مستحکم افغانستان علاقائی امن کا ضامن
13 اگست 2020 (23:54) 2020-08-13

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے پاکستان میں تعینات افغان سفیر عاطف مشعل سے الوداعی ملاقات میں کہا کہ خطے میں دیرپا امن و استحکام، افغانستان میں قیام امن سے مشروط ہے۔ بین الافغان مذاکرات سے افغانستان میں دیر پا امن کی راہ ہموار ہو گی۔ ان مذاکرات کو کامیاب بنانے کیلئے پاکستان اپنا مصالحانہ کردار ادا کرتا رہے گا۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ علاقائی امن کے لیے افغانستان میں دیرپا امن انتہائی ضروری ہے، تمام رکاوٹوں کے با وجود ہم علاقائی امن و استحکام کے لیے کوشاں ہیں۔ جنگ بندی اور امن و امان افغانستان کے 30لاکھ سے زائد باشندوں کی متفقہ خواہش ہے۔ اسی طرح بین الاقوامی برادری اور خطے کے عوام بھی امن کے خواہش مند ہیں۔ افغانستان میں امن و امان کی بحالی کے لئے 

متعلقہ اقدامات کرنے چاہئیں۔

افغان امن معاہدہ میں افغان حکومت شامل نہیں تھی اسی لئے وہ معاہدے پر عمل درآمد میں لیل لیت سے کام لے رہی ہے۔ معاہدے کے فوراً بعد ہی افغان صدر اشرف غنی نے کہا کہ وہ طالبان قیدیوں کو رہا نہیں کریں گے ۔یوں امن معاہدہ تعطل کا شکار ہوگیا۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کی افغان صدر اشرف غنی سے حالیہ ملاقات کو افغان مفاہمتی عمل ،طالبان کے کردار،بارڈر مینجمنٹ اور پاک بھارت تناؤ کے تناظر میں نہایت اہمیت کا حامل قرار دیا جا سکتا ہے کیونکہ پاکستان نے افغان امن عمل کو آگے بڑھانے ، سٹیک ہولڈرز کو ساتھ بٹھانے اور معاملات کا سیاسی حل نکالنے کے حوالہ سے اہم اور بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان کا شروع سے یہ کہنا ہے کہ افغانستان میں امن  پاکستان کے استحکام سے مشروط ہے۔ 

جہاں تک افغان طالبان کا مسئلہ ہے تو انہوں نے شدید تحفظات کے باوجود پاکستان کو عزت دی۔ اس کی بات سنی اور اسے احترام دیا۔ پاکستان نے طالبان پر ایک حد سے زیادہ نہ دباؤ بڑھایا اور نہ ہی پاکستان زیادہ دباؤ کی پوزیشن میں تھا۔ اب نئی صورتحال میں طالبان افغان محاذ پر مضبوط پوزیشن پر کھڑے ہیں۔ طالبان نے غیرملکی افواج کے خلاف تاریخ ساز جدوجہد کی۔وہی امریکا جو طالبان سے نجات کیلئے یہاں آیا تھابالآخر ان سے مذاکرات پر مجبور ہوا۔

افغانستان میں امن کے حوالہ سے پاکستان کے بھی کچھ تحفظات ہیں اور آرمی چیف کے دورہ کابل کو بھی اس حوالہ سے اہم قرار دیا جا سکتا ہے۔لداخ میں چینی افواج کے ہاتھوں پٹنے کے بعد اب بھارت پاکستان کے خلاف جارحانہ عزائم رکھتا ہے جس پر پاکستانی الرٹ اور پاکستانی افواج پرعزم ہیں۔ بھارت افغان سرزمین کو بھی ہمسایہ ممالک میں دہشت گردی کیلئے استعمال کرتا آیا ہے۔ خصوصاً پاکستان میں دہشت گردی کے ڈانڈے افغانستان سے جا ملتے ہیں لہٰذا افغانستان میں نئے انتظامی بندوبست میں افغان سرزمین سے دہشت گردی کی سرگرمیوں کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ اس میں بنیادی کردار افغان فورسز اور سیاسی عناصر کو ادا کرنا ہے ۔ اگر افغانستان کی سرزمین سے دہشت گردی کا خاتمہ ہوتا ہے تو اس سے ہمسایہ ممالک بھی محفوظ ہوں گے۔ 

یہ حقیقت ہے کہ پاکستان سے افغان مہاجرین کی باعزت واپسی حالات معمول پر لانے کا اہم ذریعہ ہے۔ افغان عوام کی واپسی کیلئے پاکستان نے طورخم اور چمن کی سرحدیں اس وقت کھولیں جب پوری دنیا میں کورونا وائرس پھیل رہا تھا۔  پاکستان میں اس وقت14 لاکھ رجسٹرڈ افغان مہاجرین مختلف شہروں میں قیام پذیر ہیں اور 2002ء سے اب تک رضاکارانہ طریقہ کار کے تحت پاکستان سے 44 لاکھ افغان مہاجرین وطن واپس جاچکے ہیں۔رضاکارانہ واپسی کا طریقہ کار یکم مارچ سے30 نومبر تک9 مہینوں کیلئے جاری رہتا ہے جس کے بعد یکم دسمبر سے 28فروری تک افغانستان میں شدید سردی کے باعث رضاکارانہ واپسی کا عمل ہر سال تین ماہ کے لیے روکا جاتا ہے۔ رضاکارانہ طور پر واپس جانے والے افغان مہاجرین کو قندہار، ننگرہار اور کابل میں فی کس دو سو ڈالر دیئے جاتے ہیں۔

جہاں تک افغان مفاہمتی عمل کا سوال ہے تو اس میں پاکستان کے مثبت کردار کو امریکا، اس کے اتحادی اور دنیا سراہتی نظر آ رہی ہے ۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان نے خود اپنے مفاد میں اس عمل کو آگے چلایا۔ افغان انتظامیہ نے بھارتی آشیرباد پر معاہدے پر اثرانداز ہونے کیلئے ممکنہ کوششیں کیں لیکن انہیں اس محاذ پر مایوسی اور سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔ افغان قیادت  کا کہنا تھا کہ ہم افغان طالبان کے ساتھ تنازعات کے حل کیلئے تیار ہیں جبکہ پاک فوج کے سربراہ نے بین الافغان مذاکرات کیلئے بھرپور تعاون کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ افغانستان میں امن کے قیام اوربین الافغان مذاکرات کیلئے پاکستان انتہائی مثبت کردارادا کررہا ہے۔

جنوبی ایشیا کے خطے کی صورتحال میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اور ماضی کے بعض تنازعات دوبارہ اٹھ رہے ہیں جس سے خطے کے امن و سلامتی کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ افغانستان کی صورتحال حتمی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ افغانستان میں افغان قیادت کے ذریعے باہمی مذاکرات کا عمل شروع کیا جائے تا کہ تمام فریقین کی حسب خواہش مستقبل کے سیاسی انتظامات کے عمل پر تبادلہ خیال کیا جائے کیونکہ افغانستان میں جلد از جلد امن و امان ضروری ہے۔ افغانستان میں دہشتگردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کیلئے جامع کاوشوں کی ضرورت ہے جبکہ افغانستان میں ایک دوستانہ اور پرامن خارجہ پالیسی پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بہتری دونوں ممالک اور خطے کے امن، سلامتی اور ترقی کیلئے بھی بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔ 


ای پیپر