اسلامی تاریخ کو نصاب میں شامل کرنے کا فیصلہ
13 فروری 2019 2019-02-13

گزشتہ روز 9فروری کو مجھے میری فرینڈ لسٹ سے کسی خاتون کا "ہیپی روز ڈے" کا پیغام موصول ہوا ۔ مجھے یہ بات بالکل نئی سی معلوم ہوئی میں نے ارد گرد سے معلومات حاصل کیں تو میری معلومات میں اضافہ ہوا کہ روز ڈے بھی منایا جاتا ہے۔ معاشرے میں بیرونی دنیا کے دنوں کا عمل دخل اتنا بڑھ گیا ہے کہ آئے روز کوئی نہ کوئی دن سننے کو مل جاتا ہے کبھی روز ڈے، کبھی پروپوز ڈے، کبھی پرامس ڈے، کبھی ویلنٹائن ڈے وغیرہ وغیرہ۔ ذرہ تصور کریں جب ہمارے ہاں کے طالب علم انٹرنیٹ پر کس ڈے، ویلنٹائن ڈے، پروپوز ڈے سرچ کرتے ہوں گے تو ان کے سامنے کس کس طرح کے اخلاق سوز مناظر آتے ہوں گے اور ان مناظر سے گزرتے ہوئے وہ غلاظتوں کی کن کن گھاٹیوں میں اترتے ہوں گے اور ان کے ذہنوں میں کیا کیا خیالات جنم لیتے ہوں گے۔ جس طرح ہمارے ہاں آج کل ویلنٹائن ڈے منایا جاتا ہے اور جو حرکات اس دن ہوتی ہیں وہ کسی صورت بھی مذہب اسلام کا حصہ نہیں ہیں۔ کچھ سال پہلے تک تو کوئی اسے جانتا تک نہیں تھا اور اچانک پچھلے کچھ سالوں سے ہمارے نوجوان گلاب کے دیوانے ہو گئے ہیں اور 14 فروری ان کے دلوں کی دھڑکنوں میں سنا گیا ہے۔ کچھ نوجوان جوڑے تو ایسی حرکتیں کرتے نظر آتے ہیں کہ آنکھیں شرم سے جھک جاتی ہیں۔ بد قسمتی سے آج اسی ملک میں غیر مسلموں کے تہواروں کو جان بوجھ کر ہوا دی جا رہی ہے تا کہ مسلمان اسلام سے دور ہو جائیں اور یہ سب کچھ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ہو رہا ہے۔ ان دنوں خصوصی پروگرام دکھا کر یہ باور کرانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ جیسے یہ غیر ضرر رساں یا مسلمانوں کے ہی تہوارہیں۔ اسلامی معاشرے میں اس طرح کے تہواروں کو پروان چڑھانا اسلامی معاشرے میں تباہی بربادی پھیلانے کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ ایک اسلامی ملک میں روز ڈے، پرامس ڈے، پروپوز ڈے، ویلنٹائن ڈے منانے کی بجائے ہمیں شرم و حیا کے کلچر کو فروغ دینا چاہئے۔ در حقیقت ڈیز کلچر کے حوالے سے ایک طوفانِ بدتمیزی امڈ آتا ہے۔ لڑکے لڑکیاں اس طوفان بد تمیزی کے آگے بند باندھنے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔ محبت کے نام پر بے سروپا تصورات کے ذریعے نئی نسل کو تباہی کے گڑھے کی طرف دھکیلا جا رہا ہے اور اس روش کے خلاف مزاحمت برائے نام ہے۔ یہ بات ہر اس ذریعے سے پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے جہاں نوجوان نسل کا عمل دخل زیادہ ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ آج کی نئی نسل زندگی کے بارے میں شعور کو پختہ کرنے ، علم و عمل کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کی بھرپور تیاری کے ذریعے کچھ کر گزرنے کے عمل پر کاربند رہنے کے بجائے دل لگانے کی منزل میں اٹک کر رہ گئی ہے۔ کسی کو اپنانے، اپنا بنانے کی خواہش کو عملی جامہ پہنانے کی خواہش زندگی کا مرکز و محور ہو کر رہ گئی ہے۔

بد قسمتی سے اس سوچ کو فروغ دینے میں سوشل میڈیا کا کردار اہم رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے دنوں کا کسی مذہب یا کسی ثقافت سے کوئی تعلق نہیں۔ ایسے دنوں کو منا کر معاشرے میں امن اور محبت کو فروغ نہیں دیا جا سکتا بلکہ محبت کے نام پر محض لوگوں کو بیووقوف بنایا جاتا ہے۔ محبت کے اظہار کے لئے رشتوں کا احترام، عزت، انصاف اور برابری کا ہونا ضروری ہے۔ ان کے بغیر محبت اپنی موت آپ مر جاتی ہے۔ غیر اخلاقی اور غیر انسانی دنوں کا بیج بویا جا رہا ہے اور بڑی تندہی سے اس کی آبیاری کی جا رہی ہے۔ آج اسلام دشمن طاقتیں اسلامی تہذیب و ثقافت اور تمدن کو بے حیائی و عریانیت میں تبدیل کر کے اسے روشن خیالی اور آزادی کا نام دینے کے لئے کوشاں ہیں، وہ فحاشی پر مبنی رسوم کو اس طرح آراستہ کر کے پیش کر رہے ہیں کہ مسلمان اپنی پاکیزہ تہذیب و تمدن کو چھوڑ کر اغیار کے تہواروں کا دلدادہ ہوتا جا رہا ہے۔

