پہلے ڈی چوک اب پھر لال مسجد…؟؟؟
13 فروری 2020 2020-02-13

اسلام آباد انتظامیہ اور لال مسجد کے معزول خطیب مولانا عبدالعزیز کے درمیان بیک ڈور ہونیوالے مذاکرات کے ایک روز بعد بھی تنازع اپنی جگہ برقرار ہے اور کشیدگی زوروں پر ہے،گزشتہ ہفتے کے اختتام پر تنازع کا آغاز ہوا تھا جب مولانا عبدالعزیز نے سرکاری مسجد میں داخل ہو کر اس کے انتظامات اپنے ہاتھ میں لے لیے تھے دوسری طرف پولیس نے مسجد کو گھیر رکھا ہے اور احاطے کے باہر باڑ لگا دی ہے قارئین 2014 ء میں عمران خان نے شہر اقتدارپر چڑھائی کی اس میں مولانا طاہر القادری نے بھی حصہ ڈالا موصوف تو کفن ساتھ لے گئے ڈی چوک میں قبر بھی بنا ڈالی خفیہ ہاتھوں نے دھرنے کے نام پرملک اور ملک میں چلنے ترقیاتی منصوبوں خصوصاً سی پیک کو رول بیک کرنے میں اہم کردار ادا کیا،مولانا تواچانک ڈی چوک اور ملک سے کوچ کرگئے اس وقت تک جب تک کوئی نیا ایشو نہیں گڑھا جاتا بعد میں فسٹ کزن عمران خان بھی چلتے بنے پاناما کے نام پرنواز شریف کو گھر جانا پڑا،جب وہ فارغ ہوئے پاناما ’’'اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ‘‘ ہو گیا نواز شریف کے سوا تمام کردارمنوں مٹی تلے جاسوئے،کیونکہ اصل کام نواز شریف کی حکومت ختم کرنا ہی تھا،پھر2018 کے الیکشن میںعمرانی حکومت آ گئی وعدے وعید کہاں گئے کسی کو کچھ پتہ نہیں اللہ اللہ خیر سلا؟۔

آج معیشت ہچکولے لے رہی ہے، عوام نوحہ کناں ہیں،دس لاکھ ماہانہ کمانے والا بھی رو رہا ہے اور ماہانہ دس ہزار کمانے والا بھی،پی ٹی آئی پنجاب میں گروپ بندی زوروں پر،ہرشخص نے ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا لی ہے،سرکار سے سرکار سنھبالی نہیں جا رہی جو بیساکھیوں کے سہارے

چل رہی ہے،ڈوبتے ہوئے کو سہارا تنکے کے مصداق ہاتھ پائوں مارے جا رہے ہیں طرح طرح کی خبریں زبان زد عام ہیں ایسے میں شہر اقتدار میں پھرلال مسجد کے نام پر لال آندھی کی سرگوشیاں ہیں کیونکہ گھروندے بنانے اور ڈھانے والے آرٹسٹوںکو اب پھر کسی مالشیے کی ضرورت ہے ایسے لگ رہا ہے کہ سکرپٹ لکھا جا رہا ہے جو آہستہ آہستہ منظر کشی کر رہا ہے قارئین امیدیں ٹوٹ نہیں رہیں ٹوٹ گئی ہیں، ملک میں ہوشربا مہنگائی سے عوام پریشان ہیں اپوزیشن جماعتوں نے بھی خدشہ ظاہر کردیا ہے اگر لوگ سڑکوں پر آگئے تو حکومت اور اپوزیشن سب کو رگڑ دیں گے، سابق حکومتوں کو چور ڈاکو کہنے کا بیانیہ اب لوگ نہیں مانتے کیونکہ ڈیڑھ سال میں مڈل کلاس لوئر مڈل کلاس میں چلی گئی، سابقہ حکمران لوٹ کے کھا گئے کی گردان حکومت کہاں تک کرے گی ایسے لگ رہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے جن کوچور ڈاکو کہا ان سے ہاتھ ملا لیا، اگر وہ خود کہتے ہیں مافیاز ہیں تو ان کیخلاف تحقیقات کیوں نہیں کرتے؟ کہاں گیا تبدیلی سرکار کا احتساب کرنے کا بیانیہ،ملک میں اقتصادی بحران ہے لیکن وزیراعظم کسی سے مشاورت کرنے کو تیار نہیں، حکومت سے ملک نہیں چل رہا،کون سی حکومت چاہے گی کہ اسے برا بھلا کہا جائے، ایف بی آر غلط اعداد و شمار دیتا تھا اب بھی بھی یہی ہو رہا ہے صرف باتیں ہو رہی ہیں۔

حکمرانوں کے پاس ملک کو بحرانوں سے نکالنے کیلئے کوئی ویژن نہیں اور اس بات کا اندازہ ملک کی بگڑتی ہوئی مجموعی صورتحال سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے،تبدیلی سرکار نے اپنے انتخابی دعوئوں کے برعکس کشکول اٹھا کر قرضے لینے کا ریکارڈ قائم کردیا جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ملک و قوم سے مخلص نہیں کیونکہ ناقص حکمت عملی کی بدولت نہ صرف ملکی معیشت کی حالت زار دگر گوں ہے بلکہ عام آدمی شدید مہنگائی کی زد میں ہے، عوا م کو سبز باغ دکھانے والے مکمل طور بے نقاب ہو چکے،حکمرانوں کے قول و فعل میں تضاد آگیاہے ایک طرف مدینہ طرز کی ریاست کے دعوے دوسری طرف عوام کیلئے فوری ریلیف نہ ہونے کی نویدجس سے حکومت کی غیر سنجیدہ طرز حکمرانی عیاں ہو چکی ہے پی ٹی آئی حکومت عذاب بن کر نازل ہوئی،بحرانوں کے انبار لگے ہیں، گندم‘ چینی سمگلنگ پر کسٹم حکام کیخلاف کارروائی‘اصل ذمہ دار پھربچ گئے۔

ن لیگ یا پی پی پی جس کو بھی مینڈیٹ ملے وہ آکر بیٹھے اور اپنے منشور کے مطابق پالیسیاں بنا کر آگے چلتے بنے، لوگوں کو ریلیف ملا یانہیں عوام خود منصف ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ کس نے کیا کیا گل کھلائے، حکومت کے ناقص معاشی فیصلے مہنگائی کی اصل وجہ ہیں، گندم اور چینی سمگلنگ کے اصل ذمہ داروں کے حوالے سے قوم کو کیوں نہیں بتایا جا رہا ہے،مان لیں پچھلی حکومتوں نے قرض لے کر ملک چلایا لیکن موجودہ حکومت قرض لے کر بھی عوام کو مار رہی ہے،عوام جان گئے ہیں کہ 18ماہ میں ثابت ہو گیا پی ٹی آئی کے پاس نا تو ملک چلانے کی قابلیت ہے اور نا ہی صلاحیت ہے، اب ہر کوئی منہ بسور کر حکومت کے جانے کی نوید سنا رہا ہے کیونکہ انہیں لانے والے بھی اب ہاتھ مل رہے ہیںشائد اسی لئے اسلام آباد میں لال مسجد کی تاریخ دہرانے کی خبریں آ رہیں،مچھلی کب شکار ہوتی ہے آنے والے چند مہینوں میں کٹا کٹی نکل آئے گا۔


ای پیپر