PDM, political movement, PTI government, national situation
13 دسمبر 2020 (12:21) 2020-12-13

پاکستان اِس وقت تصادم کی راہ پر، حکومت اور اپوزیشن اپنی اپنی صفیں درست کر رہی ہیں اور دونوں طرف دھمکیوں کی صورت میں آگ کے شعلے بلند ہو رہے ہیں۔ ایسے میں اہلِ فکرونظر سولات کے بھنور میں پھنسے سوچ رہے ہیں کہ کیا مذاکرات کی کوئی راہ نکل سکتی ہے؟۔ فی الحال تو جواب نفی میں کہ جب اپوزیشن حکومت کو وقت دینے کو تیار تھی تو خانِ اعظم کی ضِد اور انا آڑے آئی۔ وہ اپوزیشن سے مذاکرات تو دور کی بات ہاتھ تک ملانے کے روادار نہیں تھے اور اُن کے ’’درآمدی مشیر‘‘ جلتی پر تیل ڈال رہے تھے۔ حکومتی صفوں میں جو اعتدال کی راہ اپنانے کے حامی تھے، اُن کا کہا نقارخانے میں تُوتی کی آواز کے مصداق۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ 2018ء کے انتخابات کے بعد مولانا فضل الرحمٰن تو پہلے دن سے ہی اپوزیشن کے ارکانِ اسمبلی کے حلف اُٹھانے کے خلاف تھے لیکن نوازلیگ اور پیپلزپارٹی دھاندلی زدہ انتخابات کے باوجود جمہوری سفر جاری رکھنے کے حامی۔ تب حکمرانوں نے اپوزیشن کی مصلحت اندیشی کو کمزوری جانا اور وزیرِاعظم نے بتکرار یہ کہہ کر ’’اپوزیشن این آر او مانگتی ہے‘‘ مذاکرات کا موقع گنوا دیا۔ اب گیارہ جماعتی اتحاد پی ڈی ایم کی سربراہی مولانا فضل الرحمٰن کے پاس ہے اور سبھی جماعتیں متفق کہ مذاکرات کا دَر بند ہو چکااب بعد از خرابیٔ بسیار وزیرِاعظم صاحب نے کورونا کی آڑ میں جب اپوزیشن کو دو، تین ماہ تک جلسے جلوس مؤخر کرنے کی اپیل کی تو مولانا فضل الرحمٰن کا جواب تھا کہ حکومت این آر او مانگتی ہے جو ہم نہیں دیں گے۔ سیاسی افق پر اُبھرتی ہوئی سیاستدان مریم نواز نے کہا کہ اب ’’آر یا پار‘‘ ہوگا۔ 

حقیقت یہ کہ عقیل وفہیم اصحاب تو اُسی وقت جان چکے تھے کہ مفاہمت کے سب دَر بند ہو چکے جب میاں شہبازشریف کو جیل میں ڈال دیا گیا۔ نوازلیگ میں صرف وہی تو تھے جو مفاہمت کی راہ اپنائے ہوئے تھے اِس لیے نوازلیگ بھی ’’ابھی یا کبھی نہیں‘‘ کی راہ پر چل نکلی۔ اپنی والدہ کی رحلت پر پیرول پر رہائی کے دوران میاں شہبازشریف نے مریم نواز کو خصوصی طور پر یہ ہدایت کی کہ وہ 13 دسمبر سے پہلے پورے لاہور میں ریلیوں کی صورت میں نکلیں اور لاہوریوں کو پی ڈی ایم کے مینارِ پاکستان پر ہونے والے آخری جلسے میں بھرپور شرکت پر قائل اور مائل کریں۔ اُدھر وزیرِاعظم صاحب نے 

بھی اپوزیشن کا موڈ بھانپتے ہوئے اندھی چال چلی اور عین موقعے پر شیخ رشید کو وزارتِ داخلہ کا قلمدان سونپتے ہوئے یہ پیغام دے دیا کہ حکومت بھی ’’آر یا پار‘‘ کے لیے تیار ہے۔ 

شیخ رشید کے بارے میں کون نہیں جانتا کہ اُس کی جڑیں کہاں پر ہیں۔ ویسے بھی شیخ صاحب بَرملا کہتے ہیں کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے آدمی ہیں۔ یہ بھی سبھی کو معلوم کہ شریف فیملی سے اُن کا بغض اپنی بلندیوں کو چھو رہاہے۔ اُنہوں نے جب سے تحریکِ انصاف کا پلیٹ فارم استعمال کرنا شروع کیا ہے وہ آگ ہی اُگلتے رہے۔ یہ وہی ’’وَن مین شو‘‘ ہے جو 2014ء اور بعد ازاں تحریکِ انصاف کے جلسوں میں گھیراؤ، جلاؤ، مارو، مرجاؤ کے درس دیتا رہا۔ یہ وہی شخص ہے جو عمران خاں کو بار بار یہ کہتا رہا کہ اُن کی تحریک لاشیں مانگتی ہے۔ اُسے یہ بھی بہت اچھی طرح معلوم کہ تحریکِ انصاف کی حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی اُس کی سیاست کا بھی خاتمہ ہو جائے گا اِس لیے اُس سے مفاہمت کی اُمید رکھنا بیکار ہے۔

