چودہ اگست اور تبدیلی کی خواہش
13 اگست 2020 (23:59) 2020-08-13

۱۴ ؍ اگست آزادی کا دن، کامیابی کا دن، جشن کادن، چراغاں کا دن، رم جھم کرتے قمقموں کا دن، سرسبز ہوا سے اٹکھیلیاں کرتے ننھے منے پرچموں کادن۔۔۔ میری نظر جب تاروں کی طرح چمکتے دمکتے قمقموں پرپڑتی ہے توان کی روشنی میں میری ماں کامعصوم چہرہ روشن ہوجاتا ہے۔ مجھے اپنی نئی نویلی زندگی کی کہانی سناتے ہوئے وہ یوں گویا ہوتی ہیں۔ تحریک پاکستان کامیاب ہو چکی تھی اور ہندو مسلم فسادات شروع ہوگئے تھے ۔ ایک دن اچانک تمھارے ابو خلاف معمول جلد گھر آ گئے، انھوںنے کہا میرے ایک دوست نے بتایا ہے آج تمھارے سر کی باری ہے۔ برقعہ پہنو ،باہر دوست کی گاڑی کھڑی ہے۔ فوراً چلو میں یہ سب کچھ سن کرحیران وششدر رہ گئی۔ایک الوداعی نظر اپنے بھر ے گھر پر ڈالی اور  تین کپڑوں میںان کے ساتھ نکل کر ،گھر سے باہرکھڑی ان کے ایک سکھ دوست کی گاڑی میں بیٹھ گئی……ماں کی کہانی سن کر میں سوچنے لگی کہ وہ کیا احساسات ہوں گے جب  یوں بھرے گھر سے کوئی بے گھر ہو جائے کہ گھر کی تو ہر چیز ہی بہت پیاری اور قیمتی ہوتی ہے ۔پھر نازو نعم میں پلی بڑھی ماں کی چھ ماہ پر محیط خونچکاں داستان، کیمپوں میں رُک رُک کر قتل وغارت سے بھر پور گاڑیوں میں سفرکر کے بھوک وپیاس کی شدت اٹھا کر، آگ وخون کے سمندر سے گزر کر، آبلہ پا،اس دھرتی پر قدم رکھا اور دو دن کے بعد ایک بیٹے کو جنم دیا، جس کا نام غازی رکھا۔ ابھی ان کی سنائی ہوئی صعوبتوں کے مناظر میری نگاہوں کے سامنے ایک فلم کی طرح گزرتے ہیں۔ اتنے میں ایک اور چہرہ روشن ہو جاتا ہے۔ میری نانی کی آواز میری سماعت سے ٹکراتی ہے۔ ہندووں نے اچانک ہمارے گھروںپر حملہ کر دیا۔ بھگدڑ میں جوان لڑکیوں نے اپنی عزتیں بچانے کے لیے کنوؤں میں چھلانگیں لگا دیں۔ میری نگاہوں کی سکرین پر منظر بدلتا ہے۔ میری نانی اسٹیشن پر اپنے بیٹے کے ساتھ ٹرین میں سوار ہونے جا رہی ہیں۔ ہندو آگے بڑھتے ہیں ان کا ہاتھ پکڑتے ہیں ،گھسیٹنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جو ان بیٹے کی غیرت جوش میں آتی ہے ،وہ ماں کو بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ ماں کی آنکھوں کے سامنے اس کے لختِ جگر کو شہید کر دیا جاتا ہے ابھی اس منظر سے ساکت ہوں کہ دل ہلا دینے والاایک اور منظر اُبھرتا ہے۔ ماؤں کے شکم چیر کر ننھے بچوں کو نیزوں کی انیوں پر اچھالا جاتا ہے۔ ایک ہیبت ناک نعرہ لگتا ہے، یہ ہے تمھارا پاکستان… میرا دماغ سن ہونے لگتا ہے، میراوجود کرب سے تڑپنے لگتاہے،یہ مناظرمجھے جھنجھوڑ ڈالتے ہیں۔ دکھ سے میری آنکھیں چھلک پڑتی ہیں، جنھیں 

