امر یکہ ایرا ن کشید گی اور پا کستا ن کا کردار
13 جنوری 2020 2020-01-13

پہلے تو نائن الیو ن کے فو ری بعد پیدا ہو نے والے حالات اور اْن کا خصو صی طو ر پر وطنِ عز یز پر ہو نے اثرا ت کا جائزہ لے لیتے ہیں۔تو قا ر ئین کرا م آ پ کو اس وقت کے امریکی صدر کا وہ بیا ن یا د ہو گا جس میں انہو ں نے پو ری دنیا کو انتبا ہ کر تے ہو ئے کہا تھا کہYou cannot be neutral in this war. Your have to be on the either side. Choice is yours. پھر اسی انتبا ہ کے پسِ منظر کے سا تھ پا کستا ن کی سر ز مین کو افغا نستا ن میں مو جو د طا لبا ن کے خلا ف استعما ل کر نے کے لیئے اس وقت کی پا کستا نی حکو مت سے اجا زت چا ہی تھی۔ سچ کی کہو ں تو اس وقت کی پاکستا نی حکو مت کے پا س امر یکہ کا سا تھ دینے کے علا وہ کو ئی چا رہ بھی نہ تھا کیو ں کہ یہ وہ حا لا ت تھے جن کے تحت امر یکہ پو ری دنیا کے سا منے ایک مظلوم کے طورپر پیش ہوا تھا۔ تا ہم اب امریکہ اور ایران کے در میا ن بڑ ھتی ہو ئی کشید گی کے با وجو د پا کستا ن اس پو ز یشن میں ہے کہ وہ کسی کی بھی ڈ کٹیشن لینے سے انکا ر کر سکتا ہے۔ چنا نچہ اسی حو الے سے پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا یہ بیان مشرق وسطیٰ کی تازہ صورتحال کے تناظر میں پاکستان کی پالیسی واضح کرتا ہے۔ تین جنوری کی رات بغداد میں امریکی حملے میں ایران کی قدس فورس کے جنرل قاسم سلیمانی کی موت کے بعد امریکہ اور ایران کی کشیدگی نئی انتہا ؤں کو پہنچ چکی ہے۔ اگرچہ دونوں ملکوں میں گزشتہ برس کے وسط سے کشیدگی کا ماحول برقرار رہا ہے؛ تاہم ایران کے ایک اہم ترین فوجی کمانڈر کو نشانہ بنا کر امریکہ نے ایران کے معاملے میں سرخ لکیر عبور کرلی ہے۔ مشرق وسطیٰ کی اس کشیدہ صورتحال میں پاکستانی قوم کی تشویش واضح ہے۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ امریکی جنگوں کے حوالے سے پاکستانیوں کی یادیں بہت تلخ ہیں۔ نائن الیون کے بعد افغانستان میں امریکی مداخلت اور اس کے نتائج ہم نے ایک دہائی سے زائد مدت تک جس طرح بھگتے ہیں، وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ چنانچہ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جنگ کے طبل پاکستانیوں کو ماضی کی تلخیاں یاد دلاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایرانی جنرل پر حملے کے بعد جب امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے چیف آف آرمی سٹاف جنرل جنرل قمر جاوید باجوہ سے فون پر بات کی اور اس سے اگلے روز امریکہ نے فوجی افسران کی تعلیم و تربیت کے پروگرام میں پاکستانی فوجی افسران کی شمولیت کی بحالی کا اعلان کیا تو عوام کے خدشات ابھر کر سامنے آئے اور سوشل میڈیا پر اس حوالے سے عوامی آرا کا اظہار بھی کیا جانے لگا۔ تاہم ڈی جی آئی ایس پی آر کی اس وضاحت کے بعد ان

خدشات کا ازالہ ہوجانا چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ نائن الیون کے بعد کے واقعات اور موجودہ صورتحال میں کوئی مناسبت نہیں۔ اس وقت امریکہ دہشت گردی کے ایک بڑے حملے کا نشانہ بن چکا تھا، جس کا الزام وہ افغانستان میں موجودہ دہشت گرد گروہوں پر عائد کرتا تھا، ادھر پاکستان میں بھی حالات مختلف تھے کہ ملک میں فیصلہ سازی کا اختیار سمٹ کر ایک شخصیت کے ہاتھوں میں تھا جس نے امریکی استدعا پر جس طرح تعاون کی حامی بھری وہ بقول امریکیوں کے خود ان کی اپنی توقعات سے بڑھ کر تھی۔ آج وہ حالات ماضی بعید کا حصہ بن چکے ہیں۔ مگر ان واقعات کے نتائج ہمارے سامنے ہیں۔

