وزیراعظم کا اجلا س اور منہ زور مہنگا ئی
13 فروری 2020 2020-02-13

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ہفتہ کے روز بنی گالہ میں معاشی ٹیم کا اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں وزیر اعظم نے کہا کہ مہنگائی اس وقت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ غریب کی بہتری کے لیے حکومت میں آئے ہیں۔ عوام کے ریلیف کے لیے جو ہوسکا کروں گا، اس کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔ اگر غریب کا احساس نہیں تو ہمیں حکومت میں رہنے کا بھی حق نہیں۔ مگر صا حبو ذ را ٹھہریئے گا ۔ مجھے آ پ سے کچھ پو چھنا ہے۔ تو میں یہ پو چھتا کہ کیا آ پ نے وطنِ عز یز کے کسی بھی حکمرا ن سے اس قسم کا بیا ن پہلی مر تبہ سنا ہے؟ اور پھر کیا کسی بھی حکمر ان نے مہنگا ئی کے روکنے پہ نا کا می پہ استعفیٰ دیا؟ گو یا یہ سب با تیں ہیں، با تو ں کا کیا۔ اور اب جبکہ وز یرِ اعظم کے اعلیٰ سطح اجلا س کو منعقد ہوئے ایک ہفتے سے بھی ز یا دہ کا عر صہ بیت چکا ہے، کیا کسی کو بھی مہنگا ئی میں کمی کا کو ئی اشا ر ہ نظر آ یا ہے۔ حا لت تو یہ ہو چکی ہے کہ کچھ عر صہ پہلے جو قیمتو ں کے نر خ نا مے آ و یز اں کئے گئے تھے وہ ایک با رپھر سے غا ئب ہو چکے ہیں اورچھو ٹے سے لے کر بڑا دو کا ندا ر تک اپنے من ما نے دا م و صو ل کر رہا ہے۔ بہر کیف میں پلٹتا ہو ں و ز یرِ اعظم کے اجلاس کی طرف۔ توصا حبو اجلاس میں عوامی ریلیف کے لیے اہم فیصلے کیے گئے۔ وزیراعظم نے بنیادی اشیا ضروریہ کی قیمتیں ہر صورت کم کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں آٹا، گھی، چینی، چاول اور دالوں کی قیمتیں کم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیراعظم نے ثانیہ نشتر کو ہدایت دی کہ احساس پروگرام کے تحت انتہائی غریب افراد کو راشن دیں۔ انہوں نے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ سے کہا کہ دوسرے منصوبوں سے رقم کی کٹوتی کرکے غریبوں کو سہولت دیں۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ملک میں مہنگائی سابقہ حکومت کی لوٹ مار کا نتیجہ ہے، ذخیرہ اندوزوں نے بھی معاملات خراب کیے ہیں۔

ملک میں جس تیزی سے مہنگائی کا گراف اوپر گیا اس نے معاشرے کے ہر طبقے کو متاثر کیا۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ عام آدمی کے گھریلو بجٹ میں 5 سے 10 ہزار کا بلاجواز اضافہ ہوگیا ہے جب کہ اس کی آمدن کے ذرائع میں اضافے کی امید کہیں دکھائی نہیں دے رہی۔ وزیراعظم حسب سابق الزام لگارہے ہیں کہ مہنگائی کی ذمہ دار سابقہ حکومت کی پالیسیاں اور لوٹ مار ہے۔ عوام کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ مہنگائی کی ذمہ دار سابق حکومت ہے وہ تو یہ دیکھ رہے ہیں کہ مہنگائی کا عذاب موجودہ حکومت میں نازل ہوا اور حکمران اسے کنٹرول کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوئے۔ اگر مہنگائی سابقہ حکومت کی لوٹ مار کا ماحصل ہے تو اسے کنٹرول کرنا اور تبدیلی لانا تو موجودہ حکومت کی ذمہ داری ہے، اپنی ناکام کارکردگی دوسروں کے کھاتے میں

