گندم، چینی بحران: اشرافیہ کے باہمی گٹھ جوڑ کا نتیجہ
13 فروری 2020 2020-02-13

گندم اور چینی کی وافر پیداوار کے باوجود دونوں چیزوں کا بحران کیوں پیدا ہوا؟ وزیرِ اعظم عمراں خان کہتے ہیں کہ مافیا کو نہیں چھوڑوں گا اور آٹے او چینی کا بحران پیدا کرنے والے مافیا کے خلاف کاروائی کروں گا۔ ایف آئی اے نے جو خفیہ رپورٹ وزیرِ اعظم کو پیش کی ہے اس میں انہیں بتا دیا گیا ہے کہ گندم کی 9 لاکھ ٹن اضافی پیداوار اسمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی سے عدم دستیابی میں بدلنے کی کاروائی میں موجودہ و سابق حکمران اور ان کے قریبی طاقتور لوگ شامل ہیں۔ اسی طرح چینی کا بحران بھی مصنوعی پیدا کیا گیا ہے۔ عوام بد عنوان سیاست دانوں سے تنگ آئی ہوئی تھی انہوں نے عمران خان کے کرپشن کے خاتمے کے نعرے پر لبیک کہا اور انہیں وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر منتخب کروایا لیکن لگتا ایسے ہے کہ عمراں خان بھی مافیاز اور کارٹلز کے اسی چنگل میں پھنس گئے ہیں جو دہائیوں سے اس ملک کے غریب عوام کو لوٹنے میں مصروف ہیں۔ بڑے دکھ سے ذکر کرنا پڑتا ہے کہ اپنے اربوں کے فائدے کے لئے ضرورت مندوں کو کوڑیوں کا محتاج کر دیتے ہیں۔ اسی مافیا سے نجات دلانے کا وعدہ کرنے والے وزیرِ اعظم آج کہنے کی حد تو کہہ رہے ہیں لیکن عملی طور پر خاموش بیٹھے ہوئے ہیں ابھی تک انہوں نے ایسے لوگوں کے خلاف کوئی خاص کاروائی نہیں کی ہے۔ مافیا کی واضح نشاندہی ہو چکی، لگتا ہے کوئی ا یکشن نہیں ہو گا کیونکہ ماضی کی طرح ایک بار پھر با اثر حکومتی اور اپوزیشن ارکان ذاتی مفادات کے لئے ایک ہو گئے ہیں۔ یہ سب ایک دوسرے کے ساتھی ہیں اور خان صاحب ان کے دباؤ میں خاموش ہیں۔گندم و چینی مافیا نے وفاقی اور صوبائی بیورو کریسی کے ساتھ مل کر اس بحران کے ذریعے عوام سے اربوں لوٹے ہیں۔ یہ کام حکومت کی مدد سے ہی ہو سکتا ہے کیونکہ اس کی اجازت کے بغیر نہ تو گندم باہر جا سکتی ہے اور نہ ہی ملک میں آ سکتی ہے۔ اس سے تو ثابت ہوتا ہے کہ جن لوگوں کے ہاتھوں میں یہ سارے معاملات ہیں ان سب کا تعلق بنیادی طور پر حکومت سے ہی ہے۔ وزیرِ اعظم کو غور کرنا چاہئے کہ جب ملک میں گندم کی

قلت تھی تو اس وقت گندم کو برآمد کرنے کی کی اجازت کیوں اور کس نے دی؟ ایسی ہی باتوں سے حکومتیں بدنام ہوتی ہیں۔ماضی میں ہم نے 4 لاکھ ٹن گندم زرِ مبادلہ حاصل کرنے کے جنون میں برآمد کر دی تھی جس پر مقامی طور پر پیدا ہونے والی نایابی نے عوام کو بھکاریوں کی طرح قطاروں میں دھکے کھا کر آٹا حاصل کرنے کی اذیت سے دوچار کیا تھا اور بعد ازاں کمی کو پورا کرنے کرنے کے لئے ہمیں بہت مہنگے داموں گندم درآمد کرنا پڑی تھی۔ اب ایک بار پھر حکومت نے گندم کی برآمد میں جلد بازی کی جس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔سرکاری حلقوں کی جانب سے صورتحال کی مختلف توجیحات کی جا رہی ہیں، لیکن حقیقت یہی ہے کہ یہ سب کچھ باہمی گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہے کیونکہ ذخیرہ اندوزی کرنے

