اے سی آر!
13 دسمبر 2018 2018-12-13

گزشتہ کالم میں، میں نے ایک ریٹائرڈ آئی جی مشتاق سکھیرے کی منفی ذہنیت ، اور منتقم مزاجی کے ایک دو واقعات لکھے تھے، خصوصاً یہ بھی عرض کیا تھا اس نے اپنے کئی ماتحتوں کی اے سی آر روک رکھی ہیں اور اس وجہ سے بے چارے ان ماتحت افسروں کو اپنے مستقبل اور ترقی پر ایک سوالیہ نشان لگاہوا دیکھائی دے رہا ہے ، مشتاق سکھیرا اپنے سابقہ ماتحتوں سے زبردستی اپنی عزت کروانے کے لیے ان کی اے سی آرز نہ لکھنے کے عمل کو بطور ہتھیار استعمال کررہا ہے اور یہ شاید اس کا واحد ہتھیار ہے جو کام بھی کررہا ہے۔ وہ اس معاملے میں تنہا نہیں ہے، یہ ہتھیار اس طرح کے منفی ذہنیت کے حامل دیگر کئی سول اور پولیس افسران بھی نہ صرف اپنے سابق اور حاضر سروس ماتحتوں سے زبردستی اپنی عزت کروانے کے لیے استعمال کرتے ہیں بلکہ اس ہتھیار کو اپنی ناجائز کمائی کا انہوں نے باقاعدہ ایک ذریعہ بنارکھا ہے۔ کچھ افسران اپنی ریٹائرمنٹ سے ایک آدھ سال پہلے اپنے ماتحتوں کی اے سی آرز لکھنی بند کردیتے ہیں اور بعدازریٹائرمنٹ ان سے اپنی مختلف ضروریات پوری کرتے رہتے ہیں، ....اگلے روز ایک ماتحت افسر حال ہی میں ریٹائرہونے والے اپنے ”باس“ بلکہ ”بگ باس“ کے پاس گیا اور عرض کیا ”سر میری پروموشن کے لیے بورڈ کا اجلاس ہونے والا ہے، میری اے سی آر آپ کے پاس پڑی ہے، اگر یہ اے سی آر بروقت جمع نہ کروائی گئی میری پروموشن نہیں ہوسکے گی“ ....بگ باس نے فرمایا ”آپ کی بات درست ہے مگر اگلے ماہ میری بیٹی کی شادی ہے، آپ کو تو پتہ ہی ہے میں نے ساری سروس ”ایمانداری“ سے گزاری ہے۔ اور بیٹی کی شادی کے لیے لاکھوں روپے کی ضرورت ہوتی ہے، بلکہ اب بات کروڑوں تک جا پہنچی ہے، لہٰذا میں ان دنوں کچھ دوستوں اور عزیزوں سے یہ رقم اکٹھی کرنے میں بے حد مصروف ہوں، اگر مطلوبہ رقم اکٹھی ہوگئی تو شادی کے فوراً بعد آپ کی اے سی آر لکھ دی جائے گی “ ....ماتحت افسر کی جیب میں اس وقت اڑھائی لاکھ تھے، وہ یہ رقم بڑی عاجزی وانکساری سے بگ باس کی جیب میں ڈالنے لگا تو جیب پہلے سے بھری ہوئی تھی جس پر اس نے بگ باس سے کہا ”سر لگتا ہے آج آپ نے کافی اے سی آرز لکھی ہیں “۔خیر جیسے ہی رقم بگ باس کی جیب میں پہنچی وہ جزاک اللہ جزاک اللہ کا ورد کرتے ہوئے اٹھ کر اندر گئے اور اے سی آر لاکر ماتحت افسر کو ہاتھوں میں تھما دی،.... ایک اور ”بگ باس“ نے پچھلے برس اپنے ایک ماتحت افسر کو اے سی آر میں ہر لحاظ سے بہترین افسر قرار دیا اور فرط جذبات میں ”فٹ فارپروموشن“ لکھنے کے بجائے ”فٹ فار ارجنٹ پروموشن“ لکھ دیا، جبکہ اس برس اس کی اے سی آر خراب کردی اور اسے پروموشن کے لیے ”ان فٹ“ قرار دے دیا ، وہ بے چارہ اپنا گلہ لے کر ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہ فرمانے لگے ”تم ایک مطلبی انسان ہو، پچھلے برس جب میں ابھی ریٹائرڈ نہیں ہوا تھا تم نے بکرا عید پر پورا بکرا مجھے بھجوایا تھا، ساتھ جلال سنز کا کیک بھی تھا۔ اب جبکہ میں ریٹائرڈ ہوگیا ہوں تو پچھلے دنوں بکرا عید پر تم نے صرف تین پاﺅ گوشت مجھے بھجوایا وہ بھی سینے کا تھا۔ اس بار ساتھ کیک بھی ”گورمے“ کا تھا، جو، اب غریب غربا بھی کھانا پسند نہیں کرتے۔ تم اس طرح کی ”کم ظرفی“ کا مظاہرہ کرسکتے ہو، تو مجھ سے کسی اعلیٰ ظرفی کی امید کیوں رکھتے ہو ؟“....سوکچھ ماتحت افسران محض چند ہزار روپے بچا کر اپنی اے سی آر خراب کروابیٹھتے ہیں، ....میرے خیال میں بہت کم ایسے ہوتا ہے اعلیٰ افسران اپنے ماتحتوں کی اے سی آر زان کی جینوئن کارکردگی کے مطابق لکھتے ہوں۔ دوسری طرف یہ بھی ایک اہم سوال ہے، جس کا جواب شاید ہی کوئی دے سکے اور اے سی آر کے قانون میں کوئی ترمیم لائی جاسکے کہ کوئی نااہل افسر اپنے کسی ماتحت افسر کی اہلیت کو جانچنے کا اختیار کیسے استعمال کرسکتا ہے ؟ کوئی اعلیٰ افسر کرپشن یا نااہلی کے کسی کیس میں معطل یا تبدیل ہو جاتا ہے، یا اس ٹائپ کی کوئی اور سزا اسے مل جاتی ہے۔ کیا اس کے بعد اس کے پاس یہ اختیار ہونا چاہیے اپنے کسی ایماندار یا اہل ماتحت افسر کی وہ اے سی آر لکھ سکے؟۔ کوئی نااہل اور بے ایمان افسر اپنے کسی ایماندار اور اہل ماتحت افسر کو اس کے اچھا یا بُرا ہونے کا کوئی سرٹیفکیٹ کیسے دے سکتا ہے ؟۔.... اے سی آر کا باقاعدہ کوئی قانون موجود ہے اس میں اب ترمیم ہونی چاہیے، اعلیٰ افسران کو قانونی طورپر پابند کرنا چاہیے کہ ریٹائرمنٹ سے پہلے وہ جس طرح اپنی پنشن وغیرہ کے معاملات مکمل کرتے ہیں اسی طرح اپنے تمام ماتحتوں کی

