انسانی حقوق اور عالمی منافقت!
13 دسمبر 2018 2018-12-13

10دسمبر کو پوری دنیا میں انسانی حقوق کا دن منایا گیا۔اس دن کا بنیادی مقصد لوگوں میں انسانی حقوق کے بارے میں شعور اجاگر کرنا اور آگاہی دینا ہے۔ہر سال پوری دنیا میں یہ دن اہتمام کے ساتھ منایا جاتا ہے۔غیر سرکاری ادارے مختلف ممالک کے بارے میں انسانی حقوق کے حوالے سے رپورٹس شائع کرتی ہیں۔لیکن یہ سب کچھ زبانی جمع خرچ تک ہی محدود ہو تا ہے۔بڑے شہروں کے بڑے بڑے پنج ستارہ ہوٹلوں میں تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ہر سال چند مخصوص افراد کو ان تقریبات میں خطاب کے لئے بلا یا جاتا ہے۔مقررین لہو کو گرما کر چلے جاتے ہیں۔تر قی پذیر ممالک پر خوب لعن طعن کی جاتی ہے۔جو ریاست جتنی کمزور ہو تی ہے ،اسی شدت سے اس کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔طاقت ور ممالک کا صرف ان تقریبات میں نام لیا جا تا ہے یا ایک آدھ ایسے مقرر کو بھی مد عو کیا جاتا ہے کہ وہ ان طا قت ور ممالک پر تنقید کر ے۔لیکن یہ سب کچھ بھی صرف تڑکا لگانے کے لئے ہو تا ہے ،حقیقت سے اس کا کو ئی تعلق نہیں ہوتا۔

جس دن پوری دنیا میں انسانی حقوق کا عالمی دن منایا جارہا تھا۔ اس سے چند روز قبل خبر آئی کہ امریکا نے رواں بر س 6000 نہایت تباہ کن بموں کو افغانستان پر بر سایا ہے۔ اس سے قبل امریکہ نے ’’بموں کی ماں‘‘(Mother of all bombs) کا تجربہ بھی افغانستان ہی میں کیا تھا۔ ابھی تک یہ نہیں بتا یا گیا کہ ان0 600 بموں میں کتنے افغان عوام جل کر راکھ بن گئے ہیں؟پوری دنیا میں سے کیا ،خود افغانستان کی حکومت نے ابھی تک امریکا سے جواب نہیں مانگا کہ انھوں نے کیوں بے گناہ انسانوں کو زندہ جلا کر بھسم کر ڈالا؟کوئی بھی امریکا سے پو چھ نہیں سکا کہ کیا زندہ رہنا انسانی حقوق میں شامل نہیں ؟ افغانستان پر امریکی یلغار کے 17 سال پو رے ہو چکے ہیں۔ان 17 سالوں میں امریکا نے افغانستان میں شادی کی تقریبات کو بے دردی سے نشانہ بنا یا ،لیکن کوئی بھی انسانی حقوق کا علمبر دار ملک یا ادارہ نے ان سے باز پر س نہیں کی کہ کیوں انھوں نے خوشیوں کے محفل کو ماتم میں بدل دیا؟کوئی ان سے پوچھ نہیں سکا کہ کیا شادی کے موقع پر خوشی منانا انسانی حقوق میں شامل نہیں؟دوسروں سے کیا شکوہ خود افغانستان کی حکومت اور پختونوں کے حقوق کی داعی سیاسی جماعتوں یا

اداروں نے بھی، کبھی اس ظلم اور بربریت پر علا متی احتجاج بھی نہیں کیا۔افغانستان کی جنگ میں امریکا نے کئی مر تبہ ہسپتالوں کو نشانہ بنایا ۔مسجدوں اور مدرسوں پر بمباری کی ۔بازاروں میں ہزاروں بے گناہوں کو بموں سے اڑادیا۔امریکی فوج نے بے شمار مر تبہ بے گناہ شہریوں کو گو لیوں سے بھوند ڈالا۔عورتوں کو زبر دستی اپنی ہو س کا نشانہ بنا یا۔اس مہذب بد معاش نے افغانستان میں اس حد تک ظلم کیا کہ لا شوں سے اعضا کاٹنے کے لئے باقاعدہ طور پر رقص کی محفلیں سجائیں لیکن کوئی بھی ان سے سوال نہیں کر سکا۔ دنیا کے کسی کونے میں ان کے خلاف کوئی احتجاج نہیں ہوا۔

