کبھی ایسا بھی سوچا ہے؟
13 فروری 2020 2020-02-13

قارئین کرام، کبھی آپ نے سنجیدگی اور متانت سے ٹھنڈے دل سے اس امر پہ غور تو کیا ہوگا، کہ آج سے تقریباً چودہ سوسال قبل جب ہمارے پیارے نبی اس دنیا میں تشریف لائے تھے، یہ بھی ابھی کل کی بات تاریخ کے طویل ترین عرصے میں لگتی ہے، اگر ہم اپنی بات قبل ازمسیح ، یا پتھر اور دھات کے زمانے سے شروع کریں ، یا حضرت آدم علیہ السلام، بابائے آدم کی آمد ارض سے دیکھیں، تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے جسے بھی راہ راست دکھانی تھی، وہ دکھا دی۔ مگر جس کی دنیا اگر نہیں تو آخرت کو اندھیری گھاٹیوں میں منہ کے بل ایسا گرایا کہ انہیں مثبت ومنفی کی پہچان ہی ختم ہوکر رہ گئی، اور اسے اندھیرے اور اجالے کے فرق کی تمیز ہی نہ رہی۔ قرآن پاک میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے کہ میں انہیں گونگے اور بہرے بنادیتا ہوں، حتیٰ کہ انہیں کچھ سجھائی نہیں دیتا، خیر یہ تو باتیں ہورہی ہیں موجودہکفارہند کی، مگر اللہ تعالیٰ معاف فرمائے، کیونکہ وہ قدم قدم پہ مومنوں کی بھی آزمائش کرتا رہتا ہے، اور اس کے آزمائش کے پیمانے مختلف ہیں، مثال کے طورپر حال ہی میں ڈیڑھ ہزار سال بعد بچوں کی آبروریزی اغواءبرائے تاوان، قتل، جیسے گھناﺅنے جرائم کی سزا کی قومی اسمبلی پہ توثیق ہونے کے بعد وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور علی محمد خان، جو اپنی بات کی ابتداءہمیشہ درود پاک سے کرتے ہیں، گو سیاست کرنا ان کا پیشہ ہے لہٰذا ان کی رائے سے متفق نہ ہونا بھی اچنبھے کی بات نہیں ہوسکتا ہے، اگر ان کا تعلق سیاسی پارٹی سے نہ ہوتا، تو شاید ان کے خیالات کی پرواز پہ کوئی شبہ نہیں ہوتا، اور وہ کوشش کرتے کہ ناجائز بات کی وکالت نہ کریں۔ تاہم بچوں کے قتل پر پھانسی کے حوالے سے ان کا پہلا ردعمل منظر عام پہ جو آیا ہے، وہ مجھ جیسے مسلمانوں کے لیے نہ صرف باعث فخر ہے، بلکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ اور اس کے محبوب خدا کو ایسے خیالات وسچے نظریات مسرور کردینے کا سبب بنتے ہوں گے۔ وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور محمد علی خان نے کیا درست اور ایک صحیح مسلمان اور مومن کی بات کی ہے کہ اسلامی سزاﺅں کو بربریت اور ظالمانہ کہنا بذات خود ظالم شخص کی آواز ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ بھی حق ہے، اور اس کا ہرفرمان بھی حق ہے، انہوں نے وفاقی وزیر فواد چودھری کے اسلامی تعزیزاﺅں کو ظالمانہ کہنے اور قبائلی معاشرے کو فرسودہ کہنے پر اپنے ردعمل میںکہا کہ قبائلی معاشرہ دنیا کا سب سے مہذب معاشرہ ہے جہاں عورت کی عزت اور بڑوں کا ادب اور پختون روایات جہاں سرقربان کردیا جاتا ہے لیکن عزت قربان نہیں کی جاسکتی، مجھے اپنے قبائلی معاشرے پہ فخر ہے، کوئی خواہ کچھ بھی کہتا رہے، لیکن جو اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اسے جاری رکھنا چاہیے، پاکستانی قوم اپنے معصوم بچوں کی بے حرمت لاشیں مزید برداشت نہیں کرسکتی، قومی اسمبلی میں اس قرارداد کی منظوری دے کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔

قارئین کرام واضح رہے کہ مسلم لیگ کے جناب شہباز شریف پہلے ہی اس اسلامی تعزیر کے حامی تھے، اور بارہا اس کا مطالبہ ، فوقتا فوقتاً کرتے رہتے تھے، میرے خیال کے مطابق تحریک انصاف کا یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جواب کارنامے کی شکل اختیار کرگیا ہے ، بقول مظفرعلی شاہ

