بول وی۔۔۔مولوی۔۔۔
13 دسمبر 2018 2018-12-13

دوستو، آج جمعہ مبارک ہے، جمعہ کے روز نجانے کیوں صبح سے ہی نیک نیک بننے ،نیک نظر آنے اور نیکی کرنے کے جذبات امڈ رہے ہوتے ہیں، پورے ہفتے پینٹ شرٹ، سوٹس پہننے والے بھی اس روز شلوار قمیص پہننے کو ترجیح دیتے ہیں، نوجوانوں کی اکثریت کا یہی حال ہے، ان کی زبانوں پر مولوی کے خلاف باتیں ہوتی ہیں، کہتے ہیں، ان مولویوں کو ملک سے نکال دو سکون ہوجائے گا، مولویوں کو دین کا ٹھیکیدار بھی کہاجاتا ہے۔۔مولویوں کو گالیاں دی جاتی ہیں، غور کرنے کی بات ہے مولویوں کو برابھلا وہ لوگ کہتے ہیں جو جمعہ کے جمعہ یا عید پر ہی وضو کرتے ہیں۔۔جنہوں نے کبھی نورانی قاعدے کی شکل تک نہیں دیکھی ہوتی ، وہ بڑے بڑے علماء کرام ، محدثین، مفتیان پر کھلے ڈلے انداز میں ’’تبرے‘‘ بھیج رہا ہوتا ہے، تنقید کے نام پر جو منہ میں آئے بک رہا ہوتا ہے، اس طرح تاثر یہ دیاجاتا ہے کہ ہم تو ’’لبرل ‘‘ ہیں۔۔ان لبرلوں کو شاید پتہ نہیں مولوی ہوتا کون ہے؟ چلیں آج کچھ باتیں معاشرے کے اس اہم کردار کے بارے میں کرلیتے ہیں جس کے متعلق تاثر ’’ویلن ٹائپ‘‘ پھیلا ہوا ہے۔یہ ہمارے معاشرے کی بدقسمتی ہے کہ ہم نے مولوی کے کردار میں ’’بد‘‘ لگانے کی بھرپور کوشش جاری رکھی ہوئی ہے۔۔

آپ کو پتہ ہے مولوی کون ہوتا ہے؟ جواگر حافظ ہوتا ہے تو زندگی کے پندرہ سال قرآن کی نذرکردیتا ہے، اگر مفتی ہے تو زندگی کے اٹھارہ سال اللہ کے لئے وقف کرتا ہے، مولوی کو اس ملک سے نکالنے کی باتیں کرنے والوں ، تم نے مولوی کو دیا کیا ہے؟ اپنے محلے کی مساجد، مدرسے میں جاکرتو دیکھو کس حال میں رہ رہے ہیں یہ لوگ؟؟مولویوں پر تنقید کرنے والوں تعلیم کیا ہے تمہاری؟وضو کا مسنون طریقہ پتا ہے؟ غسل کرنا جانتے ہو؟آخری بار باجماعت فجر کب پڑھی تھی؟قرآن کتنا جانتے ہو؟حدیث کتنی پڑھی ہے؟فقہی مسائل کتنے سمجھ لیتے ہو؟معیشت و معاشرت پر کتنی احادیث ازبر ہیں؟اوقات تمہاری نورانی قاعدے کی نہیں اور علماء کے خلاف گز بھر لمبی زبانیں نکالتے ہو، وجہ یہ ہے کہ مولوی نے قرآن پڑھ رکھا ہے وہ تمہارے حرام کاموں کو "حرام" کہنا جانتا ہے۔ اس لیے تمہاری دْکھتی رگ پھڑکتی ہے۔وہ گالی کے بدلے گالی نہیں دیتا، وہ تنقید برائے تنقید نہیں کرتا،وہ اپنی گفتگو سے نرمی تو ختم کر سکتا ہے تہذیب کا دامن نہیں چھوڑتا،وہ ایک چٹائی پر 10 ہزار کی تنخواہ میں زندگی گزار دیتا ہے،تمہاری طرح ضمیر کے سودے نہیں کرتا،وہ تمہاری دنیا پر نظر کیے بغیر تمہاری آخرت سنوارنا چاہتا ہے اس لیے تم کو کھٹکتا ہے.۔۔ورنہ مجھے بتا دو اختلافات کہاں نہیں ہیں؟دوغلے دھوکے باز اور سفید پوش کالی بھیڑیں کس شعبے کس ادارے میں نہیں؟یونیورسٹی کالج اسکولوں میں نہیں؟کاروبار، فیکٹریوں، زمینوں یا وڈیروں میں نہیں؟سیاست میں نہیں؟سائنس میں نہیں؟ طب میں نہیں؟حکمت میں نہیں؟ تہذیب میں نہیں؟قومیت لسانیت سے لے کر ملکی معیشت و کاروبار تک ہر ادارے میں کچھ نہ کچھ برے لوگ ہیں،تو پھر ایک مولویت سے ہی کیوں تکلیف ہے؟

