خان صاحب! میں ٹیکس نہ دوں؟
13 فروری 2019 2019-02-13

میں نے یہ جناب عمران خان سے ہی جانا ہے کہ اگر حکومت آپ کو سہولت فراہم نہ کر رہی ہو تو وہ ٹیکس کی حق دار نہیں ہوتی بلکہ بات اس سے بھی آگے کی ہے کہ ان کے مطابق اگر حکومت درست اور حقیقی مینڈیٹ نہ رکھتی ہو تو تب بھی بجلی ، گیس اور پانی کے بلوں کی ادائیگی روکی جا سکتی ہے، بیرون ملک پاکستانیوں سے کہا جا سکتا ہے کہ وہ بنکوں کی بجائے رقوم کی منتقلی کے لئے معیشت کے لئے نقصان دہ طریقے ہُنڈی کا استعمال کریں۔ موجودہ حکومت کے انتخاب پر بھی بہت سارے پاکستانیوں کو شدید اعتراضات ہیں مگر بات یہ انتخابی دھاندلی اور حکومت کے قیام کی نہیں بلکہ اُن ٹیکسوں کی ہے جو عوام سے انہیں سہولتیں فراہم کرنے کے لئے وصول کئے جاتے ہیں۔ میں اس ٹال ٹیکس کی بات کر رہا ہوں جو جی ٹی روڈ سمیت مختلف سڑکوں پر ان کی حالت کو بہتر بنانے کے لئے لاگو ہے۔

اگر آپ پنجاب کے شہری ہیں تو آپ نے یقینی طور پر لاہور سے گوجرانوالہ کے درمیان جی ٹی روڈ کی حالت دیکھی ہو گی جو انتہائی ناگفتہ بہ ہے۔ اس سڑک کو سابق وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کے دورمیں وفاقی حکومت کی طرف سے دورویہ کرنے کاکام شروع کیا گیا تھا مگر اس دور کے بہت سارے دوسرے منصوبوں کی طرح یہ مسلسل تاخیر کا شکار ہوتا رہا۔ شہباز شریف کے پہلے پورے دور میں بھی اس پر کام جاری رہا اور جب کبھی شکایت کی جاتی تو جواب ملتا کہ یہ وفاقی حکومت کے ادارے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کا ہے پنجاب حکومت کا اس سے کچھ لینا دینا نہیں۔اسی دوران یہ انکشاف بھی ہوا کہ سڑک کی توسیع کے لئے ٹھیکا دیتے ہوئے حکومت اس میں آنے والی پلیوں کی تعمیر کا ٹھیکا الگ سے دینا بھول گئی جس سے مزید تاخیر ہوئی۔ خدا خدا کر کے منصوبہ مکمل ہوا اور سڑک کھلی اور دو رویہ ہو گئی مگر اب مسئلہ یہ ہے کہ لاہور سے گوجرانوالہ تک سڑک کے دونوں کناروں پر آبادی ہے یا فیکٹریاں ہیں۔ بہت کم جگہیں ایسی ملتی ہیں جہاں آپ کو کاشتکاری کے لئے خالی زمین نظر آتی ہے۔ آبادی کے شدید ترین دباو¿ کی وجہ سے لاہور سے گکھڑ منڈی تک جی ٹی روڈ پر آپ کو ہر وقت موٹرسائیکلوں، چنگ چی رکشوں، چھوٹے بڑے ٹرالوں اور دیگر سلو موونگ گاڑیوں کا رش نظر آتا ہے اور یوں گرینڈ ٹرنک روڈ عملی طور پر کسی شہر میں گنجان آباد علاقے کی سڑک کاہی منظر پیش کرتی ہے۔ مسئلہ صرف رش کا نہیں ہے بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ دیکھ بھال اور مرمت نہ ہونے کی وجہ سے کئی مقامات پر سڑک انتہائی ناہموارہو چکی ہے۔

اس سڑک کو موٹروے پولیس کے حوالے کیا جاچکا ہے مگر مجال ہے کہ ہمیں کسی جگہ پولیس اپنی ذمہ داریاں پوری کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہو۔ آپ کے لئے لاہور سے شاہدرہ کے مقام سے نکلنا یاداخل ہونا ہی ایک مشکل ترین کام ہے۔ امامیہ کالونی کے قریب پلی اور ریلوے پھاٹک پر ” باٹل نیک“ بننے کی وجہ سے ٹریفک گھنٹوں جام رہتی ہے اور میں نے اس کی طرف چیف ٹریفک آفیسر کیپٹن ریٹائرڈ لیاقت علی ملک اورشاہدرہ سے پی ٹی آئی کے رہنما اور پی ایچ اے کے چئیرمین محترم یاسر گیلانی کی توجہ بھی مبذول کروائی ہے۔ لاہور سے گکھڑ منڈی تک پورے راستے میں آپ کو چاہے وہ مریدکے ہو یا سادھوکے ، کامونکے اور موڑ ایمن آباد، بے ہنگم قسم کی پارکنگ ملے گی اور رکشوں سے کاروں، بسوں اور ٹرکوں تک کی اس پارکنگ کو ٹریفک پولیس روکنے کی ہرگزکوشش نہیں کرتی۔ یہاں ون تھری زیرو پر کال کی شکایت کی سہولت دی جاتی ہے مگروہ صرف کال سننے والے کے بولے گئے جھوٹوں میں اضافے اور آپ کو شکایت کے ذریعے ملنے والے نفسیاتی سکون پہنچانے کے سوا کچھ نہیں کرتی بلکہ یوں بھی ہوا کہ میں نے ایک ٹرک ڈرائیور کی انتہائی خوفناک ڈرائیونگ بارے شکایت کی تو وہ صاحب آگے سے بولے، ہائی وے پر اسی طرح ہوتا ہے، اگر آپ کو ڈرائیونگ کرتے ہوئے ڈر لگتا ہے تو بڑ ی سڑک پر مت آئیں۔

