ہمارے انقلابی رہنما
13 جنوری 2020 2020-01-13

’’انقلاب باتوں سے نہیں آتے بلکہ بہت پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں اگر عوام ساتھ نہ دے تو کچھ نہیں بن پاتااور انقلابی خود تاریخ میں دفن ہوجاتا ہے بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو تاریخ کا دھارا موڑ لیتے ہیں ہم نے تو کئی بار تاریخ کا دھاراموڑا ہے اب دیکھیں ذوالفقار علی بھٹونے کیا نہیں کیاانڈیاسے فوج کو رہائی دلائی اور پھر حکومت بھی دلیری سے کی بس شملہ معاہدے سے پردہ نہیں اُٹھا سکے باقی تو بہت کچھ کیا ہے اسلامی سربراہ کانفرنس لاہور منعقد کرائی پھر اُن کی بیٹی محترمہ بے نظیر بھٹو نے جمہوریت کی بحالی کے لیے کام کیا اورملک کی فوجی حکومت سے جان چھڑائی میرے پاپا آصف علی زرداری نے پانچ سالہ حکومت کے دوران لوگوں کی خدمت کی پھر بھی ہم سے آمدن کاحساب مانگا جارہا ہے ایسی بے اصولی ہم برداشت نہیں کرسکتے اگر موجودہ حکمران کچھ کرنا چاہتے ہیں تو ہم نے کب روکا ہے لیکن میرے پاپا اور پھوپھو سے ہی کیوں پوچھ تاچھ کی جارہی ہے کیا قائم علی شاہ سے بہتر وزیرِ اعلیٰ سندھ کو نہیں دیا جو ہر جگہ سوتا نہیںبلکہ جاگتا رہتا ہے اخباری بیان بھی جاری کرتا ہے میری تقریریں خشوع و خضوع سے سُنتا ہے موقع ہو یا نہ ہوتالیاں بجاکر میری حوصلہ افزائی کرتا ہے اگر بیرونِ ملک ہمارے چند ایک اکائونٹ ہیں تو عمران خان کو کیا مسئلہ ہے وہ ہمارے خاندان پر کیوں الزام لگاتا ہے ہم نے تو کبھی اُس کے ماضی پر لب کشائی نہیں کی حالانکہ ہم چاہیں تو بہت کچھ لوگوں کو بتا سکتے ہیں پھر بھی خاموش ہیں لیکن عمران خان ہمارے لتے لیتے رہتے ہیں ؟میں آپ پرواضح کردوں اگر عمران خان نے اپنی روش نہ بدلی تو ملک ترقی نہیں کر سکتا اور وفاق پر بُرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور ہم جیسے انقلابیوں کو انقلاب لانے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں ‘‘۔

’’ہم سے بڑا کون انقلابی ہو سکتا ہے میرے والد نے ملک کے لیے کیا نہیں کیا موٹرووے بنائے چھانگا مانگا کی سیاست شروع کی پاکستان کا نام پوری دنیا میں روشن کیاپھر بھی پانامہ کیس بنایا گیا جو اصل میں حکومتی بغض میں ہے حالانکہ اِس کیس پر تو ہماری حوصلہ افزائی ہونی چاہیے تھی کیونکہ ہم نے کسی کو پتہ بھی نہیں چلنے دیا اور جائیدادیں بنا لیںلیکن کنجوس حکومت نے شاباش دینے کی بجائے ہم سے منی ٹریل کا تقاضا شروع کر دیا ہماری مخالفت اصل میں ملک دشمنی ہے جس کی عمران خان کو سمجھ نہیں اقامہ بنوانا کون سا جرم ہے اور اِس پر کون سی دفعہ لگتی ہے؟کچھ ہمیں بھی تو بتایا جائے وہ میں نے بتانا تھا کہ میراوہ بیان جس میں میں نے کہا تھا کہ بیرونِ ملک تو کیا میری تو ملک میں بھی کوئی جائیداد نہیں اصل میں مجھے کئی باتیں یاد نہیں رہتیں ایون فیلڈ میرے بھائیوں کا