تصادم سے بچنے کی اب دو ہی صورتیں باقی ہیں۔ پہلی یہ کہ اپوزیشن اپنی تحریک ختم کرکے گھر بیٹھ رہے اور دوسری یہ کہ وزیرِاعظم ’’کُرسی‘‘ چھوڑنے کو تیار ہو جائیں۔ یہ دونوں صورتیں ہی بظاہر ناممکن دکھائی دیتی ہیں۔ عمران خاں نے طویل جدوجہد کے بعد وزارتِ عظمیٰ حاصل کی۔ اُنہوں نے تو ’’شیروانی‘‘ کے شوق میں آمر پرویزمشرف تک کا ساتھ دینے سے بھی گریز نہیں کیا۔ وہ بھلا ’’سیدھے ہاتھوں‘‘ کرسی سے دستبردار کیوں ہونے لگے۔ رہی اپوزیشن تو اب پُلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا۔ آج (13 دسمبر) کو مینارِ پاکستان پر جلسے کے بعد اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ اور آخر میں اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کے منصوبے باندھے جا چکے ہیں۔ اب مراجعت اپوزیشن کی سیاسی موت ہو گی جو اُسے کسی صورت قبول نہیں۔ جو لوگ اپوزیشن کے استعفوں کو محض دھمکی سمجھ رہے ہیں وہ خوش فہمیوں کا چمن آباد کیے ہوئے ہیں۔ اگر پی ڈی ایم کو لانگ مارچ کے بعد بھی کامیابی حاصل نہیں ہوتی تو استعفوں کا آپشن ضرور استعمال کیا جائے گا۔ خوش فہمیوں میں مبتلا لوگوں کو یاد رکھنا ہو گا کہ مولانا فضل الرحمٰن تو روزِ اول سے ہی اسمبلیوں میں جانے کے روادار نہیں تھے۔ اب نوازلیگ بھی میاں نوازشریف کی ہدایت پر مستعفی ہونے کو تیار ہے۔ رہی پیپلزپارٹی کی بات تو وہ خوب جانتی ہے کہ ’’موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں‘‘۔ وہ پی ڈی ایم کا پلیٹ فارم چھوڑ کر اپنی سیاسی موت ہر گز نہیں چاہے گی۔ اِس لیے وہ طوہاََ و کرہاََ ہی سہی مگر مستعفی ہونے کو تیارہے۔ شاید اِسی لیے نوازلیگ اور پیپلزپارٹی اِس سیاسی اتحاد کو انتخابی اتحاد میں بدلنے کے لیے ملاقاتیں کر رہی ہیں۔ جاتی اُمرا میں بلاول بھٹو نے مریم نواز سے ملاقات کے بعد کہا ’’میرے پاس دھڑادھڑ استعفے آرہے ہیں۔ ہم سندھ حکومت کی قربانی سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔ استعفوں سے متعلق پارٹی کے اندر مشاورت ہوچکی‘‘۔ بلاول بھٹو نے یہ بھی کہا کہ حکومت پی ڈی ایم کی تحریک سے خوفزدہ ہے اِسی لیے اپوزیشن اتحاد میں دراڑ ڈالنے کے خواب دیکھے جا رہے ہیں لیکن ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ اُنہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کی تاریخ میں کوئی لانگ مارچ اتنا کامیاب نہیں ہوا ہوگا جتنا پی ڈی ایم کا ہوگا۔

اب جبکہ وزیرِاعظم مستعفی ہونے پر آمادہ ہیں نہ اپوزیشن اپنی تحریک مؤخر کرنے کو تیار تو کیا اسٹیبلشمنٹ تصادم ہونے دے گی؟۔ ظاہر ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ایسا ہرگز نہیں کرنے دے گی اِس لیے اُس کا تیسرے فریق کے طور پر میدان میں آنا اظہر مِن الشمس۔ ماضی میں جھانک کر دیکھیں تو جب پی این اے کی تحریک عروج پر تھی تو جنرل ضیاء الحق نے مارشل لاء لگا دیا احالانکہ اُس وقت ذوالفقار علی بھٹو اور پی این اے کے درمیان مذاکرات بھی ہوتے رہے۔ یہ بھی عین حقیقت کہ وہ مذاکرات کامیابی کے قریب تھے، سب کچھ طے ہو چکا تھا صرف فریقین کے مابین معاہدے پر دستخط ہونا باقی تھے پھر بھی جمہوریت کی بساط لپیٹ دی گئی اور اگلے ساڑھے آٹھ برس تک ملک پر مارشل لاء مسلط رہا۔ یہاں صورتِ حال مختلف کہ فریقین میں سے کوئی بھی مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کو تیار نہیں۔ اگر وزیرِاعظم نے مذاکرات کی بات کی بھی تو این آر او کا شوشہ چھوڑ کر جس سے اپوزیشن کو چِڑ ہے۔ وزیرِاعظم کے ’’فرنٹ لائن‘‘ حواریوں کو اللہ تعالیٰ نے توفیق ہی نہیں بخشی کہ وہ مفاہمت کی بات کرنے پر آمادہ ہو جائیں۔ اب تو شیخ رشید بھی بطور وزیرِداخلہ میدان میں ہیں جن سے اچھے کی اُمید رکھنا عبث اِس لیے اب جو کرے گی، اسٹیبلشمنٹ ہی کرے گی۔ دیکھنا یہ ہے 


ای پیپر