میرے سمیت ہر شہری جب لاہور سے نکلتا ہے تو وہ ٹال پلازے پر تیس روپے کی پرچی لیتا ہے، یہ کار کے لئے کم از کم ٹیکس ہے جبکہ ویگنوں بسوں اور ٹرکوں سے سو روپے یا اس سے زائد بھی وصول کئے جاتے ہیں۔ یہی ٹیکس دوبارہ کامونکے عبور کرنے کے بعد ادا کرنا ہوتاہے اور جب آپ گجرات میں داخل ہونے لگیں تو چناب کے پل پر بھی یہی ٹیکس ہے یعنی میں سڑک کے جس حصے کی بات کر رہا ہوں وہاں سے گزرنے کے کم از کم ساٹھ سے نوے روپے کار سوار سے وصول کئے جاتے ہیں۔ میں صرف یہی ٹال ٹیکس ادا نہیں کرتا بلکہ جب گاڑی خریدتا ہوں تو لاکھوں روپے خریداری اور رجسٹریشن پر ادا کرتا ہوں، میں لائسنس کا ٹیکس الگ سے ادا کرتا ہوں اور اپنی گاڑی کے ٹوکن ٹیکس کے ہر برس ہزاروں روپے الگ سے بھرتا ہوں۔بات یہیںتک نہیں بلکہ اس سڑک پر گاڑی چلاتے ہوئے جب پٹرول ڈلواتا ہوں تو ہر لیٹر پرچالیس سے پچاس فیصد تک ٹیکس ادا کرتا ہوں، مجھے گاڑی کا موبل آئل اور سپئیر پارٹس بھی ٹیکس ادا کرنے کے بعد ہی ملتے ہیں۔ میں ایک عام پاکستانی ہوں اور میرے بارے میں پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ میں ٹیکس نہیں دیتا حالانکہ میں دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک کے شہری سے کم ٹیکس ادا نہیں کرتامگر اس کے جواب میں مجھے ٹوٹی ہوئی جی ٹی روڈ اوراس پر پھٹیچر پولیس فراہم کر دی جاتی ہے جو نئی گاڑیوں میں رنگ برنگی لائٹیں چمکاتے ہوئے مستیاں کرنے کے بعد واپس چلی جاتی ہے۔ میرے خیال میں موٹر وے پولیس اپنی نااہلی اور ناکامی میں جتنی جی ٹی روڈ پر ایکسپوز ہوئی ہے اتنی کہیں اور نہیں ہوئی ہو گی۔

خان صاحب ! حکومت مجھ سے تمام ٹیکس بالعموم اور ٹال ٹیکس بالخصوص اس سڑک پر سفر کی سہولتیں دینے کے لئے لیتی ہے مگر کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ یہ ٹیکس سڑک کی حالت بہتر بنانے اور وہاں گورننس رکھنے کے بجائے کن عیاشیوں پر خرچ کر دیا جاتا ہے۔ کیا آپ میرے اس ٹیکس سے پچپن روپے کلومیٹر والا ہیلی کاپٹر تو استعمال نہیں کرتے اور وہ خصوصی جہاز تو نہیںا ڑاتے پھرتے جن پر آپ کے وزیر صاحب نے اعلان کیا تھا کہ آپ سفر نہیں کریں گے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ میرا دیا ہوا ٹیکس مجھ پر نہیں لگ رہا اور یہ کہاں جا رہا ہے یہ آپ کو بتانا ہے۔ میں نے یہ سفر لاہور سے گجرات کے نواحی گاو¿ں اعوان شریف تک کا براستہ جلالپور جٹاں اور کڑیانوالہ کیا اور مجھے بتایا گیا کہ وہاں جانے کا پرانا فتح پور ، پیرو شاہ اور جلالپور صوبتیاں کا راستہ انتہائی خراب ہوچکا ہے۔ واپسی کے لئے آزاد کشمیر کی بھمبر روڈ کو استعمال کیا مگر جیسے ہی میں نے آزاد ریاست سے پاکستان کی حدود میں قدم رکھا تو بہترین سڑک بدترین میں تبدیل ہو گئی، خاص طور پر دولت نگر سے گجرات تک گڑھے گنے بھی نہیں جاسکتے۔میرا سوال یہ ہے کہ جب میرا ٹیکس مجھ پر خرچ نہیں ہو رہا تو کیا میں آپ کی تعلیمات اور فرمودات پر عمل کرتے ہوئے ٹیکس ادا کرنا بند کردوں ۔آپ ریاستی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے مجھے گرفتار تونہیں کروا دیں گے؟


ای پیپر