ہے ویسے بھی ہم تو جدی پشتی رئیس ہیں اِس لیے ہمیں سوال وجواب کے کٹہرے میں کھڑا کیا جانا ٹھیک نہیں قانون تو عام لوگوں کے لیے ہے ہمارا کسی نے احتساب کرنے کی کوشش کی یا ہم سے خصوصی سلوک نہ کیا گیا تو یاد رکھیں ہم کسی سے ڈرنے والے نہیں ہم تو چاہتے ہیں ووٹ کو عزت دو لیکن اگر ووٹ کو عزت نہیں ملتی تو کوئی بات نہیں ہمیں ہی عزت دے دیں ہم انقلابی لوگ ہیں اور ملک میں انقلاب لانے کے لیے کوشاں ہیں اگر انقلاب نہیں آتا اور سیلاب آجاتا ہے تو ہمارا کیا قصور ہے ویسے بھی عوام کے بنا انقلاب نہیں آسکتا لیکن جب سے ہمارے خاندان پر کیس بنے ہیں عوام ساتھ نہیں دے رہی جس پر مجھے بہت غصہ آتا ہے اسی لیے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ فی الحال اپنا علاج کرائیں اور جائیداد بچانے کی طرف توجہ دیں جب عوام کو ہوش آگئی اور انھوں نے ہمیں یاد کیا تو انقلاب لانے کا سلسلہ دوبارہ شروع کریں گے مگر اِس سے پہلے موجودہ حکومت کو گھر بھیجیں گے تاکہ ہمیں انقلاب لانے میں آسانی ہو ایک اور بات کرنی ہے کہ مجھے بھی جلد از جلد بیرونِ ملک جانے کی اجازت دی جائے تاکہ میں اپنے والد کے علاج معالجے میں ہاتھ بٹا سکوں اور اپنے بھائیوں سے حساب لے سکوں وگرنہ فوج سمیت ہر اِدارے پر الزام تراشی شروع کردیں گے ‘‘۔

’’دیکھیں جی جب پاکستان بنا بھی نہیں تھا تو ہم ملک میں انقلاب لانے کی جدوجہدکر رہے تھے انقلاب میں خون بہتا ہے جس کا رنگ سرخ ہوتا ہے اسی مناسبت سے ہم نے تو اپنا نام بھی سرخ پوش رکھ لیا ہے ٹھیک ہے پاکستان ہمارا ملک ہے مگر ہم افغانستان اور انڈیاسے بھی بہت پیار کرتے ہیں ایک بار ایک صوبے کی حکومت ہمیں ملی تھی ہم نے موقع سے پورا فائدہ اُٹھایا اور انقلاب لانے کی جدوجہد تیز کی جس کی پاداش میں کئی کیس بھگت رہے ہیں لیکن اب تو حالات بہت پتلے ہیں حکومت ہمیں لفٹ نہیں کراتی اورعوام بھی ایک بار لفٹ کراکر بے زار ہوگئی ہے ایسے حالات میںانقلاب کی منزل نہیں مل سکتی اپنے مولانا صاحب نے انقلاب کا لالچ دے کر ہمیں اسلام آباد میں ذلیل کرایا اور خود اپنے گھر میں آرام سے بیٹھے ہیں لیکن ہم لوگوں کے طعنے سن رہے ہیں خیر طعنے سننے کے ہم پرانے عاد ی ہیں کچھ لوگ کہتے ہیں ہم نے مولانا کے پیچھے لگ کر ٹھیک نہیں کیا یار بات دلیل سے ہونی چاہیے کیا آپ نہیں جانتے مولانا اور ہم میں کئی اقدار مشترک ہیں دونوں کے بزرگوںنے پاکستان بننے کی مخالفت کی اب ہم چاہتے ہیں دوسرے لوگ آرام کریں اور ملک کا اقتدار ہمارے حوالے کردیں تاکہ انقلاب کی راہ ہموار ہو‘‘۔

