انسانی حقوق کا عالمی دن، کیا ہم بھی پاکستان ہیں؟
13 دسمبر 2019 2019-12-13

10 دسمبر کو پوری دنیا میں انسانی حقوق کے بین الاقوامی دن کے طور پر منا یا جاتا ہے۔ اس سال دنیا کے بیشتر ممالک کی طرح پاکستان میںبھی اس دن کو پورے جوش و خروش کے ساتھ منا یا گیا۔ ملک کے بڑے بڑے ہوٹلوں، تعلیمی اداروں اور تحقیقی مراکز میں اس دن کی مناسبت سے مختلف تقاریب کا اہتمام کیا گیا جس میںمقررین نے اس دن کی اہمیت کو اجاگر کیا اور ایک صالح معاشرے کی تشکیل کیلئے انسانی حقوق کی پاسداری کوجزو لاینفک قراردیا۔دن کے اختتام پر حسب سابق لوگ اس امید کے ساتھ اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہوگئے کہ اگلے سال جب 10 دسمبر کا سورج طلوع ہوگاتو مہذب دنیا میں انسانی حقوق کے حوالے سے ایک نیا عمرانی معاہدہ طے پاچکا ہوگا جس کی رو سے انسان تو کیاہر زی روح کے بنیادی حقوق متعین ہونگے اور کوئی دوسرا ان بنیادی حقوق کو پامال کرنے کا سوچ بھی نہیں سکے گا۔ لیکن یہ محض ایک دیوانے کا خواب ہی ہے۔ انسانی حقوق کی پامالی جس طرح مہذب دنیا میں انسانی حقوق کے علمبرداروں کی طرف سے ہورہی ہے، اسکی مثالیں شاید ہی تیسری دنیا کے ممالک میں ملے۔عراق، لیبیا، فلسطین اور شام میں انسانی حقوق کے علمبرداروں کی طرف سے انسانیت پر ظلم کے جو پہاڑ تھوڑے گئے اس سے تو چنگیز خان اور ہلاکو خان کے دور کی انسانی تاریخ بھی شرماجاتی ہے۔ افغا نستان میں گزشتہ چار دہایئوں سے آگ وخون کا کھیل جاری ہے اور اس کھیل کے سب سے بڑے کھلاڑی امریکہ بہادر اور اسکے حواری خود انسانی حقوق کی پامالیوں کو اپنا حق سمجھتے ہیں۔ کشمیر میں دنیا کے سب سے بڑے نام نہاد جمہوری حکومت بھارت نے تقریباً اسی لاکھ مسلمانوں کو پچھلے چار مہینوں سے مسلسل قید میں صرف اسلئے رکھا ہوا ہے تاکہ انکے جزبہ حریت کو دبایا جاسکے۔ کیا انسانی حقوق کے نام نہاد علمبرداروں کو یہ سب کچھ نظر نہیں آرہا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم دوسروں کو ہدف تنقید تب بنا سکتے ہیں جب ہمارا اپنا گھر ٹھیک ہو۔ کیا مملکت خداداد میں انسانی حقوق کی پامالی نہیں ہورہی؟تعلیم ہمارا حق ہے، صحت اورانصاف ہمارے بنیادی حقوق ہیں، ہمیں جینے کا حق ہے، ہمیں روزگار کا حق ہے، ہمارا حق ہے کہ ہمیں بنیادی ضروریات میسر ہوں، ہمارے مال ، جان اور آبرو کی حفاظت ہو اور ہمیں ایک اچھی زندگی گزارنے کیلئے وہ ماحول فراہم ہوں جس میںہم ایک بھرپورزندگی جی سکیں۔لیکن اس کے برعکس ایک غریب انسان سستے انصاف کے حصول کی خاطرسالہاسال عدالتوں کے چکرلگاتارہتا ہے اور آخرکار مایوس ہوکریا تو اس نظام کے خلاف بندوق اٹھالیتا ہے یا پھراپنی بے بسی کا اعتراف کرکے خاموش ہوجاتا ہے لیکن دونوں صورتوں میں نقصان اس نظام کا ہوتا ہے جس گلے سڑے نظام کا وہ حصہ ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہمیں آئے دن ملک کے مصروف ترین شہروں جیسے کراچی، لاہور، راولپنڈی اور پشاور میںبے شمار ایسے واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں جس میں عوام ڈاکو، چور اور لٹیرے کو پکڑکر انکا فیصلہ خود کرتے ہیں۔ وہ اسے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے اسلئے نہیں کرتے کیونکہ انکو ان سے انصاف کی توقع نہیں ہوتی۔ قبائلی علاقوں کے نئے ضم شدہ اضلاع میں تقریباً ایک دہائی سے جاری دہشت گردی کی جنگ میں تقریبا ستر ہزار لوگ اپنی جانوں سے گئے، لوگوں کے گھربار اجڑ گئے، ان کے کاروبار ختم ہوگئے،وہاں کے سیاسی، معاشی اور سماجی ادارے تباہ ہوگئے، کیا انکے کوئی حقوق نہیں ہیں۔ وہاں کے بچے کا حق نہیں بنتا کہ وہ بھی ملک کے باقی شہریوں کی طرح اچھی تعلیم حاصل کرے۔پچھلے دنوں باجوڈ کے تحصیل ماموند کی واحد بڑی تعلیمی درسگاہ گورنمنٹ کالج ماموند جانے کا اتفاق ہوا، کالج کے پرنسپل نے بتایا کہ ساڑھے تین لاکھ کی آبادی پر مشتمل تحصیل ماموند کی اس واحد تعلیمی درسگاہ میں۱۸۰۰ طلباء کیلئے صرف دس کلاس روم ہیں جہاں پر ۲۰ اساتذہ کرام کے بیٹھنے کیلئے بھی گنجائش نہیں ہے۔ یہ تعلیمی درسگاہ بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔اس درسگاہ میں نہ کوئی لائبریری ہے نہ کمپیوٹر لیب، کھیل کے میدان ہیں نہ ٹرانسپورٹیشن کا کوئی معقول انتظام، طلبہ کیلئے ہاسٹل کی سہولت نہ اساتذہء کرام کیلئے رہائش کا کوئی انتظام، حتیٰ کہ طلبہ کے بیٹھنے کا کوئی معقول بندوبست نہیں ہے۔ دہشت گردی کی ماری اس نئی نسل کوایسے تعلیمی ماحول میںپروان چڑھاکرہم کس قسم کی پیداوار کی توقع کرسکتے ہیں۔ گوکہ ایک صالح اور فلاحی معاشرے کی تشکیل کی خاطرہمیں پورے ملک کے عوام کی بنیادی انسانی ضروریات کا خیال رکھنا ہوگا لیکن ان نئے ضم شدہ علاقوں کے لوگ پچھلی ایک دہائی کے دوران جس کرب سے گزرے ہیں اسکا تقاضا یہ ہے کہ ان علاقوں کے عوام کی ضروریات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے تاکہ یہاں کے لوگوں کے اندر پہلے سے موجود مایوسیوں اور محرومیوں کا ازالہ کیا جاسکے اور انکو زندگی کی وہ تمام سہولتیں انکی دہلیز پر مہیا کی جاسکیں جس میں وہ زندگی کو ایک بار پھر ایک بھر پور انداز میں جی سکیں۔


ای پیپر