جناب وزیر اعظم! قدرت کی مہلت سے فائدہ اٹھائیں
13 فروری 2020 2020-02-13

جب سے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اقتدار سنبھالا ہے ، تب سے ہر آنے والا دن تحریک انصاف اور بالخصوص وزیر اعظم پاکستان کے لئے کسی کڑے اور سخت امتحان کا باعث بنتا ہے ۔ کبھی اتحادیوں کا ناراض ہونا تو کبھی اپنی صفوں میں موجود کالی بھیڑوں کی سازشیں ۔کبھی مذہبی جماعتوں کی طرف سے احتجاجی دھرنے تو کبھی غلط فیصلوں کی وجہ سے سامنے آنے والے نتائج ،۔مہنگائی ، بے روزگاری اور ضروریات زندگی کی چیزوں کے حصول میں دشواری کی وجہ سے غریب اور مفلوک الحال لوگوں کا غم و غصہ، اپوزیشن جماعتوں کا اکٹھ اور حکومت کے خلاف بیانات ،پنجاب میںانتہائی کمزور ترین گورننس کے نتیجے میں وقوع پذیرہونے والے معاملات ، مصنوعی مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی کرنے والے مافیاز کی حکومتی ایونوں سے سرپرستی اورتحریک انصاف کے سر کردہ رہنمائوں کی آٹے اور چینی کو کھلم کھلا سمگل کرنے والا عمل۔اس کے علاوہ کئی مزید ایسے معاملات و واقعات ہیں کہ جس کی وجہ سے محسوس ہوتا تھا کہ اب پاکستان تحرین انصاف کی حکومت گئی، اب گئی ۔ لیکن اتنے بڑے بڑے بلنڈر ہونے کے باوجود کچھ ہی دنوں میں حکومت ایک دفعہ پھر سے مستحکم ہو جاتی تھی اور ماضی میں جس طرح صرف ایک چھوٹی سی بات حکومتوں کو زوال کی مٹی چاٹنے پر مجبور کر دیتی تھی دور حاضر میں بڑی بڑی باتیں بھی حکومتی استحکام کو کچھ بھی نقصان نہ پہنچا سکی ۔

قارئین !اتنے بلنڈرز کے باوجود حکومت کا مستحکم ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ قدرت ابھی وزیر اعظم کو کچھ کر نے کا موقع فراہم کر رہی ہے ۔ جناب وزیر اعظم نے جس طرح حکومت سنبھالنے کے بعد پاکستان کو مدینہ کی ریاست کی طرز کی ریاست بنا نے کا اعلان کیا تھا اور اس کے لئے وزیر اعظم نے کئی سنجیدہ اقدامات بھی کئے جس میں غریب اور بے آسرا لوگوں کے لئے ’’پناہ گاہوں ‘‘ کا

قیام ایک ایسا عمل ہے جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے ۔ پناہ گاہوں میں بسنے والے بے گھر و لاچار لوگوں کی دعائیں عرش پر پہنچتی ہیں اور وہ شرف قبولت حاصل کرتے ہوئے ، حکومت کے لئے آسانیوں کا سبب بنتی ہیں ۔ بلاشبہ وزیر اعظم جناب عمران خان کی نیت کے حوالے سے بھی کوئی دوسری رائے نہیں رکھنی چاہئے ۔ وہ ایک اچھی نیت کے حامل انسان ہیں اور ذاتی طور پر پاکستان اور اس کے عوام کے لئے کچھ کر نا چاہتے ہیں لیکن کچھ ابن الوقت قسم کے لوگ ان کے رستے کا پتھر بننے کی کوشش کر رہے ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنی اچھی نیت کو عملی صورت میں لانے میں ناکام ہوئے ہیں ۔

