چیف صاحب کچھ رہ گیا
13 دسمبر 2018 2018-12-13

تھر پر قسمت مہربان ہو گئی۔ منگل کے روز چیف جسٹس تھر کے دورے پر تھے۔ گزشتہ ایک ماہ سے سندھ صوبے کے ضلع تھر کی انتظامیہ پر خوف طاری تھا کہ چیف جسٹس کسی بھی وقت اس قحط زدہ علاقے کا دورہ کریں گے، جہاں نوزائیدہ بچوں کی اموات کی تعداد میں روز اضافہ ہو رہا ہے۔ اب یہ خوف بھی ختم ہوا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے مٹھی میں واقع ضلع ہیڈکوارٹر کے ہسپتال، ڈیپلو تعلقہ ہسپتال کا دورہ کیا۔ صحت کی سہولیات پر عدم اطمینان کا اظہار مٹھی ہسپتال میں ایمرجنسی مریضوں کے لئے ادویہ نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کر نے کے علاوہ ہسپتال کے باہر احتجاج کرنے والوں سے ملے ۔ ماہر ڈاکٹر نہ ہونے ٹیسٹ کی سہولیات نہ ہونے کی شکایات کیں۔ یہ حالت اس ہسپتال کی ہے جہاں پر کوئی نہ کوئی اعلیٰ حکومتی عہدیدار دورہ کرتا رہتا ہے۔ جہاں مقامی خواہ قومی میڈیا کی رسائی ہونے کی وجہ سے صورتحال قدرے بہتر بتائی جاتی ہے۔ مزید برآں یہ کہ چیف جسٹس کے متوقع دورے کے پیش نظر ہنگامی بنیادوں پر ہسپتال کی حالت کو بہتر بنایا گیا ۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ایک روز میں پورے ہسپتال کو رنگ کیا گیا ۔ گلدان رکھے گئے صفائی کی گئی۔ ادویہ اور دیگر سہولیات کو بہتر کیا گیا ۔ چیف جسٹس نے کوئی ایک ماہ قبل تھر کے دورے کا اعلان کیا تھا لیکن تب یہ دورہ ممکن نہ ہوسکا۔ حالیہ دورے کا اعلان بھی ایک ہفتہ قبل کیا گیا ۔ جس کے نتیجے میں صوبائی حکومت اور ضلع انتطامیہ کو وقت مل گیا کہ وہ چیف جسٹس کو دکھانے کے لئے ہسپتال کی حالت کو بہتر بنائے۔ چیف جسٹس کے دورے کی اس تیاری کی میڈیا میں رپورٹنگ بھی ہوتی رہی۔ چیف جسٹس نے عارضی طور ہی صحیح لیکن بہتر بنائی گئی حالت پر بھی عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ مطلب یہ کہ اگر یہ تیاری نہ کی جاتی تو ہسپتال کی حالت مزید خراب ہوتی۔

مٹھی ۔ ڈیپلو ہی تھر نہیں، مشرقی حصہ میں واقع دو تحصیلیں چھاچھرو اور ڈاہلی تعلقہ بھی تھرپارکر کا حصہ ہیں ۔ مٹھی اور ڈیپلو حیدرآبا دکراچی سے قریب واقع ہیں جبکہ ان شہروں تک سڑک روڈ اور مواصلات کی سہولیات موجود ہیں۔ اس لئے سرکاری افسران ہوں یا غیر سرکاری حکام انہی دو تحصیلوں تک پہنچتے ہیں۔ ان دو تحصیلوں میں تعلیم ہو یا صحت یا دیگر سہولیات ان کی حالت ابتر ہے۔ نہ سرکاری سطح پر اور نہ سماجی سطح پر مانیٹرنگ اور سوشل آڈٹ کا نظام موجود ہے۔ مقامی میڈیا نہ ہونے کے برابر ہے۔ مین اسٹریم میڈیا ان علاقوں تک پہنچ نہیں پاتا۔

چیف جسٹس بھی اپنے حالیہ دورے کے دوران ان دو تحصیلوں تک نہیں پہنچ پائے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مرادعلی شاہ ان کی گاڑی کی ڈرائیونگ کر رہے تھے۔

لہٰذاچیف جسٹس نے وہی علاقے دیکھے جو حکومت سندھ ان کو دکھانا چاہ ر ہی تھی۔ چھاچھرو اور ڈاہلی تحصیلیں اراضی کے لحاظ سے تھر کا چالیس فیصد حصہ بنتا ہے ان کو حکومت بھی کسی کو دکھانا نہیں چاہتی۔ وزیراعلیٰ سندھ یا دیگر اعلیٰ سرکاری حکام نے شاید ہی ان علاقوں کا کبھی دورہ کیا ہو۔ منگل کے روزچھاچھرو میں لوگ چیف جسٹس کا انتظار کر رہے تھے لیکن وہ یہاں نہ پہنچ سکے۔

