آﺅ ! چرس کی باتیں کریں
13 فروری 2020 2020-02-13

یار دوستوں نے گرہ لگائی کہ موجودہ حکومت کا ڈیڑھ برس کے بعد اگر کوئی کارخانہ لگانے کا منصوبہ سامنے بھی آیا تو وہ ہیروئن اور چرس سے ادویات بنانے کا آیا۔ وہ تو شکر ہے کہ کچھ دوستوں نے پشتو سے اردو ترجمہ کرتے ہوئے وضاحت کر دی ورنہ یہی یار دوست اسے چرس بنانے کا کارخانہ کہہ رہے تھے جس کا ذکر ہمارے وفاقی وزیر انسداد منشیات شہر یار آفریدی نے اٹک میں اپنے قبائلیوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا تھا۔ ہمارے فارما ریگولیٹری ایکسپرٹ نورمحمد مہر نے کہا کہ وفاقی وزیر صاحب کو یاد دلایا جائے کہ وہ انسداد منشیات کے وزیر ہیں، فروغ منشیات کے نہیں۔

کچھ باتیں تھڑوں، ڈرائنگ روموں اور سوشل میڈیاﺅں کی دانشوریاں ہوتی ہیں جیسے بار بار پیغامات ملتے رہے کہ اگر ہم قومی مفادات سے غداری کرنے کی بجائے کھیوڑہ سے نکلنے والاگلابی نمک انڈیا کو برآمد کی بجائے اس کی صحیح والی قیمت لگوائیں تو ہم دنیا کی سب سے بڑی معاشی قوت بن جائیں۔ یہی خواب ہمیں عشروں سے ریکوڈک میں اصلی سونے اور تھر میں کالے سونے یعنی کوئلے کے ذخائر کے بارے بھی دکھائے جاتے رہے۔میاں نواز شریف اور شہباز شریف ہمیں چکوال لے گئے جہاں تانبے اور سونے کے ڈلے نکالے گئے اور عمران خان صاحب نے ہمیں سمندر میں گیس کا راستہ دکھا دیاوہ تو بھلا ہو کہ تقریر کے تھوڑے دنوں ہی بعد ہی وہ گیس لیک ہو گئی ورنہ اس گیس نے اب تک پریشان کئے رکھنا تھا۔ یہ بھی تھڑا ڈیبیٹ ہے کہ ہم جتنی منشیات غیر قانونی طور پر اگاتے اور بیرون ملک بھجواتے ہیں اگر انہیں باقاعدہ عالمی منڈی میں فروخت کرنا شروع کر دیا جائے تو نہ صرف پاکستان کے تمام قرضے اتر سکتے ہیں بلکہ ہر پاکستانی لکھ اور کروڑ پتی ہو سکتا ہے۔

