بھارتی محنت کشوں کی عظیم الشان ہڑتال
13 جنوری 2019 2019-01-13

8 اور 9 جنوری کو بھارتی محنت کشوں نے عظیم الشان دو روزہ ہڑتال منظم کی اور ایک بار پھر اپنی طاقت اور اجتماعی قوت کا تاریخی مظاہرہ کیا۔ انڈین ٹریڈ یونین سنٹر (CITO) کے مطابق20 کروڑ (200 ملین) محنت کشوں نے اس دو روزہ ہڑتال میں حصہ لیا۔ لاکھوں محنت کشوں ، کسانوں، خواتین اور طلباء نے سڑکوں پر نکل کر مظاہروں اور ریلیوں کے ذریعے مودی حکومت کی عوام دشمن معاشی پالیسیوں کے خلاف اپنی ناراضگی اور غصے کا اظہار کیا۔

لاکھوں محنت کشوں نے دھمکیوں، خوف و ہراس اور شدید مخالفت کے باوجود اس ہڑتال میں حصہ لیا۔ مغربی بنگال اور تامل ناڈو کی صوبائی حکومت نے محنت کشوں کو ہڑتال میں حصہ لینے سے روکنے کے لیے ہر ممکن حربہ استعمال کیا۔ ملازمت سے برطرفی اور تنخواہوں کے روکے جانے کی دھمکیوں کے باوجود تامل ناڈو اور مغربی بنگال میں ہڑتال کامیاب رہی۔ محنت کشوں کی وسیع شرکت سے بخوبی یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں اور محنت کشوں کے حقوق، مراعات اور سہولیات پر مسلسل حملوں کے خلاف کس قدر غصہ اور ناراضگی پائی جاتی ہے۔ مودی حکومت نہ صرف محنت کشوں کے معاشی حقوق اور مراعات پر حملے کر رہی ہے بلکہ وہ جمہوری حقوق پر بھی قدغنیں عائد کر رہی ہے۔

بھارتی محنت کش طبقہ استحصال، جبر، عدم مساوات ، غربت اور نا انصافی کے خلاف لڑ رہا ہے۔ اس دو روزہ عام ہڑتال سے یہ ثابت ہو گیا محنت کش طبقہ اپنے حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے ثابت قدم ہے۔ بھارتی حکمران طبقہ وہ تمام سہولیات ، حقوق اور مراعات واپس چھیننے کی کوشش کر رہا ہے جو کہ محنت کشوں نے اپنی جدوجہد اور قربانیوں کے نتیجے میں حاصل کی تھیں۔ مودی حکومت نے گزشتہ ساڑھے چار سالوں میں پوری شدت سے نیو لبرل ازم اور آزاد منڈی کی معاشی پالیسیوں کو لاگو کیا ہے۔ ان پالیسیوں کے نتیجے میں محنت کشوں اور کسانوں پر معاشی بوجھ میں اضافہ ہوا ہے۔ محنت کش عوام پر حملوں کے نتیجے میں سوشل سکیورٹی پر کٹوتیاں کی گئی ہیں۔ عارضی ملازمتوں میں اضافہ ہوا ہے جبکہ تعلیم، صحت اور اشیائے ضروریہ مہنگی ہو گئی ہیں۔ محنت کش خاندانوں کی آمدن میں اس قدر اضافہ نہیں ہوا جس قدر مہنگائی کی شرح بڑھی ہے۔ زرعی بحران کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔ کسانوں پر قرضوں کا بوجھ بڑھ گیا ہے۔ دیہی علاقوں سے شہروں کی طرف ہجرت میں اضافہ ہوا ہے۔ بھارتی کسانوں کو اس وقت شدید معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔ زرعی اجناس کی قیمتوں میں کمی کے باعث وہ مسلسل نقصان اٹھا رہے ہیں۔ بھارت کی دیہی معیشت اس وقت بدترین بحران سے گزر رہی ہے۔ گزشتہ صرف ایک سال میں دیہی علاقوں اور چھوٹے شہروں سے 90 لاکھ ملازمتیں ختم ہو گئی ہیں جبکہ پورے بھارت میں ایک کروڑ کے قریب محنت کش بے روزگار ہوئے ہیں۔ ایک طرف تو مودی حکومت چمکتے دھمکتے بھارت کے نعرے لگا رہی ہے اور تیز رفتار اور بلند ترین شرح ترقی کا ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے جبکہ دوسری طرف بے روزگاری، غربت اور افلاس میں اضافہ ہو رہا ہے۔