والے بھی حکومت کے زیرِ اثر اور کسی حد تک اس کا حصہ ہیں۔ ماضی کے سیاست دانوں نے اپنے اقتدار اور مفادات کی خاطر ان حساس امور پر توجہ نہیں دی جن کی وجہ سے رشوت و بد عنوانی نے سرکاری دفاتر اور اہم عہدیداروں میں مستقل گھر بنا لئے۔ بیوروکریٹس اربوں کے مالک بنتے رہے جب کہ عام شہری مسائل کی دلدل میں مسلسل پھنستا چلا گیا۔ ذمہ دار طبقے نے اس ملک کی چولیں ہلا کر رکھ دیں۔ لیکن آپ کے آنے کے بعد بھی صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی بے روزگاری کا جن قابو میں نہیں آیا۔ فرق صرف یہ پڑا ہے انصاف، امن اور گڈ گورنس کی باتیں صرف کتابوں اور تقاریر تک محدود ہو گئیں ہیں۔

آپ نے بھی بحرانوں کے ذمہ داروں کی گردن ماپنے کے لئے ابھی تک ایکشن نہیں لیا۔ اس سے تو لگ رہا ہے کہ چاہے قوم کسی حکمران سے کتنی بھی امیدیں لگا لے بحران آتے رہیں گے، بحران شائد یقیناً پاکستانی قوم کا مقدر ہیں۔ ایسا نہیں کہ دیگر اقوام کو ایسی ناخوشگوار صورتحال کا سامنا نہیں کرنا پڑتا مگر بیدار مغز، زندہ اور محبِ وطن قیادتیں بحرانوں کا مقابلہ کر کے حل تلاش کرتی ہیں جب کہ ہمارے ہاں ایک بحران کا نتیجہ دوسرے اور شدید تر بحران کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ اس کی ایک وجہ تو وقت کی حکومتیں ہیں جنہوں نے کسی بحران کے ذمہ داروں کو نشانِ عبرت نہیں بنایا اور اگر کسی حکومت نے بادلِ نخواستہ کوئی ایکشن بھی لیا تو چند ماہ بعد ہی ملزم سیاسی اثر و رسوخ یا عدم ثبوت کی بناء پر بیگناہ اور معصوم قرار پاتے رہے، یہی کچھ آج ہو رہا ہے۔ آپ بھی بے بس نظر آتے ہیں۔ بحرانوں کے ذمہ داروں کے خلاف کاروائی نہ ہونا ہمارے کلچر کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔ پاکستان میں آج تک کسی بحران کے ذمہ دار تلاش نہیں کئے جا سکے۔ عوام بیچارے مفت میں خوار ہوتے رہے ہیں۔ آج تک کسی حکومت میں بھی توانائی بحران ، گیس مینجمنٹ، جنگلوں کی کٹائی، لکڑی چوری، ریلوے، پی آئی اے کی تباہی پر پکڑ ہوئی نہ ہی وجوہ کا سراغ لگا کر معاملات درست ڈگر پر لانے کی کوشش کی گئی، آپ سے عوام کو بہت سی امیدیں تھیں اگر آپ بھی اپنے ارد گرد آٹا مافیا اور چینی مافیا کو بے نقاب کر کے قرار واقع سزا نہیں دیں گے تو غریب عوام کا پھر اپنے لیڈروں سے اعتماد اٹھ جائے گا۔ اگر آپ نے بھی ذمہ داروں کو تحفظ دیا تو حالات بہت خراب ہو سکتے ہیں کیونکہ آج لوگ جس جس طرح کے معاشی اور نفسیاتی دباؤ میں مبتلا ہو چکے ہیں اس کی گود سے انقلاب تو شائد برآمد نہ ہو مگر ایک ایسی انارکی ضرور پھیل سکتی ہے جس کی زد سے کوئی محفوظ نہیں رہ سکے گا۔


ای پیپر