سرخیاں ان کی۔۔۔؟
13 فروری 2019 2019-02-13

* این آر او کی اطلاعات مسترد کسی سے ڈیل نہیں ہو رہی: وزیراعظم

۔۔۔ بلاشبہ، آج تک یہی ہوتا ہے بلکہ ہوتا ہی یہ ہے کہ غریب مزدور، یا پھر دال روٹی چور بلکہ مرغی چور بھی جیل میں سالوں سڑتا ہے مگر اربوں کھربوں چرانے والوں سے جیل والے بھی چرتے ہیں جس کا نتیجہ آج پوری قوم بھگت رہی ہے۔ ہم نے کشکول اٹھا لیا ہے جبکہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی کورکمانڈر کانفرنس میں واضح کہہ دیا ہے کہ امن و استحکام کے ثمرات عوام تک پہنچنے چاہئیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ملکی تاریخ میں جناب عمران خان ایک خوش قسمت ترین وزیراعظم ہیں۔ جنہیں ہر طرف سے بہتر فضا اور ماحول میسر ہے۔ ملک میں امن و امان بحال ہو چکا، دہشت گرد تقریباً فرار ہو چکے ہیں جبکہ دوسری طرف عوام اب بھی اس کے ثمرات سے محروم ہیں۔ اس تناظر میں ہر روز حکومتی ذمہ داران کی طرف سے ایک گول مٹول بلکہ نئے سے نیا بیان جاری کر دیا جاتا ہے جبکہ زمینی حقائق یہ ہیں کہ چھ ماہ کی اس نئی حکومت نے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 7.48 فیصد مہنگائی کا ریکارڈ قائم کیا ہے جو ظلم کے مترادف ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر چند دوستوں کے سہارے بیساکھیوں پے کھڑے ہیں۔ اس کے باوجود حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے پر لعنت ملامت کے تیر برسا رہے ہیں۔ جبکہ عوام کل بھی بے وقعت ، بے وقار تھے آج بھی ہیں۔ خدارا ، اب بھی وقت ہے معاشی دہشت گردوں سے حساب کتاب کریں اور اپنے حالات کا ادراک کریں۔ تاریخ کا اہم ترین موقع اپنے ہاتھ سے نہ گنوائیں۔ ورنہ اس کے تباہ کن نتائج ہوں گے۔

* آئی ایم ایف سے معاہدہ کے قریب آ گئے: وزیر خزانہ

۔۔۔ وہ کہتے ہیں ناں کہ ’’ایک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا‘‘ ۔ درحقیقت ہمارے ہاں ہمارا قومی مزاج بن چکا ہے پہلے نہیں نہیں پھر ہاں ہاں حالانکہ دودھ میں میگنیاں ڈالنے کی کیا ضرورت ہے۔ آج آئی ایم ایف ہی نہیں پوری دنیا جانتی ہے کہ پاکستان میں مالیاتی مشکلات کس قدر ہیں جو سب کرپشن کی بدولت ہیں لہٰذا آئی ایم ایف نے بھی سیدھا اصول بنا لیا ہے کہ یہاں کے حکمران اپنے عوام کا خون چوستے ہیں اور انہیں ٹیکہ لگاتے ہیں لہٰذا وہ انہیں ٹیکہ لگا دیتے ہیں۔ بلاشبہ اس بار دبئی میں آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹین لیگارڈ نے وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان سے اس ضمن میں ملاقات کو تعمیری قرار دیتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ وہ پاکستان کے معاشی استحکام کے لیے چھ ارب ڈالر کا بیل آؤٹ پیکیج لے کر آرہی ہیں۔ اب اس مخمل کے لباس میں کیسی کیسی تلواریں اور تیر چھپے ہوں گے فی الحال نہیں معلوم تاہم یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ آئی ایم ایف کا بیل آؤٹ پیکیج اپریل 2019ء تک حتمی منظوری حاصل کر کے نافذ العمل ہو جائے گا۔ پھر پاکستان ایک بار پھر سے ایک ظالم شعار اور لالچی ادارے کے رحم و کرم پے ہو گا مگر مقام افسوس کہ ’’شرم تم کو مگر نہیں آتی‘‘کے مصداق وہ تو سود خور ہے ہی سوال تو یہ ہے کہ ہم کیا ہیں؟ کیونکہ ہم کہتے ہیں کہ ملک میں ہماری حکومت ہے جبکہ آئی ایم ایف سے رقم ادھار لینے اپنی گردن اس کے ہاتھوں میں دینے یعنی اس کے بعد تو ملک کی تمام سیاسی، سماجی، اقتصادی پالیسیاں بلکہ احکامات ہی وہ ہوں گے جو وہاں سے جاری ہوں گے کیونکہ جو روٹی دیتے ہیں وہ پرچی بھی دیتے ہیں جبکہ جناب عمران خان کو جب حکومت ملی تو ان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج ہی یہ تھا کہ وہ اس ادارے سے ملک کو بچا لیتے اور ادائیگیوں کے توازن کو بہتر بناتے مگر اب بھی وقت ہے کہ قرض سے برآمدات بڑھا کر اپنی پیداواری صلاحتیں بہتر بنائی جائیں تا کہ قرض در قرض سے بچ جائیں ورنہ مردے زندوں کے رحم و کرم پر تو ہوتے ہی ہیں۔