معذرت مجھے جناب شہریار آفریدی کا بیان تو نقل کرنا چاہئے ۔ انہوں نے فرمایا کہ پاکستان جتنی منشیات پکڑکر جلا دیتا ہے جن میں ہیروئن، چرس اور افیم وغیرہ شامل ہیں تو انہیں جلانے کی بجائے ان سے ادویات بنالی جائیں تو بڑا مال بنایا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق بھارت نے ایسی ہی ادویات سے گزشتہ برس بائیس ارب ڈالر کمائے لہٰذا اب ہمارے انقلابی رہنما جناب عمران خان کی خواہش ہے کہ چرس سے ادویات بنانے کا کارخانہ وادی تیراہ میں لگا دیا جائے۔ صداقت کلینک والے ڈاکٹر صداقت علی جو بنیادی طور پر ماہر نفسیات ہیں اورمنشیات کے عادی مریضوں کے علاج میں خصوصی شہرت رکھتے ہیں جن کے اشتہار سے یہ فقرہ بہت مشہور ہوا تھا کہ’ کہیں وہ نشے میں تنہا نہ رہ جائے‘۔ ڈاکٹر صاحب نے ہیروئن اور چرس سے ادویات کی تیاری کے بارے میں میرے استفسار پر ایک دلچسپ اور تاریخی فقرہ کہا ،’ جس طرح آم سے اچار بننے کے بعد دوبارہ آم نہیں بن سکتا اسی طرح منشیات سے ادویات تیار نہیں ہو سکتیں‘۔ا نہوں نے کہا کہ بنیادی بات تو اس خام مال کی ہے جو نشوں میں بھی استعمال ہوتا ہے اور ادویات میں بھی۔ پکڑی گئی ہیروئن اور چرس سے ادویات نہیں بن سکتیں مگر پاکستان کے طبی ماہرین اور متعلقہ ذمہ داران کو اس بارے کوشش کرنی چاہئے کہ جو خام مال منشیات کی تیار ی میں استعمال ہو رہا ہے اسے ادویات کی تیار ی میں استعمال کرنے کی بین الاقوامی برادری سے اجازت لی جائے تاہم ایک بات یاد رکھی جائے کہ جب ہم منشیات کے پکڑے جانے کی بات کرتے ہیں تو اس کے ساتھ ہی ہم یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ ہم انیس بیس برس سے’ پوپی فری کنٹری ‘ہیں لہذا یہاں جو بھی پیداوار ہو گی وہ کنٹرولڈ ہو گی اورادویات کی تیاری بھی مگر دوسری طر ف منشیات کی تیاری غیر قانونی بھی ہے اور ان کنٹرولڈ بھی۔

نور محمد مہر، اس پر ایک دلچسپ، اہم اور بنیادی نکتہ بھی اٹھاتے ہیں کہ پہلے ہی ہم پر عالمی برادری منشیات اور دہشت گردی کے حوالے سے چڑھ دوڑتی ہے تو ہمیں محتاط رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں منشیات کو جلانا اور تلف ہی کرنا ہے کہ اگر اس کو بچانے کا راستہ نکالا گیا تو پھر انہیں کنٹرول نہیں کیا جاسکے گا۔ وہ اس کے اخلاقی پہلو پر زیادہ اصرار کرتے ہیں تاکہ ہم اپنی آنے والے نسلوں کو اس زہر سے بچا سکیں۔و ہ بتاتے ہیں کہ نشہ آور ادویات کی تیاری کی اجازت صرف چار سے چھ ممالک کو ہے جن میں پاکستان شامل نہیں ہے۔ ہمارے ہاں حال تویہ ہے کہ منشیات تو ایک طرف رہیں ہمارے لوگ باقاعدہ ادویات کو نشے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ نشہ آور انجکشن میڈیکل سٹوروں پر بغیر کسی نسخے کے فروخت کئے جاتے ہیں اورضرورت اس امر کی ہے کہ کسی بھی میڈیکل سٹو ر پر فارماسسٹ کی عدم موجودگی میں اور باقاعدہ ڈگری ہولڈر اور لائسنس یافتہ پریکٹیشنر کے نسخے کے بغیر کوئی بھی دوا فروخت نہ کی جائے مگر اس طرف کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔

