کپتان کی حکومت وعدے پورے کر پائے گی؟

13 اگست 2018

سہیل سانگی

نئی حکومت کو شدید مالی بحران کا سامنا ہے اس کی وجہ غیر ملکی تجارت میں خسارہ ہے جو ہر ماہ بڑھتا جارہا ہے۔ حکومت مجبور ہے کہ وہ کسی دوست ملک یا پھر عالمی مالیاتی ادارے سے قرضہ حاصل کر کے یہ خسارہ پورا کرے۔ یعنی قرضہ اتارنے کے لئے مزید قرضہ لیا جائے گا۔ تحریک انصاف کی حکومت کے متوقع وزیر خزانہ اسد عمر کا کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کا آپشن ترجیحی آپشن نہیں ترجیحی آپشن برآمدات کو بڑھانا اور سمندر پار بسنے والے پاکستانیوں کو منافع بخش بانڈ کی پیشکش کرنا ہے۔ دوسرا آپشن دوست ممالک سے دوطرفہ فنڈ حاصل کرنا ہے۔ اس سے قبل وزارت خزانہ کے متوقع امیدوار اسد عمر یہ کہتے رہے ہیں کہ عالمی مالیاتی فنڈ کا آپشن آئندہ ماہ کے آخر تک اختیار کر لیا جائے گا ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کو گزشتہ تین ماہ سے دو ارب روپے ماہانہ خسارہ ہو رہا ہے۔ 
تاہم سابق وزیر خزانہ اور ماہر اقتصادیات حفیظ پاشا کا کہنا ہے کہ پاکستان کی مالی ضروریات تقریبا 26 ارب ڈالر ہیں۔ جبکہ وزارت خزانہ کا تخمینہ 23 ارب ڈالر کا ہے۔ نگران وزیر خزانہ یہ کہتی رہی ہیں کہ رواں مالی سال کے دوران مالی خسارہ تقریبا 12 ارب ڈالر کا ہے۔ سابق سیکریٹری خزانہ وقار مسعود نے 2006 اور 2013 میں دو مرتبہ آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکیجز کرائے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک کی تباہ ہوتی ہوئی معیشت کو بچانے کے لئے آئی ایم ایف کے علاوہ کوئی آپشن نہیں۔ سعودی عرب یا چین جیسے دوست ممالک سے رقم حاصل کرنا کوئی آپشن نہیں کیونکہ یہ رقومات عالمی ادارے سے حاصل کئے گئے ڈالر کا متبادل نہیں۔ 
یہ پاکستان کا 13واں تیرہویں بیل آؤٹ ہوگا۔ پاکستان نے پہلی مرتبہ 1988 سے آئی ایم ایف پر انحصار کرنا شروع کیا۔ آئی ایم ایف کا اندازہ ہے کہ مالی سال 2019 میں پاکستان کو بیرونی فنانسنگ کی مد میں 27 ارب ڈالر کی ضرور ت ہو گی،اگر50 ارب ڈالر کی برآمدات ہوں تو یہ مسئلہ حل ہو جائے گا دوسرا حل درآمدات کم کرنے میں ہے جس پر آج کل عمل ہو رہا ہے۔
دوسری جانب گردشی قرضے 650ارب روپے ہونے پر چھ نجی بجلی گھروں نے بجلی کی پیدوار میں مزید کمی کردی ہے جس سے شارٹ فال ایک ہزار میگا واٹ سے بڑھ گیا ہے۔
ایسا بھی نہیں ہے کہ آئی ایم ایف اٹھاکے ڈالر کی تھیلی آپ کو دے دے گا۔ اس کے ساتھ کئی معاشی و مالیاتی شرائط لاگو کرے گا جس کے ہماری عام زندگی پر اثرات پڑیں گے۔ پھر یہ بھی ہے کہ موجودہ صورت حال میں جب پاکستان کے امریکہ کے ساتھ تعلقات زیادہ خوشگوار نہیں ایسے میں اس عالمی ادارے سے فنڈ لینا آسان نہیں۔ 
