ہندو توا کا نظریہ بی جے پی کی شکست کا باعث بنا
13 فروری 2020 2020-02-13

بھارت میں ریاستی انتخا بات کا سلسلہ ابھی چل رہا ہے۔ گزشتہ برس دسمبر میں جھاڑ کھنڈ اسمبلی کے انتخاب میں حکمران جماعت بی جے پی کو عبرت ناک شکست ہوئی۔ اس کے بعد شکست کا یہ سلسلہ ابھی تک قائم ہے۔ گزشتہ ہفتے بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں انتخابات ہوئے جس میں مودی سرکار کو ایک بار پھر شکست کا سامنا کرنا پڑا اور عام آدمی پارٹی نے میدان مار لیا۔

حقیقت میں مودی کی مسلم مخالف پالیسیاں بی جے پی کی سیاست کو ڈبونے لگی ہیں۔ بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں اسمبلی کی 70 نشستوں کے لیے8فروری کو ووٹنگ ہوئی تھی۔ 70 میں سے 62 نشستوں پر عام آدمی پارٹی نے کامیابی حاصل کی۔ بی جے پی کے حصے میں صرف آٹھ نشستیں آئیں۔ یہاں یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ صرف بی جے پی ہی کو شکست نہیں ہوئی بلکہ بھارت کی دوسری بڑی جماعت کانگریس اس بار بھی کوئی نشست نہیں جیت سکی ۔ بنیادی طور پر یہ مودی کی مسلم اور اقلیت دشمن پالیسیوں کو شکست ہوئی ہے۔ نئی دِہلی میں حکومت سازی کیلئے سادہ اکثریت کیلئے 36 سیٹیں درکار ہوتی ہیں ۔ عام آدمی پارٹی لگاتار تیسری بار حکومت بنائے گی۔ اس سے قبل پچھلے انتخابات میں عام آدمی پارٹی کو 70 میں سے 67 سیٹیںحاصل ہوئی تھیں جبکہ تین سیٹیں بی جے پی کے حق میں گئی تھیں۔

اس مرتبہ بھی بی جے پی سرکار کا ہندو توا کا نظریہ کامیاب نہیں ہوا۔ اس کے برعکس عام آدمی پارٹی نے اپنے کام کے نام پر ووٹ مانگے جبکہ بی جے پی نے دِہلی کے مسائل سے زیادہ مسلم مخالف بیانات پر زور رکھا۔انتخابی مہم کے دوران عام آدمی پارٹی نئی دہلی کے سرکاری اسکولوں کی حالت بہتر کرنے، لوگوں کو سستی بجلی اور مفت صحت کی سہولیات فراہم کرنے اور خواتین کے لیے مخصوص بسیں چلانے کا منشور لے کر میدان میں اتری تھی جس کا ووٹرز نے انتخابات میں جتا کر اس کا بھرپور جواب دے دیا۔عام آدمی پارٹی سے قبل

کانگریس نے دِہلی پر مسلسل15سال حکومت کی تھی۔ اس بار کانگریس کی جانب سے سوائے انتخابی منشور کے زیادہ کوشش نظر نہیںآئی۔ بی جے پی کو یہ امید تھی کہ اسے شہریت کے متنازع قانون کا فائدہ پہنچے گا لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ اس کے روایتی ووٹ میں بھی زیادہ اضافہ نہیں دیکھا جا رہا ۔

بھارتی عوام نے مودی کے انتہا پسندانہ رویے ، طرز حکومت اور نام نہاد پالیسیوں کو مسترد کر کے یہ پیغام دیا ہے کہ وہ اب مذہبی جھانسے میں آنے والے نہیں۔ریاستی انتخابات میں مودی حکومت کو جس بری طرح شکست ہوئی ہے وہ اس کیلئے آنکھیں کھول دینے کیلئے کافی ہے۔مودی کی شکست کی بڑی وجہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور کشمیریوں کو 5 ماہ سے مسلسل کرفیو میں رکھنا بھی ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مودی کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد کے اقدامات سے بھارت میں تقسیم نمایاں ہوکر سامنے آئی ہے۔ اقلیتیں خود کو زیادہ غیر محفوظ سمجھنے لگی ہیں اور علیحدگی کی تحریکیں پہلے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہورہی ہیں۔ بھارت کے سنجیدہ اور لبرل حلقے پریشان ہیں کہ آخر مودی انتظامیہ ملک کو کہاں لے جارہی ہے۔ان ریاستی انتخابات میں بھی بی جے پی شہریوں کو جھانسہ دیتی رہی کہ اگر وہ شاہین باغ میں جاری شہریت کے ترمیمی ایکٹ کے خلاف جاری دھرنا ختم کرانا چاہتے ہیں تو بی جے پی کو ووٹ دیں لیکن کسی نے اس پر کان نہ دھرے اور یہ پیغام دیا کہ وہ اس کی پالیسیوں کو قبول نہیں کرسکتے۔

