Corruption, champion, democracy, PDM, PTI government
13 دسمبر 2020 (12:26) 2020-12-13

معروف مقرر چارلس جان کا کہنا ہے اس بات کو نہیں دیکھنا چاہئے کہ آپ کتنی اونچائی سے گرے ہیں۔بلکہ یہ دیکھنا چاہئے کہ آپ کتنی اونچائی پر تھے۔آج جب میں ملک میں موجودہ سیاسی حالات دیکھتی ہوں تو مجھے مسلم لیگ ن کو اقتدارسے ہٹنے کے بعد 440وولٹ کے جھٹکے لگتے نظر آتے ہیں ۔یہ بھی دیکھتی ہوں کہ نواز شریف تو اب تک اس غم سے باہر ہی نہیں نکل سکے کہ وہ کتنی اونچائی سے آگرے ہیں۔یہ بات اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔دنیا جانتی ہے۔ نوازشریف پاکستان سے مفرور ،اشتہاری اور تاحیات نااہل کیسے ہوئے ہیں۔یہ اپنے طویل اقتدار کے نشے میں ایسے مست تھے۔2018کے الیکشن سے پہلے جب عمران خان کی جانب سے اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف سے استعفی مانگا گیا تواس کے جواب میں پرویز رشید کہنا تھا کہ عمران خان وزیراعظم نواز شریف سے استعفی تو کیا ان کی پرانی شیروانی کا ٹوٹا بٹن بھی ہم کبھی نہ دیں۔جبکہ احسن اقبال اس وقت عمران خان کو مخاطب کرکے کہا کرتے تھے کہ فلاں استعفی دے دے،فلاں استعفی دے دے، اور پورا پاکستان بھی استعفی دے دے پھر بھی آپ کی باری نہیں آئے گی۔ حمزہ شہباز کہتے تھے کہ میں اپنی جیب سے پیسے خرچ کرکے عمران خان کو ایک شیروانی سلوادیتا ہوں۔میں لوگوں کو کہتا ہوں کہ وہ انہیں کہیں وزیراعظم جا رہے ہیں۔ خدا کا کرنا ایسا ہوا۔ اسی برس 2018میں عمران خان پاکستان کے 22ویںوزیر اعظم منتخب ہوگئے۔2018کے جنرل الیکشن یورپی یونین کمیشن کے مطابق صاف اور شفاف ہوئے۔ان میں کسی قسم کی کوئی دھاندلی نہیں ہوئی۔الیکشن کی شفافیت کے باوجود ہارنے والوں نے دھاندلی کا شور مچایا۔ یہ دستور دنیا ہے۔جو پارٹی ہارگئی وہ دھاندلی کا رونا روتی ہے۔ 

پاکستان میں پاکستان کو کھانے والوں کی عزت ہے۔اگرکسی کی عزت نہیں ہے تو پاکستان بنانے اور اس کو بچانے والوں کی عزت نہیں ہے۔ اس حوالے کوئی شک ہے تو مزار قائد پر جاکر برا بھلا کہا جائے۔پھر بلاول کے سامنے زرداری اور بلاول کو گالی دی جائے۔اسی طرح جاتی عمرا جاکر نواز شریف کو گالی دی جائے۔دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کا پتہ چل جائے گا۔یہاں مزار قائد پر او ل فول بکنے والوں پر آنچ نہیں آنے دی گئی۔ اگر یہ ہی کچھ ان لیڈران کے ساتھ کیا جاتا تو لگ پتہ جاتا۔اسی سے ظاہر ہے کہ ملک میں کس کی عزت ہے۔آئی ایس آئی اور رینجرز افسران نے کیپٹن صفدر کے ساتھ جو کیا وہ قومی غیرت کا تقاضا تھا اور ٹھیک کیا گیا۔

