Australian military chief, war crimes, Afghanistan
13 دسمبر 2020 (12:37) 2020-12-13

آسٹریلوی افواج کے سربراہ جنرل آنگس کیمپبل عالمی میڈیا میں مجسمۂ انصاف پسندی بنے افغانستان میں روا رکھے جانے والے کچھ جنگی جرائم پر معذرت خواہ ہوئے ہیں۔ یہ کچھ زیادہ ہی حد سے گئے گزرے واقعات تھے، جن پر عالمی عدالت برائے جرائم (ICC ) سے رجوع ہوسکتا تھا۔ حفظ ماتقدم کے طور پر پیش بندی کی گئی ہے کہ طالبان قوت پکڑ گئے تو لینے کے دینے نہ پڑ جائیں۔ (تم انہیں تھانے نہ لے جانا، ہم گھر کے صحن میں انہیں مرغا بنا دیںگے!) 2009ء تا 2013ء ہونے والے واقعات جن میں 39 افغان شہری ماورائے قانون خونیں اشتہا والے کلچر کی بھینٹ چڑھے، شغلاً ہی پکڑکر مارے جانے کی کیفیت میں۔ 26 ہزار آسٹریلوی فوجی دہشت گردی کی عالمی جنگ میں اتحادی افواج کا حصہ بن کر دنیا کے ایک مفلس، نہتے ملک میں اترے تھے۔ رپورٹوں کے مطابق وہاں ماحول قتل وغارت میں مقابلہ بازی کا تھا۔ آسٹریلوی اسپیشل فورسز کے بعض ممبران میں مخصوص جنگجویانہ کلچر تھا۔ کچھ پٹرول کمانڈر جو دیوتا جانے جاتے تھے، جونیئر افسروں سے یہ مطالبہ کرتے کہ وہ پہلے قتلِ افتتاحی کے طور پر افغان قیدی ماریںگے۔ اسے ’Blooding ‘ یعنی خون میں ہاتھ رنگنے سے تعبیر کیا جاتا۔ ایسے 39 قتل کلیتاً غیرجنگی حالات میں ہوئے۔ غیرمتحارب (شہری) یا قیدی ان کی مشق کا نشانہ بنے۔ گویا چڑیوں کا شکار کھیلا گیا۔ جرم چھپانے کے لیے مقتولین کے ساتھ ہتھیار رکھ دیے جاتے تھے۔ ایسے ہی قتل کے واقعات کا الزام امریکی اور برطانوی فوجیوں پر بھی ہے۔ جنوری 2010ء میں امریکی فوجیوں کے ایک گروہ نے افغان شہریوں کو شغلاً نشانہ بنایا۔ جرمن میگزین نے ان میں سے دو افغان لاشوں کے ساتھ امریکی فوجیوں کو (تفریحاً) پوز کرتے تصاویر کچھواتے شائع کیا تو انکشاف ہوا۔ 2011ء نومبر میں اسٹاف سارجنٹ گبز نے 3 افغان شہریوں کو قتل کرکے یادگار نشانی کے طور پر ان کی لاشوں کے ٹکڑے کاٹے۔ ایسے 5 فوجی مجرم قرار دیے گئے تھے، جن میں سے دو کو ٹرمپ نے معافی دے دی تھی۔ ان میں سے ایک نے قیدی کو قتل کیا تھا اور دوسرے نے 3 غیرمسلح موٹرسائیکل سوار افغانوں پر گولیاں چلانے کا حکم دیا تھا۔ ایسا ہی ایک برطانوی فوجی جو غیرمسلح افغان قیدی کو قتل کرنے کے جرم میں سزا یافتہ تھا، تین سال قید کے بعد رہا کردیا گیا۔ 2014ء میں برطانوی خصوصی دستے کے سورماؤں نے4 کم عمر   افغان لڑکے اسی طرح مار ڈالے۔ شکار کھیلا! کمرے میں ہر طرف خون، دماغ کے ٹکڑے، ہڈیاں بکھری پڑی تھیں۔