دہلی سے قبل مدھیہ پردیش، راجستھان، چھتیس گڑھ ، تلنگانہ اور ہندورام کی ریاستیں بی جے پی کے ہاتھ سے نکل چکی ہیں۔ عام آدمی پارٹی ایک چھوٹی پارٹی ہے دہلی کے عوام میں اس کی مقبولیت سے ظاہر ہوتا ہے،جوپارٹی عوامی ایشوز کو ترجیح دے گی وہ فتح یاب ہو گی جبکہ مودی اور اس کی جماعت کی سیاست کا محور مسلم اور پاکستان مخالفت ہے،جسے دہلی کی عوام نے مسترد کردیا ہے۔

کیا مودی سرکار کا اس بات کا ادراک ہے کہ بھارت میں پچھلے سال ہونے والے عام انتخابات میں ان کی پارٹی بی جے پی نے سب سے زیادہ سیٹیں حاصل کی تھیں لیکن اس کے بعد ہونے والے تقریبا تمام ریاستی انتخابات میں ہندو انتہا پسند حکمران جماعت کو شکست کا مسلسل سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔یوں اہم ریاستی انتخابات میں بدترین شکست سے نریندر مودی کی سیاسی ساکھ مزید متاثر ہو رہی ہے۔

52 سالہ سابق بیوروکریٹ ارویند کیجری وال نے 2012 میں ملک میں بڑھتی ہوئی کرپشن سے لڑنے کے لیے عام آدمی پارٹی کی بنیاد رکھی تھی اور تب سے اب تک ان کی جماعت داروالحکومت میں تیسری بار فاتح قرار پائی ہے۔ بھارت میں متنازع قانونِ شہریت کے خلاف احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ متنازع قانونِ شہریت کے خلاف احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا ہے۔ سیکیورٹی فورسز مظاہرین جن میں زیادہ تعداد مسلمانوں اور دیگر اقلیتی مذاہب سے ہے کو منتشر کرنے کے لیے بھر پور طاقت کا استعمال کررہے ہیں۔

نئی دہلی میں شکست کی خفت مٹانے کیلئے بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی کے حال ہی میں منتخب ہونے والے رکن اسمبلی او پی شرما نے ارویند کیجریوال کو دہشتگرد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ارویند کیجریوال ایک کرپٹ آدمی ہے جو دہشتگردوں کے ساتھ ہمدردی رکھتا ہے۔ ارویند کیجریوال پاک فوج کا ترجمان ہے جو بھارتی فوج کے کردار پر سوال اٹھاتا اور ٹکڑے ٹکڑے گینگ کو سپورٹ کرتا ہے۔ اس کیلئے ’دہشتگرد ‘ کا لفظ بالکل ٹھیک ہوگا۔یعنی کھسیانی بلی کھمبا نوچے

گو کہ بی جے پی 2014سے اقتدارمیں ہے لیکن پہلے پنجاب پھرمدھیہ پردیش ، راجستھان ،چھتیس گڑھ، مہاراشٹر اور جھاڑ کھنڈ اور اب نئی دہلی میں شکست کے بعد بی جے پی کا اقتدار ڈولتا ہوا نظر آرہا ہے۔ اس کی بڑی وجہ اقلیتوں کی حالت زار اور ہندو تواکا نظریہ ہے۔ سیکولر ازم تو نجانے کہاں کھو گیا۔ اب تو حکومتی وزیر بھی کھلے عام سیکولر ازم کے خلاف بیانات دے کر اس کی دھجیاں بکھیر رہے ہیں۔ اگر یہی سلسلہ کچھ عرصہ مزید چلا تو مودی سرکار کے ہاتھوں بھارت کا اقتداربھی چلا جائے گا۔


ای پیپر