ہر داڑھی والے کو مولویت سے جوڑ دیتے ہو،ہر ٹوپی پگڑی والے کو عالم سمجھ لیتے ہو،ہر نمازی کو تم مفتی گردان لیتے ہو ایسا کیوں؟دنیا کے معاملے میں کبھی تم نے فارمیسی جا کر سبزی نہیں خریدی،تھانے بھیج کر بچوں کو تعلیم نہیں دلوائی،جوتے کی دوکان سے صوفے نہیں خریدے،مستری سے کبھی دانت نہیں نکلوایا،رنگ والے سے کبھی بال نہیں کٹوائے،دھوبی سے کبھی جوتے پالش نہیں کروائے،ڈاکٹر کے کلینک میں بل جمع نہیں کرائے، بینک میں جا کر کبھی پاسپورٹ نہیں بنوائے۔وہاں تمہاری بڑی عقل چلتی ہے کہ ہر چیز اسی کے مقام و ماہر سے ہی صحیح ہے،تو ایک دین ہی مظلوم ملا تھا جو دھوکے میں آگئے؟صرف داڑھی دیکھ کر ہر ایک سے شرعی مسئلہ پوچھنا، پھر اسے اپنی آسانی اور معیار پر جانچنا، اسی کا نام اسلام نہیں۔۔دو نمبر لوگوں کے چکر میں کب تک اپنے ہی لوگوں کو گالیاں دوگے؟تم نے ہی پلمبر سے دانت نکلوا لیا تو اس میں مولوی کا کیا قصور؟کیوں تم دین سیکھنے صحیح لوگوں کے پاس نہیں جاتے؟آخر کب تک یہ ملا اور مسٹر کی جنگ چلتی رہے گی؟اپنی آنکھوں سے ظْلمت، عصبیت اور نادانی کی پٹی اتار دو۔ مولوی کو گالی دینے اور برابھلا دینے سے پہلے یہ سوچ لو کہ پیدائش کے وقت اذان سے لے کر مرتے وقت جنازے تک میں مولوی کی قدم قدم پر ضرورت پڑتی ہے۔۔

