PICلاہور پر وکلا کی دہشت گردی قابل مذمت ہے
13 دسمبر 2019 2019-12-13

لاہور میں وکلا کے ایک گروہ نے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی جسے عام لوگ دل کا ہسپتال کہتے ہیں پر حملہ ، توڑ پھوڑ اور مریضو ں اور ڈاکڑوں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔

اس شرم ناک واقعہ کی مذمت کافی نہیں ہے اس کو سمجھنے کے لئے ہمیں پاکستان کی تاریخ اور ثقافت میں جھانکنے اور سنجیدہ تجزیہ کرنے کی صرورت ہے۔

یہ واقع یک دم نہیں ہوا۔

وکلا بھی اسی معاشرہ کا حصہ ہیں جس میں ہم دیکھتے ہیں کہ رواداری ختم ہو چکی ہے اور لوگوں کی قوت برداشت ختم ہو چکی ہے کسی قسم کے اختلاف کی گنجائش نہیں ہے ۔جیسے ہی آپ نے اختلاف کیا آپ پر قسم قسم کی الزامات لگ جائیں گے جن میں وطن دشمنی اور اسلام دشمنی سر فہرست ہے گو اآئین اور قانون میں ان کے بارے میں واضح طور پر لکھا ہوا ہے اور ان جرائم کے مرتکب لوگوں کے کو مقدمہ چلا کر جرم ثابت ہونے پر سزا بھی لکھی ہوئی ہے مگر ہم سب بے صبرے ہو گئے ہیں نہ صرف ہم فوری انصاف چاہتے ہیں بلکہ اپنے ہاتھ سے سزا بھی دینا چاہتے ہیں۔

اس قسم کے فوری اور جتھے کے انصاف میں بہت سے بے گناہ شکار ہو جاتے ہیں۔اس عمل سے سب سے بڑا اور بنیادی نقصان ملک میں قانون کی حکمرانی کو ہوتا ہے ۔عام آامی کا قانون کی حکمرانی اور عدالتوں اور انصاف فراہم کرنے والے اداروں پر سے اعتماد اٹھ جاتا ہے اور جس کے نتیجہ میں ملک میں انارکی پھیل جاتی ہے۔

جاگیرداری علاقوں میں جاگیر دار کا ہر لفظ قانون ہوتا ہے باوجود سپریم کورٹ کے فیصلہ اور آئین میں پابندی کے جاگیر دار اپنے علاقوں میں آج بھی جرگے منعقد کرتے ہیں اور بعض جگہ تو اس میں سرکاری افسران بھی شمولیت اختیار کرتے ہیں۔

لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ شہروں میں بھی انصاف کو ہاتھ میں لیکر mobعام آدمی کو Lynchکر دیتا ہے ۔میں مثالیں نہیں دینا چاہتا کیونکہ یہ سب کو معلوم ہیں۔

لیکن بات یہاں پر ختم نہیں ہوتی ہمارے ملک میں ماورائے عدالت قتل بھی عام ہیں۔ حال ہی میں ہونے والے ایسے واقعات اس بات کے شاہد ہیں کہ ایک سطح پر ریاست کے قانون نافذ

کرنے والے ادارے بھی شامل ہوتے ہیں۔

ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ریاست اپنے ایسے کارندوں کو قانون کے مطابق سخت سزا دیتی مگر ہم دیکھتے ہیں کہ سرکار ایسے لوگوں کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔ پولیں افسر رائو انوار کی مثال ہمارے سامنے ہے جس پر آخر کار امریکہ نے پابندیاں لگا دیں۔

بعض دانشوروں کا کہنا ہے کہ ان رویہ کی جڑیں آزادی اور تقسیم کے وقت ہونے والی لوٹ مار نسل کشی میں پائی جاتی ہیں۔

میں داتی طور نہیں سمجھتا کے ساری وکلا براداری اس قسم کے انسانیت سوز رویہ کی حمائت کرتی ہے۔ وکلا کے اندر بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو اس کی مذمت کرتے ہیں مگر ان کی آواز دن بدن کمزور ہوتی جا رہی ہے۔

پھر میں بلا کسی خوف تردید کے یہ بات کہوں گا It is no more a noble profession موجودہ چیف جسٹس بار بار اس بات کا اعادہ کرتے رہیں ہیں کہ ہمیں اپنے پیشہ کی عزت بحال کرنی چاہئے۔

میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ ڈالڑی کا پیشہ بھی It is no more a noble professionوہ بھی بعض دفعہ مسیح کی بجائے قاتل کا کردار نباہتے نظر آتے ہیں۔وہ بھی اپنے مطالبات کے لئے ہڑتال پر چلے جاتے ہیں ۔جو کہ میری نظر میں ان کے بنیادی پیشہ کی نفی ہے۔

لاہور میں ہونے والے اس اندوناک واقعہ کی جب ان اندوناک واقعہ کے حقائق سامنے آ’ئیں گے تو دودھ کا دودھ اور ھانی کا پانی ہب جائے گا۔

عدم بردشت کے رویہ کو درست کرنے میں ایک لمبا عرصہ لگے گا اور اس میں سب سے اہم کردار میڈیا کو ادا کرنا ہے ۔یہ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ میڈیا بھی بعض معاملات میں آگ کو بڑہانے کا بدقسمتی سے کردار ادا کرتا نظر آتا ہے۔


ای پیپر