وکالت کے ہاتھوں انسانیت لہو لہو
13 دسمبر 2019 2019-12-13

ایک زمانہ تھا جب قانون کا پیشہ اختیار کرنے والے قانون کے تقدس کو اپنی ماں کی حرمت سے تعبیر کرتے تھے مگر گزشتہ دنوں اُن کے ناخلف جانشینوں نے اپنی ماں کے ساتھ جو کچھ کیا ہے اس پر انسانیت شرمندہ ہے۔ کشمیر میں نریندر مودی کی حکومت نے گزشتہ 130 روز سے کشمیریوں پر عرصۂ حیات تنگ کر رکھا ہے مگر اس کے باوجود انڈین سکیورٹی فورسز نے بھی ابھی تک کسی ہسپتال پر حملہ نہیں کیا جو کام آج تک انڈیا کشمیریوں کے ساتھ نہ کر سکا وہ لاہور میں قانون کے نام نہاد پرچم برداروں نے ڈاکٹروں سے انتقام کی آگ میں کر دکھایا جس کی وجہ سے متعدد انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔ سرکاری اعداد و شمار تین جبکہ غیر سرکاری اطلاعات کے مطابق 8 مریض جاں بحق ہوئے۔ ہسپتال بند ہونے کے بعد جو لوگ اپنے گھروں میں جا کر فوت ہوئے وہ علیحدہ ہیں۔ دنیا کے کسی کونے میں آج تک اتنی بڑی درندگی کی مثال نہیں ملتی۔ جن لوگوں نے وہاں جا کر انسانی خون سے ہاتھ رنگے ہیں، انہیں وکیل کہنا اس پیشے کے منہ پر کالک ملنے کے مترادف ہے۔

قومیں غلطی کرنے پر نہیں بلکہ غلط کام کر کے اس کا دفاع کرنے اور اس پر ڈٹ جانے پر تباہ ہوتی ہیں۔ کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ وکلاء تنظیمیں ہسپتال پر شب خون مارنے والوں کا تحفظ کر رہی ہیں یہ کیا ہے کوئی اخلاقی معیار کوئی پیشہ ورانہ دیانتداری، کوئی ضمیر کی خلش انہیں نہیں روکتی کہ وہ جرم کرنے والوں کا دفاع کرنے سے باز آ جائیں۔ اس واقع کی مناسبت سے ٹی وی چینل پر وکلاء رہنماؤں کو بلایا جاتا ہے تو ہر پروگرام میں وہ لوگ کسی شرمساری کا اظہار نہیں کرتے۔ اینکرز کے سوال پر کہ وہ اس واقع کی مذمت کرتے ہیں یا نہیں تو وہ رسمی ہاں کہنے کے بعد پھر اُسی سانس میں دفاع کرنے لگ جاتے ہیں پنجاب بار کے اعلیٰ ترین عہدیدار جو پنجابی لہجے میں اردو بول رہے تھے۔ حفیظ الرحمن چوہدری کا کہنا تھا کہ ہسپتال میں پہلے بھی تو لوگ مرتے ہیں۔ جب انسانی عقل اس حد تک ماؤف ہو جائے تو ایسے شخص سے دلائل کرنا دیوار سے سر ٹکرانے کے مترادف ہے۔ ابو جہل کو اپنے بتوں کی حقانیت پر اتنا یقین تھا کہ جنگ بدر سے پہلے اس نے غلاف کعبہ سے لپٹ کر اللہ سے دعا مانگی کہ محمدؐ کے مقابلے میں ہم میں سے جو حق پر ہے اس کو زندہ رکھ اور جو ناحق پر ہے اس کو تباہ کر دے۔ ابو جہل کی دعا قبول ہوئی وہ اس جنگ میں مارا گیا۔ حق اور باطل کا فیصلہ ہو چکا تھا مگر کفار مکہ نے فیصلہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اس وقت وکلاء رہنما ناجائز طور پر قاتلوں اور حملہ آوروں کی حمایت کر رہے ہیں انہیں احساس ہی نہیں کہ وہ اپنے وکالتی مفاد سے بالاتر ہو کر انسانیت کے ناتے سوچیں کہ حق کیا ہے۔

ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ جس مسئلے کی تہہ میں جائیں آپ کو سیاست نظر آئے گی۔ حالیہ واقعہ کے پیچھے بھی سیاسی سرپرستی کار فرما ہے سب کو پتہ ہے کہ حملہ آور وکلاء کا تعلق کسی پارٹی سے ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے لائیرز ونگ کے لاہور کے عہدیداروں کے بیانات دیکھ لیں گرفتار وکلاء کو ہمارے شیر اور ہمارے ہیرو کہہ کر مخاطب کیا جا رہا ہے ۔ پس منظر یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) جانتی ہے کہ اس وقت سٹریٹ پاور کے لحاظ سے سب سے طاقتور فورس جسے معاشرے اور حکومت دونوں میں خوف کی علامت سمجھا جاتا ہے وہ وکیل ہیں۔ پولیس ان سے ڈرتی ہے عدالتوں میں جج ان سے ڈرتے ہیں کیونکہ یہ مرضی کا فیصلہ نہ آنے پر حملہ کر دیتے ہیں لاتعداد مثالیں موجود ہیں ۔ ججوں کے سر پھاڑے گئے ، پولیس کی وردیاں پھاڑ دی جاتی ہیں۔ ملزم پولیس سے چھڑا کر فرار کروا دیئے جاتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی خصوصی یہ ہے کہ ان کے سیاسی ونگ ہمیشہ فعال رہتے ہیں خصوصاً (ن) لیگ کے لائیرز ونگ کا تنظیمی ڈھانچہ بہت زیادہ مضبوط ہے۔