 دہشت گردی کی عالمی جنگ میں قیدیوں کا قتل ایک خاص فیچر رہا ہے۔ امریکا، برطانیہ، جرمنی، آسٹریلیا نے جسے روا رکھا، وہی مسلم ممالک میں بھی جاری ہوا۔ برسر زمین اس دجالی جنگ میں روا رکھے جانے والے مظالم کا حساب ہی نہیں یہ داستان ملکوں ملکوں یکساں طور پر اہل ایمان پر جس طرح دہرائی گئی، کوئی خطۂ زمین اس سے خالی نہیں۔ مسلم اویغور، روہنگیا، کشمیر، بھارتی مسلمان، بنگلادیش میں پھانسیاں، مصر میں اخوان، فلسطین، شام، لیبیا، مالی، صومالیہ، غرض لامنتہا فہرست ہے۔ ہمارا دامن بھی خونچکاں ہے۔ ڈرون حملوں، پولیس مقابلوں میں کیا کچھ نہ ہوا۔ آسٹریلیا اسی لیے گھبرایا کہ جو چپ رہے گی زبانِ خنجر، لہو پکارے گا آستین کا۔ سورۃ البروج میں مذکور اصحاب الاخدود کی کہانی ازلی معرکۂ حق وباطل والی آج بھی وہی ہے۔ لکڑیوں کی دہکائی آگ اب نہایت ترقی یافتہ میزائلوں کی صورت ہے۔ وجہ بھی عین وہی ہے: ’اور ان اہل ایمان سے ان کی دشمنی اس کے سوا کسی وجہ سے نہ تھی کہ وہ اس خدا پر ایمان لے آئے تھے جو زبردست اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے۔‘ (آیت 8)

شعلہ بجھنے سے پہلے بھڑکتا ہے۔ فتنۂ دجال باطل کا آخری بھاری بھرکم معرکہ اور وار ہے۔ پھر اس کے بعد اندھیرا نہیں اجالا ہے۔ بالآخر حق کو غالب تو ہوکر رہنا ہے۔ امت کے زخموں کی مسیحائی تو ہوگی۔ عزازیل کے دوستو، غم گسارو! تمہارے لیے تو یہی بس سزا ہے، جہنم کی گھاٹی کو کوچہ بناؤ! تم اللہ کا نور پھونکوں سے اپنی، بجھانا جو چاہو بجھا نہ سکوگے، کتابوں میں لکھا اٹل فیصلہ ہے، پریشان ظلمت کا پالا ہی ہوگا، فتح یاب آخر اجالا ہی ہوگا!

امریکا اس وقت بھوک اور بے روزگاری کی لپیٹ میں ہے، وبا کے ساتھ ساتھ۔ کورونا کے آغاز کے بعد صرف 2 ماہ کے اندر 3 کروڑ 60 لاکھ افراد بے روزگار ہوئے۔ لاکھوں گھرانے خیراتی اداروں کی امداد پر انحصار کررہے ہیں۔ لمبی قطاروں میں مفت راشن، خوراک کے لیے کھڑے ہیں۔ جو مناظر گلوبل چودھریوں نے مسلمانوں کے لیے تخلیق کیے ملکوں ملکوں، وہ اب خود اسی کا شکار ہیں۔ اب تو برطانوی شہزادہ ولیم بھی بول اٹھا: ’کورونا قدرت کی طرف سے ہمارے لیے تنبیہ ہے۔ برے رویوں کی وجہ سے ہمیں کمروں میں بھیجا، تاکہ سوچیں اب تک ہم نے کیا کیا۔‘ ادھر ہمارے حالات جوں کے توں ہیں۔ گرد وپیش شادی بیاہ میں، وہی ہے چال بے ڈھنگی! خواہ کروڑوں کی وہ شادی ہو جو سوشل میڈیا پر زیر بحث رہی یا آتش بازیوں، ڈھول ٹھمکوں بھری اختلاط زدہ روایتی جگمگاتی شادیاں ہوں۔ مساجد سے سال بھر ڈرنے ڈرانے والے یہاں کورونا سے بے خوف پائے جاتے ہیں۔دعا ہی کی کی جاسکتی ہے  ؎ 

احساس عنایت کر آثار مصیبت کا

امروز کی شورش میں اندیشۂ فردا دے

یہ بھی فتنۂ دجال ہی کی واضح علامات ہیں کہ وہی قوتیں جنہوںنے سعودی عرب اور قطر کے درمیان خلیج حائل کی، اب اسرائیلی مفادات کے تحت انہیں قریب لانے کو بھاگی پھر رہی ہیں۔ٹرمپ کے اقتدار چھوڑنے سے پہلے کشنر دورے کر کر کے تنازع دور کررہا ہے۔ آخر قطر کو بھی تو اسرائیل سے معاہدات کے بندھن میں باندھنا ہے۔ اسی عقد کی تیاری ہے!