جس دن پوری دنیا میں انسانی حقوق کا عالمی دن منایا جارہا تھا ۔اس روز پوری دنیا میں کسی نے بھی یہ ہمت نہیں کی کہ افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایک احتجاج کا اہتمام کرتے ۔ اس میں ان لو گوں کے خاندان کو بلا تے جن کے پیارے 17 سالہ امریکی جنگ کا ایندھن بن چکے ہیں۔کسی بھی پختون نے اسی دن کابل ،جلال آباد ،قندھار یا دیگر شہروں میں کوئی جلسہ نہیں کیا کہ جس میں امریکی بمباری میں شہد ہونے والوں کے ورثاء ہا تھوں میں اپنے پیاروں کی تصویریں اٹھا کر شرکت کی ہو ۔افغانستان میں ا س وقت ہزاروں کی تعداد میں زندہ انسان امریکی اور افغان اداروں کے زندانوں میں بند ہیں۔کسی کو نہیں معلوم کہ وہ زندہ ہے بھی کہ نہیں؟لیکن کسی بھی ادارے یا پختون رہنما کو ہمت نہیں ہو ئی کہ وہ ان ہزاروں لاپتہ افراد کے خاندانوں کو اکٹھا کرکے انسانی حقوق والے دن ان کے لئے آواز بلند کرتے۔ افغانستان پر امریکی یلغار کے بعد امریکا نے گوانتا نامو بے کی جیل میں انسانوں پر جو مظالم کئے کیا کبھی کسی نے اس پر احتجاج کیا ؟ کیا کسی نے ان کے لئے کو ئی تحریک چلائی؟کیا کسی نے یہ مطالبہ کیا کہ ان قیدیوں کو عدالتوں میں پیش کیا جائے؟ہر گز نہیں اور نہ ہی مستقبل میں اس کا کوئی امکان نظر آرہا ہے۔

ہندوستان جس نے از خود بڑی جمہوریت کا تاج سرپر سجا رکھا ہے،کند ھوں پر سیکو لر ریاست کے تمغے لگائے ہیں۔سینہ پر انسانی حقوق کے میڈل آویزاں کئے ہیں۔کیا انسانی حقوق والے دن کسی ریاست ،حکومت ،غیر سرکاری تنظیم ،فرد یا افراد نے مقبوضہ کشمیر میں ان کے مظالم کا نو ٹس لیا ؟گز شتہ کئی عشروں سے ہندوستان کی قا بض فوج نے مقبوضہ کشمیر میں ظلم و بر بریت کا جو بازار گرم کر رکھا ہے اسے سن اور دیکھ کر انسان تو کیا حیوان بھی شرما جاتے ہیں ۔لیکن انسانوں میں سے کوئی نہیں کہ جو انسانی حقوق والے دن ہندوستان کے دارالحکومت نئی دہلی میں احتجاج کرے۔مقبوضہ کشمیر کے لا پتہ افراد اتنے بد قسمت ہیں کہ کروڑوں نفوس پر مشتمل دنیا کی اس آبادی میں چند درجن افراد بھی ایسے نہیں جو ان کی تصویروں کو اٹھا کر ہندوستان کی پارلیمنٹ ،وزیر اعظم ہاوس یا ایوان صدر کے سامنے چند لمحوں کے لئے کھڑے ہوں۔ پوری دنیا میں عورتوں کے حقوق کے لئے کام کر نے والی خواتین میں چند بھی ایسی نہیں کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے ’’ہاف ویڈو‘‘(Half Widow) کی تصویریں ہاتھوں میں اٹھا کر ہندوستان کے کسی عام چوک یا چوراہے پر ان کے لئے آواز بلند کریں؟آئے دن مقبوضہ کشمیر میں بچوں کو بے دردی کے ساتھ شہید کیا جاتا ہے۔ان کو پیلٹ گن کا نشانہ بنا یا جارہا ہے۔ان کی روش زندگی کو اندھیروں میں بدلنے والوں کے خلاف بچوں کے حقوق کے کارکن انسانی حقوق والے دن صرف اتنا نہیں کر سکتے کہ ہندوستان کے چند چوراہوں پر ان معصوم بچوں کی تصویروں کو آویزاں کر دیں؟

کیا انسانی حقوق والے دن دنیا کو اسرائیل کے ٹینک کے سامنے غلیل لئے فلسطین کا بچہ نظر نہیں آتا ؟کیا اسی دن کسی انسانی حقوق کے کارکن کو اسرائیلی فوجی کا وہ ہاتھ نظر کیوں نہیں آتاجو وہ کسی نوجوان فلسطینی لڑکی کے گریبان یا بالوں میں ڈال چکا ہو تا ہے؟کیا انسانی حقوق کے کارکنوں کو عراق ،لیبیا ،یمن اور شام میں جاری ظلم اور بر بر یت نظر نہیں آتی ؟ اگر انھوں نے آنکھوں پر پٹی نہیں باندھی ہے تو پھر امریکا سے عراق کا حساب برابر کیوں نہیں کیا جاتا؟لیبیا میں خون کی جو ہو لی کھیلی گئی کیا ضروری نہیں کہ اس پر امریکا کا نام انسانی حقوق والے معاملے پرتا حیات بلیک لسٹ میں ڈالا جائے؟کیا انسانی حقوق کے اداروں کا کام صرف یہ رہ گیا ہے کہ کمزور ممالک میں انسانی حقوق کے نام پر لوگوں کو اکٹھا کیا جائے ؟کیا ان کا کام اب صرف یہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کے ایجنڈے کی تکمیل کے لئے انسانی حقوق کے نام پر تر قی پذیر ممالک میں ڈرامہ بازیاں کریں ؟اگر ہمت ہے تو انسانی حقوق والے دن امریکا ،ہندوستان اور اسرائیل کے خلاف بھی کوئی احتجاج کریں ورنہ انسانی حقوق کی دکان کا شٹر بند کر کے اس پر ’’ انسانی حقوق کی سوداگری‘‘ کا بورڈ لگا دیں۔


ای پیپر