ایک مولوی صاحب کھیتوں سے گزرے ،کیا دیکھا کہ ایک بیل کنوے کے گرد گھومے جارہا ہے اور پانی نکل رہا ہے ، مولوی صاحب نے دیکھا کہ آس پاس بھی کوئی نہیں اور بیل اپنا کام بھی کر رہا ہے ، جب ادھر اْدھر دیکھا تو کچھ دور ایک شخص پگڈنڈی پر بیٹھ کر حقہ پی رہا تھا ، مولوی صاحب نے جا کر پوچھا ، اے شخص یہ بیل کیا تمہارا ہے جو خود ہی گھوم گھوم کر کنویں سے پانی نکال رہا ہے ، رْکتا ہی نہیں حالانکہ تم یہاں دور بیٹھے ہو۔ وہ شخص کہتا ہے نہیں نہیں مولانا صاحب اْس کے گلے میں گھنٹی ہے ،وہ جب تک گھومتا رہے گا تو گھنٹی کی آواز آتی رہے گی اور مجھے پتہ چلتا رہے گا کہ بیل پانی نکال رہا ہے ، مولوی صاحب کہنے لگے،یہ کیا بات ہوئی اگر بیل ایک جگہ کھڑا ہوکر سر ہلاتا رہے تو بھی تو گھنٹی کی آواز آے گی ، وہ شخص کہتا ہے مولوی صاحب ، وہ بیل ہے آپ کی طر ح کام چور نہیں ہے۔۔ کچھ مولوی ایسے بھی ہوتے ہیں۔۔

دبئی کے ایک ہوٹل میں کچھ لوگ ٹھہرے تھے۔ نماز کا وقت ہو گیا۔ لوگوں نے سوچا کہ باہر شدید گرمی ہے۔ لابی میں ہی جماعت کر لیتے ہیں۔ ایک اچھی سی محراب والی جگہ بھی مل گئی۔ اس میں ایک امام کھڑے ہوگئے۔ پیچھے جماعت نے نیت باندھ لی۔ عین رکعت کے درمیان امام نظروں سے اوجھل ہوگئے۔ نمازی ششدر رہ گئے۔ پھر وہ رکوع کراتے نظر آئے۔ اور پھر سجدے میں پھر نظروں سے غائب۔ حتی کہ ان کا مصلی بھی روپوش ہو گیا۔ لوگوں نے سوچا یار اتنے با کرامت بزرگ ہمارے درمیان موجود ہیں۔ ہمیں پتہ ہی نہیں تھا۔ زمان و مکاں کی حدود سے آزاد معلوم ہوتے ہیں۔ بس کبھی وہ آجاتے اور رکعت شروع کرواکے اوجھل ہوجاتے۔ جب آخر کار نماز ختم ہوئی تو مقتدیوں نے کہا۔۔ حضرت آج آپ کا راز فاش ہو گیا ہے تو یہ بتادیں یہ کیا کرامت ہے؟ بزرگ نے فرمایا۔۔ نامعقول لوگ بار بار لفٹ کا بٹن دبا رہے تھے۔۔

اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔انڈونیشیا میں حکومتی سطح پر مساجد کا سروے کیا گیا تو معلوم ہوا تقریبا %40 فیصد لوگ مسجد میں نماز پڑھنے نہیں آتے اسکی وجہ یا تو وہ نماز ہی نہیں پڑھتے یا نماز تو پڑھتے ہیں مگر گھروں میں پڑھتے ہیں پھر مزید تحقیق کی گئی تو پتہ چلا اصل وجہ آج کے دور میں سب سے بڑی نحوست انٹرنیٹ ہے جس نے نوجوان نسل کو اس قدر مصروف رکھا ہے کہ دس پندرہ منٹ نکال کر مسجد کا رخ کرنا ہی مشکل ہو چکا ہے اس لئے پوری سوچ و بچار کے بعد انڈونشیا کی حکومت نے اعلان کیا کہ ملک کے تمام شہروں میں مقامی وقت کے مطابق نماز کے اوقات میں تقریبا آدھا گھنٹہ انٹرنیٹ سروسز یعنی تھری جی،فورجی کو بند کردیا جائے تاکہ عوام ان فرصت کے لمحات میں مساجد کا رخ کر سکے اور اسکے ساتھ مدارس کے کلاسز کی اوقات میں بھی انٹرنیٹ سسٹم کو بدستور معطل کیا جائے گا اور بڑی بات یہ ہے کہ کوئی بھی اس فیصلے کے خلاف نہیں سب نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا، اور اب مساجد میں نمازیوں کا رش لگاہوتا ہے۔۔

تبدیلی صرف قرآن سے اور نماز سے بس۔


ای پیپر