باندھ کر ان کی عزتوں کو پامال کیاگیا ان کی بے بسی سے میری سانس رکنے لگتی ہے۔ روشنی ماند پڑ جاتی ہے۔ ان گنت چہرے میرے سامنے آن کھڑے ہوتے ہیں۔ مجھ سے سوال کرتے ہیں۔ کیا ہم نے اس پاکستان کے لیے قربانیاں دی تھیں…؟ ان کی آواز میں قربانیوں کی ناقدری کا احتجاج پنہاں تھا۔ ہمیں کیا معلوم آزادی کی قیمت کیا ہوتی ہے ؟ آزادی، دنوں میںنہیں ،مہینوںمیںنہیں، صدیوں میں ملتی ہے۔ نسل درنسل خون کی ندیاں بہتی ہیں، ماؤں کی گود اجڑتی ہے، سروں کے سہاگ فنا ہوتے ہیں، گھروں کے چراغ گل ہوتے ہیں تو یہ نعمت عظمیٰ حاصل ہوتی ہے ۔ کشمیر وفلسطین کی مثال ہمارے سامنے ہے ۔ اس پاکستان کو پانے کے لیے ہر مسلم، مجاہد بن گیا تھا۔ ہم سروں پرکفن سجا کر شہادتوں کا علم اٹھا کر آوازلگا تے تھے؛ پاکستان کا مطلب کیا :لا اِلٰہَ الااللہ تو عدوکے قدم اکھڑ جاتے تھے۔ ہم نے تو اِس پاک سر زمین پر مدینہ کی ریاست کا خواب دیکھا تھا۔ ہم نے تو یہ ملک لا اِلٰہَ کی بنیاد پر حاصل کیاتھا۔ اس ملک پر خدا کی حاکمیت کا خواب دیکھا تھا۔ یہ پاک سر زمین اسلام کے زرّیں اصولوں سے منورہو گی۔ یہاں کی ریاست پوری دنیا کی قیادت کرے گی۔ مگر یہ کیایہاں تو ساری بساط ہی الٹ گئی ۔یہاں توطویل جدو جہد سے حاصل کیے گئے ملک کو بڑی بے دردی سے دو لخت کر دیاگیا۔ آزادی دلانے والوںکی روحیں کتنا تڑپی ہونگی ؟معاشرے کے ذمہ دارطبقے خاموش ہیں نہ ملکر آواز اٹھاتے ہیں نہ اپنی ذمہ داریوںکو سمجھتے ہیں۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ ہر دور میں فرعون ونمرود شکلیں بدل بدل کرآتے ہیں ۔ ہر دور کے عقل پرست، بیرونی اثرات کے تحت سوچتے ہیںاور اپنی عقلیت کو بالا تراتھارٹی منواناچاہتے ہیں لیکن نمرود کے سامنے ذوق ابراہیم ہو تو آگ، گلزار بن جاتی ہے۔ دور کی بات نہیں۔ امام احمد بن حنبلؒ نے جب معتصم کے قرآن کومخلوق قراردینے کے حکم کی تعمیل نہ کی تو ان پر کوڑوں کی سخت بارش ہوتی رہی۔ جب بے ہوش ہو جاتے تو ضرب موقوف کر دی جاتی، جب ہوش میں آتے تو پھر کوڑے برسنے لگتے۔ حضرت مجدد الف ثانی سے جب شہزادہ خرم نے کہا کہ کوئی ایسی راہ نکالیئے کہ سجدہ تعظیمی بھی جائزہوجائے اور آپ پر بھی حرف نہ آئے ،میرے والد شہنشاہ جہانگیر کی انا بھی نہ ٹوٹے۔ تو انھوںنے جواب میںکہا:’’شہزادہ معظم اگر اللہ والے بھی سر جھکا کر چلنا شروع کر دیں تو سر اٹھا کر چلنے والا کون رہے گا؟‘‘ یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جو کبھی نہیں مٹتے۔ اقبال جیسے عظیم مفکر بھی ان کی لحد پر حاضر ہو کر داد دیتے ہیں۔ 

اس خاک کے ذروں سے ہیں شرمندہ ستارے

اس خاک میں پوشیدہ ہے وہ صاحب اسرار

گردن  نہ  جھکی  جس کی جہانگیر کے آگے

جس کے  نفس گرم   سے ہے  گرمیِ احرار

مجھے محسوس ہوتا ہے جیسے ان گنت شہدا کی روحیں میرے گرد حالہ کیے ہوئے ہیں۔ قائد مجھے نمناک نگاہوں سے تک رہے ہیں، میں دم بخود ہوں، قوت گویائی جواب دے رہی ہے، میں کچھ کہنے کی کوشش کرتی ہوں، وہ مجھ سے مخاطب ہیں تم یہ کہنا چاہتی ہو ہم بے بس تھے اور بے بس عوام کیا کر سکتے تھے…… تو سنو اللہ کے بعد عوام سے بڑی طاقت کوئی نہیں ہوتی۔ جب عوام ایک ہو گئے نہ کوئی بنگالی رہا نہ پنجابی نہ سندھی نہ پنجابی نہ سرحدی ،نہ سنی نہ بریلوی نہ وہابی ہم نے ایک ہوکر آواز لگائی ہے لے کے رہیں گے پاکستان بن کے رہے گاپاکستان۔توخداکی قوتیں ہماری مددکوآگئیں اُس نے تو فرما دیا ہے: ’’حقیقت یہ ہے کہ اللہ کسی قوم کے حال کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے آپ کو نہیں بدلتی۔‘‘(سورئہ رعد آیت ۱۱)

خدانے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی 

نہ ہوجس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا


ای پیپر