’’بکسٹال پر کھڑے ہو کر پوری کتاب پڑھ ڈالنے والے …؟‘‘
13 جنوری 2020 2020-01-13

میں اور خرم گاڑی میں بیٹھے مدثر بھٹی کا انتظار کر رہے تھے، تقریباً آدھ گھنٹہ ہو گیا گجرات میں سردی پڑے تو ایسا لگتا ہے جیسے ہوائیں مری سے آ رہی ہیں، گرمی ہو تو یوں لگتا ہے جیسے ملتان والوں نے کوئی بڑی کھڑکی کھول دی ہو … گجرات کے گرد و نواح میں لوگ دسمبر جنوری میں روٹی کی بجائے اکثر کینو کھا کر گزارہ کر لیتے ہیں، جیسا کہ ملتان میں جون جولائی میں سب کام ’’آ م‘‘ سے ہی ہوتے ہیں، حکیم بھی آم کھا رہا ہوتا ، مریض بھی آم کھا رہا ہوتا ہے اور عوام کا رویہ بھی آم جیسا میٹھا ہوا ہوتا ہے … اور ہم لکھاری حضرات کو ایسے میں مرزا غالب یاد آ رہے ہوتے ہیں جو اپنی آم خوری کے ہاتھوں جانے جاتے تھے … پہچا نے جاتے تھے …

پچھلے سال ایک صاحب نے بوری بھر کے … مجھے کینو تحفے میں بھیجے، میں کسی کام سے لاہور جا رہا تھا … فون پر ’’بوری کی آمد‘‘ کی اطلاع ملی تو میں نے چوکیدار فیاض کو کہا یہ کینو سنبھال کے رکھ لو میں منگل والے دن واپس آئوں گا … تم بھی اگر دل کرے تو کچھ کینو میرے آنے تک استعمال کر لینا … باقی کے کینو دوستوں کو بھجوا دوں گا … میں نے دل ہی دل میں سوچا …

میں منگل کو آیا تو ہر طرف کینو کے چھلکے بکھرے ہوئے تھے میں نے پوچھا … ’’فیاض میاں … کینو لے آئو‘‘ … فیاض نے تین کینو پلیٹ میں رکھ کے مجھے پیش کئے … ’’باقی کے سنبھال لو‘‘ میں نے غیر ارادی طور پر کہا تو فیاض حیرت سے بولا … ’’سر دس بارہ کینو خراب نکلے، چوراسی میں نے کھا لئے یہ تین بچے تھے یہ آپ زہر مار کر لیں‘‘ … اُس نے نہایت سنجیدگی سے کہا …

میں نے غصے میں کمر پر خارش کر ڈالی حالانکہ مجھے اُس وقت خارش گھٹیا خضاب استعمال کرنے کے باعث سر میں ہو رہی تھی … راجہ صفدر سے جب بھی کیلے کی بات ہو … وہ ہمیں کیلے کے حوالے سے ’’آپ بیتی‘‘ ضرور سنا ڈالتے ہیں …

راجہ صفدر کے دوست میاں منان کو ایک دفعہ راجہ صاحب سے کوئی کام پڑ گیا … راجہ صفدر مٹھائی کم کھاتے ہیں بلکہ کہہ لیں کہ اُنھیں مٹھائی پسند نہیں … میاں منان نے آتی دفعہ فون کیا … ’’راجہ صاحب قلاقند کھائیں گے یا لڈو‘‘ …

’’نہیں ہم تو میاں صاحب پھل سبزی کھانے والے ہیں‘‘ …؟

غیر ارادی طور پر جاری کردہ راجہ صاحب کا یہ بیان اُن کے گلے پڑ گیا … میاں منان صاحب آئے … راجہ صاحب نے کام کر دیا … جاتے ہوئے میاں صاحب نے ملازم سے کہا یار گاڑی سے پھل نکال لائو … پھل ڈیوڑھی میں رکھ دیا گیا … مہمان چلے گئے … راجہ صاحب نے چیک کیا تو پچاس درجن کیلے ڈیوڑھی میں پڑے تھے اور ایک بڑا پیکٹ ’’کدو‘‘ کا بھی موجود تھا … میں گیاسامنے دس بارہ درجن کیلے بڑی ٹرے میں رکھ دئیے گئے … ہم نے حسب عادت دو تین کھائے … راجہ صاحب کے سخت اصرار پر دو تین اور کھا ڈالے … اُٹھنے لگے تو راجہ جی نے چار پانچ درجن اور چھ سات ’’کدو‘‘ بڑے شاپر میں ڈال کر دئیے اور بولے …

’’بچوں کے لیے لے جائیں … پھل سبزیاں صحت کے لیے اچھی ہوتی ہیں‘‘ جس دوست سے ہفتہ بھر بات ہوئی … سب ’’کیلے‘‘ انجوائے کر رہے تھے ’’کدو‘‘ استعمال کر رہے تھے …