قارئین محترم !ابن الوقت اور مفاد پرست مافیا، صرف اپنی تجوریاں بھرنے کے علاوہ مزید کوئی کام نہ خود کر رہا ہے اور نہ ہی جناب وزیر اعظم کو کچھ کر نے دے رہا ہے ۔ بلکہ اپنے مشوروں سے ایسی غلط پالسیاں سر انجام دے رہا ہے جس کی وجہ سے ملک میں افرا تفری اور انتشار بڑھ رہا ہے۔ جس کی تازہ ترین مثال حالیہ دنوں میں چینی کے کاروبار سے متعلقہ لوگوں کی پکڑ دھکڑ ہے ۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ تحریک انصاف کی صفوں میں پناہ لئے چینی مافیا کے بڑوں نے خوب ’’رج ‘‘ کر چینی بلیک کی اور اپنی جیبیں بھری اور جب وہ اپنا پورا کام کر چکے تو ملبہ سارے کا سارا چھوٹے تاجر پر ڈال دیا اور یوں وہ تاجر حضرات جو پہلے ہی حالات کی ستم ظریفی کا رونا رو رہے تھے، اب جیلوں میںاپنے ناکردہ گناہوں کی وجہ سے قید کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں اور جن کے دلوں میں جان بوجھ کر حکومت مخالف احساسات پیدا کئے جا رہے ہیں۔جبکہ دوسری جانب وزیر اعظم خود بھی انہی مافیاز کی جانب سے مرتب کی گئی گندم اور چینی بحران کی انکوائری رپورٹ سے غیر مطمئن ہیں ۔

اس سے بڑھ کر ظلم مزید اور کیا ہو گا کہ ایک طرف تو وزیر اعظم کی جانب سے یوٹیلٹی سٹورز پر سستی اشیاء کے لئے 15ارب کے پیکج کا اعلان کیا جائے اور دوسری جانب اس اعلان کو مشکوک بنانے کے لئے وہی مافیا یوٹیلیٹی سٹورز پر چینی اور گھی کی قیمتوں میں اضافہ کروادے اور یوٹیلیٹی سٹورز کا ایم ۔ڈی، وہ یوٹیلیٹی سٹورز پر چینی ، گھی اور آٹے کی خود ساختہ کمی کروادے ۔ میں گذشتہ دو دن سے لاہور شہر کے یوٹیلیٹی سٹورز کا وزٹ کر رہا ہوں کسی میں آٹا نہیں تو کسی میں چینی ناپید ہے ۔ غلط فیصلوں اور حکمت عملی کی وجہ سے یوٹیلیٹی سٹور کارپوریشن اس وقت اربوں روپے کا نا دہندہ ہے ۔ صرف گھی سے وابستہ تاجروںکی بات کی جائے تو کروڑوں روپے تاجروں کے پھنسے ہوئے ہیں اور خدشہ یہ بھی ہے کہ اگر ان تاجروں کے بقایاجات اداء نہ کئے گئے تو یوٹیلیٹی سٹورز پر گھی بھی نا پید ہو جائے۔ لہٰذا میری جناب وزیر اعظم سے در خواست ہے کہ معلوم کریں کہ یوٹیلیٹی سٹورز کے معاملات کو کون چلا رہا ہے اور کیسے چلا رہا ہے؟ کیوں تاجروں کے بقایاجات ادا نہیں کئے جا رہے ؟اور چینی سے وابستہ چھوٹے تاجروں کو کس کے کہنے پر ذلیل کیا جا رہا ہے ؟۔

جناب وزیر اعظم ! قدرت آپ پر مہربان ہے ۔ آپ ابھی مٹی کو ہاتھ لگائیں گے تو وہ بھی سونا بن جائے گی ۔ لہذا اس مہلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فوری طور پر پاکستان کو ریاست مدینہ کی طرز کی ریاست بنا نے کے اعلان کو عملی صورت دیں اور سب سے پہلے مہنگائی کی چکی میں پستی عوام کو کوئی بڑا ریلیف دیں ۔ سر کاری ہسپتالوں میں ذلیل ہوتے غریبوں کی داد رسی کریں اور یہاں بھی شوکت خانم طرز کا سسٹم بنائیں تاکہ کوئی غریب خوار نہ ہو سکے ۔اپنی صفوں میں بیٹھے گھس بیٹھیوں کوجو آپ کے رستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہیں بے نقاب کیجئے۔ جناب وزیر اعظم! قدرت کی مہلت سے فائدہ اٹھائیں اور آج سے ہی اللہ کا نام لے کر کام پاکستان کے عوام کو آسانیاں فراہم کر نے کے لئے کمر کس لیں ۔اگر تو آپ نے قدرت کی دی گئی مہلت سے فائدہ اٹھا لیا تو کچھ بعید نہیں تاریخ میں آپ کا نام امر ہو جائے اور خدانخواستہ اگر معاملات جوں کے توں رہے تو پھر یہ بھی یاد رکھیں قدرت پھر کسی کو معاف نہیں کرتی اور پھر ایسے لوگوں کا حال ہمارے سامنے ہے۔


ای پیپر