کہاں کہاں لیے پھرتی ہے جستجورسولﷺ(6)
13 دسمبر 2018 2018-12-13

مسلمانوں میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ایسی ایسی نابغہ روزگار شخصیات پیدا فرمائی ہیں جن کے کارہائے نمایاں، روزمرہ زندگی کی ضروریات ، کے علاوہ اخروی ودائمی زندگی کے لیے بھی بے مثال ہیں، ان کو یہ درجہ اس لیے ملا کہ انہوں نے اطباع رسولﷺ کے مطابق زندگی گزار کر اپنے دور کے دوسرے مسلمانوں کے لیے قابل تقلید بن گئے۔ ان میں ایک روشن وتابندہ مثال شیخ سعدیؒ کی ہے۔

شیخ سعدیؒ ایک دفعہ اپنے شاگردوں کے ساتھ شیراز (ایران) کے ایک بازار سے گزررہے تھے، جو شخص خواہ، چھوٹا ہوتا، خواہ بڑا ان کے قریب سے گزرتا تو بڑے ادب اور احترام کے ساتھ سلام، اور اظہار عقیدت کرکے ہی آگے جاتا، ان کے طالب علم تو ویسے بھی ان کے گرویدہ تھے، اور ان کے لیے یہ بات ایک معمول کی تھی، لیکن ایک ایسی مثال جوان کے لیے بالکل انوکھی اور ناقابل فراموش تھی، بازار کے بالکل درمیان میں ایک موچی اپنے پیشے کی وجہ سے جوتیاں گانٹھ رہا تھا۔

شیخ سعدیؒ، بڑے ادب کے ساتھ اس موچی کے پاس جاکر رک گئے، اور پھر جھک کر اس بوڑھے موچی کو سلام کیا، اور ان کی خیریت عافیت دریافت کی، اور پھر کچھ باتیں کرکے ہی آگے گئے۔ ان شاگردوں میں سے ایک شاگرد نے بڑی نیازمندی سے پوچھا، یا شیخ ، جب سارا بازار اور سارے لوگ آپ کی اتنی عزت کررہے تھے، لیکن آپ نے اس بوڑھے موچی کی عزت کی، اور عزت دی، براہ مہربانی آپ اس کے بارے میں بھی ہمیں کچھ بتائیے ؟۔ شیخ سعدیؒ پہلے اس سوال پر مسکرائے، اور پھر جواب دیا کہ یہ میرے استاد ہیں، کیونکہ مجھے بھی اور بہت سے لوگوں کی طرح یہ علم نہیں تھا، کہ کتا کب بالغ ہوتا ہے، یہ بات مجھے انہوں نے بتاکر میرے علم میں اضافہ کیا تھا لہٰذا جو شخص بھی آپ کو ایک بات بتائے یا سمجھائے تو آپ سب بھی اس کا احترام کیا کریں، اور اسے عزت دیا کریں، میں بھی اس لیے ان کا احترام کرتا ہوں۔ مفکر اسلام حضرت علامہ اقبالؒ باب علم کا کواڑودر کچھ یوں کھولتے ہیں :

زندگی کچھ اور شے ہے، علم ہے کچھ اور شے

زندگی سوزجگر ہے، علم ہے سوزدماغ!

علم میں دولت بھی ہے، قدرت بھی ہے لذت بھی ہے

ایک مشکل ہے کہ ہاتھ آتا نہیں اپنا سراغ!

قارئین کرام، اسی لیے میں سوزدماغ، اور قلب صمیم کے ساتھ آپ لوگوں کے ساتھ مل کر تلاش علم حقیقی کی خاطر جو ہمارے آقائے نامدار محبوب خدالائے اس کی تلاش جستجو ، وجدوجہد کے حصول کے لیے اولیائے کرام، جو خود براعظموں کی خاک چھانتے ہوئے نجانے کہاں سے کہاں تک پھرتے رہے ، ان متبع شریعت کی تعلیمات آپ کے ساتھ محوسربازار قصم ہوں۔