عالمی ادارہ ڈالر دینے کے عوض کیا مطالبہ کر ے گا؟ وہ بعض ادارتی اصلاحات، خاص طور پر سرکاری شعبے کے تجارتی و پیداواری اداروں میں تبدیلی، ٹیکس بڑھانا، اور معاشی ضابطے سخت کرنا شامل ہو گا۔ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ سود کی شرح میں اضافہ ہوگا اور روپے کی قیمت مزید کم ہو جائے گی۔ یعنی عالمی مالیاتی ادارہ حکومت پر اخراجات کی پابندی لگا دے گا۔ اور اس نے اسلامی ویلفیئرر ریاست کا جو انتخابات میں معاہدہ کیا وہ پورا نہیں ہو سکے گا۔ عمرن خان نے صحت کی سہولیات بڑھانے اور سوشل سیکیورٹی نیٹ کو پھیلانے اور اسکولوں کو اپ گریڈ کرنے کا وعدہ کیا ہوا ہے۔ انہوں نے 100 دن کا جو پروگرام دیا تھا اس پر عمل کا کوئی امکان نہیں رہا، اس کا اعتراف متوقع وزیر خزانہ اسد عمر گزشتہ دنوں کر چکے ہیں۔ 
نگران وزیرخزانہ ریونیو و اقتصادی امورڈاکٹر شمشاد اختر اور انکی ٹیم نے آئی ایم ایف امدادی پیکج کیلئے بنیادی ہوم ورک مکمل کردیا جس کا ڈیٹا بیس آنیوالے وزیرخزانہ اسد عمر کو ڈاکٹر شمشاد اختر اس وقت پیش کرینگی جب وہ وفاقی وزیر خزانہ کا حلف اٹھالیں گے۔نگران وزیرخزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف پیکج کیلئے نگران حکومت نے بنیادی ہوم ورک کردیا ہے ضروری ڈیٹا بیس تیارکرلیا ہے،اگر آئی ایف سے ایکسٹینڈ فنڈ فیسیلیٹی یا کسی اور نام سے اربوں ڈالر لینے کیلئے عمران خان حکومت مناسب سمجھے گی تو شمشاد اخترکی ڈیٹا بیس کو استعمال کریگی۔ پیپلز پارٹی کی سابق حکومت نے بھی آئی ایم ایف سے پیکج لیا تھا اور سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار بھی آئی ایم ایف سے ایکسٹینڈ فنڈ فیسیلیٹی لے چکے ہیں۔ امریکہ نے آئی ایم ایف کو نگران حکومت کیلئے اربوں ڈالر اور فنڈ دینے کی مخالفت کی ہے اورپاکستان کی سالانہ کولیشن فنڈ کم کرکے 15کروڑ ڈالر کردی ہے۔ امریکہ کو خدشہ ہے کہ یہ رقم پاکستان چین کو قرضے کی ادائیگی کے لئے استعمال کرے گا۔ اور امریکہ کو چین کے پاکستان میں منصوبوں پر بھی اعتراضات ہیں۔ 
نواز لیگ حکومت نے سعودی عرب سے پانچ بلین ڈالر کی امداد طلب کی تھی لیکن ریاض نے دینے سے انکار کردیا۔ چین نے بھی نواز حکومت کو بیل آؤٹ دینے سے انکار کردیا تھا۔ اب 2 ارب ڈالر دینے کے لئے تیار ہے۔ 
