کیجری وال کی کامیابی، بھارتی جمہوریت اور کشمیر کاز
13 فروری 2020 2020-02-13

8 فروری کو بھارتی دارالحکومت دہلی کی ریاستی اسمبلی کے لئے منعقد ہونے والے انتخابات کے حتمی نتائج کے مطابق پورے ملک کے اندر حکمران جماعت وزیراعظم نریندر مودی کی بی جے پی 70 میں سے محض 8 نشستوں پر ’کامیابی‘ کے ساتھ شکست فاش سے دوچار ہوئی ہے جبکہ جدید بھارت کو آزادی دلانے اور گاندھی و پنڈت نہرو کی وارث، ملک کی سب سے پرانی جماعت کانگریس کو صفر نشستوں کے ساتھ منہ کے بل گرنا پڑا ہے… دونوں کے مقابلے میں نوزائیدہ اور پچھلے دو ریاستی انتخابات کے دوران کامیابی کے جھنڈے گاڑنے والی اروند کیجیری وال کی عام آدمی پارٹی کو ایک مرتبہ پھر زبردست کامیابی کا سامنا ہے… عام آدمی پارٹی نے 70 میں سے 62 نشستیں حاصل کر کے اپنی ساکھ کو مضبوط تر کر لیا ہے… بی جے پی نے اسے شکست سے دوچار کرنے کی خاطر اپنا تمام تر حکومتی اور ہندو مذہب کے سیاسی فلسفے ہندوتوا کا غیرمعمولی اثررسوخ استعمال کیا جبکہ کیجری وال نے سیکولرازم کا پرچم بلند کئے رکھا اور نریندر مودی کے مسلمانان بھارت کے خلاف امتیازی سلوک والے قوانین ’شہریت کا ترمیمی بل‘ اور سٹیزن رجسٹریشن ایکٹ جیسے قوانین کے خلاف خوب مہم چلائی اور نتیجے میں دارالحکومت کے ووٹروں کے بھرپور مینڈیٹ کے ساتھ سرخروئی حاصل کی… اس چنائو کے اندر دہلی کے مسلمانوں نے اور خاص طور پر ان کے بہادر نوجوانوں، پُرعزم خواتین اور جرأت مند طالب علم لڑکیوں نے وہ کردار ادا کیا کہ آنے والی کئی دہائیوں کے دوران مؤرخ ان کا چرچا کرتا رہے گا… لیکن قبل اس کے کہ ہم اس پہلو کا جائزہ لینے کی کوشش کریںاس امر کا تذکرہ ضروری معلوم ہوتا ہے اس انتخاب میں وزیراعظم بھارت نریندر مودی جیسی طاقتور سیاسی شخصیت اور ان کی ہندوستان گیر جماعت بی جے پی کا بہت کچھ دائو پر لگا ہوا تھا… اروند کیجری وال نے اگرچہ ریاستی اسمبلی کا تیسرا چنائو جیتا ہے مگر مودی صاحب اسے اپنے مقابلے میں نوخیز سمجھتے ہیں اور ان سمیت موصوف کے حامیوں کاخیال تھا کہ کل کی پیداوار اس سیاستدان کو شکست دینا وزیراعظم اور ان کے دست راست وزیر داخلہ امیت شا کے لئے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے… نتائج نے سارا اندازہ غلط ثابت کر دکھایا… مگر مودی کی جماعت کے قائدین نے انتخابی نتائج کا اعلان ہوتے ہی کیجری وال کو کھلے دل کے ساتھ مبارک باد پیش کی اور سرِعام اپنی شکست کو تسلیم کر لیا… کانگریس جیسی بوڑھی جماعت نے بھی اپنی پسپائی کو روگِ جان نہیں بنایا بلکہ اپنی انتخابی مہم کی ناکامی سے تعبیر کیا… اسے پاکستان کے انتخابی تجربات کے تناظر میں رکھ کر دیکھئے تو حیرت ہوتی ہے کسی نے دھاندلی کا الزام لگایا نہ ایجنسیوں کا خفیہ یا ظاہری کردار زیربحث آیا نہ کسی جانب سے واویلا مچایا گیاکہ ووٹوں کی گنتی کے دوران ’ریپڈ ٹرانسفر سسٹم‘ جیسی کسی مشینری کی خرابی نے کامیاب جماعت کے حق میں جادوجگایا ہے، فارم 45 کے غائب ہونے کا کسی سے تذکرہ نہ سنا اور نہ کیجری وال پر ایسا الزام لگایا گیا ہے کہ ملک کی مقتدر قوتیں نریندر مودی کو مزہ چکھانے کے لئے اروند جی کو سیاسی افق پر ابھارتی رہی ہیں اور انہی کی خفیہ یا ظاہری سرپرستی کی بدولت اس نوخیز سیاستدان نے ایک کے بعد دوسری کامیابی حاصل کر کے بھارتی سیاست میں اپنا مقام بنایا… پورے کے پورے انتخابی عمل کے شفاف اور غیرجانبدارانہ ہونے پر کسی نے شبہے کا اظہار نہیں کیا گیا خواہ حکمران جماعت ہو یا اپوزیشن لیڈر… اروند کیجری وال کو الیکشن کمیشن آف انڈیا سے صرف اتنی شکایت ہوئی کہ چنائو کے دن بعداز دوپہر تک اس نے ووٹروں کا صحیح تناسب دکھانے میں پس و پیش سے کام لیا… اس کے علاوہ بھارت کے سب سے بڑے اور ممتاز تر شہر کے ریاستی اسمبلی کے انتخابات کے ووٹروں کی آراء کا آئینہ دار ہونے کے بارے میں کسی جانب سے شک و شبہ کا اظہار نہیں کیا گیا… کیا پاکستان