خلیجی ممالک اسرائیل سے پینگیں بڑھانے چلے ہیں تو مسلم عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کو نرالے ’تحقیقی‘ حیلے سامنے آرہے ہیں۔ سعودی وکیل اسامہ یمانی ’اندھے کو اندھیرے میں بہت دور کی سوجھی‘ کے مصداق ’عکاظ‘ میں لکھتے ہیں کہ مسجد اقصیٰ اصلاً القدس کے قدیم شہر الاقصیٰ کمپاؤنڈ (مقبوضہ فلسطین) میں نہیں ہے بلکہ مکہ کے قریب سعودی عرب میں واقع ہے۔ کہتا ہے کہ ’غلطی یوں ہوئی کہ تاریخ کی کتب میں الاقصیٰ کو مقبوضہ القدس میں دکھایا گیا۔‘ القدس شہر ہے اور الاقصیٰ مسجد! مقام معراج کو یہ تاریخ مسخ کرنے والے کیا جانیں کہ جن کی اپنی معراج کا مقام وائٹ ہاؤس یا تل ابیب ہو! تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ سراج الدولہ کا غدار، ننگ ملت، ننگ دیں میر جعفر نے مسلم مفادات انگریز کے ہاتھ بیچے۔ چار دن کی چاندنی کو مسند اقتدار پر بیٹھا تو ’کلائیو کا نواب‘ کہلانے کی بجائے عوام نے اسے خرِ کلائیو ہی کہا۔ تاریخ میں اسے تحقیر ونفرین ہی ملی۔ اب نئے امریکی ڈیموکریٹک صدر کی مناسبت سے (پارٹی کی علامت گدھا ہے) ’  خرِ بائیڈن‘ کہلانے کے لائق اصطبل بھر گدھے میسر ہوںگے جو اقصیٰ کا محل وقوع گوجرخان بھی بیان کردیںگے! 

قبل ازیں اسامہ یمانی جیسوں کو یہ راہ کینیڈا کے ایک خودساختہ محقق (حقہ پینے والے ؟)ڈان گبسن نے دکھائی جو خانہ کعبہ کا محل وقوع اٹھاکر اردن لے گیا۔ ایسی تحقیقی کتب ومقالوں کا مقام بحر مردار ہے۔ خانہ کعبہ کا محل وقوع؟ وہ ہمارا مرکز وجود مقناطیس کی مانند رکھا ہے جس کی طرف کروڑوں دل دنیا بھر سے لوہے کے ذرات کی طرح کھچے چلے جاتے ہیں۔ اردن کے قریب تو تمہارے وجود نامسعود کا ٹھکانہ ہے۔ جہاں بستی سنگسار کرکے الٹائی گئی اور بحر مردار لعنت بن کر اس پر چھا گیا۔ تم اور عبداللہ بن ابی کی ذریت ہمیں ہمارے مقامات مقدسہ کا پتا بتاؤ گے؟ تف بر تو اے ڈان گبسن۔ اف لکم ولما تعبدون من دون اللہ۔ ’فٹے منہ تمہارا اور تمہارے ان معبودوں کا جنہیں تم اللہ کو چھوڑکر پوجتے ہو۔‘ تاریخ انسانیت کی مستند ترین کتاب اور ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کے ہم وارث ہیں۔ ہمارا مقدر رسالت وقرآن سے جگمگا اٹھا، جب تم جہل زدہ تاریکیوں میں ڈوبے ہوئے تھے۔ یورپ کی نشاۃ ثانیہ، علوم 


ای پیپر