اب اُداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں !
13 فروری 2020 2020-02-13

(دسویں قسط، گزشتہ سے پیوستہ)

اپنے گزشتہ کالم میں ، میں عرض کررہا تھا 2018ءکے عام انتخابات میںخان صاحب کو کمزور سے مینڈیٹ سے مجبوراً نوازاگیا، الیکشن سرپر آگئے تھے، اور اس ملک کی اصل قوتوں کے پاس سوائے خان صاحب کے اور کوئی آپشن ہی نہیں بچا تھا، خان صاحب بھی چونکہ دن بدن ہرلحاظ سے بوڑھے ہورہے تھے، اُنہیں ہر حال میں وزیراعظم بننے کی جلدی تھی، لہٰذا اُنہوں نے بھی یہ فیصلہ کرلیا لُولا لنگڑا جیسا بھی اقتدار مِل جائے قبول کرلینا چاہیے، الیکشن کے روز، جیسا کہ میں پہلے بھی عرض کرچکا ہوں میں کینیڈا (ٹورنٹو) میں تھا، پاکستان میں دوستوں اور عزیزوں سے میرا مکمل رابطہ تھا، خصوصاً میں نے اپنے سینکڑوں شاگردان عزیز کو ہدایت کررکھی تھی وہ پی ٹی آئی کو کامیاب کروانے میں کوئی کسر اُٹھا نہ رکھیں، ایک ایسی فضا بن گئی تھی، یا بنادی گئی تھی ہر کوئی ”تبدیلی“ کے حق میں ڈٹ کر کھڑا تھا، اُن دنوں کوئی اپنے کپڑے بھی تبدیل کرتا وہ اس احساس میں مبتلا ہوتا وہ سسٹم تبدیل کرنے میں خان صاحب کی مدد کررہا ہے، بے شمار لوگوں کو الیکشن کے نتائج کا الیکشن سے پہلے ہی علم تھا، .... جنم جنم کے سیاسی ”لوٹے“ جس روایتی انداز میں الیکشن سے پہلے اپنے اپنے”ٹائلٹ“ تبدیل کرکے پی ٹی آئی کے ”حمام“ میں اکٹھے ہوتے جارہے تھے، اُس سے صاف ظاہر ہورہا تھا الیکشن کے نتائج خان صاحب کے حق میں ہی نکلیں گے، ریحام خان نے اُن دنوں جو ”اوچھے ہتھکنڈے“ اپنی کتاب کی صورت میں خان صاحب کے خلاف استعمال کیے، اور جس بُری طرح سے اُسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، اُس سے بھی صاف ظاہر ہورہا تھا خان صاحب کے لیے میدان صاف ہے، میدان صاف نہ ہوتا وہ اپنے مذموم مقاصد میں بہت حدتک کامیاب ہو جاتی، .... میری دلی خواہش تھی خان صاحب صرف اور صرف عوام کی حمایت سے بھاری مینڈیٹ لے کر وزیراعظم بنیں، اُنہوں نے یقیناً سوچا ہوگا خالصتاً عوام کی حمایت سے بھاری مینڈیٹ لے کر وزیراعظم بننا پاکستان میں اب شاید ممکن نہیں رہا، خصوصاً گزشتہ تیس چالیس برسوں سے تو ایسے ہی وزیراعظم بنتے آرہے تھے جیسا وزیراعظم بننے کے لیے ذہنی طورپر خان صاحب تیار ہوچکے تھے، وہ عوام کو مسلسل یقین دہانیاں کروارہے تھے پاکستان کے تمام مسائل کا اُنہیں مکمل ادراک ہے، اور ان کا حل بھی ان کے پاس ہے، لہٰذا وہ اقتدار میں آکر اپنی زبردست ٹیم کے ساتھ مل کر ابتدائی سو دنوں میں ہی دودھ اور شہد کی نہریں بہادیں گے، پاکستان کی معاشی حالت درست کرنے کے لیے اپنی پارٹی کے ایک رہنما اسد عمر کی جو خوبیاں یا اہلیت وہ بیان فرماتے رہے یقین کریں ہم اس پر ایمان لے آئے تھے وزیر خزانہ بنتے ہی پاکستان کے خالی قومی خزانے پر وہ صرف ایک پھونک ماریں گے خزانہ لبالب ہو جائے گا ،....الیکشن کے روز میں اس پچھتاوے کا شکار رہا میں آج پاکستان میں کیوں نہیں ہوں؟ البتہ ایک اطمینان تھا جو ذمہ داریاں مجھے سونپی گئی تھیں وہ ٹورنٹو میں بیٹھ کر احسن طریقے سے میں نبھا چکا تھا.... الیکشن کے روز پولنگ کا وقت ختم ہوا ہماری بے چینی شروع ہو گئی، یہ بے چینی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتی جارہی تھی، میں کسی حدتک اس اطمینان میں مبتلا تھا اس بار سب سے زیادہ نشستیں پی ٹی آئی ہی حاصل کرے گی، پر ایک شک سا بھی تھا، کہیں اس بار بھی خان صاحب کے ساتھ کوئی ہاتھ نہ ہوجائے.... کہیں اس بار بھی اُنہیں کچھ قوتیں اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرکے فارغ نہ کردیں .... اس قسم کے شکوک و شبہات کی وجہ شاید یہ تھی ایک تو اس ملک کی اصل قوتیں ایڑی چوٹی کا پورا زور لگاکر بھی نون لیگ کو مکمل طورپر تباہ کرنے میں ناکام رہی تھیں جبکہ عمومی تاثر ان قوتوں کے بارے میں یہی تھا وہ چاہیں کسی بھی سیاسی جماعت کا نام ونشان تک مٹاسکتی ہیں، ....