انسداد غربت کی ٹپ ٹپ تھیوری
13 فروری 2020 2020-02-13

وزیراعظم عمران خان کے اردگرد ان کی پارٹی کے سپانسر میں سرمایہ دار طبقے کا ایک مضبوط حلقہ قلعہ بند ہے جس کی وجہ سے ان سے متصادم نظریات کے کسی پارٹی لیڈر کیلئے ان تک رسائی آسان نہیں یہ طبقہ عمران خان کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہو چکا ہے کہ پاکستان کے معاشی مسائل کا حل Triclkle Down Economicsمیں ہی مضمرہے۔ یہ اصطلاح پاکستان میں سب سے پہلے سابق وزیرخزانہ شوکت عزیز نے استعمال کرنا شروع کی جو بنیادی طو ر پر ورلڈ بینک کے آدمی تھے جس پر امریکہ کا کنٹرول ہے۔ ہمارے موجودہ ماہرین معیشت بشمول وزیر خزانہ اور گورنر سٹیٹ بنک کا تعلق آئی ایم ایف سے لیے جو ورلڈ بنک کی نسبت زیادہ امریکی نر غے میں ہے۔

Trickle Downتھیوری کا ترجمہ میں نے ٹپ ٹپ تھیوری سے کیا ہے تاکہ بات سمجھ آ جائے کہ یہ اصل میں ہے کیا۔ نصف صدی سے زیادہ عر صے کے کھوکھلے دعوئوں کے بعد بالآخرامریکہ اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ غربت کے خاتمے کیلئے یہ نظریہ عملاً ناکام ہو چکا ہے۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ اس کا موجد ایک امریکی انجینئرAlbert Hoorer تھا جس کا خیال تھا کہ ملک کے امیر اور سرمایہ دار طبقے کو ٹیکسوں میں چھوٹ کاروباری سہولیات بنکوں کے قرضہ جات اور ہر ایسا اقدام اٹھایا جائے جس سے انہیں فائدہ ہوتو ایسی صورت میں ایک وقت ایسا آئے گا کہ یہ طبقہ جب بہت زیادہ امیر اور خوشحال ہو جائے گا تو ان کی فالتودولت فطری طور پر ان کے ہاتھوں سے ریت کی طرح پھسلتے پھسلتے غریبوں تک پہنچ جائے گی اور ملک میں خوشحالی کا دور دورہ ہو جائے گا۔ اس کو سمجھنے کیلئے سادہ ہی مثال یہ ہے کہ اگر امیر کے ہاتھ میں ایک پیالہ ہے جسے ریاست چاہتی ہے کہ وہ غریبوں کے ہاتھ بھی شیئر کرلے تو ریاست سمجھتی ہے کہ اگر وہ پیالہ لبالب دیا جائے اور امیر آدمی اس کو’’رج‘‘ کے نوش کرے جہاں اسے مزید پینے کی گنجائش باقی نہ رہے تو یہ پیالہ جس میںریاستی ذرائع ٹپ ٹپ کرکے مزید دودھ انڈیل رہے ہیں تو ریاست اس انتظار میں ہے کہ جب پیالہ بھر جائے گا تو اس میں سے دودھ یا شربت باہر کرنا شروع ہو گا وہ خود بخود غریبوں کے کام آئے گا وہ گرتے ہوئے قطروں سے ٹپ ٹپ اپنی پیاس بجھائیں گے اور

یو ں پورا ملک خوشحال ہو گا۔ Hooverکی یہ Trickle Down تھیوری 1944میں پیش ہوئی اور 1954ء میں اس کے بارے میں امریکہ میں قومی سطح پر اخبارات اور سیاسی ومعاشی حلقو ں میں اس کی تشہیر شروع ہوئی۔ یہ اصل میں کوئی اقتصادی فارمولا یا فلسفہ نہیں تھا اور نہ ہی Hoover کوئی ماہر اقتصادیات تھا۔ یہ ایک انسانی نفسیاتی رحجان کی عکاسی تھی کے اگر ایسا ایسا ہو جائے تو اس کا ردعمل یوں ہو گا۔ لیکن تاریخ نے ثابت کیا کے امریکہ میں یہ تھیوری 50سال کے بعد مسترد کر دی گئی۔ جب امریکی صدر رونالڈریگن 70اور80کی دیائیوں میں برسر اقتدار آئے تو انہوں نے اس پر عمل کرتے ہوئے سرمایہ داروں کو کافی مراعات دیں ان کے اس ایجنڈے کو امریکہ میں Reagonomics کاناپ دیا گیا یعنی ریگن کی اکنامکس جو کے اصل میں ٹپ ٹپ تھیوری کا ماڈل تھا مگر اس کے اثرات غریب آدمی تک نہ پہنچ سکے۔ آپ اندازہ لگائیں کہ ایک شخص اگر پیاس سے مر رہا ہو اور آپ اس کے حلق میں پانی کا ایک قطرہ ٹپکادیں اور دوسرے قطرے کیلئے اسے آدھے گھنٹے کا انتظار کرنا پڑے تو یہ کتنا کار آمد ہوگا۔

