وہ بھی کیا زمانہ تھا…!
13 فروری 2020 2020-02-13

بہت عرصے کے بعد پچھلے اتوار کو پنڈی سے گائوں جانے کے لیے چکری روڈ کا وہ راستہ اختیار کیا جس کے لیے گائوں سے پنڈی اور پنڈی سے گائوں آنے کے لیے پہلے13، 14 کلومیٹر کچے اور مشکل راستے پر پیدل سفر کرنا پڑتا تھا۔ یہ پچھلی صدی کے 60کے عشرے کے آج سے تقریباً 55، 60 سال قبل کا زمانہ تھا ، جب راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ کے ایک تعلیمی ادارے میں بطور نائب معلم (اسسٹنٹ ٹیچر ) بڑی مشکل سے ملازمت ملی اور اس کے ساتھ مزید تعلیم کے حصول کا سلسلہ بھی جاری ہوا۔اس طرح پنڈی میں رہنا ضروری ہو گیا مگر گائوں کی زندگی کی اپنی چاہت تھی اور اس کے ساتھ کچھ مزید تقاضے بھی تھے ۔ ہر تین چار ہفتوں کے بعد یا تنخواہ ملنے پر مہینے میں کم از کم ایک بار گائوں جانا بھی ایک طرح کا معمول تھا۔ اس وقت گائوں (چونترہ) کو پنڈی سے ملانے والی موجودہ اڈیالہ روڈ پختہ نہیں ہوئی تھی اور اس کی حالت بھی انتہائی ابتر تھی۔ اس پر ڈسٹرک ٹرانسپورٹ سروس کی ایک ہی لاری جو اکثر خراب رہتی تھی چلا کرتی تھی ۔ بعد میں وہ بھی بند ہوگئی تو اڈیالہ روڈ پر سفر کا سلسلہ موقوف ہوگیا۔

گائو ں سے پنڈی تک دوسرا مقابلتاً طویل راستہ موجودہ چک بیلی خان روڈ کا تھا۔ سڑک کچی ہونے کے علاوہ یہاں کی صورت حال بھی کچھ ایسی تھی کہ ایک ہی پرانی سی لاری اور اس پر سیٹ حاصل کرنا اور سوار ہونا کارِدارد تھا۔ تیسرا راستہ جس کا شروع میں ذکر ہوا ، چکری روڈ کا تھا جس کے ذریعے 8، 10برسوں تک سفر کچھ پیدل اور کچھ گورنمنٹ ٹرانسپورٹ کی اومنی بس سروس (لوکل ٹرانسپورٹ سروس) کے ذریعے طے ہوتا رہا۔ وہ کیا اچھا زمانہ تھا کہ بڑے شہروں(پنڈی اور لاہور کا میرا ذاتی مشاہدہ اور سفر کرنے کا تجربہ ہے) میں اندرون شہر کے مختلف مقامات اور مضافاتی علاقوں اور دیہات و قصبات تک گورنمنٹ ٹرانسپورٹ کے زیر انتظام لوکل بس سروس جسے اومنی بس سروس کہا جاتا تھا کی آرام دہ بسیں جن میں ڈبل ڈیکر (دو منزلہ) بسیں بھی شامل تھیں چلا کرتی تھی۔ میں بات چکری روڈ کے ذریعے اپنے گائوں سے پنڈی تک کے سفر کی کر رہا تھا ۔ چکری روڈ کا پنڈی سے میرا شریف کا اٹھارہ ، بیس کلومیٹر کا حصہ اور بعد میں موضع چہان تک مزید چھ ، سات کلومیٹر کا حصہ ساٹھ کے عشرے کے ابتدائی برسوں میں پختہ ہو گیا تھا ۔ جیسے میں نے اوپر کہا ، چہان تک گورنمنٹ ٹرانسپورٹ کے زیر انتظام اومنی بس کی روٹ نمبر 27کی بسیں جن کا روٹ راجہ بازار سے براستہ صدر، 22نمبر چونگی ، بکرا منڈی ، دھمیال کیمپ، رنیال ، میرا شریف اور چہان تھا، چلا کرتی تھیں۔ ان کا کرایہ بھی بڑا Nominal (معمولی) تھا اور ایک ڈیڑھ گھنٹے میں منزل مقصود پر پہنچا دیا کرتی تھیں۔چہان سے آگے گائوں چونترہ تک کچا راستہ تھا۔ اتوار کو اس راستے پر بنی