* مخالفین کے باوجود خدمت کرتے رہیں گے: زرداری

۔۔۔ کاش آئی ایم ایف کی ڈائریکٹر کرسٹین لیگارڈ کو اُردو آتی ہوتی تو وہ خود پڑھ لتیں کہ دیکھیں، ہماری قومی خدمات دیکھیں۔ ہمارے حکمران دن رات ملک و قوم کی کیسے خدمت کرتے ہیں۔ لہٰذا اب ہمیں تمہارا قرض نہیں چاہیے؟ ویسے بھی آج دنیا کے اہل دل اور اہل دانش کوئی تجزیہ کر سکتے ہیں کہ ہمارے نواز شریف ہمارے زرداری کتنے مخلص حکمران تھے اور آج وہ ملک و قوم کے غم میں کس قدر سزائیں برداشت کر رہے ہیں بلکہ شاید جناب عمران خان کے ایک مداح اور کالم نگار نے کچھ دن پہلے کہا تھا کہ ملک میں عنقریب مہنگائی کی ہولناک فلم چلے گی تو لگ پتا جائے گا۔ نہ جانے مجھے لگتا ہے کہ موصوف بدگمانی میں کچھ غلط کہہ گئے ہیں شاید وہ کہنا چاہیتے تھے کہ نوا زشریف اور زرداری کی ملکی خدمات میں جب ہولناک فلمیں چلیں گی تو لگ پتا جائے گا؟ یعنی رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے۔ بہرحال جیسے ہمارے حکمرانوں کی خدمات بھی بڑی رنگین ہوتی ہیں ایسے ہمارے شیشہ دل دانشوروں کے تحفظات بھی رنگین و سنگین ہوتے ہیں۔ باقی بچا میرے شعور کا دکھ تو وہ پھر کبھی سہی۔ کسی نے کہا تھا:

دل پھر طواف کوئے ملامت کو جائے ہے

پندار کا صنم کدہ ویران کیے ہوئے

* سول سروس اصلاحات

۔۔۔ میرے باوثوق ذرائع کے مطابق بہت جلد سول سروس اصلاحات کے مطابق افسران بکار خاص کو بتدریج خالی اسامیوں پر تعینات کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ میری رائے میں یہ موجودہ حکومت کا نہ صرف نہایت دانشمندانہ فیصلہ ثابت ہو گا بلکہ اس سے پک اینڈ چوز کی پالیسی بھی دم توڑ دے گی اور سنیارٹی کے قانون کو اگر فوقیت دی گئی اور افسروں کو غیر سیاسی رکھنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے گئے تو اس سے نہ صرف ملکی خزانہ ایک خواہ مخواہ کے بوجھ سے نجات پائے گا کیونکہ فارغ بٹھا کر تنخواہیں اور مراعات دینا کہاں کا قانون ہے لہٰذا وفاق کی جانب سے سول سروس اصلاحات کے حوالے سے اہم فیصلے کر لیے گئے ہیں جو یقیناًقوم کے لیے خوشخبری کا باعث ہوں گے ۔ کسی نے کہا تھا:

ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا

آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا


ای پیپر