اونٹ کے منہ میں زیرہ اور بگ بینگ تھیوری
13 فروری 2020 2020-02-13

پی ٹی آئی حکومت اتحادیوں کو منا کر ایک مرتبہ پھرنمبر گیمز کے طوفان سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئی ہے مگر کس قیمت پر ؟یہ وقت بتائے گا ۔فی الحال پی ٹی آئی کے لئے بڑا چیلنج مہنگائی اور معیشت پر قابو پانا ہے ۔ منگل کے روز کابینہ اجلاس میں حکومت کی جانب سے مہنگائی پر قابو پانے کے لئے خصوصی پیکج کا اعلان کیا ہے ۔ کابینہ اجلاس کے بعد وزیر اعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے میڈیا کو بتا یا کہ حکومت نے مہنگائی پر قابو پانے کے لئے یوٹیلٹی سٹورز کو 10 ارب روپے کے پیکج دینے کافیصلہ کیا ہے جس سے عوام کو 5ماہ تک ہر ماہ 2ارب روپے کی سبسڈی ملے گی ۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ یوٹیلٹی سٹورز پر 20کلو آٹا 800 روپے میں اور چینی 70 روپے فی کلو میں دستیاب ہو گی ۔ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے مطابق حکومت کامیاب جوان پروگرام کے تحت نوجوانوں کو 4لاکھ تک قرض فراہم کر رہی ہے جس سے وہ20 ہزار یوٹیلٹی ریٹیل سنٹرز کھول سکیں گے۔وزیر اعظم کی معاون خصوصی نے کابینہ اجلاس کے بعدمیڈیا کے سامنے جہاں 12 بڑے شہروں میں کیشن اینڈ کیری سینٹرز کھولنے کا عندیہ دیا وہاں ہی احساس کفالت پروگرام کے تحت 43 لاکھ خواتین کو ماہانہ2ہزار روپے دینے کا اعلان بھی دہرایا۔ اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر اس ریلیف پیکج کے ذریعے شاید حکومت کچھ وقت کے لئے عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے کے قابل ہو جائے مگر سوال یہ ہے کہ ناسور نما زخمی معیشت پر وقتی مرہم کس حدتک سود مند ثابت ہو گا ۔ گزشتہ کچھ ہفتوں کی رپورٹس کے مطابق سٹاک مارکیٹ اچانک گرنا شروع ہو گئی ہے ۔ پیر کی رپورٹ کے مطابق سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کو تقریبا ڈیڑھ ارب کا نقصان اٹھانا پڑا ہے ۔وزیر خزانہ خود مان چکے ہیں کہ گزشتہ 2سال میں 22لاکھ افراد بے روزگار ہو چکے ہیں ۔ادھر سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی حکام نے ایک مرتبہ پھر بجلی کی قیمتوں میں 98پیسہ فی یونٹ اضافے کی سمری بھیجی تھی جسے فی الوقت حکومت نے موخرتو کر دیا ہے مگر مسترد نہیں کر سکی ۔آٹے اور چینی بحران کی بات کی جائے تو حکومت کی جانب سے آٹے کے بحران کے لئے خصوصی تحقیقاتی کمیٹی قائم کی گئی تھی جس کی رپورٹ کے مطابق گندم کا بحران پیدا کرنے میں بیوروکریٹ اور سیاست دانوں کا ہاتھ ہے ۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گندم کی سمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی میں موجودہ و سابق حکومتوں کے قریبی لوگوں کو عمل دخل ہے ۔گندم کی امپورٹ کو یہ لکھ کر روکنے کا مشورہ بھی دیا گیا ہے کہ ملک میں اس وقت گندم کا لاکھوں ٹن اضافی اسٹاک موجود ہے۔ اسی طرح چینی بحران کے بارے میں بھی یہی رپورٹس ہیں کہ پہلے گنے کی قیمت بڑھائی گئی اور پھر ٹیکس لگا کر چینی کی قیمتوں میں اضافہ کر کے مدعا انتظامیہ پر ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے ۔