افغان جنگ:امریکا کا اعتراف جرم
13 دسمبر 2019 2019-12-13

امریکا کے فوجی عہدے داروں ،سفارت کاروں ، افغانستان میں فلاحی کاموں میں حصہ لینے والوں اور خود افغانستان کے سرکاری کارندوں نے انکشاف کیا ہے کہ افغانستان میں جاری جنگ کے حوالے سے روز اول سے ہی انھوں نے سب کو اندھیرے میں رکھا۔پوری دنیا سے افغانستان میں جاری جنگ کے بارے میں جھوٹ بولا۔امریکی قوم کو مطمئن کرنے کے لئے اعداد وشمار میں ہیر پھیر کی۔بین الاقوامی اداروں کو دھوکہ دیا۔امریکی ذمہ داران کی طرف سے اس ہوش ربا انکشاف کے بعد اس بات کی تصدیق ہو گئی ہے کہ اکتوبر 2001 ء میں واشنگٹن نے بغیر کسی تیاری اور منصوبہ بندی کے افغانستان پر حملہ کیا تھا۔ان انکشافات میں اس بات کی بھی تصدیق ہو گئی ہے کہ افغانستان پر حملہ کرتے وقت اس بات کا تعین نہیں کیا گیا تھا کہ ان کا دشمن کون ہے یعنی مقابلہ کس سے ہو گا،افغانستان طالبان یا القاعدہ۔ان انکشافات میں اس بات کی بھی تصدیق ہو گئی ہے کہ امریکا نے افغانستان کو فتح کرنے کے لئے بے دردی کے ساتھ قومی دولت کو خرچ کیا۔ڈالروں کی اس سرمایہ کاری میں یہ خیال بالکل نہیں رکھا گیا کہ اس سرمایہ کاری سے وہ اپنے مقاصد کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں کہ نہیں؟بلکہ دانستہ طور پر امریکا نے قومی دولت کو ضائع کیا۔

امریکا کے اعلیٰ سرکاری عہدے داروں کی طرف سے کئے گئے یہ انکشافات سابق صدر جارج ڈبلیو بش،پینٹاگان، سابق صدر اوباما ،موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان تمام امریکی سفارت کاروں کے خلاف چارج شیٹ ہے جو افغانستان پر حملے کے وقت سے لے کر آج تک کابل میں سفارتی ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔جس مکاری اور سفاکی کے ساتھ وائٹ ہائوس اور پینٹاگان نے افغانستان میں جاری جنگ کے بارے میں پوری امریکی قوم سے حقائق چھپا کر بے وقوف بنایا ہے اس کا تقاضا ہے کہ قوم خود ان دونوں اداروں کے خلاف قانونی کارروائی کرے،ان سے پوچھے کہ کیوں ان سے جھوٹ بولا گیا اور کیوں ان کے ٹیکس کے پیسوں کو اپنی ضد ،انا اور سیاست کی بھینٹ چڑھا کر برباد کیا گیا؟نیٹو نے بھی افغانستان پر حملے میں امریکا کا ساتھ دیا۔ان کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ واشنگٹن سے مطالبہ کریں کہ کیوں ہمیں دھوکا دیااور کیوں ہمارے فوجیوں کو مروایا اور ہمیشہ کے لئے اپاہج بنایا۔ یہ بھی ان حق بنتا ہے کہ وہ امریکا سے سوال کریں کہ کیوں ان کے ٹیکس کے پیسوں کو پہلے سے ہی معلوم ایک ناکام منصوبے پر خرچ کیا۔نیٹو کی ذمہ داری ہے کہ وہ امریکا سے باقاعدہ ہرجانے کا مطالبہ بھی کریں۔مگر افسوس کہ نیٹو میں شامل ممالک ایسا نہیں کریں گے اس لئے کہ یہ سب ایک عالم ہیں۔

اگر امریکی قوم اور نیٹو ،وائٹ ہائوس اور پینٹاگان کا محاسبہ نہیں کرتی تو پھر اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے کہ واشنگٹن کا احتساب کریںکہ کیوں ایک ایسے منصوبے میں ان کا کاندھا استعمال کیا گیا جس کی پہلے سے منصوبہ بندی نہیں تھی ،جس کے بارے میں شروع ہی سے معلوم تھا کہ کامیابی ممکن نہیں تو پھر کیوں اس عالمی ادارے سے حقائق کو چھپا یا۔اگر اقوام متحدہ ان دل دہلانے والے انکشافات کے بعد امریکا کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتی تو اس کا مطلب ہو گا کہ دونوں ملے ہو ئے ہیں۔اس لئے کہ اس سے قبل امریکا نے عراق پر یلغار کی تھی جس کے لئے انھوں نے یہ جھوٹ گھڑ لیا تھا کہ بغداد کے پاس انتہائی خطرناک کیمیائی ہتھیار ہیں۔مگر اس سے بھی افسوس ناک امر یہ ہے کہ اس جھوٹ کو گھڑنے اور ایسے بین الاقوامی طور پر سچ ثابت کرنے کے لئے اقوام متحدہ ہی کے ذیلی ادار ے کو استعمال کیا گیا تھا۔افغانستان کے بارے میں اس غیر ذمہ دارانہ رویے کے بارے میں لازمی ہے کہ اقوام متحدہ واشنگٹن کا سخت محاسبہ کرے۔اگر ان تمام حقائق کے باوجود اقوام متحدہ کارروائی سے گریز کرتی ہے تو اس کامطلب ہو گا کہ یہ ادارہ حقیقت میں اپنی افادیت اور اہمیت کھو چکا ہے اس لئے کہ یہ صرف ایک ملک کے مفاد ات کی محافط ہے یعنی ان کی گھر کی لونڈی ہے۔