نوازشریف کے ہر عمل آئین پاکستان کے متصادم ہے۔پاکستان کی عدالتوں نے انہیں بھگوڑا اور اشتہاری قراردے رکھا ہے۔سوال یہ ہے کہ بیماری کا بہانہ بناکر ملک سے بھاگ جانے والا سزا یافتہ مجرم واپس کیوں نہیں آ رہا ہے۔ اس کے ہمنوا پی ڈی ایم کے کرتا دھرتا بشمول مریم نواز آئین اور جمہوریت کی آڑ میں آل بچائو ،مال بچائو کے لئے لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ آپ کو یا دہوگا کہ مریم نواز کا دعویٰ تھا کہ 8دسمبر کو آر ہوگا یا پار ہو گا۔ اس تاریخ کو گزرے کئی روز بیت گئے آر ہوا نہ پار ہوا۔ مریم نواز کا دعویٰ ٹھس ہو کر رہ گیا۔ خدا کی کرنی ایسی ہوئی۔ان کی اتحادی جماعت نے جب استعفی دینے کا وقت آیا تو کچھ وقت اور مانگ لیا۔ اپوزیشن کی ایک جماعت جس کی سندھ میں اپنی حکومت چلی جانے سے خوف سے ٹانگیں کانپ رہی ہیں۔سب جانتے ہیں کہ ن لیگ کے سردار ایاز صادق نے اپنے بیان سے ملک کی عزت کو مجروح کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ ان کی جانب سے فوج میں نفاق اور تفرقہ پید ا کرنے کی کوشش کی گئی۔سیا سی مفاد کو ملکی مفاد کے خلاف نہیں جانا چاہئے۔ جبکہ پاکستان میں ماضی میں باری باری حکومت اور کرپشن کی سیاست کرنے والوں نے ذاتی مفادات کو ملکی مفاد سے بالاپہنچادیا َ۔یہ ہی وجہ ہے دشمن ان کو استعمال کررہا ہے۔نوازشریف ،فضل الرحمن ،محمود اچکزئی ،خواجہ آصف،اویس نورانی اور ایاز صادق پانی سر سے گذر گیا ہے۔

میں یہ سمجھتی ہوں کہ پاکستان میںغدار وطن کے لیئے آخری حد پار کرنے کے بعد ایک اور حد پار کرنے کا انتظار کیا جاتا ہے۔ 2013میں پرائم منسٹر یوتھ لون اسکیم کا ایک سو ستر کروڑ مریم صفد ر ہضم کرگئیں۔مگر اس جعلی ،انقلابی چور باپ کی چور بیٹی کے خلاف کو ئی نوٹی فکیشن نہیں لیاگیا۔بے شر م فراڈی اور بھگوڑی مریم نواز عوامی جلسوں وزیر اعظم پاکستان عمران خان پر انگلی اٹھا کر بات کرتی ہے۔پاکستانی قوم کی بیٹیوں کو وہ کیا سبق دے رہی ہے۔بدتہذیبی اور بدتمیزی کو فروغ دے رہی ہے۔

پی ڈی ایم ملک میں انتشار اور بیماری پھیلانے کی بڑی وجہ بن رہی ہے۔اپوزیشن والوں کے پیچھے وطن دشمن ممالک ہوسکتے ہیں۔الطاف حسین جو کسی دشمن ملک کا سرمایہ مگر رہتے لندن میں ہیں۔الطاف کے بعد اب نواز شریف ملک میں خون خرابہ اور لاشیں گرانے کی حکومت چاہتے ہیں۔وزیراعظم پاکستان عمران خان اور پوری قوم ملک دشمن اور بھگوڑوںپر مشتمل پی ڈی ایم کے گھنائونے کرتوت پہچان چکے ہیں۔پی ڈی ایم گیم کا ٹائم مارچ تک رہے گا۔ مارچ میں سینٹ کے الیکشن ہیں۔پی ڈی ایم کے پلیٹ لیس کم ہورہے ہیں اور ان کی سیاسی موت ہونے والی ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر نیب کیسز ختم کردیئے جائیں تو اپوزیشن جماعتوں والے جلسوں کی سیاست چھوڑدیں گے۔ 25جنوری کے بعد لانگ مارچ کا ارادہ ترک کردیں گے۔ مگر قوم جانتی ہے ملزم بھگوڑے ہیں مگر جمہوریت کے چیمپئن بنے ہوئے 


ای پیپر