شک کی دوسری وجہ یہ تھی جو سلوک پانامہ کیس کی پوری فہرست کو نظرانداز کرکے بطور خاص میاں نواز شریف کے ساتھ کیا جارہا تھا اور اِس کے نتیجے میں وہ عوام کی مسلسل ہمدردیاں حاصل کررہے تھے، ہم یہ سوچنے پر مجبور ہورہے تھے اصل قوتیں چاہتی کیا ہیں؟، وہ نواز شریف کو ناکام کرنا چاہتی ہیں یا ”ہیرو“ بنانا چاہتی ہیں ؟.... بہرحال الیکشن کے نتائج آنا شروع ہوگئے۔ وہ رات بڑی بے چینی سے گزری، کینیڈا میں مقیم میرے تمام سسرالی عزیز ٹورنٹومیں مقیم میری بہن کے محل نما گھر میں جمع تھے، وہ سب ” نئے پاکستان“ کے منتظر تھے، اُن سب کا جذبہ دیدنی تھا، یوں محسوس ہورہا تھا الیکشن نہیں ہورہا ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کوئی جنگ یا کرکٹ میچ ہورہا ہے، جیسے ہی نون لیگ کی کوئی ”وکٹ“ گرتی ایک بڑے ہال میں موجود تمام لوگ تالیاں بجانا شروع کردیتے، انتہائی جذباتی انداز میں سیٹیاں بجانا شروع کردیتے، اور اگر پی ٹی آئی کے مقابلے میں نون لیگ یا پیپلزپارٹی کوئی سیٹ جیت لیتے ہال کمرے میں موجود لوگوں کی حالت یہ ہوجاتی جیسے وہ کسی میت کے پاس موجود ہیں، مجھے نیند آرہی تھی، میں اُوپر کمرے میں جاکر سوگیا، چھ گھنٹے بعد اُٹھا میرا خیال تھا ٹی وی بند ہوگا سب جاچکے ہوں گے، پر سب جاگ رہے تھے، پتہ چلا پی ٹی آئی جیت رہی ہے، .... اگلی شام تک الیکشن کے نتائج کافی حدتک سامنے آچکے تھے، قومی اسمبلی کے علاوہ پنجاب اسمبلی میں بھی پی ٹی آئی نے اتنی نشستیں حاصل کرلی تھیں ایک دو چھوٹی جماعتوں کو ساتھ ملا کر آسانی سے حکومتیں بنائی جاسکتی تھیں، کے پی کے میں بھی پی ٹی آئی حکومت بنانے بلکہ اکیلی حکومت بنانے کی پوزیشن میں آچکی تھی، .... اب میں بے چین تھا کسی طرح خان صاحب سے میری بات ہو جائے، میں نے دو تین بار اُن کے واٹس ایپ پر کال کی اُنہوں نے اٹینڈ نہیں کی، پھر میں نے مبارک باد کا ایک مسیج بھیج دیا۔ پورے کینیڈا میں ان کی کامیابی کے جشن منائے جارہے تھے، میرے عزیز،میرے دوست مجھے ایسے مبارکبادیں دے رہے تھے جیسے خان صاحب نہیں، میں وزیراعظم بننے جارہا ہوں، میرے احساسات بھی کچھ اِسی نوعیت کے تھے، یوں محسوس ہورہا تھا ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں اور چند فوجی حکمرانوں نے رل مل کر اِس ملک کو ایک ”دوزخ“ میں تبدیل کیا ہوا ہے وہ اب شاید ایک جنت میں بدل جائے۔ ٹورنٹومیں خان صاحب اور پی ٹی آئی کی کامیابی پر خصوصی تقریبات کا آغاز ہوگیا، ہمیں ایک بار پھر ان تقریبات میں خان صاحب کے ایک نمائندے کے طور پر مدعو کیا جانے لگا، .... ہم یہ ”کریڈٹ“ لیتے رہے ”خان صاحب کی کامیابی میں سب سے بڑا کردار ہمارا ہے“۔ حالانکہ ہم جانتے تھے سب سے بڑا کردار کس کا ہے ؟۔ ایک محفل میں ایک بزرگ نے اس حوالے سے ذرا طنزیہ انداز میں سوال کیا، میں نے عرض کیا ” فرض کرلیں، آپ کے بقول اگر فوج خان صاحب کو اقتدار میں لے کر آئی ہے تو فوج کا یہ شاید پہلا سیاسی فیصلہ ہے جس کے نتائج ملک وعوام کے حق میں نکلیں گے“ .... وہ بزرگ میری بات سن کر خاموش ہوگئے۔ (جاری ہے)


ای پیپر