افغانستان پر امریکی یلغارکے نتیجے میں پھیلنے والی دہشت گردی کا عفریت ہمارے ملک میں 80ہزار سے زائد جانیں نگل چکا ہے جبکہ دہشت گردی کی اس لہر کا معاشی نقصان تقریباً 120 ارب ڈالر تھا۔ دہشت گردی کی اس لہر پر ہمارے دفاعی اداروں نے کس طرح قابو پایا، کتنی قربانیاں دی گئیں، پاکستانی شہری ان حقائق سے اچھی طرح آگاہ ہیں۔ دوسری جانب

افغانستان اس جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے انتشار پر ابھی تک قابو پانے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ یہ المناک تجربات ہمیں خطے میں کسی نئی محاذ آرائی کا حصہ بننے کی ہرگز اجازت نہیں دیتے۔ علاوہ ازیں یہ حقیقت بھی اپنی جگہ ہے کہ امریکہ کی جانب سے دنیا بھر میں مداخلت اور تھانے دار بننے کی روش نے دنیا کو کچھ نہیں دیا سوائے عدم استحکام اور اقوام عالم کے مابین کشیدگی اور محاذ آرائی کے۔ مشرق وسطیٰ ہی کو دیکھ لیں، اس خطے کے سبھی ممالک اپنے اصولی اختلافات کے باوجود پرامن ہمسائیوں کی طرح رہے ہیں اور یہ سبھی ممالک اپنے مخصوص نظام ہائے حکومت کے ساتھ مستحکم طور پر قائم رہے ہیں۔ مگر پچھلی ایک ڈیڑھ دہائی نے مشرق وسطیٰ کے خطے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے جبکہ تازہ صورت حال نے خطے کو تباہی کے دہانے پر پہنچادیا ہے۔ ان حالات میں خطے کے تمام بااثر ممالک کی ذمہ داری ہے کہ جہاں تک ہوسکے تباہی کے منڈلاتے بادلوں کے خلاف ڈھال بنیں نہ کہ جلتی پر تیل کا کام کریں۔ یہ صورتحال خوش آئند ہے کہ ان حالات میں پاکستان کی مسلح افواج کی جانب سے ایسا بیان آیا جس نے واضح کردیا ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین کسی محاذ آرائی کے لیے فراہم نہیں کرے گا۔ چین، روس، ترکی اور خطے کے دیگر اہم ممالک کی پوزیشن بھی اس معاملے میں پاکستان سے مختلف نہیں۔ یہ صورتحال تسلی دیتی ہے کہ امریکہ اور ایران کے مابین کھلی جنگ کے خطرات کو کم کرنے میں مدد حاصل ہوگی۔ جنرل قاسم سلیمانی ایرانی فورس کے اہم کمانڈر تھے اور امریکی حملے جیسا واقعہ کسی بھی ملک کے لیے برداشت کی حدوں سے باہر کی بات ہے۔ اس لیے ایرانی فورسز اور حکومت کی جانب سے بدلے کا بیانیہ سمجھ میں آتا ہے مگر پاکستان، چین اور خطے کے دیگر اہم ممالک کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اس معاملے میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں تاکہ اس تلخ ترین صورتحال میں تحمل سے کام لیا جائے۔ یہ حوصلہ افزا ہے کہ پاکستان اس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کررہا ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے گزشتہ روز اپنے ایرانی ہم منصب جواد ظریف کے ساتھ ٹیلیفونک رابطہ کرکے مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال پر بات چیت کی۔ دونوں کے مابین خطے میں امن و امان کی صورتحال پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ توقع کی جاتی ہے کہ دوسرے مسلم ممالک بھی اس سلسلے میں پاکستان کی کوششوں کا ساتھ دیں گے اور یوں خطے کو ایک تباہ کن جنگ کے خطرات اور اندیشوں سے نکال لیا جائے گا۔ بہرحال پاکستان نے واضح کردیا ہے کہ وہ اس خطے میں جارحیت کے لیے کسی کو بھی اپنا کندھا پیش نہیں کرے گا۔ اقوام متحدہ سے بھی امید کی جانی چاہیے کہ وہ بھی امن، استحکام اور تحمل کے قیام کے لیے قدم بڑھائے۔ مشرق وسطیٰ کا خطہ تیل کی پیداوار کے اعتبار سے بھی دنیا کے لیے اہم ہے اور اس خطے میں کشیدگی کا مطلب ہے کہ توانائی کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ ہوگا اور پوری دنیا اس کے بھیانک نتائج کو بھگتے گی ۔


ای پیپر