محنت کش عوام پر مسلسل حملوں نے ان کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں چھوڑا ہے کہ وہ جدوجہد کریں، ہڑتالیں کریں اور احتجاجی مظاہروں کے ذریعے اپنے غم و غصے کا اظہار کریں۔ ان کے حالات کار اور حالات زندگی مسلسل گراوٹ کا شکار ہیں۔ محنت کشوں کو یہ بھی غصہ ہے کہ ترقی کے اس سارے عمل میں انہیں شامل نہیں کیا گیا بلکہ اس عمل سے انہیں نکال باہر کیا گیا ہے۔ بھارت حکمران طبقہ پوری دنیا میں یہ واویلا کرتا ہے کہ انڈیا میں تیز ترین ترقی ہو رہی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ اس ترقی نے کبھی بھی محنت کش عوام کی زندگیوں کو نہیں چھوا ہے ۔ بھار ت امیروں اور درمیانے طبقے کے لیے تو چمک رہا ہے ان کے لیے تو دولت کی ریل پیل ہے۔ ان کو معاشی پالیسیوں سے براہ راست فائدہ پہنچا ہے۔ نیو لبرل ازم اور آزاد منڈی کی معاشی پالیسیوں کے نتیجے میں حکمران طبقات اور درمیانے طبقے کا معیار زندگی بلند ہوا ہے۔ ان کی آمدن اور دولت میں حقیقی اضافہ ہوا ہے مگر محنت کشوں اور غریب عوام کی حقیقی آمدن میں اس تناسب سے اضافہ نہیں ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت میں امارات اور غربت کے درمیان تفریق مسلسل بڑھ رہی ہے۔ طبقاتی تفریق میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

بھارت میں سرمایہ داری کی روشنیوں نے ابھی تک غریبوں کی کٹیاؤں ، کسانوں کے کچے مکانات اور محنت کش بستیوں کو روشن نہیں کیا ہے۔ ترقی کے ثمرات اور فائدے ابھی محنت کش عوام تک نہیں پہنچ سکے۔

یہی وجہ ہے کہ بھارت کی 10 ٹریڈ یونین فیڈریشنوں کی جانب سے دی جانے والی کال پر محنت کشوں کی تاریخ کی چند ایک بری ہڑتالوں میں سے ایک عام ہڑتال منعقد ہوئی۔ یہ ہڑتال بنیادی طور پر لیبر قوانین میں کی جانے والی مجوزہ ترامیم، نجکاری اور نیو لبرل معاشی پالیسیوں کے خلاف کی گئی۔ مودی حکومت بڑے پیمانے پر نجکاری کے ذریعے سرکاری اداروں اور صنعتوں کو نجی شعبے کے حوالے کرنا چاہتی ہے۔ نجکاری کے اس عمل کے نتیجے میں لاکھوں محنت کشوں کے بے روزگار ہونے کا خطرہ موجود ہے۔ یہ ہڑتال آسام، راجستھان، کرناٹک ، پنجاب، منی پور، گوا، مغربی بنگال ، کیرالا، چھتیس گڑھ، اڑیسہ اور بہار میں بہت کامیاب رہی۔ سڑکوں سے ٹرانسپورٹ غائب رہی۔ سرکاری بینک بند رہے جبکہ ان صوبوں میں بڑی ریلیاں، مظاہرے اور مارچ منظم کیے گئے۔ یہ مودی حکومت کے خلاف تیسری بڑی ہڑتال تھی۔ اس سے پہلے 2015ء اور 2016ء میں بھی عام ہڑتال کی گئی تھی۔ 2016ء کی عام ہڑتال میں 16 کروڑ محنت کشوں نے حصہ لیا تھا جبکہ اس مرتبہ یہ تعداد 20 کروڑ رہی۔

ٹریڈ یونینوں کا کہنا ہے کہ پچھلے سالوں میں نہ صرف پیداواری صلاحیت میں اضافہ نہیں ہوا بلکہ پہلے سے کام کرنے والے یونٹ بھی بند ہو گئے ہیں۔ سوشل سکیورٹی نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس حکومت نے انتخابی مہم میں جتنے بھی وعدے کیے تھے، ان میں سے کوئی بھی وعدہ پورا نہیں ہوا بلکہ اس کے برعکس اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔

بھارتی محنت کش ٹریڈ یونین ایکٹ 1926 ء میں ترامیم کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ ترامیم ہو گئیں اور نئے لیبر قوانین نافذ ہو گئے تو بھارت میں آزادانہ لیبر موومنٹ اور ٹریڈ یونینوں کا عملاً خاتمہ ہو جائے گا۔ مودی حکومت ایسے لیبر قوانین نافذ کرنا چاہتی ہے جو کہ محنت کشوں کے مفادات اور حقوق کے تحفظ کی بجائے سرمایہ داروں اور کاروباری افراد کے حقوق اور مفادات کا تحفظ کرتے ہوں۔ 44 لیبر قوانین کو 4 قوانین میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ ٹریڈ یونین ترمیمی بل 2018ء دراصل بھارت میں محنت کشوں اور ٹریڈ یونینز کی طاقت کو کم کرنے کی شعوری کوشش ہے۔

بھارت کے محنت کشوں نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ آسانی سے ہتھیار نہیں ڈالیں گے بلکہ اپنے حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے جدوجہد کے میدان میں نکلیں گے۔ بھارتی محنت کشوں کے لیے حالات زندگی اور حالات کار ناقابل برداشت ہو چکے ہیں۔ مودی کی حکومت روزگار دینے کے وعدے پر برسراقتدار آئی تھی مگر اب اس کی معاشی پالیسیاں بے روزگاری میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں۔ ان پالیسیوں کے نتیجے میں محنت کش عوام کے جمہوری، سیاسی اور معاشی حقوق خطرے میں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ محنت کش عوام نے عام ہڑتال اور بڑے مظاہروں کے ذریعے اپنے غصے کا واضح اور کھلا اظہار کیا ہے۔


ای پیپر