خواب اور حقیقت
13 دسمبر 2018 2018-12-13

مفتی اعظم پاکستان محمد شفیع ؒ جنہوں نے تحریکِ پاکستان میں نمایاں کردار ادا کیا تھامعارف القرآن کے دیباچے میں لکھتے ہیں ’’۶مئی ۱۹۴۸ء کو اللہ تعالیٰ نے حدودِ پاکستان میں پہنچا دیا اور کراچی غیر اختیاری طور پر اپنا وطن بن گیا۔ یہاں آئے ہوئے اس وقت پندرہ سال پورے ہو کر تین ماہ زیادہ ہو رہے ہیں۔ ان پندرہ سال میں کیا کیا اور کیا دیکھا اس کی سرگذشت بہت طویل ہے۔ یہ مقام اُس کے لکھنے کا نہیں جن مقاصد کے لیے پاکستان محبوب و مطلوب تھا اور جس کے لیے سب کچھ قربان کیا تھا۔ حکومتوں کے انقلابات نے اُن کی حیثیت ایک لذیذ خواب سے زیادہ باقی نہ چھوڑی۔‘‘ ۶جنوری ۲۰۱۲ء کو سید سلمان ندوی نے بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی میں ایک لیکچر کے دوران کہا کہ ’’برعظیم پاک و ہند کے پچانوے فی صد علماء یا تحریکِ پاکستان کے مخالف تھے یا تحریکِ پاکستان کی قیادت کے مخالف تھے جبکہ عام مسلمانوں کی اکثریت تحریکِ پاکستان کی حامی تھی۔‘‘ حقیقت یہ ہے کہ عام مسلمانوں کو قائداعظم محمد علی جناح کی فراست، عزیمت اوران کی قائدانہ صلاحیت پر بھرپور اعتماد تھا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان بننے کے بعد کئی حکومتیں آئیں اور گئیں لیکن مرکزی سطح پر کبھی علماء کی حکومت قائم نہیں ہو سکی۔ پاکستان کے عوام علماء کا بے حد ادب و احترام کرتے ہیں۔ عائلی معاملات میں اُن کے فتووں پر عمل کرتے ہیں۔ مساجد اور مدارس کے لیے کھلے دل سے چندہ دیتے ہیں۔ علماء کی تقاریربھی ذوق و شوق اور عقیدت سے سنتے ہیں لیکن علماء کو حکمران نہیں بناتے۔ ۱۹۷۰ء کے انتخاب کے لیے جماعت اسلامی نے بڑے زور و شور سے انتخابی مہم چلائی۔ اُس زمانے میں ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کی مخالفت میں جماعتِ اسلامی پیش پیش تھی لیکن الیکشن کے نتائج نے جماعت اسلامی کے امیر کو بے حد مایوس کیا یہاں تک کہ وہ جماعت کی امارت سے مستعفی ہو گئے کیونکہ جماعت اسلامی نے قومی اسمبلی میں صرف چار نشستیں حاصل کی تھیں۔ مرکز میں پاکستان پیپلز پارٹی کی مضبوط حکومت قائم ہو گئی تھی۔ اگرچہ خیبر پختون خوا میں کچھ عرصے کے لیے جمعیت علمائے اسلام کی حکومت چلتی رہی بعد میں جسے برخاست کر کے گورنر راج نافذ کر دیاگیا۔بہرحال مجموعی لحاظ سے علماء کا حکومتی معاملات میں کوئی زیادہ عمل دخل نہ تھا۔ ۷۷۹۱ء میں پہلی دفعہ سیاسی پارٹیوں نے مذہبی رہنما مفتی محمود مرحوم کی قیادت میں حکومت کے خلاف تحریک چلائی اور نظامِ مصطفی کا نعرہ لگایا جو جولائی ۱۹۷۷ء کے مارشل لا پر منتج ہوا۔مارشل لاء کی حکومت میں علماء کی خوب پذیرائی کی گئی۔ کچھ علماء کو تھوڑے عرصہ کے لیے حکومت میں شریک بھی کیا گیا اور علماء کے تعاون سے اسلامائزیشن کی کوشش بھی کی گئی لیکن سماجی مساوات اور معاشی انصاف پر مبنی معاشرہ تشکیل نہ ہوسکا اور اسلامی خطوط پر گڈ گورننس کا خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہوسکا۔ ۱۹۸۸ء سے لے کر ۱۹۹۹ء تک جو جمہوری پارٹیاں برسرِاقتدار آتی رہیں اُن میں علماء کی کوئی جماعت نہ تھی۔ البتہ پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں خیبر پختون خوا میں دینی جماعتوں پر مشتمل متحدہ مجلس عمل کی حکومت قائم ہوئی اور بلوچستان میں بھی علماء مخلوط حکومت میں مؤثر حصہ رکھتے تھے لیکن افسوس کہ متحدہ مجلس عمل کی حکومت عوام کی توقعات پر پوری نہ اُتری۔ اس کے بعدپھر کبھی مذہبی جماعتوں کو یا متحدہ مذہبی جماعتوں کو مرکز اور صوبوں میں اتنی اکثریت حاصل نہیں ہو سکی کہ وہ حکومت سازی کرسکیں۔۲۰۱۸ء کے انتخابات میں مذہبی جماعتیں ایک لحاظ سے انتخابی سیاست سے بے دخل کر دی گئی ہیں۔بلوچستان اور خیبر پختون خوا کے معاشروں میں علماء کا نسبتاً زیادہ اثر ر وسوخ ہے لیکن ان صوبوں میں بھی دینی جماعتیں ماضی کی نسبت بہت کم نشستیں حاصل کر پائی ہیں۔ پاکستان کی ستر سالہ تاریخ میں عوام کے جمہوری فیصلے اس طرف اشارہ کررہے ہیں کہ ہمارے علماء اپنے آپ کو اصلاحِ معاشرہ کے لیے وقف کر دیں۔ بلاشبہ حکومت کو جادۂ مستقیم پر چلانے کے لیے تعمیری تنقید کرتے رہیں۔ اپنے مشوروں سے حکومتوں کو مستفید کرتے رہیں لیکن اپنے آپ کو انتخابی سیاست میں نہ اُلجھائیں۔