امریکی قوم ،نیٹو ممالک اور اقوام متحدہ سے بھی زیادہ ذمہ داری افغانستان کی ریاست، حکومت ،قوم ،سیاسی جماعتوں ،سوشل ورکرز اور انسانی حقو ق کے علمبردار تنظیموں کی ہے کہ امریکا کے خلاف ان انکشافات کو بنیاد بنا کر ان سے تاوان کا مطالبہ کریں۔افغانستان طالبان کے ساتھ واشنگٹن نے دوبارہ بات چیت کا آغاز کردیا ہے لیکن ان مذاکرات میں اس نکتے کو شامل کرنے پر زور دیا جائے کہ اٹھارہ سالہ جنگ میں امریکا اور ان کے اتحادیوں نے افغانستان میں جو تباہی اور بربادی مچا رکھی ہے اس کا ہرجانہ وہ ادا کرنے کے پابند ہو نگے۔ امریکا کو پابند کیا جائے کہ وہ افغانستان کی تعمیر نو میں معاہدے کے تحت مالی مدد کریں گے۔اس اٹھارہ سالہ جنگ میں جوبے گناہ لوگ قتل کئے گئے ہیں ان کے ساتھ مالی مدد کی جائے گی۔جو معذور ہو گئے ہیں ان کی دوبارہ بحالی کے لئے امریکا مدد کریگا۔جن لوگوں کے کاروبار کو نقصان پہنچا ہے ان کے ساتھ مدد کی جائے گی۔افغانستان کو چاہئے کہ طالبان سے مطالبہ کریں کہ واشنگٹن سے صرف افغانستا ن کا قبضہ لینے کا معاہدہ نہ کریں بلکہ ان سے ایک مکمل مالی پیکج کو بھی معاہدے کا حصہ بنائے۔اگر آج امریکا کو بغیر ہرجانہ ادا کئے بغیر جانے دیا گیا تو پھر وہ کوئی اور نیا جھوٹ گھڑ کر کسی اور ریاست پر حملہ آور ہوگا اس لئے ضروری ہے کہ ان سے مکمل مالی تاوان لے کر جانے دیا جائے تاکہ آئندہ وہ کسی بھی ریاست پر حملہ کرنے سے پہلے سوبار سوچنے پر مجبور ہو۔اس سے قبل سوویت یونین کو بھی افغانستان سے بغیر ہر جانے کے جانے دیا گیا تھا حالانکہ دس سالہ جنگ میں انھوں نے افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی لیکن جاتے وقت کسی نے بھی ان کو معاہدے کے تحت پابند نہیں کیا تھا کہ جو تباہی اور بربادی وہ کرچکے ہیں اس کا ازالہ ان کے ذمے ہوگا۔اگر سوویت یونین کو معاہدے کے تحت پابند کیا جاتا کہ افغانستان کی تعمیر نو ان کی ذمہ داری ہوگی تو ہوسکتا ہے کہ امریکا افغانستان اور عرا ق پر حملہ کرنے سے گریز کرتا لیکن محاسبے کا کوئی نظام نہ ہونے کی وجہ سے طاقتور جب چاہیے کسی بھی ملک پر حملہ آور ہوتا ہے اور جب چاہئے بغیر کسی پوچھ گچھ کے وہاں سے بوریا بستر گول کرکے چلا جاتا ہے اس لئے ضروری ہے کہ مستقبل میں اس طرح کے سانحات کے تدارک کے لئے امریکا کو پابندکیا جائے کہ وہ افغانستان کو اس تمام نقصان کا ہرجانہ دے گا جو جنگ کے دوران ان کا ہوا ہے۔پوری افغان قوم کو چاہئے کہ وہ افغانستان سے امریکی انخلاء کے معاہدے میں اس شق پر متفق ہو کہ انخلاء کے بعد واشنگٹن معاہدے کے تحت کابل کی مکمل مالی مدد کرنے کا پابند ہو گا۔


ای پیپر