مہنگائی کی شرح میں بنیادی اضافہ دیکھیں تو 14.6سے 18فیصد تک بڑھنے کے بعد فی کس آمدنی اور مہنگائی کی شرح میں فرق مزید بڑھ گیا ہے۔ معیشت کے ماہرین کا ماننا ہے کہ مہنگائی کی شرح کا دو ہندسوں میں جانا انتہائی خطرناک صورتحال ہے اور پھر اگر فی کس آمدنی اور مہنگائی کی شرح میں اضافے کے موجودہ اعشاریے دیکھیں تو یہ صرف عدم توازن نہیں بلکہ خطرے کی گھنٹی ہے ۔ دوسری طرف آئی ایم ایف جو ملکوں کی ڈوبتی معیشت کا سہارا دینے کا دعویٰ کرتا ہے پاکستان سے منی بجٹ کے ذریعے گیس ، بجلی اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا مطالبہ کر رہا ہے ۔حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ آئی ایم ایف کی کئی اہم شرائط کو نہیں مانیں گے مگر کیا قرض دینے والے کی شرائط نہ ماننے کا اصول بھی کبھی رائج رہا ہے ؟عمران خان کی جماعت کی مثال ایسی ہے جیسے کسی سیلبریٹی کو اپنے تمام مداحوں کو خوش رکھنا پڑتا ہے بالکل اسی طرح عمران خان کوپارٹی میں مختلف نظریات رکھنے والے گروپس کو ساتھ لے کر چلنا پڑتا ہے ۔ کہیں پرمعاشی معاملات کی اہمیت کو مد نظر رکھنا ہوتا ہے تو کہیں عوام میں اچھی شہرت رکھنے والے گروپ کی خاطر تواضع کرنا پڑتی ہے ۔ یہی نہیں عوام میں مقبول یا ورکر کلاس سے تعلق رکھنے والے لیڈرز بھی بلیک میل کرکے اپنے مطالبات منوانے میں پیش پیش نظر آتے ہیں ۔ اتحادیوں کا نام لیں تو ایسے لگتا ہے اقتدار پر پہلا حق ان کا ہی ہے ۔ کسی حکومت کی کیا جرات کہ اتحادیوں کے حلقوں میں ترقیاتی کام نہ کرائے یا کسی افسر کا تبادلہ اپنی مرضی سے کر دے ۔ اتحادیوں کی پوزیشن اس وقت اس داماد کی سی ہے جو اہل خانہ کے ساتھ ساتھ محلے والوں سے بھی خوب آو بھگت کرانے کے موڈ میں ہے ۔ اسی لیے تو اتحادی جماعتوں کو بیوروکریسی کی من مانیاں ایک آنکھ نہیں بھاتیں اور وہ چیف ایگزیکٹو سے زیادہ بیوروکریسی اور پولیس کے انتظامی معاملات سے نالاں ہیں ۔ سیاسی و معاشی عدم استحکام کے بعد حکومت کے رہنے یا جانے کی بات کریں تو قارئین دل تھام کر سن لیں کہ موجود معاشی و سیاسی صورتحال میں بیرونی طاقتیں چاہیں یا اندرونی طاقتیں 100فیصد مطالبات مانتے ہوئے کسی ڈیل کی آفر کریںتوبھی کوئی سیاسی جماعت ٹائم بم پر لگی معیشت کے دھماکے کے لئے اپنی گردن مہیا کرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتی ۔اس لئے لندن پلان یا ملاقاتیں ذاتی کسیز سے جان چھڑانے کے لئے تو ہو سکتی ہیں مگر حکومت گرانے کی سازش کا ان سے کوئی تعلق نہیں ۔ خواجہ آصف اور دیگر لیگی رہنماؤں کے بیانات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کا اگلا احتجاج حکومت کے خلاف نہیں بلکہ دو بڑی جماعتوں کی گرینڈ اپوزیشن الائنس سے بے وفائی کے خلاف ہو گا ۔لیکن ایک حقیت یہ بھی ہے کہ امید کا دامن چھوڑا نہیںجا سکتا کیونکہ بنگ بینگ تھیوری کے مطابق یک بڑے دھماکے کے بعد ہی زندگی وجود میں آئی تھی ۔

(کالم نگار کا بنگ بینگ تھیوری سے متفق ہونا ضروری نہیں صرف ایک مثال د ی گئی ہے )


ای پیپر