تمہارے حسن وفن کی داد دیتے بھی کیا دیتے

ہمیں تو فکر دنیا سے نہیں فرصت ملی اب تک

دراصل ہمارے دوہرے معیار معاشرت کی بیت ترکیبی کچھ یوں محسوس ہوتی ہے کہ زندگی بھر نہ تو ہم اپنے مسلک سے متضاد کوئی بات سننے کے متحمل ہوتے ہیں اور دوسری منفی بات جو ہمارے وجود میں سرایت کر گئی ہے وہ ہے شخصیت پسندی، مثال کے طورپر تحریک انصاف کے جناب عمران خان کے متوالے، ان کے کسی فیصلے کی منفی سمت کی جانب اشارہ کرنے کے مجاز نہیں تو ایسے پیپلزپارٹی والے، ذوالفقارعلی بھٹو ،بے نظیر بھٹو صاحبہ ، بلاول بھٹو وغیرہ کے کسی بھی فیصلے پہ معترض نہیں ہوسکتے، خدانخواستہ زیادہ مجبوری آڑے آجائے تو پھر خود سوزی پہ بھی اتر آتے ہیں۔ پاکستان میں سیاسی پارٹیاں تو سو سے بھی زیادہ ہیں، جن کے ناموں سے بھی تاحال قوم آگاہ نہیں، مگر محمد نواز شریف کے خلاف ن لیگ والے اجازت تکرار نہیں دیتے، یہی شخصیت پرستی ہی دراصل کسی بھی ملک کے مستقبل کو درخشاں بنانے سے روک دیتی ہے، اور اس طرح سے ایک رعایا کی غریب اور نادار نسوانی آوازوں کو درخور اعتنا نہ سمجھتے ہوئے بے دھیانی سے گزر کر عمر تمام کے پچھتاوے میں مبتلا ہو جاتے ہیں، بقول مظفر شاہ

سبھی کچھ بھلا دوں

مگر وہ نگاہیں!

میری زندگی میں

کھٹکتی رہیں گی!

اداسی سی تھی جس میں

محبت بھی تھی جن میں

وہ چاہت کے گہرے

سمندر تھے نیر!

اب میرے اس متذکرہ موضوع کو وسیع تناظر میں پھیلا کر دیکھیں، تو آج اگر سترسال بعد آپ کو حضرت قائداعظم محمد علی جناح ؒ کا دو قومی نظریہ صحیح اور حق معلوم ہوتا ہے، تو خدارا کبھی صدق دل سے قائداعظم ؒ کی بصیرت اور بصارت کو بھی دل کھول کر داد دیجئے گا، کہ جنہوں نے اتنا عرصہ قبل حتمی فیصلہ کرنے کی ٹھانی، اور ہزاروں سال سے اکٹھے رہنے کے باوجود ایک دوسرے کے تضاد بھرے مذہب اور مذہب میںچھپی منافرت کو نہ صرف بھانپ لیا تھا، بلکہ غوروفکر کے بعد اپنی ابتدائی جماعت کانگریس بھی چھوڑ دی تھی، ان خیالات کا اعادہ اس طرح سے بھی ضروری ہے کہ ہمارا وطن عزیز نہ جانے کن ریشہ دوانیوں، پوشیدہ ہاتھوں کی تخریب کاریوں کے طفیل ایک دفعہ پھر تعصب نسل پرستی، فرقہ واریت، لسانیت رنگ ونسل ”عربی عجمی“ کی تفریق رشتوں کی تقسیم ، بلکہ تقسیم درتقسیم ، بغیر کسی عقل ودماغ فہم ومتین کے اس میں دھنستے چلے جارہے ہیں۔ مگر یادرکھیے، دشمن بلوچستان میں جومرضی گل کھلادے، مگر ہمارا ملک لیلتہ القدر کی مقدس رات کو وجود میں آیا تھا، اور ان شاءاللہ قیامت تک اب مزید قطع وبرید سے پاک رہے گا۔ حضور کے فرمودات اگر مودی کو مسلمان نہیں بنا سکے، تو مولانا ذاکر نائیک، اور مولانا طارق جمیل کو یہ ضرور کہنا چاہیے کہ اگر ہدایت اس کے نصیب میں نہیں تو اسے نشان عبرت بنادے ۔


ای پیپر