ہمارا معاشرہ اخلاقی بحران میں مبتلا ہے۔ اسلامی اخلاقیات میں ہم روبہ انحطاط ہیں۔ یہ درست ہے کہ اصلاح معاشرہ کی ذمہ داری صرف علماء پر نہیں ہے لیکن ہمارے سماج میں اب بھی علماء کی بہت قدرو منزلت ہے۔ اُن کی آرا کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔ وہ اپنے اثر و رسوخ اور مقام امامت کے پیشِ نظر خطبات جمعہ میں دیانت و صداقت، تحمل و بردباری، اچھی شہریت، نظم و ضبط، عفت و عصمت، بچوں کے حقوق، حقوق والدین، حقوق الزوجین، رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے حقوق اور انسانی حقوق جیسے موضوعات پر تقریر کر کے عوام کے قلوب و اذہان کو بدل سکتے ہیں۔ میں نے دیکھا ہے کہ نچلی سطح کے پروفیشنل مقررین ایسی ایسی حکایات دل پذیر سُنا کر سامعین کا دل موہنے کی کوشش کرتے ہیں جو روایت کے معیار پر پوری نہیں اُترتیں۔ مقفیٰ فقروں کے استعمال اور خوش الحانی سے اشعار پڑھنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ سامعین کو وقتی طور پر مسحور کر دیا جائے اور اُن کو محظوظ کر کے داد و تحسین وصول کی جائے۔ اُن میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو فرقہ واریت کی آگ بھڑکاتے ہیں اور سامعین میں دوسرے مسالک کے پیروکاروں کے بارے میں نفرت پھیلاتے ہیں۔ علماء کرام کو اللہ تعالیٰ نے جو عزت کا مقام عطا کیا ہے وہ معلمانہ اور حکیمانہ طریق سے معاشرے میں مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔

یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ میں سیاست کو دین سے جدا نہیں سمجھتا۔ علماء کرام کا فرض ہے کہ قلم اور زبان سے سیاسی مسائل پر اظہارِ خیال کر کے قوم کی رہنمائی کریں۔ اگر وہ انتخابی سیاست میں عملی حصہ لیں گے تو شاید وہ اصلاح معاشرہ پر پوری توجہ نہ دے سکیں اور سیاسی دھڑے بندی کی وجہ سے عوام الناس غیر جانبدار ہو کر اُن کی ناصحانہ باتوں پر پوری توجہ نہ دیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ اکیسویں صدی میں گورننس بہت مشکل ہو گئی ہے اس کے لیے خصوصی علوم اور مہارت درکار ہے جو وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو۔ میں اس سلسلہ میں مہاتیر محمد کے ایک لیکچر سے ایک اقتباس نقل کرتا ہوں جو انھوں نے ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان کے زیر اہتمام ایک کانفرنس میں ستمبر ۲۰۰۴ء میں بمقام کراچی دیا تھا:

’’یہ درست ہے کہ اسلام ایک دستور زندگی ہے اور سیاست ہے۔ سماجی معاملات اور معاشی امور کو دینی امور سے علیحدہ نہیں کیاجاسکتا۔ اسلام میں ریاست اور مذہب میں علیحدگی ناممکن ہے۔ ریاست کو مذہب کے احکام کی پابندی کرنی چاہیے لیکن یہ ضروری نہیں کہ وہی حکومت کریں جو مذہبی علوم پر دسترس رکھتے ہوں۔ پس جبکہ اسلام مسلمانوں پر لازم قرار دیتا ہے کہ وہ اپنا دفاع کرنے کے قابل ہوں لیکن دفاع کیسے کیا جائے اور کس قسم کے دفاعی ہتھیار بنائے جائیں اور اُن کا کیسے استعمال ہو۔ اُن کا تعین وہ نہیں کر سکتے جو صرف مذہبی سکالر ہوں۔ مذہب ہتھیاروں کی نوعیت کی نشان دہی نہیں کرتا اور نہ ہی وہ جنگی حکمت عملی اور چالوں کی تفصیلات بتاتا ہے۔ قرآن حکیم میں یہ حکم ہے کہ امت کی حفاظت کی قابلیت قائم رکھو اور دشمن کے دل میں خوف پیدا کرو۔ لیکن جیسا کہ ہم دیگر تعلیمات اسلام کے فہم کے سلسلہ میں کرتے ہیں اس میں بھی ہم اصل روح اور مقصود کی بجائے اُس کی ظاہری شکل پر زور دیتے ہیں۔ مسلم امت اور مسلم ممالک میں اصول حکمرانی اور انتظامی و انصرامی معاملات کا بھی یہی حال ہے۔ یہ اہم نہیں ہے کہ طرزِ حکومت کیا ہو بلکہ اہم یہ ہے کہ مسلم حکومت کی رہنمائی اور باگ ڈور اُن افراد کے ہاتھ میں ہو جو اہل اور باصلاحیت منتظمین ہوں، مضبوط ہوں اور بدلتے ہوئے احوال سے نبرد آزما ہونے کی صلاحیت رکھتے ہوں‘‘۔


ای پیپر