پاکستان تحریک انصاف سیاسی طور پر ایک موقع پرست جماعت ثابت ہوئی جس نے اقتدار میں آنے کے بعد حامد خان جیسے بانی رکن کو پارٹی سے نکال دیا جن کی وکلاء کمیونٹی میں بڑی عزت و احترام ہے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ پی ٹی آئی نے اقتدار میں آنے کے بعد اپنے لائیرز ونگ کو تقریباً تقریباً خیر باد کہہ دیا۔ وہ سمجھتے تھے کہ ہمیں اب ان کی ضرورت نہیں رہی ۔ یہ سمجھتے تھے کہ بابر اعوان اور نعیم بخاری ہمارے ساتھ ہیں تو ہمیں کسی وکیل کی ضرورت نہیں۔ اب (ن) لیگ کی وکلاء تنظیم کے طاقت کے مظاہرے کے بعد پی ٹی آئی کو اس وقت ہوش آئی جب پانی سر سے گزر چکا تھا۔ اب حکومت نے وکلاء تنظیموں سے رابطوں کا فیصلہ کیا ہے اور پالیسی یہ ہے کہ (ن) لیگ کے وکلاء کی طاقت کو کمزور کرنے کے لیے وکلاء برادری میں سیاسی فرقہ بندی کے عمل کو تیز کیا جائے۔

جب حکومت کے نوٹس میں وکلاء کے پیچھے (ن) لیگ کا آہنی ہاتھ منظر آیا تو فوری طور پر پنجاب میں رینجرز کی تعیناتی کا فیصلہ کیا گیا ۔ یہ بڑا سنگین فیصلہ ہے کہ کیا پنجاب کے حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ پنجاب پولیس کنٹرول کرنے میں ناکام ہو گئی ہے۔ ڈیڑھ سال میں 5 آئی جی تو پہلے ہی تبدیل ہو چکے ہیں۔ اس لیے حکومت نے سوچا کہ اب کی بار آئی جی تبدیل کرنے کی بجائے مدعا ہی ختم کیا جائے اور پولیسنگ کا ٹھیکہ رینجرز کے حوالے کر دیا جائے۔ اب سمجھو کہ پولیس کی ڈیوٹی رینجرز کی ذمہ داری بن گئی ہے یہاں تک کہ آئی جی پنجاب نے اپنے دفتر کی سکیورٹی کے لیے بھی رینجرز تعینات کر دیئے ہیں جسے حکومتی یا انتظامیہ زبان میں پولیس کی outsourcing کہا جا سکتا ہے۔ یہ پنجاب پولیس اور پنجاب کی حکمرانی دونوں کے اوپر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔

اصل موضوع کی طرف واپس آتے ہیں وکلاء کی بڑھتی ہوئی لاقانونیت معاشرے کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے قانون کی کوکھ سے جنم لینے والا یہ پیشہ اپنا تقدس برقرار نہیں رکھ سکا جس قانون نے انہیں عزت دی ہے یہ اسی قانون سے پیدا ہو کر اس کی بے توقیری کے مرتکب ہو رہے ہیں حالانکہ قانون ان کی ماں ہے۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ عدالت میں دو طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں ایک مدھی ہوتا ہے جو اپنا حق مانگتا ہے دوسرا مدعا علیہ ہوتا ہے جو حق دینے سے انکاری ہوتا ہے۔ اس سارے معاملے میں وکیل وہStake Holder ہے جو پیسے کے لیے لڑتا ہے۔ اس کا ذاتی مفاد کوئی نہیں ہوتا بلکہ دونوں طرف ہی کرائے پر مقدمہ لڑنے والے لڑ رہے ہوتے ہیں۔ نعیم بخاری نے اسی تناظر میں پانامہ سکینڈل کی سماعت کے دوران کہا تھا کہ وکیل کبھی نہیں ہارتا مقدمہ مدعی ہارتا ہے۔

وکالت کے پیشے سے وابستہ عزت و تکریم کو دیکھتے ہوئے معاشرے میں قانون کے شعبے کی طرف رغبت پیدا ہوئی۔ ڈاکٹر یا انجینئر کے پیشوں کے برعکس یہاں وکیل بننے کے لیے کوئی میرٹ نہیں تھا جس کو کہیں داخلہ نہیں ملتا یا نوکری نہیں ملتی وہ ایل ایل بی کر لیتا ہے۔ رورل ایریاز کے بہت سے کریمینل فیملیز اور گروپوں نے اپنی نئی نسل کو محض اس لیے اس پیشے میں داخل کر دیا کہ مقدمہ بازی میں سہولت ہو جائے۔ ہر سال سب سے زیادہ اضافہ جس پیشے میں ہوتا ہے وہ وکالت ہے جس کی ڈیمانڈ میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے ۔ ینگ لائرز کے اندر اخلاقیات اور پیشہ واریت صفر ہے مگر لڑائی جھگڑے توڑ پھوڑ اور مارکٹائی کے ماہر ہیں۔ یہ کسی گرفت میں اس لیے نہیں آتے کہ سینئر وکلاء کو ہر سال بار کے الیکشن میں ان کے ووٹ اور مین پاور کی ضرورت ہوتی ہے۔ بار کے الیکشن پر ایم این اے کے الیکشن سے زیادہ خرچہ آتا ہے کیونکہ جو ایک دفعہ صدر یا سیکرٹری بن جائے اس کی ججوں کے ساتھ راہیں ہموار ہو جاتی ہیں۔ وکلاء کے لیے نئے ضابطۂ اخلاق کی ضرورت ہے اگر ایسا نہ کیا گیا تو یہ ملک میں ایک نیا سسلین مافیا وجود میں آجائے گا۔


ای پیپر