تو میری طرح کسی کو بھی دربدر ہونے کی ضرورت نہیں، کہ شہرعلم کے باسی نے اس دورکہن میں، جب سرشام درودیوار پہ اندھیرے چھا جاتے تھے آپ ﷺ کو رب کریم ورحیم نے، جلوہ افروز فرما کر درِبام کو روشن کردیا، کہ جن کی روشنی ونور ازل سے ابدتک قائم رہے گا، جسے نہ تو اندیشہ زوال ہے، اور نہ ہی خدشہ خاتمہ، کیونکہ یہ خاتم النبیین کا لایا ہوا نور ہے، حضرت علی کرم اللہ وجہ فرماتے ہیں، علم وہ روشنی ہے، جو بھٹکے ہوئے کو سیدھا سچا راستہ دکھاتی ہے اور صراط مستقیم تک لے جاتی ہے، کیونکہ علم گلستان میں خوشبو کی طرح ہے، علم اور اس خوشبو کو گلستان تک محدود نہ رکھو، بلکہ اس کی خوشبو ساری دنیا میں پھیلا دو، اور جس شخص نے بھی علم حاصل نہ کیا، تو وہ یتیم ہے، حضرت عثمان علی ہجویریؒ فرماتے ہیں کہ زندگی محدود ہے، اور علم لامحدود ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کس قسم کا علم ضروری ہے؟ عثمان ہجویری ؒ فرماتے ہیں کہ انسان کو جغرافیہ اتنا معلوم ہوکہ وہ کہاں رہتا ہے؟ اور اس کا ملک کہاں واقعہ ہے، تاریخ اتنی معلوم ہو کہ اس کو اپنی خاندانی تاریخ یعنی شجرہ نسب کا پتہ ہو علم حساب اتنا کہ جس کی مددسے وہ اپنا روزمرہ زندگی کا حساب کتاب باآسانی کرسکے، مگر اس کا تعلق جس بھی شعبہ ہائے زندگی سے ہو، یعنی اس کا جو پیشہ ہو، اسے وہ اپنے علم کی وجہ سے کمال تک پہنچائے، اور متعلقہ پیشے کے متعلق اسے تمام معلومات، اور علم حاصل ہو لہٰذا اپنے اپنے علم میں ”کمال ہنرمندی“ چونکہ صرف اور صرف علم کی بدولت آتی ہے، لہٰذا اسے ایمان کی نشانی سمجھنی چاہیے، کیونکہ باعلم ہونا ”رزق حلال “ کی بہترین قسم ہے۔

اسی لیے تو ہمارے خالق ومالک نے بھی تعلیم حضورﷺ کی ابتداء” اقرا“ سے کی، حضورﷺ پہلے سے گزرے ہوئے انبیاءؑ، جن کی تعداد لاکھوں میں بھی جاپہنچنے کے باوجود ہمارے نبیﷺ کے درتک جاپہنچتے ہیں۔ اور ایسا کیونکر نہ ہوتا، امام امت تو ہمارے پیارے نبیﷺ ہی تو ہیں۔ جن میں لاکھوں پیغمبروں کی خصوصیات ، صفات رب تعالیٰ نے یکجا کردی ہےں، اگر کسی نے حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک کسی پیغمبر یا نبی کے معجزات دیکھنے ہوں، تو ہمارے پیارے نبی کو دیکھ لیں۔ قارئین ، میں نے حضورﷺ پہ لکھے ہوئے دوسرے کالم میں لکھا تھا، کہ میں آپ کو بتاﺅں گا، کہ حضرت حسین منصورحلاجؒ کو تختہ دار پہ کیوں لٹکایاگیا تھا، اور خود حضرت منصور حلاجؒ کو اپنے مستقبل اور پھانسی کے پھندے سے لے کر اپنے وصال تک ایک ایک لمحے کی خبر تھی، جو انہوں نے اپنے ساتھیوں ہمعصروں حتیٰ کہ اپنے مرشد کو بھی بتادیا تھا، بلکہ انہیں خود سے پتہ تھا، اور انہوں نے اس علم کا اظہار بھی کردیا تھا۔

لیکن ان سے پہلے ہم اپنے نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام ، جن پر پورے مسلمانوں کا ایمان ہے، ذرا ان کے حالات پہ بات کرلیتے ہیں، جن کی حضرت منصورحلاج ؒ کے حالات زندگی سے وصال تک بڑی گہری مماثلت ہے۔

قارئین ، مسلمانوں سے پہلے یہود ونصاریٰ ہی اللہ تبارک وتعالیٰ کی بڑی پسندیدہ ہی نہیں لاڈلی قومیں تھیں، حتیٰ کہ یہودی تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے کھانے تک کی بھی بات کرلیتے تھے، تاریخ یہود ہمارے پاس اتنی تفصیل سے موجود ہے، کہ جو ہمارے لیے غوروفکر کا مقام ہے، کہ یہ کس قدر احسان فراموش قوم ہے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ساری عمر شادی نہیں کی تھی، اور نہ ہی رہنے کے لیے انہوں نے کوئی گھر بنایا، اور نہ ہی کوئی جھونپڑی یا کٹیا ہی بنائی، آپ ہمیشہ اللہ کی تبلیغ کے لیے، بستی بستی، قریہ قریہ، گلی گلی گھومتے رہتے، اور جہاں بھی رات یا شام پڑجاتی سر کے نیچے ، اینٹ یا پتھر لے کر سوجاتے۔

یہ محض اتفاق ہے، کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جن لوگوں کو سب سے پہلے وعظ اور نصیحت شروع کی، وہ پیشے کے لحاظ سے دھوبی تھے، اور وہ لوگ سب سے پہلے آپ پہ ایمان لائے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا کہ آپ لوگ کپڑے کیا دھوتے ہو، آﺅ میں تم لوگوں کو دل دھونا سکھاﺅں اور پھر وہ تمام لوگ ان کے ساتھ ہو لیے، اور ان کو ”حواربین“ لقب ملا، حواری کا لفظ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دور سے شروع ہوا، ان پہ ایمان لانے والوں کو حواری کہا جاتا تھا .... مگر اب وفادار دوست کو حواری کہتے ہیں۔ سچ ہی تو کہتے ہیں بقول حضرت علامہ اقبالؒ

وہ پرانے چاک جن کو عقل سی سکتی نہیں

عشق سیتا ہے انہیں بے سوزن وتار رفو

(جاری ہے)


ای پیپر