دہلی انتخابات کا سبق
13 فروری 2020 2020-02-13

دہلی ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ دہلی کے ووٹرز نے مودی سرکار کی نفرت اور تقسیم کی فاشسٹ پالیسیوں اور سیاست کو مسترد کر دیا۔ دہلی کے عوام نے عام آدمی پارٹی اور اس کے سربراہ اروند کیجری وال پر مسلسل تیسری بار اعتماد کا اظہار کیا۔ دہلی اسمبلی کو 70 سیٹوں میں سے 62 پر عام آدمی پارٹی کامیاب ہوئی جبکہ BJP کے حصے میں محض 8 سیٹیں آئیں۔2015ء میں عام آدمی پارٹی 70 میں سے 67 سیٹوں پر کامیابی سمیٹی تھی اور جھاڑو پھیر دیا تھا ۔ اس مرتبہ اگرچہ اس نے 5 سیٹیں کم حاصل کی ہیں مگر اس کے باوجود یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔

عمومی خیال یہ تھا کہ اس مرتبہ دہلی کے انتخابات میں سخت مقابلہ ہو گا اور عام آدمی پارٹی آسانی سے فتح حاصل نہیں کر سکے گی۔ اس خیال یا سوچ کی بڑی وجہ 2019ء کے عام انتخابات کے نتائج تھے۔ 8 ماہ قبل ہونے والے لوک سبھا انتخابات میں BJPنے دہلی کی تمام سات سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی جبکہ عام آدمی پارٹی تیسرے نمبر پر رہی تھی۔ دوسرے نمبر پر کانگریس رہی۔ ان نتائج کی بنیاد پر عمومی خیال یہی تھا کہ اس مرتبہ کانٹے دار مقابلہ ہو گا مگر توقعات کے برعکس عام آدمی پارٹی نے فیصلہ کن کامیابی حاصل کر لی۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کی دہلی ریاستی قیادت نے ایگزٹ پولز کے ان نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا جن کے مطابق عام آدمی پارٹی کی فتح یقینی تھی۔ بی جے پی کی قیادت کا خیال تھا کہ وہ لوک سبھا انتخابات کی طرح اس بار بھی عام آدمی پارٹی کا صفایا کر دیں گے مگر ایسا نہیں ہوا۔ یہاں یہ سوال ابھرتا ہے کہ گزشتہ 8 ماہ میں ایسا کیا ہوا کہ عام آدمی پارٹی جیت گئی اور بی جے پی ہار گئی۔ راقم کے خیال میں اس کی تین بڑی وجوہات ہیں جو عام آدمی پارٹی کی کامیابی اور بی جے پی کی بدترین شکست کی وجہ بنیں۔ اس کی بڑی وجہ تو یہ ہے کہ دہلی کے ریاستی انتخابات دہلی کے مقامی مسائل اور عام آدمی پارٹی کی 7 سالہ کارکردگی کے گرد ہوئے۔ ان انتخابات میں اروند کیجری وال کی کارکردگی زیر بحث رہی جبکہ 8ماہ قبل ہونے والے لوک سبھا انتخابات میں قومی مسائل اور مودی حکومت زیر بحث تھی۔ عام آدمی پارٹی ایک چھوٹی جماعت ہونے کی وجہ سے قومی سیاست میں وہ توجہ حاصل نہ کر سکی اور دہلی کے ووٹروں نے بی جے پی اور کانگریس کو ووٹ دیا۔

اس مرتبہ وزیراعلیٰ اروند کیجری وال نے اپنی کارکردگی پر ووٹ مانگے۔ انہوںنے اپنی تقریروں میں دہلی کے عوام کو بار بار یاد دلایا کہ ان کی ریاستی حکومت نے عوام کے لیے کیا کچھ کیا ہے۔ انہوں نے واضح طو رپر کہا کہ اگر انہوں نے وعدے پورے نہیں کیے تو انہیں ووٹ

مت دیں لیکن اگر انہوں نے وعدے پورے کیے ہیں تو پھر انہیں دوبارہ موقع دیا جائے۔

دہلی کی عام آدمی پارٹی حکومت نے 200 یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کے لیے بجلی مفت کر دی۔ 400 یونٹ تک کی قیمت آدھی کر دی۔ کیجری وال حکومت نے 20 ہزار لٹر تک پانی مفت کر دیا۔ ان کی حکومت نے نجی سکولوں کو 5 سالوں میں ایک بار بھی فیسوں میں اضافے کی اجازت نہ دی۔ ان کی حکومت نے دہلی میں علاج کی سہولیات کی فراہمی کے لیے اقدامات کیے۔ مفت علاج اور ادویات کی فراہمی کو یقینی بنایا۔ انہوں نے اپنی پارٹی کی کمیٹیوں کے ذریعے ہسپتالوں سے کرپشن اور بد انتظامی کو ختم کیا۔ فری ایمبولینس سروس کا آغاز کیا۔ ان کی حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ وہ بدعنوانی سے پاک صاف ستھری انتظامیہ فراہم کرے گی۔ ان کی حکومت کے بارے میں عمومی تاثر یہی ہے کہ یہ بدعنوان نہیں ہے اور لوگوں کے لیے کام کرتی ہے۔

