ہمارے دور کا مورخ کیا لکھے گا؟
13 دسمبر 2019 2019-12-13

تاریخ سے مجھے کبھی ذاتی طور پر دلچسپی نہیں رہی لیکن نصاب کی وجہ سے کسی نہ کسی طور اس سے واسطہ رہا اور پھر بچوں کے سلیبس میں شامل ہونے کی وجہ سے چار و ناچار کئی اہم چیزوں کو جاننے کا موقع ملا۔ لیکن مجھے کبھی یہ سمجھ نہیں آئی کہ مورخ کون تھے اور کس طرح سے یہ تاریخ ہم تک پہنچی اور کس حد تک یہ باتیں ٹھیک ہیں یا صحیح، یا یوں کہہ لیں کہ تاریخ کا کون سا پہلو ٹھیک ہے یا غلط، چلیں یہ تو ہو گئی پرانی باتیں، اس وقت ذرائع ابلاغ زیادہ نہ تھے اور چند لوگوں کے توسط سے ہی باتیں ہم تک پہنچی ہیں۔ لیکن سب سے زیادہ جو چیز مجھے پریشان کرتی ہے وہ یہ کہ ہمارے دور کا مورخ کیا لکھے گا جب کہ یہاں ہر انسان انفرادی طور پر ایک تاریخ لکھ رہا ہے تمام ادارے، میڈیا، سوشل میڈیا،کتابیں،تحقیق یہ سب چیزیں مل کر کیا کسی ایک حقیقت پر متفق ہو سکیں گی کہ اس دور میں کون صحیح تھا اور کون غلط؟ہماری حقیقی تباہی کا ذمہ دار دراصل کون تھا؟یہ سوال مجھے بار بار پریشان کرتا ہے کہ ہماری نوزائیدہ نسل جب جوان ہوگی تو انہیں کیا سبق ملے گا وہ کس کو مورد الزام ٹھہرائیں گے؟

ابھی تو میری عمر چالیس سال تک پہنچی ہے اور میں نے تہذیب اور اقدار میں اتنے اتار چڑھائو دیکھے ہیں کہ بیان سے باہر ہے، پہلے جو ہیرو لگتے تھے انہیں زیرو بنتے دیکھا۔اور جو بھی تبدیلی آئی ہے بظاہر تو وہ ترقی لگتی ہے لیکن ایسے لگتا ہے دن بدن ہمیں تنزلی کی طرف لے جا رہی ہے۔

گزشتہ چند روز سے اتنے دل خراش واقعات دیکھنے کو مل رہے ہیں کہ یقین نہیں آتا واقعی ہم انسانوں کے معاشرے میں رہتے ہیں کیونکہ جنگلوں کا بھی آخر کوئی دستور ہوتا ہے! عقل دنگ ہے اور زبان گنگ ہے کہ ہم جس پستی میں گرچکے ہیں بظاہر اس سے نکلنا تقریباً نا ممکن ہو چکا ہے۔ ادارے ہوں، حکومتیں ہوں یا عام آدمی۔ اصل جو دیوالیہ نکلا ہے نا وہ ہماری اخلاقی اقدار کا ہے۔

یہ حدیث شاید اسی دور کے بارے میں بیان کی گئی ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ انسان کوئی پرواہ نہیں کرے گا کہ جو اس نے حاصل کیا ہے وہ حلال سے ہے یا حرام سے ہے۔

بالکل اسی کے مصداق ہمارے معاشرے کی حالت ہے۔ شائد یہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات سے روگردانی کا ہی نتیجہ ہے کہ ہم ایک انتشار میں مبتلا قوم ہیں، جن کا نہ کوئی حال ہے نا مستقبل۔یہاں چند واقعات بیان کروں گی جو ہماری بے حسی اوراخلاقی اقدار سے محروم معاشرے کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں۔

سب سے پہلے ایک ڈرامے کی بات کرتے ہیں جو اس وقت مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑ رہا ہے ? میرے پاس تم ہو، کی کہانی کوئی انوکھی نہیں لیکن اس میں ہمایوں سعید ، عائزہ خان اور عدنان صدیقی نے جس طرح حقیقت کا رنگ بھرا وہ بے شک لا جواب ہے لیکن یہاں جو چیز قابل غور ہے اس پر میری توجہ فیس بک کے مشہور پیج کی ایک پوسٹ نے دلائی ہے اس پوسٹ میں لکھا گیا ہے کہ بیوی کی بے وفائی کے غم میں شوہر سگریٹ پیتا ہے تو ساتھ ہی نیچے پٹی چلتی ہے‘ سگریٹ پینا صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔

اس کے بعد بیوی کو ورغلانے والا ولن شراب پیتے دکھایا گیا ہے جس پر پھر پٹی چلتی ہے کہ شراب پینا حرام ہے۔ لیکن کہانی میں بیوی خاوند سے چھپ کر ایک غیر مرد سے چکر چلاتی ہے لیکن کہیں یہ پٹی نہیں چلتی نظر آئی کہ خاوند کو یا بیوی کو دھوکہ دینا گناہ ہے۔ ایک مرد دوسری عورت سے تنہائی میں ملتا ہے کہیں پٹی نہیں چلتی کہ ایک اکیلی عورت کاغیرمرد سے تعلق قائم کرنا یا دوسرے مسلمان کی بیوی کی عزت سے کھیلنا حرام ہے۔ کرداروں کو جھوٹ بولتے دکھایا جاتا ہے مگر کہیں نہیں پٹی چلی کہ جھوٹ بولنا حرام ہے۔

