قوتیں اور کمزوریاں! 
13 اگست 2020 2020-08-13

سپریم کورٹ اورماتحت عدالتیں نیب کی خرابیوں خصوصاً اُس کے تفتیشی سسٹم پر جس انداز میں برستی رہتی ہیں، اُس کا نیب پر کوئی اثر ہوتا ہے یا نہیں؟ میں اِس بارے میں وثوق سے کچھ نہیں کہہ سکتا، کیونکہ ہمارے نظام عدل میں جو خرابیاں ہیں نیب کا بس چلے وہ بھی ہمارے کچھ جج صاحبان پر ویسی ہی تنقید کریں جیسی تنقید ہمارے کچھ جج صاحبان نیب پر کرتے ہیں، .... بنیادی نقطہ یہ ہے ہر ادارہ ہی قابل اصلاح ہے، مگر ہماری اجتماعی فطرت یہ ہے ہر کوئی دوسرے کی اصلاح کرنا چاہتا ہے، ہم سب دوسروں کو ٹھیک کرنا چاہتے ہیں، کیونکہ دوسروں کو ٹھیک کرنے میں ہمارا کوئی نقصان نہیں ہوتا، جبکہ خود کو ٹھیک کرنے میں کئی طرح کے نقصانات اُٹھانے پڑسکتے ہیں، جن میں ایک ”مالی نقصان “ بھی ہوسکتا ہے، جو اِس دور میں کوئی برداشت نہیں کرسکتا، خصوصاً وہ لوگ تو بالکل ہی برداشت نہیں کرسکتے جن کی زندگی کا مقصد ہی مال بنانا ہو.... یہاں سب سے زیادہ ضرورت نظام عدل درست کرنے کی ہے، یہ درست ہوگیا کسی جج صاحب کو نیب کیا کسی بھی ادارے پر تنقید کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوگی، نظام عدل کسی اور نے نہیں خود عدلیہ نے ٹھیک کرنا ہے، اس کی صرف ابتداءہی ہو جائے ایک انقلاب برپا ہو جائے گا، فی الحال تو ”تاریخ پہ تاریخ“ کا اِک عذاب برپا ہے جس نے پورے معاشرے کواپاہج بناکر رکھ دیا ہے۔ جہاں تک نیب کا تعلق ہے خود احتسابی کا کوئی عمل اِس سے پھُوٹ پڑے ، اِس کے کچھ افسران پلاٹوں، زمینوں اور قبضوں وغیرہ سے توجہ تھوڑی ہٹاکر صرف اپنے کام یا فرائض کی جانب فرمالیں یہ ادارہ مزید بدنامیوں سے بچ سکتا ہے اوراِس کی ساکھ، راکھ سے الگ بھی ہوسکتی ہے، .... ایک اور اہم بات یہ ہے بظاہر نیب خود مختار ادارہ ہے، پر اِس ادارے کو اُتنی ہی خودمختاری حاصل ہے جتنی اِس ملک کے سیاسی حکمرانوں کو اصلی حکمرانوں کی جانب سے حاصل ہے، اِس ملک میں صحیح معنوں میں خودمختار صرف ایک ”ادارہ“ ہے، اِس ادارے نے اپنی انفرادیت قائم رکھنے کے لیے اور کوئی ادارہ بننے ہی نہیں دیا، نہ حقیقی معنوں میں اِس کے لیے کسی نے کوشش ہی کی ہے، اِس ادارے کے سامنے ہر ادارہ سرنگوں ہے، اور ہمیشہ رہے گا، یہ صورت حال ملک کے لیے گر خطرناک ہے تو اِس کے بہت حدتک ذمہ داران ہمارے سیاستدان ہیں، جو اپنی انفرادی کمزوریوں اور مفادات کے ملبے تلے اِس قدر دبے ہوئے ہیں اور جس روز اس ملک کی سیاستدانوں کے ”چاک دامن“ ،”پاک دامن ہوگئے اُس روز ضرور اُن میں اتنی غیرت پیدا ہو جائے گی وہ سارے مِل کر پریس کانفرنس کریں گے کہ ”ہم مزید منہ کالک لینے کے لیے تیار نہیں ہیں، آئندہ ہم کسی صورت میں بھی ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہیں ہوں گے، یہ ملک مستقل طورپر اب آپ خود ہی چلائیں“،.... اُس کے بعد اِس ملک کے اصل طاقتوروں کے ہوش خود بخود ٹھکانے آنا شروع ہو جائیں گے۔ اُنہیں پتہ ہے ملک چلانا آسان کام نہیں ہوتا، البتہ ملک چلانے کے لیے جو ”بُت“ وہ کھڑے کرتے ہیں، اپنے مخصوص مقاصد وروایات کے تحت وقتاً فوقتاً اُن کے چہروں پر کالک ملتے رہنا، مختلف طریقوں سے اُنہیں بلیک میل کرتے رہنا، اُن کی کمزوریوں کو جمع کرتے رہنا، اور بوقت ضرورت اُن کمزوریوں کو اپنی طاقت بناتے رہنا اُن کے لیے انتہائی آسان کام ہوتا ہے،.... اِن اصلی قوتوں کی اِس فطرت کا فائدہ کچھ انتہائی کرپٹ اور بدمعاش سیاستدان اِس طرح اُٹھاتے ہیں انتہائی ظالم ہونے کے باوجود خود کو مظلوم ظاہر کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں، اُن کا یہ مو¿قف سمجھ میں بھی آتا ہے”اِس ملک میں صرف سیاستدان ہی کرپٹ ہیں؟ باقی سارے فرشتے ہیں؟ اِس ملک میں کوئی ایسا نظام عدل کبھی قائم نہیں ہونے دیا جائے گا جو یہ فیصلہ کرے سب سے زیادہ کرپشن کس نے کی ؟ اور سب سے زیادہ طاقت کا غلط استعمال کس نے کیا؟ کہ یہ بھی ایک طرح کی ”کرپشن “ ہی ہے، .... زرداری، شریف برادران اور موجودہ حکمرانوں کے کچھ اتحادیوں نے لُوٹ مار کی انتہا کردی۔ پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے ”طاقتور ادارے“ اُس وقت اندھے گونگے اور بہرے کیوں بنے رہتے ہیں جب یہ کرپشن کررہے ہوتے ہیں؟ اِس دوران اُن کی کوئی ”ایجنسی “ اُن کی ”لوٹ مار“ کی اُنہیں رپورٹ نہیں دیتی ؟ ۔ اُن کی طاقت، اُن کا عدل، اُن کا انصاف صرف اُس وقت کیوں جاگتا ہے جس وقت اُن کے اپنے مفادات پر زد پڑتی ہے؟۔ یہی سوالات ہیں جو اصلی قوتوں پر سیاسی قوتوں کو برتری فراہم کرتے ہیں، جب تک انصاف ”سانجھا“ نہیں ہوگا اس ملک کا کچھ نہیں سنورے گا۔ نظام عدل کی خرابیوں کی وجہ سے بڑے بڑے طاقتور چور ڈاکو اور لٹیرے ”فرشتوں“ کی صف میں کھڑے دیکھائی دیتے ہیں، یہی خرابیاں بعض اوقات بڑے بڑے ”فرشتوں“کو چوروں ڈاکوﺅں اور لٹیروں کی صف میں کھڑے کردیتی ہیں، .... ہرشعبے ہر معاملے میں ایک ایسی کنفیوژن جان بوجھ کر قائم کردی گئی ہے کہ حقائق جاننے میں شدید دشواریوں کا سامنا ہے، ....ہمیں یقین تھا خان صاحب کے اقتدار میں آنے کے بعد معاملات بہتر ہوں گے، ہم سودنوں میں سسٹم ٹھیک کرنے کے ”عمران دعوﺅں“ پر ہرگز یقین نہیں کرتے تھے، بلکہ اِن دعوﺅں یا ضد سے بازرکھنے کی ہرممکن کوشش بھی ہم کرتے رہے، ہم ستر برسوں کے بگڑے ہوئے نظام کو محض دوبرسوں میں ٹھیک کرنے کا بھی نہیں سوچتے، پر اتنا تو ہوتا دوبرسوں میں خرابیاں اپنی جگہ پر ٹھہر جاتیں، مزید آگے نہ بڑھتیں ، یا پھر اِس ملک کی ”اصل قوتیں“ جان بوجھ کر کچھ ایسے عوام دشمن فیصلے اپنے ہی تراشے ہوئے ”بتوں“ سے کروارہی ہیں جن سے عوام میں اُن کی پوزیشن کمزور ہو، خان صاحب کو تو اس ” الزام“ کے تحت بھی برطرف کیا جاسکتاہے وہ کرپٹ نہیں ہے، اور یہ الزام تو اُس پر ثابت بھی ہوسکتا ہے اُنہوں نے اپنی ٹیم میں مالی واخلاقی کرپشن سے لبالب بھرے ہوئے کچھ لوگوں کو شامل کیا، دوسرے سیاستدانوں کی طرح خان صاحب بھی ممکن ہے زبان نہ کھول سکیں کہ اُنہیں شامل کروایا کس نے تھا؟،....میں ”کرپٹ اپوزیشن“ کی کوئی بات ماننے کے لیے تیار نہیں، سوائے اِس بات کے ”نیب جو ”انتقامی کارروائیاں“ کچھ اپوزیشنی سیاستدانوں کے ساتھ کررہی ہے، کل کلاں خان صاحب کے ساتھ بھی کرسکتی ہے، اور جیسا کہ میں نے اُوپر لکھا اِس ”الزام “ کے تحت بھی کرسکتی ہے ”اقتدار میں آکر بھی کوئی کرپشن اُنہوں نے نہیں کی، جو کہ اُن کا ”حق“ بنتا تھا کیونکہ وہ بھی کوئی حکمران ہے جو کرپشن بھی نہ کرے؟، اپنا ”حق“ نہ لینا کسی کا حق مارنے سے یہاں زیادہ بڑا ”جرم“ ہے، اِس کی سزا خان صاحب کو آج نہیں تو کل مل کر رہے گی، خان صاحب اِس سزاسے بچنے کی جتنی چاہیں کوشش کرلیں، فطرت کے اظہار سے کچھ لوگوں کو مگر روکا نہیں جاسکتا، یہ بھی ممکن ہے خان صاحب کی فطرت یا طبیعت کے مطابق کچھ ایسی ”گستاخیاں“ اُن سے ہو جائیں کسی ادارے سے زرداری اور شریف برادران جیسا کوئی ریلیف بھی اُنہیں نہ مل سکے، .... وقت تبدیل ہوتے ہوئے دیر نہیں لگتی، یہ پاکستان ہے یہاں کچھ بھی ہو سکتا ہے ،....”ہوتا ہے شب وروزتماشا میرے آگے“....!!


ای پیپر