انتہائی اچھی حالت کی پختہ سڑک پر سفر کرتے ہوئے مجھے ساٹھ کی دہائی کا کچا راستہ یاد آرہا تھا ۔ آٹھ دس کلومیٹر کا یہ راستہ ٹیلوں، ٹبوں، چٹانوں ، اونچی نیچی گھاٹیوں، نیم پتھریلی زمین اور پھلاہی اور دوسرے خود رو کانٹے دار درختوں کے جنگل کے بیچ میں سے گزرتا تھا اور آخر میں گائوں کے شمال مغرب میں بہنے والے دریائے سواں کو بھی پیدل عبور کرنا پڑتا تھا۔ اس پر مستزاد اس راستے کے ساتھ ذرا ہٹ کر دو ،تین چھوٹی آبادیاں (ڈھوکیں اور ڈیر ے) بھی تھے جہاں کے کُتے راہ چلتے مسافروں کے لیے درد سر کی حیثیت رکھتے تھے۔ یہ راستہ کسی حد تک مشکل اور خطرناک گردانا جاتا تھا لیکن قہر درویش بر جان درویش کے مصداق اس کے سوااور کوئی چار ہ بھی نہیں تھا۔ اس راستے پر سفر کرتے ہوئے کچھ قریبی عزیزوں جو اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں کا اکثر ساتھ ہوتا ۔ چند ایک بار ایسا بھی ہوا کہ اس راستے پر صبح منہ اندھیرے اور شام اندھیرا پھیلنے کے بعد اکیلے بھی سفر کرنا پڑا۔ آج 55 ، 60سال بعد اس کا تصور کرتا ہوں کہ یہ کیسے ہوتا رہا تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، لیکن شاید جذبہ صادق تھا ، جوانی کی اُمنگیں تھیں، اللہ کریم کا کرم تھا ، والدین کی دُعائیں تھیں کہ کبھی کوئی ڈرخوف آڑے نہ آیا۔

ساٹھ کے عشرے کے جس دور کی میں بات کر رہا ہوں، میں کہنا چاہوں گا کہ بلاشبہ وہ زمانہ ایسا تھا جس میں ہم بحیثیت قوم و ملک اتنے گئے گزرے نہیں تھے ، نہ ہی حکومتی نظم و نسق اور سرکاری محکمے اور ادارے اس حد تک پستی اور زبوں حالی کا شکار تھے ۔ کچھ محکمے اور ادارے ایسے بھی تھے جن کی کارکردگی پر ہم فخر کر سکتے تھے ۔ ریلوے ، پی آئی اے ، پاکستان سٹیل ملز (یہ ذرا بعد میں قائم ہوئی ) جن کے خسارے اور ناقص کارکردگی کا ہم ہر وقت رونا روتے رہتے ہیں، ان کی کارکردگی اس دور میں ہمارے لیے باعث فخر تھی ۔ بڑے شہروں کے درمیان چلنے والی سرکاری ٹرانسپورٹ جسے گورنمنٹ ٹرانسپورٹ سروس(G.T.S) اور اومنی بس سروس کہا جاتا تھا کا مثالی نظام قائم تھا۔ یہاں پنڈی میں میسی گیٹ صدر اور راجہ بازار چوک فوارہ کے قریب لیاقت روڈ پر گورنمنٹ ٹرانسپورٹ سروس کے کشادہ اور دیدہ زیب اڈے (ڈپو) تھے جہاں بسیں ہی کھڑی (پارک) نہیں ہوتی تھیں بلکہ مسافروں کے لیے صاف ستھری اور آرام دہ انتظار گاہیں ، ٹکٹ گھر ، کیفے ٹیریا ، بک سٹال اور واش روم بھی بنے ہوئے تھے۔ مختلف شہروں کو چلنے والی بسیں مقررہ اوقات پر اپنی مخصوص جگہ پر آکر کھڑی ہو جاتیں۔ مائیک پر بسوں کی روانگی کا اعلان ہوتا۔ مسافر اپنی سیٹیں سنبھالتے ، ان کا سامان لوڈ ہوتا اور مقررہ وقت پر بسیں اپنی منزل مقصود کیطرف روانہ ہو جاتیں۔ یہ لمبے روٹ کی بسوں کا نظام تھا ۔ مقامی طور پر شہر کے اندر اور نواحی علاقوں کے لیے جیسا پہلے میں نے ذکر کیا اومنی بس سروس (لوکل ٹرانسپورٹ ) کا مثالی نظام بھی قائم تھا۔ یہ وہی زمانہ تھا جب پاکستان ریلوے کی خیبر میل، عوام ایکسپریس اور چناب ایکسپریس ٹرینیں پشاور اور کراچی کے درمیان ، تیز گام پنڈی اور کراچی کے درمیان اور کوئیٹہ ایکسپریس پشاور اور کوئیٹہ کے درمیان چلا کرتی تھیں۔ یہ سب ٹرینیں بڑی حد تک وقت کی پابندی کے ساتھ اپنی منزل مقصود کی طرف رواں دواں رہتی تھیںاور ان کی بوگیاں مسافروں سے بھری ہوتی تھیں ۔ اسی دور میں ہماری قومی پرچم بردار فضائی کمپنی PIA ــ "بے مثال لوگ ، لاجواب پرواز" کے لوگو سے پہچانی جاتی تھی، لیکن اب کیا ہے اس کا ذکر کرتے ہوئے بھی شرم آتی ہے ۔