تھر گزشتہ کئی برسوں سے ترقی کے حوالے سے نظر انداز رہا۔ نتیجے میں میں پسماندگی ہے۔ اور غربت بدترین شکل میں ہے۔ جب اس صحرائی علاقے میں کوئلہ دریافت ہوا تو لوگوں کو یہ خوش فہمی ہوئی کہ اب تھر کے غریب لوگوں کی قسمت جاگ اٹھی ہے۔ لیکن ان کے خواب اس وقت چکنا چور ہو گئے جب تھر کی تمام تر ترقی اور خوشحالی کا ٹھیکہ ایک کول کمپنی کو دیا گیا ۔ اور حکومت نے خود کو تھر کی ترقی کے حوالے سے بری الذمہ کر لیا۔ تھر میں 2012 کے بعد مسلسل قحط سالی کا میڈیا اور عدلیہ نے نوٹس لینا شروع کیا۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور سندھ ہائی کورٹ نے تھر کے مسئلے کا نوٹس لیا تھا۔ مختلف وقتوں میں کمیشن اور کمیٹیاں بنتی رہی۔ لیکن کوئی خاطر خواہ حل نہیں نکل سکا۔

قحط سالی اور آبادی کے دباؤ نے اس علاقے کے لوگوں کے مصائب میں اضافہ کردیا ہے۔ حکومت نئے وسائل فراہم کرنے میں ناکام رہی۔ وسائل کی کمی کی وجہ سے بدترین غربت اور پسماندگی ہے، جو تمام مصائب کی جڑ ہے۔ حکومت کے بجائے غیر سرکاری تنظیمیں لوگوں کو وسائل پیدا کر کے دینے اور غربت دور کرنے کے اقدامات کرنے کے ظاہری مظہر پر توجہ دے رہی ہیں۔ اس صورتحال کا تمام تر بوجھ اور اظہار آخری شکل میں صحت پر آکر پڑتا ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ چھاچھرو اور نگرپارکر تحصیلوں میں پچاس فیصد مائیں غذائیت صحیح نہ ہونے کی وجہ سے خون کی کمی کی شکار ہیں۔ نتیجے میں نومولود بچے کمزور ہیں۔ وہ جلدی بیماری کا شکار ہو کر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ یہ بچوں کی اموات سب کو نظر آتی ہیں۔ اور سب کی اس طرف توجہ بھی چلی جاتی ہے۔ ایک عرصے تک حکومت تھوڑا بہت ہی سہی، صرف بچوں کے علاج پر ہی توجہ دیتی رہی، وہ اس بات کو نہیں سمجھ سکی کہ بچوں میں بیماری یا اموات کی وجہ ماؤں کی صحت سے منسلک ہے۔ اب حکومت اس طرف توجہ دے رہی ہے کہ حاملہ خواتین کو غذائیت فراہم کرنے کا پروگرام بنا رہی ہے۔ یہ پہلو اہم ہے لیکن مسئلہ کا اصل حل نہیں۔ اصل مسئلہ غربت کا ہے۔ جس کو ہیلتھ کا بنا کر ہسپتالوں کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ غربت کا خاتمہ لوگوں کو مقامی سطح پر وسائل فراہم کرنے کے ذریعے ممکن ہے۔ ان وسائل کا مقامی اور پائیدار ہونا بھی لازم ہے۔ یہاں کی زراعت اور مویشیوں کی پرورش کو از سرنو اور نئے طریقوں سے استوار کرنے کی ضرورت ہے۔

اگرچہ چیف جسٹس نے کہا ہے کہ تھر میں تعلیم صحت سمیت مختلف شعبوں میں کام کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن تھر کا قحط چیف جسٹس کے دورے کے نیچے دب گیا ۔ گوڑانو کے متاثرین جن کا کیس تقریباًدو سال سے عدالت میں زیر سماعت ہے۔ وہ بھی اس امید پر بیٹھے تھے کہ چیف صاحب ضرور گوڑانو دیکھنے آئیں گے۔ ان متاثرین سے ملیں گے۔جو دو سال تک مسلسل احتجاج کرتے رہے ہیں اور حکومت اور اس کے نمائندے انہیں آسرا دیتے رہے ہیں۔ چیف صاحب کچھ رہ گیا ۔ جو آپ نہیں دیکھ سکے آپ کو نہیں دکھایا گیا ۔ کچھ علاقے، کچھ شعبے کچھ پہلو جو بہت ہی بنیادی نوعیت کے تھے وہ رہ گئے۔ صوبائی حکومت اور ضلع انتظامیہ پر عدلیہ خواہ اخلاقی طور پر دباؤ ختم ہو گیا ۔ صوبائی حکومت کی ضمانت ہو گئی۔ آپ ایسے موقع پر تھر کا دورہ کرنے آئے جب آپ کی مدت ملازمت پوری ہونے میں چند ہفتے ہیں۔ بہرحال امید پر دنیا قائم ہے۔ تھر کے لوگ ویسے بھی صدیوں سے امید پر زندگی گزار رہے ہیں۔


ای پیپر