ویسے پاکستان میں منشیات کتنی عام ہو رہی ہیں اس بات کا اندازہ برسوں نہیں بلکہ عشروں سے انسداد منشیات کی مہم چلانے والے سید ذوالفقار حسین کی لاہور کے حوالے سے 2019 کی جاری کردہ رپورٹ سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ برس لاہور میں نشہ کرنے والوں کے مقامات128 ہو گئے جو 2018ءیا اس سے پہلے صرف چالیس تھے۔ میں نے واقعی یہ دیکھا ہے کہ نئے نئے مقامات پر نشئیوں نے ڈیرے لگا لئے ہیں جیسے کہ مسلم ٹاﺅن موڑ پر نہر کے پل کے ساتھ میٹرو اسٹیشن جو کہ ایف سی کالج یونیورسٹی اورپرائیویٹ کالجز کے جھرمٹ میں ہے وہاں سرعام نشہ آور انجکشن فروخت ہور ہے تھے۔ میں وہاں پہنچا تو منشیات فروشوں نے دوڑ لگا دی۔ میں نے ایک آدھ کو پکڑ لیا مگر بعد میں دوستوں نے بتایا کہ یہ کتنا رسکی کام ہے۔ منشیات فروخت کرنے والوں کے پاس ایڈز اور دوسرے جراثیم سے بھرے بلیڈ ہوتے ہیں اور وہ ایک لمحے میں پکڑنے والے کی گردن یا شہ رگ پر پھیر دیتے ہیں۔بندہ بچ بھی جائے تونجانے کون کون سے امراض کا شکار ہوجاتاہے۔

نشہ مزے دار شے ہے کہ یہ دنیا کی تلخ حقیقتوں سے خوابوں کی حسین دنیا میں لے جاتا ہے۔ جناب عمران خان کی گواہی موجود ہے کہ جب لفٹر کے گرنے کے مشہور واقعے کے بعد وہ شوکت خانم ہسپتال پہنچے تو شدید درد کا شکار تھے مگر ایک درد رفع کرنے والے سکون آور انجکشن نے انہیں اتنا لطف دیا کہ اپنے ہی ہسپتال کی سسٹرز انہیں حوریں نظر آنے لگیں۔ میںزندگی کی کچھ تلخ یادوں اور ذاتی تجربات کی بنیاد پر کہہ سکتا ہوں کہ نشہ کرنے والے ہوش مندوں سے کہیں زیادہ سیانی اور خوبصورت باتیں کرتے ہیں۔ ان کی باتیں ایسی لچھے دار ہوتی ہیں کہ بندہ مسحور ہو کررہ جاتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ یہ نشئی بہت ہی سیانا بندہ ہے مگر حقیقت اس وقت سامنے آتی ہے جب وہ جھولے لعل کا نعرہ لگا دیتا ہے۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ چرس اتنا خطرناک نشہ نہیں ہے بلکہ اگر آپ کی خوراک اچھی ہو تویہ صحت بنانے میں بھی مدد دیتا ہے، بھوک بڑھاتا ہے اور چہرے پر لالی لے آتا ہے مگر مسئلہ اس وقت ہوتا ہے جب آپ اوور ڈوزہوتے ہیں۔ اس وقت سب سے خطرناک نشہ کرسٹل آئس کا بیان کیا جا رہا ہے۔ سید ذوالفقار حسین بتاتے ہیں کہ ہیروئن ہو، چرس ہو یا شراب ہو ہر نشے میں ملاوٹ ہو رہی ہے مگر ابھی تک کرسٹل آئس کا کوئی ایسا متبادل سامنے نہیں آیا جس کی اس میں ملاوٹ ہوسکے لہٰذا یہ ایک خالص نشہ ہے ۔ انہوںنے ڈرانے والی باتیں کی ہیں کہ ہمارے پوش ایریاز کے تعلیمی اداروں میں یہ نشہ تیزی سے پھیل رہا ہے اوراس کی اوورڈوز فوری طور پر موت کے منہ میں لے جاتی ہے اور ماں باپ کچھ بتا بھی نہیں سکتے کہ ان کے ہونہاربچے کی رات کو اچانک موت کیسے واقع ہو گئی۔ مجھے کچھ عرصہ پہلے دومخالف سیاسی جماعتوں کے بڑے اور معروف رہنماﺅں کے نوجوان بیٹوں کی اچانک موتیں یاد آ گئیں۔ میں نے لاہور میں یہ دونوں جنازے پڑھے تھے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو معاف کرے، ہم پر اپنا رحم و کرم کرے اور ہمارے چھوٹوں اوربڑوں سب کو نشے سے محفوظ رکھے۔ آمین۔


ای پیپر