یہاں مجھے پچھلی صدی کی ساٹھ سے اسّی دہائی کے دوران 1967-68 ء میں سنٹر ل ٹریننگ کالج لاہور میں بی ایڈ کی تعلیم حاصل کرتے ہوئے لاہور میں قیام اور وہاں کی اومنی بس سروس میں مختلف مقامات تک سفر کی کچھ کچھ یاد آرہی ہے۔ بی ایڈ کورس کے اختتامی مرحلے میں چار ہفتوں کے لیے ٹیچنگ پریکٹس کا مرحلہ آیا تو میری ڈیوٹی گورنمنٹ پائلٹ سیکنڈری سکول وحدت کالونی جو ایک ماڈل سکول تھا میں لگی ۔ لاہورکے قدیمی رہائشی جانتے ہیں کہ آج سے تقریبا پچاس برس قبل وحدت کالونی کا علاقہ مال روڈ اور لوئر مال کے مرکزی لاہور سے کتنا دور تھا ۔بھلا ہو اس دور کی اومنی بس سروس کا کہ مئی جون کے گرمیوں کے شدید موسم میں سنٹرل ٹریننگ کالج سے پائلٹ سیکنڈری سکول وحدت کالونی تک آنے جانے میں کبھی مشکل پیش نہیں آئی ۔ سنٹرل ٹریننگ کالج سے کچھ فاصلے پر ایم اے او کالج کے باہر بس سٹاپ سے اومنی بس سروس کی ایک سے زیادہ روٹس کی ڈبل ڈیکر بسیں مل جایا کرتی تھیں جن کی اوپر کی منزل پر بیٹھ کر یا کھڑے ہوکر میں اگر بھول نہیں رہا تو چو برجی ، مزنگ، اچھرہ، رحمان پورہ ، فیروز پور روڈ اور آگے وحدت کالونی تک جانے اور اسی طرح واپسی کا سفر بغیرکسی مشکل اور دقت کے طے ہوجاتا ۔ کرایہ بھی پیسوں میں ہوتا تھا۔

میں چکری روڈ کے ذریعے اپنے گائوں جانے کے سفر کا ذکر کر رہا تھا تو بات کہاں سے کہاں نکل گئی ۔ ہماری نا اہلی ، نالائقی ، کام چوری ، سرکاری اہل کاروں اور کچھ کچھ عوامی نمائندوں کی بد عنوانی ، لوٹ مار اور سب سے بڑھ کر حکومتی بد انتظامی اور نااہلی نے آج ہم کو کہیں کا نہیں چھوڑا ہے۔ مملکت خداداد پاکستان جسے ہم نے ایشین ٹائیگر اور نمونے کی اسلامی فلاحی اور ترقی یافتہ مملکت بنانا تھا، اسے ہم نے نشان عبرت اور بھیک مانگنے والی مملکت بنا دیا ہے۔ ہمارے مثالی ادارے ، ہمارے گورنمنٹ ٹرانسپورٹ سروس ، ہماری اومنی بس سروس ، ہماری ڈبل ڈیکر بسیں ، ان کے اڈے اور وسیع و عریض ڈپو کہاں گئے۔ ان کے پرزے اور سپئر پارٹس کدھر گئے ۔ ہماری ریلوے،ہماری پی آئی اے ، ہماری سٹیل ملز، اور ہمارے کئی اور کمائو ادارے ، سب ہماری خود غرضیوں ، کام چوری اور بد عنوانیوں کی بھنیٹ چڑھ گئے۔ سوائے رونے دھونے ، ماتم کرنے اور فا عتبرو یا اولی الاابصار پڑھنے کے ہمارے پاس اور رہ ہی کیا گیا ہے۔


ای پیپر