اروند کیجری وال اپنی کارکردگی کی بنیاد پر دوبارہ منتخب ہوئے ہیں۔ انہوں نے 5 سال عوام کے لیے کچھ نہ کچھ یا۔ انہوں نے محض مودی کو گالیاں نہیں دیں۔ انہوںنے محض پچھلی حکومتوں پر ہر برائی اور خرابی کا ملبہ ڈال کر خود کو بری الذمہ قرار دینے کی کوشش نہیں کی بلکہ اپنے وعدے پورے کرنے کی کوشش کی۔ یہ تحریک انصاف کی حکومت کے لیے بھی سبق ہے۔ محض الزام تراشیوں اور پچھلی حکومتوں پر ذمہ داری ڈال دینے سے کام نہیں چلے گا۔

دوسری وجہ بی جے پی کی نفرت جبر اور تقسیم کرنے کی پالیسیوں اور سیاست کے خلاف بڑھتی ہوئی مزاحمت ہے۔ شہریت بل اور مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی پالیسی دہلی کے ووٹروں کو رام نہیں کر سکی۔ BJP کی قیادت نے عام آدمی پارٹی اور شہریت بل مخالف مظاہرین کے خلاف نہایت زہریلا پروپیگنڈا کیا۔ ان پر ملک دشمنی اور پاکستانی ایجنٹ ہونے کے الزامات عائد کیے۔ ان کو ڈنڈے اور گولیاں مارنے کی باتیں کی گئیں مگر یہ زہریلی پروپیگنڈہ مہم ناکام ہوئی۔ جی جے پی کی ناکامی اور عام آدمی کی کامیابی میں شہریت بل مخالف احتجاجی تحریک نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

جواہر لال نہرو اور جامعۃ ملیہ میں دہلی پولیس نے جس قسم کی بربریت اور جبر کا ننگا مظاہرہ کیا۔ اس نے بھی نوجوانون میں مودی مخالف جذبات کو ابھارا۔ دہلی پولیس ریاست حکومت کے ماتحت نہیں ہے بلکہ براہ راست مرکزی وزارت داخلہ کے ماتحت کام کرتی ہے۔ اس لیے پولیس نے جو کچھ کیا اس کا نقصان BJP کو ہوا اور فائدہ عام آدمی پارٹی کو ہوا۔

اسی طرح ایک وجہ یہ تھی کہ لوک سبھا انتخابات میں دہلی کے درمیانے طبقے کی بڑی تعداد نے بی جے پی کو ووٹ ڈالا تھا۔ مگر اسمبلی انتخابات میں انہوں نے عام آدمی پارٹی کو ووٹ ڈالا۔ بی جے پی کا خیال تھا کہ درمیانہ طبقہ ایک بار پھر مودی کے سحر میں مبتلا ہو کر اسے ووٹ ڈالے گا مگر ایسا نہ ہوا۔ درمیانے طبقے میں بھارتی معیشت کے گہرے ہوتے ہوئے بحران کے حوالے سے گہری تشویش پائی جاتی ہے۔ بیروزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ کاروبار بحران سے دو چار ہے۔ درمیانے طبقے کے نوجوان ملازمتوں کے حوالے سے تشویش کا شکار ہیں۔ درمیانے طبقے کے ووٹرز کے لیے بدعنوانی اور بدانتظامی بھی اہم مسئلہ ہے۔ ان دونوں مسئلوں پر اردوند کیجری وال کی حکومت کا امیج بہتر رہا ہے۔ دہلی میں جہاں اور کئی بے شمار مسائل جوں کے توں ہیں جن میں خواتین پر جنسی تشدد، امان و امان، فضائی آلودگی وغیرہ شامل ہیں مگر کرپشن کے حوالے سے مسائل کم ہوئے ہیں۔

اس طرح تعلیم وغیرہ شامل ہیں ۔تعلیم اور صحت کے حوالے سے بھی بہتری آئی ہے۔ درمیانے طبقے کے ووٹرز کے لیے صاف ستھری اور بدعنوانی سے پاک حکومت پہلی ترجیح تھی اس لیے انہوں نے عام آدمی پارٹی کوو وٹ دیا۔ یہ شکست مودی کے لیے بڑا دھچکا ہے جس کے سیاسی اثرات گہرے ہوں گے۔


ای پیپر