ڈال کر خود کو بری الذمہ قرار دینا قطعی طور پر صائب رویہ نہیں۔ موجودہ حکومت کو برسراقتدار آئے اب تقریباً ڈیڑھ سال ہوچلا ہے، ملک کی تمام پالیسیاں اور معاشی نظام وہی چلا رہی ہے۔ اب تک ہونے والی تبدیلیاں اور تمام فیصلے بھی اسی نے ہی کیے ہیں۔ مہنگائی کا نیا عذاب حالیہ چند ہفتے ہی میں نزول ہوا ہے جو موجودہ حکومت ہی کی پالیسیوں اور فیصلوں کا شاخسانہ ہے۔ گزشتہ دنوں وفاقی ادارہ شماریات کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں مہنگائی کی شرح بڑھ کر 14.6 فیصد ہوگئی جو 9 سال کی بلند ترین سطح ہے جس کا بڑا سبب کھانے پینے کی اشیا اور بجلی، گیس کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہے اور اس نے سخت مانیٹری پالیسی کو بھی غیر موثر بنادیا۔ دسمبر 2019ء میں مہنگائی کی شرح 15.5 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔ وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق جنوری 2020ء میں مہنگائی میں 2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیاجبکہ ایک سال میں کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں 78 فیصد اضافہ ہوا۔ جنوری کا مہینہ ریکارڈ توڑ مہنگا ثابت ہوا اور اس ماہ مہنگائی کی سالانہ شرح 2 فیصد اضافے کے ساتھ 14.6 فیصد تک بلند سطح پر پہنچ گئی۔ اب وزیراعظم نے مہنگائی ہونے اور عوام کی پریشانیوں میں اضافے کے بعد اس کا اعلیٰ سطح اجلاس میں نوٹس لیا اور اسے بہر صورت کم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وفاقی کابینہ نے یوٹیلٹی سٹورز کے ذریعے جس پیکیج کا اعلان کیا ہے اس سے بھی بہتری کی امید نہیں۔

حکمران ایک عرصے سے ملک میں اقتصادی ترقی اور رواں سال معاشی استحکام اور خوش حالی کا مژدہ جاں فزا سنا اور مہنگائی کم کرنے کی لوریاں دے رہے ہیں لیکن معاشی صورت حال اور ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی ان کے فیصلوں کا منہ چڑا رہی ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان اور وفاقی ادارہ شماریات کی ملکی معاشی صورت حال اور ایک عام شہری پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کی پریشان کن رپورٹس جو منظر نامہ پیش کررہی ہیں، اس کے مطابق مہنگائی کا گزشتہ دس سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے۔ صرف گزشتہ دو ہفتوں کے دوران اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ وفاقی ادارہ شماریات کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ایک ماہ میں دال مونگ 20 فیصد، چکن 17.53 فیصد، انڈے 14.28 فیصد، گندم 12.63 فیصد جبکہ گندم کا آٹا ساڑھے سات فیصد تک مہنگا ہوا۔ جنوری میں بیسن کے نرخ12 فیصد، سبزیوں کے 11 فیصد اور دال ماش کے 10.29 فیصد بڑھ گئے۔گڑ 9.50 فیصد، لوبیا 8 فیصد، دال مسور 7.33فیصد، مصالحہ جات7 فیصد، دال چنا 6.68 فیصد، چینی 5 فیصد، پھل 4 فیصد، تک مہنگے ہوئے۔ ایک ماہ میں شای ہال کے چارجز بھی 5.58 فیصد بڑھ گئے۔ جنوری 2019 ء کے مقابلے میں جنوری 2020 ء میں ٹماٹر 157 فیصد اور پیاز 125 فیصد مہنگا ہوا۔ ایک سال میں سبزیاں 94 فیصد مہنگی ہوئیں۔ ملک میں گندم اور چینی کی کمی نہ ہونے کے باوجود ان کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ موجودہ حکومت ہی کی پالیسیوں کا ثمر ہے۔ موجودہ حکمران ہر بحران کی ذمہ داری سابقہ حکومتوں پر عائد کرنے کے بجائے اپنی معاشی پالیسیاں بہتر بنائیں تو یہ ملک اور عوام کے حق میں صائب قدم ہوگا۔ اس وقت موجودہ معاشی منظر نامہ ملک کو کم پیداوار، کم شرح ترقی اور مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی کی طرف لے جارہا ہے۔ حکومت بار بار مہنگائی کا نوٹس لے رہی اور اعلیٰ سطح کے اجلاس بلارہی مگر وہ معاملات قابو کرنے میں بالکل بے بس نظر آرہی ہے۔ اپوزیشن الزام لگا رہی ہے کہ مہنگائی کے پس منظر میں سرگرم مافیا اقتدار کی غلام گردشوں ہی میں موجود ہے۔ لڑکا بغل میں اور ڈھنڈورا شہر میں کے مصداق موجودہ حکمران اپنی ناقص کارکردگی کا ذمہ دار سابقہ حکومت کو ٹھہرا کر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کررہے ہیں۔ بہرصورت وزیراعظم نے مہنگائی ہونے کے بعد اعلیٰ سطح اجلاس بلا کر اس کا نوٹس لیا اور اسے ہر صورت کم کرنے کی ہدایت کی ہے جس پر ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ بڑی دیر کی مہرباں آتے آتے۔ خدا کرے اعلیٰ سطح کا اجلاس ہونے کے بعد مہنگائی رک جائے اور اگر یہ پھر بھی نہ رکی تو پھر اس کی ذمہ داری امریکہ بہا در پہ ڈا ل دی جائے۔


ای پیپر