اسلام، قرآن یوں تو ابتدائے اسلام سے ہی یہود و نصاریٰ کی سازشوں اور شورشوں سے نبرد آزما ہیں لیکن موجودہ دور میں اسلام دشمنوں کی ریشہ دوانیاں اپنے عروج پر ہیں۔ جب سے یورپ نے جھوٹ کا پٹارا ذرائع ابلاغ کے نام سے تیار کیا ہے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف طوفان برپا کر رکھا ہے۔ یہ اپنے جھوٹ کے ذریعے دینِ اسلام اورا س کے ماننے والوں کو کنفیوز کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھتے۔ سیکولر ازم اور روشن خیالی کے نام پر ہماری اقتدار و روایات کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ جب امتِ مسلمہ ان کی مذموم حرکات کے خلاف بات کرتی ہے تو اسے بنیاد پرست قرار دے دیا جاتا ہے۔ یہ دشمن طاقتوں کی بڑی کامیابی ہے ظاہر ہے جس قوم پر برتری حاصل کرنے کے لئے یہی طریقہ ہے کہ اس کی سوچ و فکر کو بدل دیا جائے۔ تہذیبی میدان میں مغربی کلچر اور ثقافت کا عالم گیر غلبہ اور دین و مذہب خصوصاً اسلام کی بنیاد پر اجتماعی زندگی کی شیرازہ بندی کے احکامات معدوم کرنا۔ یہ ایجنڈا کسی پردے کے بغیر سرِ عام پیش کیا جا رہا ہے اور اس پر عمل کرانے کے لئے پروپیگنڈے سے لے کر عسکری قوت تک ہر حربہ استعمال کرنے کی منصوبہ بندی ہے۔ اس سب کا توڑ یہی ہے کہ اپنے ایمان، دین اور نظرئیے پر مضبوطی سے قائم رہنا، وقت کے چیلنج کو سمجھنا اور اپنی بنیادوں کو استوار کر کے اس کا مقابلہ کرنے کی تیاری ہماری فکر و سعی کا محور ہونا چاہئے۔ اپنی تہذیب اور ثقافت کی پاسداری کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔

اس ڈیز کلچر سے نکلنے کے لئے ہمیں متبادل صورت نکالنی ہو گی۔ اسلامی تاریخ بے شمار اہم واقعات اور شخصیات سے بھر پڑی ہے۔ ہم اپنے گھر اور سکولوں میں یوم الفرقان، جنگِ احد، فتح مکہ، اقبال ڈے، سرسید ڈے، محمود غزنوی ڈے، محمد بن قاسم ڈے، البیرونی ڈے، حجاب ڈے وغیرہ وغیرہ بے شمار دن مذہب اسلام کے کریڈٹ میں ہیں جنہیں ہم بڑے فخر و انبساط سے منا سکتے ہیں۔ ان مواقعوں پر تحریری و تقریری مقابلے کرائے جا سکتے ہیں، اس بہانے بچوں کو اپنی تاریخ سے واقفیت کا موقع مل سکتا ہے۔ بچوں کی تربیت کو اگر ہم نے چیلنج کے طور پر قبول نہیں کیا تو آنے والی نسلوں کے گناہوں کا بوجھ بھی ہمارے کندھوں پر ہو گا۔ ان حالات میں میرے خیال میں ہمارا تعلیمی نصاب بڑا اہم کردار ادا کر سکتا ہے کیونکہ ہم نے پرویز مشرف دور میں بیرونی دنیا کو خوش کرنے یا پھر خود پر سیکولر ازم کا لبادہ اوڑھنے کے لئے اپنے سلیبس میں بہت تبدیلیاں کر دی تھیں۔گزشتہ روز وزیرِ اعظمِ عمران خان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومتوں کی مشاورت سے نصاب میں تبدیلی کی جائے گی اور اسلامی تاریخ کو نصاب میں شامل کیا جائے گا۔ نئی نسل کو اسلامی تاریخ اور اس کے ہیروز کے بارے میں آگاہی فراہم کی جائے گی۔ خصوصاً اقبال کے فلسفہ اور سوچ سے روشناس کرایا جائے گا۔ ڈیز کلچر سے نمٹنے کی یہ ایک بہترین حکمتِ عملی ہے۔


ای پیپر