‘‘مجھے تو ملک میں ہر صورت انقلاب لانا ہے لیکن متحدہ مجلسِ عمل کے بعد مواقع نہیں مل رہے جس پر بہت پریشان ہیں آزادی مارچ کا کوئی فائدہ نہیں ہواپلان اے بی سی سب چوپٹ ہوچکے پھر بھی انقلاب کے لیے جدوجہد کررہے ہیں لیکن اسمبلی سے باہر ہونے کی وجہ سے کامیابی نہیں مل رہی ویسے میرا بیٹا قومی اسمبلی میں ہے مگر ہم چاہتے ہیں اسلام آباد ہمارے حوالے کیا جائے تاکہ ہم اسلام نافذ کر سکیں ہمارے مارچ سے فائدہ اُٹھا کر کچھ لوگ ملک سے ہی کوچ کر گئے ہیں خیر وہ ملک میں ہوتے بھی تو ہماراکیا سنورنا تھا آپ کو پتہ ہے انقلاب کے لیے ہم نے آزادی مارچ کیا مگرحمایت کا یقین دلا کر ملک سے جانے والے ہم سے بھی ہاتھ کر گئے ہیں جس کی وجہ سے طبعیت میں ملال ہے اور کچھ بُرا حال ہے پاکستان بنانے کی ہمارے بزرگوں نے مخالفت کی ہے ہمیں تو پاکستان پر حکومت کرنے دی جائے اگر آپ ایسا نہیں کرتے تو اانقلاب کی راہ میں رکاوٹیں آجائیں گی‘‘۔

کراچی اور حیدرآباد کو بنانے سنوارنے کے لیے ہم نے ہر جتن کیا ہے ملک کے خلاف ہم نے کچھ نعرے لگائے تھے جس کی بنا پر ہماراگلوکار رہبر معتوب ٹھہرا لیکن ہے وہ بھی انقلابی اپنے دیس کو چھوڑ کر اب انڈیا میں مودی کو رام کرنے اورانقلاب کی راہ پر لانے کی کوشش کر رہا ہے کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کا ہمیں ذمہ دار ٹھہرانے والے یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ملک کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے جس کی وجہ سے مسائل میں اضافہ ہورہا ہے اِن حالات میں ہم آبادی کم کریں تو بھی اچھا نہیں سمجھا جاتا وکلا کسی کے قابو نہیں آتے ہم نے تو مئی کے مہینے میںوکلا کوکراچی میںعبرت کا نشان بنایا جو انقلاب کے لیے اشد ضروری تھا پھر بھی کچھ حلقے ہم سے خوش نہیں جس کی وجہ سے انقلاب کی منزل کھوٹی ہورہی ہے‘‘۔

’’کسی کو این آراو نہیں دینا کوئی چور ڈاکو نہیں بچے گا حکومت رہے یا نہ رہے سب کو احتساب کے شکنجے میں لائیں گے تاکہ ملک میں حقیقی انقلاب آ سکے کچھ لوگ ہماری معصومیت کا فائدہ اُٹھا کر ملک سے باہر چلے گئے ہیں لیکن ہم پھر بھی یقین دلاتے ہیں کسی کو این آراو نہیںدیں گے مہنگائی کے ذمہ دار سابق حکمران ہیں ہم نے تو ابھی کچھ کیا ہی نہیں اِس لیے ہم پر ذمہ داری ڈالنے سے گریز کریںمیرے پاکستانیوں گھبرانا نہیں مرغیاں اور کٹے پالنے کے منصوبوں سے انقلاب آئے گا اور اسی طرح کی اسکیموں سے ہی ملک دنیا کی نمبر ون قوم بن سکتا ہے پٹرول اور اشیائے خورونوش کے نرخ بڑھنے سے انقلاب کی منزل قریب سے قریب تر آئے گی میرے پاکستانیو آپ نے گھبرانا نہیں آپ نے حوصلہ رکھنا ہے‘‘۔


ای پیپر