عمران خان کا یہ پہلا امتحان ہے اور ان کے سامنے مشکلات میں گھری پاکستانی معیشت ہے جبکہ پاکستان خود دو معاشی طور پر طاقتور ملکوں کے درمیان سینڈ وچ بن چکا ہے۔ملک کا موجود ہ خسارہ بر آ مدا ت اور درآمدات کے درمیان عدم توازن میں ہے اور 18 ارب ڈالر سے بھی زیادہ کی خطرے کی گھنٹی بج رہی ہے۔پاکستانی روپیہ لرز رہا ہے اور ٹیکسوں کے جمع ہونے کی شرح کم ہے اور پاکستان عالمی ’’گرے لسٹ‘‘ کی جانب بھی جارہا ہے۔ تعجب کی بات ہے کہ جب جب ملک میں انتخابات ہوئے ہیں ملک پر عالمی مالیاتی اداروں کا دباؤ بڑھا ہے۔ یہ معاملہ 1988 میں شروع ہوا تھا اور بعد میں 90 کے عشرے میں بھی جاری رہا۔ اور 2002 ، 2008 اور 20013 میں ملک کو بڑے پیمانے پر بیل آؤٹ کے لئے عالمی مالیاتی ادارے سے رجوع کرنا پڑا۔ اب 2018 کے انتخابات کے بعد بھی ملک شدید مالی بحران کے دہانے کھڑا ہے۔ 
عمران خان کیلئے ٹاسک مزید مشکل ہوگیا ہے کیونکہ پاکستان خود دو معاشی طور پر طاقتور ملکوں کے درمیان سینڈ وچ بن چکا ہے،چین جس کا بھاری قرضہ ہے اور آئی ایم ایف قلیل مدت کیلئے ہے۔ چین کے منصوبوں کا اثر تاحال ملکی معیشت کی ترقی پر پورے طور پر ظاہر نہیں ہوا ہے۔پاکستانی ماہر معاشیات کاکہنا ہے کہ عمران خان کی ٹیم کے پا س کو ئی چوائس نہیں ہے لیکن مانیٹرنگ فنڈ سے کئی ارب ڈالر بیل آؤٹ لینگے۔ اگر امریکا بیل آؤٹ روکتا ہے تو عمران خان کی نئی حکومت کو بڑے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ماضی کی حکومتوں کے خلاف عوامی بے چینی اور عدم اعتماد کی وجہ وعدوں اور ڈلیوری کے درمیان گیپ رہا ہے۔ تحریک انصاف اور اس کے لیڈر عمران کا وزن اصل میں نئی توقعات کی وجہ سے ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ اس سے بہت کچھ بدل جائے گا۔ اس کی تقاریر میں اچھی حکمرانی ، قانون کی حکمرانی بنیادی خدمات کی فراہمی غربت کا خاتمہ، انسانی وسائل کی ترقی اور معاشی بحران سے نکالنا ہے۔ 
ملک کا یہ بھی بہت بڑا مسئلہ ہے کہ ہر سال دس سے پندرہ لاکھ نوجوان جو ورک فورس میں شامل ہو رہے ہیں۔ جو معیشت میں ضم نہیں ہو پاتے۔ دوسری جانب اگر اشیاء خوردنی کی قیمتوں ، پیٹرول اور دیگر یوٹیلٹی کی قیمتیں کم نہیں ہوئی تو لوگ مایوس ہونگے ۔اگر نقصان میں چلنے والے سرکاری اداروں میں ملازمتیں ختم کی گئیں۔ ٹیکس سرگرم کلاس مثلاً تاجروں، پراپرٹی مالکان پر ٹیکس لاگو کیا گیا، پانی، بجلی اور گیس پر سبسڈی ختم کردی گئی، مرحلے وار ہی سہی، زرعی پیداوار مثلاً گنے وغیرہ کی قیمتیں عالمی منڈی کے برابر کی گئیں۔ ان اقدامات سے مستقل مفاد رکھنے والے متاثر ہونگے۔ لازمی طور پر وہ مزاحمت کریں گے۔ لوگوں میں بے چینی بڑھے گی۔ یہ بات سامنے آئے گی کہ یہ حکومت ماضی کی حکومتوں سے مختلف نہیں۔ 

مزیدخبریں