگی، خوراک، بجلی، گیس ، پٹرول اور سبزیوں وغیرہ کی قیمتوں میں معمولی ردوبدل انہیں کتنی مشکلات اور اذیتوں سے دو چار کرتا ہے ۔ جو لوگ 7 ہزار سے 15 ہزار روپے ماہانہ کماتے ہیں ۔ کرایوں کے گھروں میں رہتے ہیں۔ ان کی جیبوں پر جب 1000 روپے یا اس سے زیادہ کا اضافی بوجھ پڑتا ے تو ان کی کیا حالت ہوتی ہے۔ 1000 روپے کی حکمران اشرافیہ کے سامنے کیا اوقات ہے۔ اتنی تو وہ کسی بھی ریسٹوڑنٹ میں کھانا کھا کر ٹپ دے دیتے ہیں۔ بالائے درمیانے طبقے کو بھی دو چار ہزار سے کوئی فرق نہیں پڑتا مگر جو شخص کماتا ہی سات ، دس یا پندرہ ہزار ہو تو اس کو ایک یا دو ہزار روپے سے بہت فرق پڑتا ہے۔ قیمتوں میں معمولی ردوبدل انہیں یہ فیصلہ کرنے پر مجبور کر دیتا ہے کہ انہوں نے بچوں کو سکول بھیجنا ہے یا کام پر ۔ انہیں یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ انہوں نے بیماری کے لیے دوا خریدنی ہے یا بچوں کا پیٹ بھرنا

ہے۔ اب تو لنڈے کے کپڑے اور جوتے بھی ان کی پہنچ سے باہر ہو گئے ہیں۔ ایک یا دو ہزار کی کیا قیمت ہوتی ہے یہ تو اس غریب عورت سے کوئی پوچھے جو اتنے پیسوں کے لیے اپنی عزت تک بیچ دیتی ہے۔ اس ملک کے غریب لوگوں کے گلیوں، محلوںا ور بستیوں میں زندگی کتنی تلخ اور مشکل ہو گئی ہے۔ محلات خادم ہاؤسوں اور خوبصورت اور محفوظ سوسائٹیوں میں رہنے والی حکمران اشرافیہ تو اس کے بارے میں سوچنا بھی پسند نہیں کرتی۔ ان کو اندازہ بھی نہیں ہے کہ جب افراط زر کی شرح میں ایک فیصد اضافہ ہوتا ہے تو کتنے لاکھ پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے چلے جاتے ہیں۔ اگر ان کو اندازہ ہوتا تو یہ افراط زر میں تین گنا اضافہ کرنے کے بعد اپنے آرام دہ گھروں میں سکون کی نیند نہ سو سکتے۔ مہنگائی کے طوفان نے تو پاکستان کے عوام کی غالب اکثریت کو واضح طو رپر متاثر کیا ہے۔ ایک طرف قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں تو دوسری طرف حقیقی آمدن میں کمی آ رہی ہے۔ معاشی بحران کی وجہ سے نجی شعبے میں تنخواہوں میں کمی کا رجحان غالب ہے یا پھر جمود طارق ہے۔ لاکھوں روپے تنخواہیں لینے والے معاشی ماہرین اور حکومتی ترجمانوں کو شاید مہنگائی کے اس طوفان سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا کیونکہ ان کو شاید ذاتی خرچ پر ملک سے باہر ایک آدھ سفر کم کرنا پڑے یا کبھی کبھار مہنگے ہوٹل کی بجائے گھر پر پر تعیش کھانا تناول فرمانے کی قربانی دینی پڑے مگر جب افراط زر کی شرح 12.6 فیصد ہو تو یہ غریب عوام اور لاکھوں گھرانوں کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ ان کے سامنے یہ سوال کھڑا ہو جاتا ہے کہ انہوں نے زندگی سے اپنا رشتہ برقرار رکھنے کے لیے دوائی کھانی ہے یا روٹی۔ کسی کھانستے بزرگ کی دوائی کا بندوبست کرنا ہے یا پھر کسی بھوک سے بلکتے بچے کے لیے دودھ یا کھانے کا بندوبست کرنا ہے۔ وقت پر کرایہ دینا ہے یا پیٹ کی دوزخ بھرنی ہے۔ معیشت کے استحکام کے لیے موجودہ حکومت جو کچھ کر رہی ہے اس کی اصل قیمت غریب عوام کو ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ مہنگائی میں اضافے کی دو بنیادی وجوہات ہیں۔ ایک تو حکومتی پالیسیاں اقدامات اور دو دوسری ناجائز منافع خوری، جہاں تک حکومت پالیسیوں کا تعلق ہے تو جب 16 ماہ میں 15 مرتبہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے نا م پر مہنگی ہو گی۔ جب پٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو گا۔ گیس مہنگی ہو گی تو کاروباری اخراجات میں اضافہ ہو گا۔ حکومت بالواسطہ ٹیکس عائد کرے گی یا ان کی شرح میں اضافہ کرے گی تو اس سے مہنگائی آئے گی۔ اشرافیہ ٹیکس نہ دے تو اس کا بوجھ عوام پر ڈال دو۔ تاجر ٹیکس نہ دیں تو اس کا بوجھ عوام پر منتقل کر دو۔ جب بالواسطہ ٹیکس عائد ہوتے ہیں تو صنعتکار اور تاجران کا سارا بوجھ عوام پر منتقل کر دیتے ہیں۔ حکومت کو تو اپنے اہداف حاصل کرنے ہیں۔ ان کو تو عالمی مالیاتی سامراجی اداروں کو خوش کرنا ہے تا کہ مزید قرض لیا جا سکے۔ اس لیے عوام پر کیا بیت رہی ہے، وہ کس اذیت میں مبتلا ہیں اس سے حکومتی معاشی ماہرین کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ٹیکس لگائے جاؤ۔ مہنگائی کرتے جاؤ۔ بجلی، گیس، پٹرول مہنگا کرتے جاؤ اور پھر معصومیت سے کہو کہ مہنگائی کی وجہ ہماری پالیسیاں تو نہیں ہیں۔ یہ تو پچھلی حکومتوں کی لوٹ مار کا نتیجہ ہے۔ بس تھوڑا صبر کریں۔ پھر سب ٹھیک ہو جائے گا۔ کب تک ہو جائے گا یہ خود ان کو بھی پتہ نہیں ہے۔

دوسری وجہ قیمتوں پر حکومتی کنٹرول کا خاتمہ ہے۔ قیمتوں کو کنٹرول رکھنے کا جو تھوڑا بہت نظام موجود تھا وہ بھی تباہ ہو چکا ہے۔ دکھادے کہ چھاپوں اور اجلاسوں کے علاوہ عملی طور پر کوئی ایسا نظام اور میکنزم موجود نہیں ہے جو کہ قیمتوں کو کنٹرول میں رکھ سکے اور ناجائز منافع خوری کو روکے۔

آزاد منڈی کی محبت میں قیمتوں کا تعین ہم نے سرمایہ داروں، تاجروںا ور صنعتکاروں پر چھوڑ دیا ہے۔ ہم نے آزاد منڈی کی اندھی قوتوں کو یہ مکمل اختیار دے دیا ہے کہ وہ جیسا چاہیں صارفین کا استحصال کریں۔ آزاد منڈی کا منہ زور گھوڑا اب قابو سے باہر ہو گیا ہے۔ آزاد منڈی کچھ زیادہ ہی آزاد ہو گئی ہے۔


ای پیپر