میں 1970 ء سے قطع نظر ایسے کسی چنائو کا تصور کیا جاسکتا ہے حالانکہ جتنے ہمارے ہاں چنائو ہوئے ہیں کم و بیش 70 سال کے دوران اتنے ہی ہندوستان میں منعقد کرائے گئے ہیں… وہاں اس سارے عمل میں کسی خلائی مخلوق کے کردار کا تصور تک نہیں پایا جاتا… شاید یہی ایک وجہ ہے کہ بھارت میں آئین کی بالادستی اور جمہوری عمل کے تسلسل کو اتنی زیادہ ساکھ مل گئی ہے کہ اسے پوری دنیا میں تسلیم کیا جاتا ہے… اسی کی آڑ میں بھارت کشمیر کے مجبور و مقہور مسلمانوں پر ظلم و ستم کی بارش کرتا ہے… دنیا کے لوگ اسے نظرانداز کر جاتے ہیں جو اپنی جگہ غیرمعمولی درجے کی ناانصافی ہے لیکن اس نے بہرصورت اپنی آئینی و جمہوری بنیادوں کو مضبوط تر کر رکھا ہے… کوئی اسے اسٹیبلشمنٹ کی خانہ زار جمہوریت ہونے کا طعنہ نہیں دیتا… اپنے نہ پرائے…

انتخابی نتائج نے ثابت کر دیا ہے کہ بھارتی مسلمان اگر یکجا و متحد ہو جائیں تو ہندو اکثریت کی موجودہ لیڈرشپ جو ان کے بنیادی حقوق چھین لینے اور امتیازی تہذیبی و ثقافتی علامتوں کو ملیامیٹ کر دینے کے در پے آزار ہے زیادہ کچھ نہیں بگاڑ سکتی… دہلی کے مسلمان نوجوانوں نے جامعہ ملیہ کو اپنا مرکز احتجاج بنا کر اور اس کے معاملات اس شہر عظیم کی بلند حوصلہ خواتین و لڑکیوں نے کئی ہفتوں تک شاہین باغ جیسے تاریخی مقام پر غیرمعمولی دھرنا دے کر جس قوت مزاحمت کا مظاہرہ کیا ہے یہ امر اروند کیجری وال کی کامیابی میں ممدومعاون ثابت ہوا ہے… حالانکہ پوری انتخابی مہم کے دوران کیجری وال صاحب لمحہ بھر کے لئے شاہین باغ گئے نہ جامعہ ملیہ کا رخ کیا… انہوں نے سیکولر ہندوئوں کے مرکز جواہر لعل یونیورسٹی کا دورہ کرنا بھی مناسب نہ سمجھا بظاہر اپنے آپ کو ان سب سے لاتعلق رکھا… لیکن پورا سیکولر انڈیا جانتا تھا کہ کیجری وال کی سیاسی طاقت کے منابع انہی تین مقامات سے پھوٹ رہے ہیں… اسی بنا پر انہیں دہشت گرد تک ہونے کا طعنہ دیاگیا… بی جے پی کے لیڈروں نے یہاں تک کہا کہ وہ ہندوستان کی نہیں پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں… مگر یہ اکاون سالہ اور دو مرتبہ وزیراعلیٰ رہنے والا سیاستدان کسی بات کو خاطر میںنہ لایا… اس نے مسلمانوں کے حق میںتو کوئی ایک کلمہ نہیںکہا مگر شہریت ترمیمی بل اور اس طرح کے دوسرے قوانین کو ہندوستان کے اتحاد اور سیکولر انڈیا کے لئے جس کی بنیاد پر ملک کا آئین بنایا گیا ہے زہرِ قاتل قرار دینے میں تامل نہ کیا… دہلی کے لوگ بھی اس کے پیغام کو پوری طرح سمجھ رہے تھے اگرچہ شہری و ریاستی حکومت کا کام گلی محلوں کی صفائی، بجلی اور پانی کے نظام کو بہتر طریقے سے چلانا اور سکولوں کے معیارات کو بلندتر کرنا ہے جس میں کیجری وال پچھلی کارکردگی کے لحاظ سے نمایاں رہے ہیں… ووٹروں نے اس بنا پر بھی انہیں تیسری مرتبہ شہر کا وزیراعلیٰ بنانا پسند کیا ہے… تاہم اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ دلی جیسے شہر کے ہندو ووٹروں کی بھاری اکثریت نے نریندر مودی کے ہندوتوا نظریے کو دل وجان سے قبول نہیں کیا…

