لا ہور کا جڑوا ں شہر
13 اگست 2020 (23:54) 2020-08-13

لا ہو ر شہر کے گو نا ںگوںمسا ئل سے اہلِ لا ہو ر تو وا قف ہیںہی، مگر د یگر اہلِ پا کستان بھی نا بلد نہیں۔با غو ں کے اس شہر میں روز برو ز بڑھتی ہو ئی ٹر یفک کے مسا ئل سے نپٹنے کے لیئے سڑکو ں کے سا تھ سا تھ انڈ ر پا سز اور اوور ہیڈ پل بھی جس حد تک بنا ئے جا سکتے تھے ، بنا دیئے گئے۔ چنا نچہ منطقی طور پر لا ہو رہی کی بغل میں ایک نیا شہر بسا ئے جا نے کا منصو بہ بڑ ھتے ہو ئے مسا ئل کا ایک بہتر ین حل تھا ۔ تو قا رئین کرا م یہ تھے وہ حا لا ت جن کے تحت وزیراعظم عمران خان نے گز شتہ  جمعہ کے روز لاہور میں دریائے راوی کے کنارے نئے شہر کی تعمیر کے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔ 50 کھرب روپے لاگت کا یہ منصوبہ راوی کنارے ایک جدید طرز کے شہر کی تعمیر پر مشتمل ہے اور اسلام آباد کے بعد یہ ملک کا دوسرا بڑا شہر ہوگا جو باقاعدہ منصوبہ بندی سے ڈویلپ کیا جائے گا۔ ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی اور شہروں کی جانب منتقلی کا رجحان ہمارے ملک کا ایک ایسا مسئلہ ہے جسے آج تک سنجیدگی سے نہیں لیا گیا اور یہ بے قابو صورتحال مستقبل میں بڑے شہروں کے لیے کیا مسائل پیدا کرے گی ابھی تک کسی نے اس کا احساس نہیں کیا۔ تا ہم لا ہو ر شہر کے مسا ئل کا ادراک رکھنے اور ان سے نبر د آز ما ہو نے کے لیئے پنجا ب کے سا بقہ وز یرِ اعلیٰ شہبا ز شر یف کی کا وشو ں کا اقرا ر نہ کر نا ایک بہت بڑی نا انصا فی ہو گی۔ بہر حا ل چو نکہ یہا ں کسی قسم کا موا ز نہ مقصو د نہیں، لہذا اپنے مضمو ن کی جا نب وا پس پلٹتے ہیں۔ تو میں عر ض کر رہا تھا کہ بڑے شہروں کا بے ہنگم پھیلائو اور منصوبہ بندی کا فقدان ہمارے ملک میں اربن ڈویلپمنٹ ایسا گھمبیر مسئلہ ہے جس کے شہری زندگی پر غیرمعمولی اثرات مرتب کررہے ہیں۔ یہ اثرات ماحولیات، امن و امان، شہری سہولیات اور وسائل آمدنی جیسے زندگی کے اہم معاملات سے جڑے ہوئے ہیں۔ ملک کے تمام بڑے  صحت، پانی، بجلی اور نکاسیٔ آب وغیرہ کی سہولیات کا انفراسٹرکچر وہی ہے جو آج سے کئی دہائیاں پہلے تعمیر ہوا تھا۔ اس وقت کی آبادی کے 

لحاظ سے یہ سہولیات کافی ہوں گی مگر تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور پھیلتے ہوئے شہروں میں بنیادی سہولیات کا 