اے سی آرز بھی مکمل کریں ،جو یہ نہ کرے سزا کے طورپر اس کی پنشن روک لی جائے۔ افسران سے اے سی آر لکھوانا اب ایک ایسی اذیت ہے جس کے متاثرین کی تعداد روز بروز بڑھتی جارہی ہے۔ ....ذاتی طورپر اس اذیت کا اندازہ چند روز پہلے مجھے اس طرح ہوا میرے ایک واقف کار پولیس افسر میرے پاس تشریف لائے اور درد بھری داستان سنائی کہ محض ایک اے سی آر کی وجہ سے ان کی پروموشن رکی ہوئی ہے۔ یہ اے سی آر مشتاق سکھیراٹائپ انتہائی منفی ذہنیت کے حامل ریٹائرڈ پولیس افسر خواجہ خالد فاروق سرا نے لکھنی تھی، جو کسی ذاتی پرخاش کی وجہ سے وہ نہیں لکھ رہے تھے، مظلوم پولیس افسر نے انہیں بہت سفارشیں کروائیں، دیگر ”لوازمات“ بھی پورے کیے جس کا کوئی اثر خواجے خالد فاروق سرا پر نہ ہوا، میں نے اس سلسلے میں ان کے برادر نسبتی فرخ شاہ سے بات کی، انہوں نے فرمایا ان کا اپنا ایک مزاج ہے، بہرحال میں کوشش کرتا ہوں، ان کی کوشش بھی ناکام ہوگئی۔ اب مسئلہ یہ تھا اس پولیس افسر کی پروموشن بورڈ کی تاریخ مقرر ہوچکی تھی اور اے سی آر مس ہونے کی صورت میں اس نے پروموٹ ہونے سے رہ جانا تھا، پھر میں نے اس سلسلے میں انتہائی ماتحت پرور پولیس افسر کیپٹن ریٹائرڈ امین وینس سے گزارش کی۔ میرے ذاتی نوٹس میں تھا کچھ عرصہ پہلے انہوں نے خواجہ خالد فاروق سرا پر ایک ایسی مہربانی فرمائی تھی کوئی جلال خون والا اس کا بدلہ ساری زندگی نہیں چکا سکتا تھا ،....مجھے بڑی حیرت ہوئی جب انہوں نے فرمایا کہ خواجہ صاحب کے مخصوص مزاج کو پیش نظر رکھتے ہوئے میں بھی ان سے نہیں کہہ سکتا۔ پھر انہوں نے اپنی ماتحت پرور طبیعت کے مطابق ریٹائرڈ آئی جی پنجاب میجر ضیاءالحسن سے گزارش کی کہ وہ اے سی آر لکھ دیں کیونکہ وہ اس دور کے آئی جی تھے اور قانونی طورپر وہ بھی اس کی اے سی آر لکھ سکتے تھے، .... انہوں نے کمال شفقت کا مظاہرہ فرماتے ہوئے ایک ہی روز میں اے سی آر لکھ کر پولیس افسر کے حوالے کردی، خواجہ خالد فاروق سرا کو جب اس بات کا پتہ چلا تو کمال چالاکی وہوشیاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس نے بھی اگلے ہی روز اس کی پچھلے دوبرسوں سے اپنے پاس پڑی ہوئی اے سی آر اس لیے لکھ کر بھجوا دی کیونکہ اسے پتہ تھا اب اس کی پروموشن کوئی نہیں روک سکتا، کیونکہ وہ ایک اچھی شہرت کا حامل پولیس افسر تھا جو اپنے سابقہ باس کی کمینگی کا شکار ہورہا تھا، .... بہرحال اب جبکہ یہ کلچر ہمارے سرکاری سسٹم کی نس نس میں رچ بس گیا ہے کہ اے سی آرز صرف اہلیت اور کارکردگی کی بنیاد پر نہیں سفارش، ذاتی تعلقات اور ”خدمت “ وغیرہ کی بنیاد پر لکھی جاتی ہیں تو اس قانون میں تبدیلی لازمی ہے چاہے وہ کسی ” ازخود نوٹس“ کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو !!


ای پیپر