ان انتخابی نتائج میںہم اہل پاکستان کے لئے دو سبق پنہاں ہیں… ایک یہ کہ جب تک ہم اپنے انتخابی عمل کو آئین پاکستان کا آئینہ دار اور شفاف ترین جمہوری عمل کے ساتھ عین مطابقت رکھنے والا نہیں بنا لیتے ہمارے یہاں منعقد ہونے والے ہر انتخابات پر شکوک و شبہات سایہ فگن رہیں گے، ہارنے والی جماعتیں اور ان کے لیڈر کامیاب پارٹی کو سلیکٹڈ ہونے کا طعنہ دیتی رہیں گی، ان کی ساکھ ہرگز قائم نہ ہونے پائے گی، نتیجے کے طور پر ہم جو اٹھتے بیٹھتے اپنے آپ اور مقتدر قوتوں کو طعنے دیتے رہتے ہیں کہ کوئی ایک وزیراعظم بھی اپنی آئینی مدت پوری نہیں کر سکا، اس الزام بازی میں کمی نہ آئے گی، جمہوری عمل لڑکھڑاتا رہے گا اور یہ معاملہ ہمارے یہاں ایک کے بعد عدم استحکام کی دوسری لہر کو جنم دیتا رہے گا… اس کے نتیجے میں پاکستان میں جو کچھ ہوتا رہا ہے اور آئندہ ہوتا رہے گا بیرونی دنیا کی قوتیں بھی ایک کے بعد آنے والے ہمارے ہر دوسرے حکمران کو اپنے مقصد براری کے لئے استعمال کرتی رہیں گی… بھارت بھی اس صورت حال سے فائدہ اٹھانے میں کمی روا نہیں رکھے گا… دوسرا سبق یہ ہے اگر پاکستان میں آئین مملکت کے ڈھانچے کو شکست و ریخت سے دوچار کیا گیا ہے تو بھارت میں نریندر مودی نے برسراقتدار آ کر اپنے دستوری نظام کی روح کو کچل کر رکھ دینے میں کسر باقی نہیں رہنے دی… اگر بھارت کا سیکولر طبقہ جس طریقے سے مودی کے خلاف یک آواز ہو رہا ہے ہم اس کی اصل حقیقت سے دنیا کو صحیح معنوں میں باور کرانے کی کوشش کریں تو مسلمانان ہند کی کچھ نہ کچھ خدمت ضرور بجا لا سکتے ہیں اور اسی کے تناظر میں کشمیر کاز کو نئی جہتوں سے بھی آشنا کر سکتے ہیں… میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں اب بھی دہرائے دیتا ہوں اگر مسلمانان بھارت اسی عزم اور حوصلے کے ساتھ اپنی منزل کی جانب آگے بڑھتے رہے تو نہ صرف پورے بھارت کی سیاست متاثر ہو گی بلکہ کشمیری عوام بھی پورے جوش و جذبے کے ساتھ ان کے ساتھ آ ملے گی… یوں کشمیریوں کی جدوجہد کو نئی جہت ملے گی… یہ وہ موقع ہو گا جب ان کے ایک حامی اور پشتیبان کے طور پر پاکستان بھی دنیا بھر کو ان کے ساتھ ہونے والے حقیقی مظالم اور بنیادی انسانی حقوق کی پامالی سے صحیح معنوں میں آشنا کر سکے گا… لیکن اس کے لئے ضروری ہے جیسا کہ میں نے عرض کیا ہماری آئینی اور جمہوری بنیادیں پختہ تر ہوں، کوئی ان کی ساکھ پر انگلی نہ اٹھائے اور ان پر کوئی داخلی یا بیرونی قوت سایہ فگن نہ ہو… پاکستان کے اندر اٹھان لینے والا ایک آزاد آئینی و جمہوری عمل ہی کشمیری عوام کو ان کے بنیادی حقوق اور حق خودارادی دلانے میں کامیاب ہو سکتا ہے…


ای پیپر