ایک عورت بغیر نکاح کے غیر مرد کے گھر مہینوں سے رہ رہی ہے اس کے ساتھ گھومتی پھررہی ہے اس نا جائز رشتے پر پٹی خاموش ہے۔ایک ماں اپنے چار سالہ بیٹے کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ کر اپنے عاشق کے ساتھ چلی جاتی ہے پٹی خاموش ہے یعنی ہمارے معاشرے کو سگریٹ سے خطرہ ہے، بے حیائی سے نہیں؟پتہ نہیں اس کے بارے میں مورخ کیا لکھے گا؟

یہ تو بات تھی میڈیا کی اب ذرا اس دل دہلا دینے والی خبر کو دیکھیں جس کے مطابق لاہور میں کاہنہ تھانے کی حدود میں چند بے ضمیر افراد نے ایک نابینا بھکاری کو پنکچر کی دکان میں بھیک دینے کے بہانے بلایا اور ہوا کا پائپ اندر داخل کرکے اس کے پیٹ میں ہوا بھر دی، اس کی طبیعت خراب ہوئی، ہسپتال لے جایا گیا جہاں اس کی بلیڈنگ شروع ہوگئی اور وہ معذور اپنی جان سے چلا گیا۔ یہ انسانی زندگی کا بدترین واقعہ ہے! یہ واقعہ بھی بہت افسوس ناک ہے جب ایک خاتون نے بیٹے کے قتل کا ملزم سات سال بعد مار ڈالا کیونکہ اس کو عدالتوں سے انصاف نہیں مل رہا تھا۔

پروین بی بی نے قسم کھائی تھی کہ جب تک بیٹے کے خون کا حساب نہیں ملتا، میں ننگے پاؤں گھوموں گی۔ سات سال بعد مجرم کو سزا ہوئی جس پر اس نے اپیل کردی اور سیشن ہائی کورٹ نے اسے ناکافی ثبوت کی بنا پررہا کردیا۔لیکن ماں نے

30 نومبر کو مجرم کے گھر کے دروازے پر ہی اسے قتل کردیا اور خود تھانے میں جاکر گرفتاری دے دی۔ پروین بی بی نے قانون ہاتھ میں لے کر درست نہیں کیا مگر قانون نے اس کے ساتھ کون سا انصاف کیا ؟پروین بی بی نے اس طرح اپنی ممتا کا کلیجہ ٹھنڈا کیا کیونکہ ہمارے عدل و انصاف کے نظام سے اس کا اعتماد اٹھ گیا تھا۔ اس نے مزید اپیل کے بجائے اپنے انداز میں انصاف کے حصول کا فیصلہ کیا ۔ اب اس کے بارے میں مورخ کیا لکھے گا؟ ایک اور واقعہ کے بارے میں پتہ چلا جس کے مطابق تحصیل ہیڈکواٹر ہسپتال کھاریاں کے سامنے ایک جنازہ دیکھا صرف پانچ نوجوان چارپائی اٹھائے ہوئے ادائیگی جنازہ کے بعد تدفین کے لیے قبرستان کی طرف جا رہے تھے جس میں سے تین رکشہ ڈرائیور اس منظر کو دیکھ کے رکشے وہیں چھوڑتے ہوئے جنازہ کو کندھا دیتے ہوئے تدفین میں شامل ہو گئے۔ اس طرح قبرستان پہنچتے پہنچتے دس افراد ہوگئے فوت ہونے والے نوجوان کی عمر 23سال تھی، مگر اتنی بے حسی اور معاشرے کا مکروہ چہرہ میری روح کو چھلنی کر گیا!

اور وہ نقیب اللہ محسود کے بیٹے کی اپنے دادا کے جنازے پر لی گئی حسرت بھری تصویر بھی اس ملک کے غیر منصفانہ نظام کے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔آخر میں ایک اوراہم بات کہ دار الامان کی سپرنٹنڈنٹ کی طرف سے چشم کشا انکشافات کے بعد بھی خاموشی بہت بھیانک ہے! اب اس واقعہ کے بارے میں مورخ کیا لکھے گا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں یتیم بچیوں کو دارالامان میں بھی امان نہ ملتی تھی؟

یہاں مستنصر حسین تاڑر سے منسوب کیا گیا ایک جملہ یاد آرہا ہے کہ اس دورکا مورخ سچ لکھنے ہی بیٹھا تھاکہ اسے بحریہ ٹائون میں ایک پلاٹ مل گیا!

یہ تو چند واقعات ہیں جن کو لکھتے ہوئے میرا قلم کانپ رہا ہے اور ابھی حال ہی میں بہت عجیب صورتحال سامنے آئی ہے، شہر میں سکیورٹی اور فضا دونوں ہی خطرے کا الارم بجا رہے ہیں، ناجانے مورخ ان کے بارے میں کیا لکھے گا یہ تو آنے والی نسلیں ہی جانتی ہیں!


ای پیپر