جمہوریت کا جہاز
13 فروری 2020 2020-02-13

پاکستان میں جمہوریت کا جہاز پہلے گیارہ سال رن وے پر اور پھر اگلے 13 سال ہینگر میں کھڑا رہا۔ اس دوران عسکری جہاز اس وقت تک ہوا میں بلند رہا جب تک ملک دو لخت نہیں ہو گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو وہ پہلے سویلین پائلٹ تھے جنہوں نے جمہوری جہاز کو ہوا میں بلند کیا۔ حالات کی ستم ظریفی دیکھیں کہ کاک پٹ میں موجود مذہبی اور پوشیدہ قوتوں نے اپنے منتر اور جادو ٹونے سے ایسا عمل کیا کہ چار سال بعد ہی یہ جہاز تباہ ہو گیا۔ یوں ایک دفعہ پھر عسکری جہاز ہوا میں بلند ہوا اور گیارہ سال لگاتار پرواز کے بعد یہ جہاز بہاولپور کے قریب ہوا میں ہی پھٹ گیا۔

پاکستان میں جمہوریت کے دوسرے جہاز نے 1988 میں اپنی پرواز شروع کی۔ چونکہ اس جہاز کا انجن اور راڈار عسکری فیکٹری میں تیار ہوئے تھے لہٰذا ہر دو اڑھائی سال بعد اس کے پائلٹ کو بدل دیا جاتا اور آخر 12 اکتوبر 1999 کو یہ جمہوری جہاز کارگل کے محاذ پر گولی لگنے سے حادثے کا شکار ہوگیا۔ ایک دفعہ پھر عسکری جہاز ہوا میں بلند ہوا۔ جمہوری قوتوں کو اگلا جہاز خریدنے اور اڑانے میں نو سال لگ گئے اور آخر 2008 میں دوبارہ جمہوری جہاز نے اپنی پرواز شروع کی۔ اگرچہ اس کی پائلٹ سیٹ پر چار سال یوسف رضاگیلانی بیٹھے رہے تاہم اسے آصف علی زرداری صدارتی محل سے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے اڑاتے رہے۔ اس پر پہلے حقانی بم گرایا گیا اور پھر سانحہ ایبٹ آباد کی بجلی بھی گری۔ چار سال بعد اعلیٰ عدلیہ نے جہاز کے پائلٹ کو جانبدار قرار دیتے ہوئے گراؤنڈ کر دیا اور پائلٹ کی سیٹ پر راجہ پرویز اشرف جا بیٹھے۔ پانچ سال مکمل ہونے پر جاتے جاتے صدر اور سپہ سلار نے نہ صرف اسکا انجن بیچ دیا بلکہ سیٹیں تک اتار کر ساتھ لے گئے۔

2013 سے 2018 تک حکمرانوں نے جو جمہوری جہاز استعمال کیا وہ چوبیس ہزار ارب کا قرضہ لے کر اور اداروں کو گروی رکھ کر خریدا گیا تھا۔ اس میں آرائش اور آرام کا تمام سامان موجود تھا۔ اس جہاز پر ایک سال بعد ہی اسلام آباد دھرنے کا بم گرایا گیا اور پھر ڈان لیکس کا دوسرا بم گرا۔ آخر جب وکی لیکس کی بجلی اس کے اوپر گری تو چار سال بعد ہی اس جہاز کے پائلٹ پر نشے میں جہاز چلانے کا الزام لگا کر انہیں عدالت عظمیٰ نے گراؤنڈ کر دیا اور میاں صاحب نے شاہد خاقان عباسی کو پائلٹ سیٹ پر بٹھا کر اگلا ایک سال ریموٹ کنٹرول سے اس جہاز کو اڑایا اور پھر ناراض ہوکر پہلے جیل اور اب لندن چلے گئے ہیں اور جہاز کو بھی ساتھ لے گئے ہیں۔ ان کے عملے کے آدھے ارکان جیل میں ہیں اور باقی پائلٹ اور ساتھی پائلٹ سے ہدایات لے کر لندن سے واپس آتے ہی جمہوری جہاز کو گرانے کے لئے جادو ٹونے میں مصروف ہیں۔

تحریک انصاف کے پاس اپنا جہاز نہیں تھا اس لئے انہوں نے ملک ریاض اور جہانگیر ترین کے جہازوں میں جمہوری سفر شروع کیا۔ آج کے پاکستان میں جو جمہوری جہاز اپنی پرواز جاری رکھے ہوئے ہے اس میں پائلٹ کے فرائض عمران خان سرانجام دے رہے ہیں جبکہ ساتھی پائلٹ کے نام اور کام دونوں پر اختلاف پایا جاتا ہے۔

