شکریہ احباب
13 جنوری 2020 2020-01-13

سال گذشتہ رخصتی سے پہلے جاتے جاتے دل کے روگ کا دائمی تحفہ دے گیا۔ یہ دل کا وہ روگ ہرگز نہیں۔ جو نہ ہوتا تو کم از کم اردو شاعری میں رزمیہ داستانیں ہی رہ جاتیں۔ یا پھر بادشاہوں کی شان میں کی گئی مدح سرائی۔ کیسی بے کیف ہوتی ٹشو شاعری۔ قلب کے روگ کا تجربہ تو بہت دفعہ ہوا۔ کبھی حقیقی اور کئی دفعہ محض ڈرامہ۔ لیکن دس نومبر کی واردات قلب بہت مختلف تھی۔ اجل ناگہانی نے گھات لگا کر حملہ کیا۔ لیکن بچانے والی بالادست ذات صاف بچا لے گئی۔ شائد خلد مکانی ماں باپ کی دعائوں کا سٹاک ابھی باقی ہے۔ بہن بھائیوں کی شفقت۔ عزیز و اقارب کی الفت ، اہل خانہ کی جذباتی وابستگی اور دنیا بھر میں پھیلے احباب کی شرابورکر دینے دعائوں کی بارش نے ڈھال کا کام دیا۔ میرے ایسے مردم بیزار اور ہمیشہ لئے دئیے رہنے والے شخص کیلئے اتنی دعائیں ؟ کبھی رات کو ایسے میں جب صرف تنہائی کی رفاقت میسر ہوتی ہے۔ سوچتا ہوں کہ اگر اس روز دھڑکتا دل بازی ہار جاتا تو کیسے پتہ چلتا کتنے ہاتھ دعائوں کیلئے اٹھے۔ کیسے کیسے احباب تڑپ اٹھے۔ کون تھے جو سب کام کاج چھوڑ چھاڑ راولپنڈی کے شفاخانہ عارضہ قلب کی جانب بھاگ اٹھے۔ وہ کشادہ دل کون تھے انتظار گاہ میں ڈیرے ڈال کر بیٹھ گئے ؟ وہ جو جیبوں میں بڑی رقوم ڈال کر پہنچے کہ کہیں اس صاحب فراش بندہ مزدور کے اہل خانہ کو پریشانی کا سامنا نہ ہو۔ کامیاب آپریشن کے بعد ، سٹنٹ سے مزین دل کے ساتھ انتہائی نگہداشت کے کمرہ میں منتقل ہوا تو چند گھنٹوں بعد ہی پہلی خلاف ورزی کی اور فون کھول لیا۔ محبتوں اور تشویش کے اظہار سے بھری سوشل میڈیا پیجز نے تحفظ کا احساس دلایا کہ تم اکیلے نہیں ہو۔ ان سب احباب کا شکریہ۔ ہم تو کسی کے گھر سے پانی کا گھونٹ پی لیں تو اس کے سامنے نگاہ نہیں اٹھتی۔ اتنی محبتوں کا قرض کون چکاے گا ؟ شفا خانے کے سربراہ جنرل اظہر کیانی کی توجہ اور مشاق طبیبوں کی حیات نو پھونک دینے والی مہارت۔ اس کا کوئی معاوضہ ہے ؟ نہیں ہرگز نہیں۔ ایک لمحہ ، کوئی ایک حادثہ ، شاہراہ زندگی پر سامنے آیا کوئی اچانک موڑ۔ طرز زندگی ، رہن سہن ، سوچ سب کچھ بدل دیتا ہے۔ کم از کم وقتی طور پر ہی سہی۔ سیدھے راستے پر چلتے چلتے کوئی گمراہی کی ٹیڑھی پگ ڈنڈیوں پر چل پڑے تواور بات ہے۔ ورنہ حادثے بہت کچھ بدل دیتے ہیں۔ بہت سے سبق سکھاتے ہیں۔ دل پر گزری واردات نے سبق دیا کہ دنیا میں محبت اور ایثار اتنی بھی کم یاب نہیں جتنی ہم قنوطی سمجھتے ہیں۔ نئی بات کے ادارتی صفحے سے غیر حاضری تو پہلے بھی رہی۔ کبھی چند روزہ کبھی قدرے طویل۔ لیکن اس بار تو وقفہ طویل ہوگیا۔ وجہ ؟ علالت اور پھر اس کے بعد شفا یابی کا عمل۔ کمر باندھنے کی کوشش ’’ ارادوں‘‘ کے بننے اور پھر بغیر کسی وجہ کے ٹوٹ جانے کی مشق۔ وجہ اگر کوئی تھی وہ محض روائتی طبعی سستی۔ بس تاخیر ہوتی چلی گئی۔حالانکہ کیمرہ کی مزدوری تو تین ہفتوں کے بعد ہی شروع گئی تھی۔ کاروبار حیات کے اپنے تقاضے ہیں۔جن سے زیادہ بے رحم چیز اس کائنات میں کوئی پیدا ہی نہیں ہوئی۔ ان تقاضوں کی بھٹی میں خون جگر جھونکنا پڑتا ہے تب کہیں جا کر آتی جاتی سانسوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ بھاگتی دوڑتی زندگی کے قاعدے قانون میں رخصت اتفاقیہ ہوتی ہے نہ کوئی طبی بنیادوں پر چھٹی۔ کوئی دید لحاظ کر جاے تو اس کی کشادہ دلی۔ شکریہ آج نیوز کی مینجمنٹ کا کہ جس نے خبر گیری کے تمام تقاضے ہورے کیے۔ زندگی کی شاہراہ پر معمول کے مطابق ایک نئے سفر کا آغاز ہوچکا۔ ایسے ہی جیسے چلتی گاڑی کچھ خرابی کہ بعد دوبارہ چل پڑے۔ ذرا پہلے سے سست رفتار اور احتیاط کے ساتھ۔ لیکن یہ تو ہوتا ہے۔ حادثے بے سبب ہوتے ہیں نہ اچانک۔ بس ہم خاکی انسانوں کو سمجھ نہیں آتی۔ اللہ تعالی سب کو اپنے حفظ و ایمان میں رکھے۔ احبا ب، عزیز و اقارب ، ماں جائیوں، اہل خانہ اور تیمار داروں کے شکریہ جنہوں نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ یہ عامی ان کیلئے بہت خاص ہے۔


ای پیپر