ایک ہفتہ بعد میں کسی کام سے راجہ صفدر کے گھر گیا تو اتفاق سے میاں منان کا فون آ گیا … راجہ صاحب سے پوچھا گیا … ’’راجہ صاحب کیا کر رہے ہیں‘‘؟ …

’’میاں صاحب آپ جو پچاس ساٹھ درجن کیلے چھوڑ گئے تھے، صبح دوپہر شام وہ کھاتے چلے جا رہے ہیں … آپ کو یاد کر رہے ہیں‘‘؟ …

میں اور خرم سردی میں ٹھٹھر رہے تھے کہ تقریباً ایک گھنٹہ گزر گیا … مدثر بھٹی کہہ کر گیا تھا کہ میں ایک کتاب لے کر آتا ہوں آپ دو منٹ wait کریں …؟ wait جب ایک گھنٹہ کرنا پڑا … تو خرم بھی بن کچھ کہے مدثر بھٹی کے پیچھے بکسٹال میں جا گھسا …

دس پندرہ منٹ بعد واپس آیا تو میں سیٹ پر بیٹھا ٹیک لگائے سو رہا تھا … خرم بھی آرام سے چپکے سے آ کر بیٹھ گیا … کچھ دیر بعد مدثر بھٹی آیا تو پیچھے ایک بندہ غصے میں بھاگتا آیا …

’’سو روپے اور دو … سو روپے اور دو؟‘‘ … وہ شخص زور زور سے چلا رہا تھا … ’’کیا ہے میاں، کیوں پیچھے پڑے ہو … شریف آدمی کے؟‘‘ …

’’آپ چپ رہیں جی‘‘ … اُس شخص نے مجھے ڈانٹا …

میں نے بھی حسب معمول بد تمیزی کی اور بات بڑھ گئی لوگ اکٹھے ہو گئے تو اُس شخص نے بتایا کہ ’’یہ صاحب (مدثر بھٹی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے؟) دو گھنٹے پہلے میری دوکان پر تشریف لائے کتاب ’’حلال رزق مشکل کام‘‘ کھولی اور پڑھنے بیٹھ گئے … دو گھنٹے بعد میں نے عرض کی حضور 500 روپے کی کتاب ہے آپ نے آدھی ہمارے بکسٹال پر ہی بیٹھ کر پڑھ ڈالی ہے کتاب مجھے واپس کریں … اڑھائی سو روپے دیں اور جائیں … کیونکہ یہ بکسٹال ہے … لائبریری نہیں … یہ صاحب سو روپے پھینک کر بھاگ نکلے‘‘ … وہ صاحب غصے میں بولے …

لوگوں نے مدثر بھٹی سے چار سو روپے مزید لے کر بکسٹال کے مالک کو دئیے اور کتاب مدثر بھٹی کو تھما دی … معاملہ تو رفع دفع ہو گیا … لیکن بھٹی صاحب نے خرم کے ساتھ کلام بند کر دی، گاڑی چلتی رہی اور گھمبیر خاموشی چھائی رہی … کھاریاں کے قریب میں نے بھٹی سے ناراضگی کی وجہ پوچھی تو غصے میں بولے … (پریشان بھی تھے ویسے) …

’’میں نے پندرہ بیس منٹ میں کتاب مکمل پڑھ لینی تھی بکسٹال پر کھڑے کھڑے … یہ آپ کے چہیتے نے کام خراب کر دیا‘‘ … خرم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بھٹی نے غصے سے کتاب ’’سنبھالتے‘‘ ہوئے کہا …

میں نے دیکھا تو خرم زور زور سے قہقہے لگا رہا تھا …

گویا … یہ آپ نے سازش کی … ورنہ اب کی بار بھی مدثر بھٹی نے کتاب مفت پڑھ ڈالنے کا ریکارڈ قائم رکھنا تھا … میں نے خرم کو سمجھایا …

افسوس کہ ہم میں سے اکثر کتاب رسالے اور اخبارات تو خاص طور پر بکسٹالوں پر کھڑے کھڑے پڑھ ڈالتے ہیں اور بے چارے بکسٹال والے اور خاص طور پر لکھاری اپنی چھپی ہوئی کتابیں سنبھال سنبھال کر پریشان ہوتے رہتے ہیں … ایک تو ہمارے ہاں کتاب سے محبت کا معاملہ تقریباً ختم ہو چکا ہے اوپر سے لوگوں کی ہمارے ہاں اکثریت کتاب کے حوالے سے مدثر بھٹی بن چکی ہے، جبھی تو نئی بڑی بڑی خوبصورت موٹی موٹی کتابیں پرانی انارکلی کے گرد تھڑوں پر ٹکے ٹوکری مل رہی ہوتی ہیں اتوار کی شام اور ہم جیسے ہزاروں روپے والی کتاب سو روپے میں لے کر خوش ہوتے ہیں … ہے ناں پریشانی والی بات …؟!؟


ای پیپر