حزب اختلاف کی خواہش اور کوشش ہے کہ کسی طرح پائلٹ سیٹ پر بیٹھے عمران خان کو اڑتے جہاز سے نیچے پھینک دیا جائے اور یا تو خود ورنہ یہ فرائض حکومتی ارکان میں کوئی دوسرا شخص سنبھالے یا پھر جہاز حادثے کا شکار ہوجائے اور اس کی جگہ کوئی عسکری پائلٹ اپنا جہاز اڑانا شروع کر دے۔

حزب اختلاف جانتی ہے کہ یہ ایک پرانا جہاز ہے جو 22 سال کی جد و جہد کے بعد رنگ و روغن کرنے کے بعد اڑنے کے قابل ہوا ہے۔ اب بھی اس میں نہ صرف عسکری انجن ہے بلکہ عسکری راڈار لگا ہوا ہے جو اس کی رفتار اور سمت کا تعین کرتا ہے۔ اس جمہوری جہاز میں بلیک باکس تک نہیں ہے اس لیے حادثے کی صورت میں وجہ کا پتہ لگانا تقریباً ناممکن ہوگا۔ اس کا ایک پنکھ گجرات کی فنیچر فیکٹری میں تیار ہوا ہے جبکہ دوسرا کراچی میں کٹی پہاڑی کے پاس واقعہ فیکٹری میں تیار کیا گیا ہے۔ اس میں موجود ائیرہوسٹس بھی کرائے پر حاصل کی گئی ہے اور وہ جمہوری سے زیادہ عسکری زبان میں احکامات جاری کرتی ہیں۔

اس جہاز کو گرانے کے لیے حزب اختلاف نے پہلے مولانا فضل الرحمان کی خدمات حاصل کیں اور ان کے مریدوں نے اسلام آباد میں مجمع لگا کر کافی منتر پڑھے تاہم جلد ہی مایوسی کا شکار ہو کر پشاور موڑ پر اپنے نشانات چھوڑے اور پوشیدہ قوتوں کی ضمانتیں لے کر واپس چلے گئے۔

یہ جمہوری جہاز پچھلے ڈیڑھ سال سے ہوا میں ہچکولے کھا رہا ہے۔ اگرچہ اب اس کے عسکری انجن کو مرمت کیا گیا ہے جس کی وارنٹی تین سال ہے جسے پہلے عدالت عظمیٰ نے ماننے سے انکار کر دیا تھا تاہم پوشیدہ قوتوں کے ڈر سے بال پارلیمنٹ کی کورٹ میں ڈال دی۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے اپنی اعلیٰ روایت کو برقرار رکھتے ہوے اس وارنٹی کو بلا حیل و حجت بڑھا دیا ہے۔ جہاز میں بیٹھے مسافروں یعنی عوام کو کھانے پینے کی اشیاء اور جائے حاجت تک کے لئے بھاری ٹیکس لگا دیا گیا ہے جس کی وجہ سے اکانومی کلاس میں بات فاقوں تک پہنچ رہی ہے۔

اس جمہوری جہاز میں جب بھی کوئی خرابی پیدا ہوتی ہے تو تمام مرمت دوران پرواز کی جاتی ہے کیونکہ خطرہ ہے اگر اس جہاز کو رن وے پر اتارا گیا تو کہیں اس کا پائلٹ نہ بدل جائے یا پھر تکنیکی بنیادوں پر یہ جہاز ان فٹ قرار نہ دے دیا جائے۔ جہاز کے انجن سے آنے والی آوازیں صرف اکانومی کلاس کے مسافروں کو سنائی دیتی ہیں جبکہ کوئی اکانومی کلاس کا مسافر فرسٹ یا بزنس کلاس میں جھانک تک نہیں سکتا ہے۔ فرسٹ اور بزنس کلاس میں بیٹھے مسافروں کو پوشیدہ قوتوں کی سرپرستی حاصل ہے اور دو دفعہ ان کے بیٹھنے کی ترتیب بھی بدلی جا چکی ہے تاہم کوئی اچھا کاریگر ابھی تک دستیاب نہیں ہوا ہے۔

یہ جمہوری جہاز اپنی پرواز جاری رکھے ہوئے ہے تاہم اس میں پائلٹ کی تبدیلی یا پھر تباہ ہونے کے امکان موجود ہیں۔ سعودی عرب نے بھی تیل دینے کے علاوہ کوئی اور مدد کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

ہوا میں غوطے کھاتا یہ جمہوری جہاز کسی معجزے کا منتظر ہے۔ اگرچہ اپنی پرواز جاری رکھنے کے لیے اسے تدبیر اور دوا دونوں کی ضرورت ہے تاہم پائلٹ صرف دعا کے ذریعے ہی چلانے پر بضد ہے۔ دعا کے ساتھ بنی گالہ میں جادو ٹونے کا عمل بھی جاری ہے۔ عوام سے یہ بھی استدعا ہے کہ گھبرانا نہیں ہے اچھا وقت آئے گا اور یہ جمہوری پرواز ہوا میں مستحکم ہوجائے گی یاد رہے اس وقت تک گھبرانا نہیں ہے۔


ای پیپر