ٹپ ٹپ تھیوری کا سب سے منفی پہلو انسانی حرص و ہوس اور لالچ تھا جس کا Hooverکو اندازہ نہیں تھا۔ امیر آدمی کی نفسیات یہ تھی کہ جتنا مرضی وافر ہو اسے پیالے سے باہر گرنے سے روکنا ضروری ہے لہٰذا پیالوں کے سائز بڑے کر دیئے گئے پیالوں سے مال چوری کرکے ٹیکس فری پناہ گاہو ں میں چھپایا گیا جس کے لئے پانامہ اور سوئس بنک جیسے چوری کا مال چھپانے کے اڈے وجود میں آگئے۔ امریکہ میں Trickle Downتھیوری ایک مذاق بن کر رہ گئی۔

امریکی مزاحیہ اداکار Will Rogerنے مذاق مذاق میں ٹپ ٹپ تھیوری کے بخیئے ادھیڑ دیئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نظریئے کا بانی Hooverچونکہ ایک انجینئر تھا لہٰذا وہ یہ سمجھتا تھا کہ پانی بلندی سے نچلی جانب اپنا راستہ بنا لیتا ہے Roger کہتا ہے کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ Hooverکو یہ پتہ نہیں تھا کہ دولت کے بہائو اور پانی کے بہائو کا رخ ایک جیسا نہیں بلکہ ایک دوسرے کے بالکل الٹ ہے جس طرح پانی بلندی سے نیچے کی طرف جاتا ہے اسی طرح دولت اور پیسہ نیچے سے اوپر جاتا ہے یعنی غریب کے ہاتھ سے نکل کر امیر کی جیب کا رخ کرتا ہے۔ اس کا کہنا تھا آپ غریبو ں میںہی پیسے بانٹ کر دیکھ لیں اگلے دن ان کا سارا پیسہ ساہوکاروں کے پاس پہنچ چکا ہو گا لیکن اس عمل سے کم ازکم اتنا فائدہ توہو گا کہ غریب لوگ ایک دن کے لیے پیسے کو ہاتھ لگا لین گے اس کے برعکس اگر آپ اوپر سے شروع کریں گے تو یہ پیسہ نیچے تک کبھی نہیں پہنچے گا۔ عقلی طور پر راجر کی بات حقیقت کے زیادہ قریب ہے۔

اس کہا نی کا مضحکہ خیز پہلو یہ ہے کہ ٹپ ٹپ تھیوری جب امریکہ میں مکمل طور پر ناکام ہو گئی اور مسترد کر دی گئی تو شوکت عزیز نے اسے پاکستان میں متعارف کروانے کا کام شروع کیا اور اس کے بعد آنے والی ہر حکومت نے بڑے ماہرانہ انداز میں Trickle Down اکنامکس کی وکالت کی اور یہ سلسلہ چلتے چلتے اب موجودہ حکومت تک پہنچ چکا ہے مگر غربت ہے کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ عمران خان اور ان کی ٹیم جو مرضی کر لے پاکستان کے مسائل کا حل ٹپ ٹپ تھیوری میں نہیں ہے۔ انہیں خود بھی اندر سے اس حقیقت کا علم ہے کہ یہ ایک فیل شدہ نظریہ ہے جسے مفاد پرست طبقے نے پالش کر کے پاکستان میں پیش کرنا شروع کر رکھا ہے جو کبھی کامیاب نہیں ہو گا۔ لیکن وزیراعظم چونکہ طاقتور سرمایہ کاروں کے گروہ میں گھرے ہوئے ہیں اس لیے ان کے لیے حالات کو سمجھنا بہت مشکل ہے۔ جس طرح کوئی ملک چندے کی رقم سے نہیں چل سکتا اسی طرح کوئی غریب بھیک مانگ کر کبھی امیر نہیں ہو گا۔

بطور قوم ہم نے کبھی میا نہ روی اور اعتدال کا راستہ نہیں اپنایا ہمیشہ دو انتہاؤں کے درمیان پھنس کر معاملات طے کیے ہیں جس طرح Trickle Downایک غلطی تھی اس کی دوسری انتہاء کا نام بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ہے جس کے تحت ہر سال اربوں روپے کا فنڈ معاشی منصوبوں کے بجائے ایک غیر پیداواری سرگرمی میں محض اس لیے لگایا جا رہا ہے کہ ایک سیاسی پارٹی اپنا ووٹ بینک بنائے اور اس میں معاونت کرنے والے 8 لاکھ سرکاری اہلکار اس سے اپنی جیبیں بھریں۔ عمران خان اپوزیشن میں تھے تو اس کے بارے میں بہت بولتے تھے مگر اقتدار میں آ کر اس پروگرام کا نام تبدیل کرنے کے علاوہ اس کی بنیادی خرابیوں کو ہاتھ تک نہیں لگایا گیا۔ غربت کا خاتمہ ہنوز دلی دور است۔


ای پیپر