امریکا نے پاکستان کیساتھ نہ چلنے کا فیصلہ کر لیا ہے ‘نگران وزیر دفاع
کیپشن:   Source : Yahoo
13 اگست 2018 (22:39) 2018-08-13

اسلام آباد : نگران وزیر دفاع خالد نعیم لودھی نے کہا ہے کہ امریکا نے واضح کر دیا کہ واشنگٹن نے اسلا آباد کےساتھ نہیں چلنا‘ امریکا پاکستان سے افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کی توقع رکھتا ہے‘جلد فیصلہ نہ کیا تو امریکہ بھارت کیساتھ مل کر پاکستان کو پانچ سال میں سبق سکھا دے گا ۔

پیر کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں یوم آزادی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نگران وزیر دفاع خالد نعیم لادھی کا کہناتھا کہ امریکا ابھی تک ہمارا فضائی اور زمینی راستہ استعمال کر رہا ہے اور پاکستان سے افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کی توقع رکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکا پاکستان کےخلاف 5، 6 اقدامات اٹھاچکا ہے، ہم نے جلدی فیصلہ نہ کیا تو امریکا بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کو 5 سال میں سبق سکھا دے گا۔

خالد نعیم لودھی نے کہا کہ امریکہ نے واضح کر دیا کہ پاکستان کے ساتھ نہیں چلنا۔واضح رہے کہ 2018 کے آغاز کےساتھ ہی پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات میں تناو پیدا ہوگیا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے یکم جنوری کو ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں پاکستان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ ہم نے گزشتہ 15 سالوں کے دوران پاکستان کو 33 ملین ڈالر امداد دے کر حماقت کی جبکہ بدلے میں پاکستان نے ہمیں دھوکے اور جھوٹ کے سوا کچھ نہیں دیا۔

اس کے بعد امریکا نے پاکستان کی امداد بند کرنے کے حوالے سے اقدامات اٹھانا شروع کردیے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے پاکستان کی سیکیورٹی معاونت معطل کرنے کا اعلان کردیا جبکہ پاکستان کو مذہبی آزادی کی مبینہ سنگین خلاف ورزی کرنے والے ممالک سے متعلق خصوصی واچ لسٹ میں بھی شامل کردیا گیا۔امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ہیدر نورٹ کا کہنا تھا کہ حقانی نیٹ اور افغان طالبان کے خلاف کارروائی تک پاکستان کی معاونت معطل رہے گی۔

دوسری جانب پاکستان نے امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردی کےخلاف جنگ میں پاکستان نے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں، لیکن امریکا اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈال رہا ہے۔ پاکستان میں 25 جولائی کو ہونے والے انتخابات کے بعد امریکی محکمہ ترجمان کی جانب سے اپنے بیان میں کہا گیا تھا کہ امریکہ نئی پاکستانی حکومت کےساتھ کام کرنے کا خواہاں ہے۔چند روز قبل پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری نے بھی اپنے ایک بیان میں امریکہ کو واضح پیغام دیا تھا کہ امریکا کے آلہ کار نہیں بن سکتے، ان کےساتھ برابری کی سطح پر تعلقات چاہتے ہیں۔


ای پیپر