دہائیوں پران انظام اب بہت بڑے بحران کا سبب رہا ہے۔ ماضی کی حکومتوں نے ان مسائل کو کسی حد تک کم کرنے کی خاطر صحت، تعلیم، پانی اور بجلی وغیرہ کے پہلے سے موجود نظام کو پھیلانے کی کوششیں کیں مگر یہ توسیعی منصوبے بھی کامیاب نظر نہیں آتے۔ کیونکہ انفراسٹرکچر کی اپنی ایک حد ہے، آپ اسے اس سے آگے نہیں پھیلاسکتے۔ یہ صورت حال ہمیں ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں اور دیگر شہری سہولیات کے معاملے میں بھی نظر آتی ہے کہ شہروں میں آبادی میں اضافہ ہوا تو لامحالہ ان وسائل پر بوجھ بڑھنا شروع ہوا۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے حکومتوں نے پہلے سے موجود نظام کو توسیع دینے کے منصوبے بنائے مگر شہروں کے اندر ہجوم اد قدر بڑھ چکا ہے کہ لوگوں کے لیے ان سہولیات تک پہنچنا اب بہت بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ اس طرح غیر منظم اندازسے پھیلتے ہوئے شہر منصوبہ بندی کی بدترین صورت نظر آتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ شہروں کی حد فاصل ہی ختم ہوچکی ہے۔ ایک شہر کہاں سے کہاں ختم ہوکر کہاں تک جائے گا، اس حوالے سے کوئی منصوبہ بندی نہیں۔ شہروں کے ماسٹر پلان کئی کئی دہائیاں پہلے بنے اور ان پر نظر ثانی کی نوبت نہیں آسکی۔ ایک آبادی کتنے افراد کی سہولیات رکھتی ہے اور وہاں کتنے رہ رہے ہیں، کسی کا اس جانب دھیان ہی نہیں جاتا۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ شہروں میں ہجوم بڑھتے اور دستیاب وسائل کم ہوتے گئے ہیں۔ آکسیجن کو بھی ایک اہم سورس کے طور پر مدنظر رکھیں، جو ان بے ترتیب پھیلی ہوئی آبادیوں میں تیزی سے نایاب ہونے والے اجزا میں سرفہرست ہے۔ اب جبکہ ہمارے ملک کی آبادی 22 کروڑ کے قریب پہنچ رہی ہے، ہمیں منظم آباد کاری اور شہری منصوبہ بندی کی جانب لازماً توجہ دینا ہوگی، بصورت دیگر بڑے شہروں پر آبادی کا بوجھ بدستور بڑھتا چلا جائے گا اور سہولیات تیزی سے گھٹتی جائیں گی اور انسانی زندگیوں کے لیے شدید مسائل جنم لیںگے۔ وزیراعظم عمران خان نے راوی ریور فرنٹ منصوبے کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے یہ کہا کہ اگر یہ نیا شہر آباد نہ کیا گیا تو لاہور میں پانی کی صورتحال کراچی جیسی ہوجائے گی۔ کراچی میں پینے کے پانی کے مسائل اس قدر دشوار ہیں تو اس کی وجہ اس شہر کا غیرمنظم پھیلائو اور آبادی میں بے روک ٹوک اضافہ ہی ہے۔ یہی مسائل اب اسلام آباد کو درپیش ہیں جہاں وسائل اپنی حد کو پہنچ چکے ہیں اور آبادی ہے کہ کسی حساب کتاب میں نہیں آرہی۔ شہر کا پھیلائو اور آبادی میں اضافہ وسائل پر کس طرح بوجھ بنتا ہے اسلام آباد اس کی کلاسیکل مثال ہے۔ اہل لاہور خوش قسمت ہیں کہ ان کے شہر کے نیچے ابھی پانی کے ذخائر موجود ہیں، مگر کب تک؟ شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے جس بے دریغ انداز سے پانی کھینچا جارہا ہے، یہ وسائل کب تک کفایت کر پائیں گے؟ کیا ہم نے اس منظر نامے کا ابھی سے جائزہ لے کر اصلاح کرنا ہے یا اُس خوفناک صورتحال میں گرفتار ہونے کے بعد؟ یہ ہمارے پاس چوائس ہے، مگر یہ مہلت زیادہ مدت کے لیے نہیں ہے۔ ہم عین اس مرحلے پر پہنچ چکے ہیں جہاں ہمیں فیصلہ کن اقدامات کرنے ہیں۔ وزیراعظم کے ان الفاظ سے پوری طرح اتفاق ہے کہ اب ایسا وقت نہیں رہا کہ اگر یہ منصوبہ نہ بھی شروع کریں تو کچھ نہیں ہوگا، بلکہ اب یہ منصوبہ ناگزیر ہوچکا ہے۔ مگر اہم بات یہ ہے کہ حکومت اس بہت بڑے پراجیکٹ کو کس طرح عملی جامہ پہناتی ہے؟ حکومت کو بس یہ خیال رکھنا ہوگا کہ نیا، جدید اور منظم شہر بسانے کا یہ کام غیرمعمولی عزم کا تقاضا کرتا ہے۔ حکومت کو اس بڑے منصوبے کے لیے مالی وسائل کا بندوبست کرنا ہوگا۔ کمرشل حوالے سے یہ منصوبہ ایک بڑی کامیابی ثابت ہوسکتا ہے، مگر اس کے لیے کامیاب مارکیٹنگ ضروری ہے۔ بہرکیف نقطہ آغاز یہ ہوگا اس منصوبے کے خدوخال کو حتمی صورت دی جائے۔ حکومت کی جانب سے اس پراجیکٹ کے لیے راوی اربن اتھارٹی قائم کردی گئی ہے جو نمائندہ کاروباری شخصیات اور انجینئرز پر مشتمل ہے، مگر اس اتھارٹی کے کام کی رفتار کیا ہوگی؟ یہ حکومت کی دلچسپی اور عزم پر منحصر ہے۔ اصولی طور پر راوی ریور فرنٹ پراجیکٹ کو اربن ڈویلپمنٹ کے شعبے میں ایک نیا ویژن قرار دیا جاسکتا ہے۔کیا عملی طو رپر بھی ایسا ہی ہوگا؟ اس کا انحصار حکومت اور اس منصوبے کی ذمہ دار اتھارٹی کی محنت، لگن اور عزم پر ہے۔


ای پیپر