اب ہو گا حساب برابر
13 اگست 2018 2018-08-13

پاکستان کی 15 ویں قومی اسمبلی کے ارکان نے حلف اٹھا لیا ہے خوش گوار ماحول تھا۔ مگر نا خوشگوار مناظر بھی دیکھنے کو ملے۔ بھٹو خاندان اور پیپلز پارٹی کے ارکان کی باڈی لینگوئج پر اعتماد تھی۔ بلاول بھٹو جو پیپلز پارٹی کے چیئر مین بھی ہیں اپنے والد کے ہمراہ تھے یہ ان کی خوش قسمتی ہے کہ اب وہ اس قومی اسمبلی کے رکن بنے ہیں جہاں ان کے نانا ذوالفقار علی بھٹو اور نانی نصرت بھٹو اور والدہ بے نظیر بھٹو موجود رہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو اس اسمبلی میں سیاسی معرکے سر کرتے رہے۔ 1973 ء کا آئین اپوزیشن کے تعاون سے بنایا۔ آج بلاول کی آمد پر جیو بھٹو کے نعرے لگائے گئے مہمانوں کی گیلری ہیں آصفہ بھٹو اور بختاور بھٹو بھی موجود تھیں۔ ان کے ہمراہ سابق وزیر اعظم یوسف رضاگیلانی، رحمان ملک بھی تھے۔ اسمبلی میں سب سے زیادہ تجربہ والے سید نوید قمر اور سید خورشید علی شاہ بھی موجود تھے۔ سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف بھی تھے۔ فہمیدہ مرزا بھی تھیں۔ مسلم لیگ ن کے صدر شہباز بھی تھے مگر نہیں تھے تو نواز شریف جو ایک ایسے مقدمے میں سزا یافتہ ہو کر قریب ہی احتساب عدالت میں پیش ہوئے احتساب پر جب سوال اُٹھیں تو وہ احتساب نہیں ہوتا۔ مولانا فضل الرحمن، محمود اچکزئی، اسفند یار ولی، شاہد خاقان عباسی یہ تمام لوگ کیوں اور کیسے نہیں تھے۔ اس کا فیصلہ تو تاریخ کرے گی۔ کہ دھاندلی ہوئی یا نہیں۔ 80 ء ہزار سے زائد جو فارم 45 الیکشن کمیشن کی ویب پر موجود ہیں ان میں 90 فیصد ایسے ہیں جن پر پولنگ ایجنٹ کے دستخط نہیں ہیں۔
اس بات کا کیا یقین ہے جو کچھ فارم 45 میں ہے تھیلوں میں وہ ہے یا نہیں؟ مجھے اچھی طرح یاد ہے 2002 ء کے الیکشن میں مولانا معین الدین مرحوم اور ہمایوں اختر کے مقابلے میں سینیٹر اکرم کی کامیاب ہو گئے راتوں رات نتیجہ بدل گیا کھل کر دھاندلی ہوئی مگر اس بار خفیہ ہاتھوں نے فارم 45 کا تماشا لگایا ہر بار کہانی بدل جاتی ہے ۔ قومی اسمبلی کے اجلاس کی کارروائی پر امن رہی اچھا کیا حلف کا موقع تھا بڑا سنگ میل عبور ہو گیا جن قوتوں نے نواز شریف کو مائنس کیا ہے وہ اس حد تک تو کامیاب ہو گئیں کہ نواز شریف کو سبق دکھا دیا گیا یہ تو کل کی بات ہے کل بھی نواز شریف بکتر بند گاڑی میں تھا۔ جب نواز شریف کو ہائی جیک بنا کر سزا دی وہ بھی ایسا ہی سلوک تھا۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن میثاق جمہوریت کے با وجود کتنا فاصلے پر رہیں مگر انہیں یہ میثاق نہیں بھولتا۔ کپتان نے اپنی تقریروں میں زرداری سے دور رہنے کا وعدہ کیا مگر قومی اسمبلی کے اجلاس میں زرداری کپتان کے قریب سے گزر گئے۔ مگر کسی نے حال تک نہ پوچھا مگر گر مجوش بلاول کے لیے دکھائی کپتان کو معلوم نہیں بلاول اپنے والد کی سیاست کو فالو کرتے ہیں۔ اہم بات تو اختر مینگل نے کی ہے۔ جن لوگوں نے وعدے کیے ہیں ان کو وعدے یاد دلاتے رہیں گے۔ ایسا ہی کیا ہے بگٹی کے پوتے سردار عطا اللہ اور سردار اکبر بگٹی کے خاندان کے دو نوجوان کافی عرصے کے بعد قومی اسمبلی میں پہنچے ہیں۔ ایم کیو ایم کراچی کے لیے اپنا وزن ڈالتی رہے گی۔ اب حکومت کا سولو فلائٹ کرنا نا ممکن ہے۔ اپوزیشن کسی صورت میں وہ کام نہیں کرنے دے گی ۔ مارا ماری ہوتی رہے گی۔
اصل سوال تو یہ ہے جن لوگوں نے رات کی تاریخی میں فیصلہ کیا کہ کس کو روکنا ہے اور کس کو جانے دینا کپتان کو آگے لا کر دلدل میں دھکیل دیا ہے اب جمہوریت کے علمبرداروں کو یہ بات سوچنا پڑے گی کہ کسی صورت میں وہ اپنے درد کی دوا کسی نیم حکیم سے نہیں لینے جائیں گے واحد راستہ تو یہ ہے کہ میثاق جمہوریت کی پھر تجدید کی جائے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ سے کسی قسم کی مدد نہیں لیں گے قوم کا 21 ارب خرچ کرنے والا کمیشن کہتا ہے ہم سے مت پوچھو رزلٹ دینے والا سسٹم بیٹھ گیا ہے اس الیکشن کے آڈٹ کے بغیر کوئی کوئی اقتدار کا حق مانگتا ہے تو نہیں مل سکتا۔ 2002 ء کے الیکشن میں جب مشرف نے ’’ایل ایف او‘‘ اوپر حلف مانگا سپیکر الٰہی بخش سومرو نے یہ حلف نہیں دیا۔ آج مداخلت کے حوالے سے ایل ایف او سے زیادہ مداخلت ہو رہی ہے۔ احتساب کے نام پر جو احتساب ایک خاندان کا ہو رہا ہے وہ انصاف کے مروجہ اصولوں سے دور ہے توہیں عدالت پر عمران خان اور عامر لیاقت سے جو سلوک ہوا کافی سوال پیدا ہوتے ہیں۔ اپوزیشن غصے میں ہے حکومت کو چلنے نہیں دے گی۔ وعدے پورے نہ ہوئے تو اور لوگ بھی میدان میں آجائیں گے۔ آزادی صحافت کے نام پر ٹی وی چینلز نے نواز شریف حکومت کی جو کردار کشی کی اس کی مثال نہیں ملتی۔ایوب، ضیاالحق کے دور سے برا وقت میڈیا پر آچکا ، لوگوں کو انصاف نہیں ملتا ، سیاسی جماعتوں کو کنٹرول کب تک کیا جا تا رہے گا ۔ جو کام مشرف نے کیا تھا اب بھی ہو رہا ہے۔ مشرف نے کتاب میں تفصیل سے ذکر کیا ہے مشرف کی خود سری کی کچھ کہانی جنرل شاہد عزیز نے سنائی تھی ۔ مشرف دور میں بھی ایسا ہوا تھا۔ پیپلز پارٹی اور متحدہ مجلس عمل اکٹھے ہو گئے۔ وزیر اعظم کے انتخاب سے پہلے ان کو پوری کوشش سے الگ کیا گیا مگر 72 1 ووٹ کا ہندسہ پھر بھی سرکاری مسلم لیگ عبورنہ کر سکی۔ وزارتیں ہی نہیں ان کے نیب میں چلنے والے مقدمے بھی ختم ہو گئے۔ پھر جا کر پیٹرباٹ بنے تھے۔ ظفر اللہ جمالی پھر جا کر ایک ووٹ سے جیتے تھے۔ قومی اسمبلی کے ایوان میں نئی صف بندی ہو چکی ہے۔ اعداد و شمار کا کھیل حلف اٹھاتے ہی شروع ہو گیا۔ حلف اٹھاتے ہی تحریک انصاف اور اس کے اتحادی دس نشستیں کھو دیں گے۔ حلف سے پہلے صورت حال یہ تھی مخصوص نشستوں کے ساتھ تحریک انصاف کو خواتین کی 28 مسلم لیگ کو 16 ، پیپلز پارٹی کو 9 متحدہ مجلس عمل کو 2 نشستیں ملی ہیں۔ ستر میں سے تحریک انصاف کو 33 مسلم لیگ ن پیپلز پارٹی اور متحدہ مجلس عمل کو 32 نشستیں ملی ہیں۔ تحریک انصاف کا 342 کے ایوان میں سکور 158 تو ضرور بن گیا ہے مگر اسے فوری طور پر 8 نشستیں کھونی پڑین گی اور 2 نشستیں پنجاب میں رہنے کی وجہ سے پرویز الٰہی کو خالی کرنا پڑیں گی یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف پریشان ہے۔ ق لیگ کے 3 ، بلوچستان عوامی پارٹی کے 5 ، ایم کیو ایم کے سات گرینڈ الائنس کے 2 اور اختر مینگل کے 3 ارکان ملانے کے باوجود ہندسہ 172 تک نہیں پہنچایا۔ یہ معاملہ بھی حل ہو جائے گا کیونکہ جن لوگوں نے سب کچھ کیا ہے وہ یہ انتظام بھی کر لیں گے۔ سیاست کو بریک لگ جائے گی پارلیمنٹ کے اندر کافی مشکلات ہوں گی ماضی کا کھیل شروع ہو گا ۔ نیب کا ادارہ ڈرانے دھمکانے کے لیے موجود ہے ماضی میں بھی اس کا کردار ایسا ہی رہا ہے۔ یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ میڈیا کو کون کنٹرول کر رہا ہے۔ جن دو جماعتوں سے مدد نہ لینے کا کہا گیا ہے ان سے مدد لی جا رہی ہے۔ وزیر اعظم کا معاملہ تو مقابلے والا ہو گا ۔ سپیکر کا انتخاب خفیہ رائے شماری سے ہوتا ہے۔ تحریک انصاف کا ایک وفد ایاز صادق سے ملا ہے۔ معاملہ سپیکر کے انتخاب کا ہے ایاز صادق نے بتا دیا ہے معاملہ خفیہ رائے شماری کا ہے۔ وفد خورشید شاہ کے پاس گیا معاملہ یہی تھا سپیکر کا انتخاب تحریک انصاف کے لیے مشکل نہ بن جائے۔ خور شید شاہ وزیر اعظم کے مقابلے کے بر عکس سپیکر کے انتخاب میں کافی مضبوط ہیں۔ جس نے تحریک انصاف کو پریشان کر رکھا ہے۔ یہ بھی خدشہ ہے ایک دو ووٹوں کی کمی کو پورا کرنے کے لیے سینیٹ والا کھیل کھیلا جا سکتا ہے۔ 2018 ء کے انتخابات سوالیہ ہیں تو پھر دوسرے فریق سے بے ایمانی نہ کرنے کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے۔ ویسے تو سب ایک جیسے ہی ہیں خواتین کی مخصوص نشستوں کو دیکھیں۔
راجن پور کے خاندان سے تعلق رکھنے والی شیریں مزاری جن کی والدہ اور والد بھی رکن قومی اسمبلی رہے۔ پرویز ملک کا بیٹا مریم کے نا اہل ہونے سے قومی اسمبلی کارکن بن گیا وہاں پرویز ملک ہی نہیں ان کی اہلیہ بھی رکن بن گئی ہیں۔ رجب بلوچ کی اہلیہ قومی اسمبلی میں پہنچی ہیں وہاں خواجہ آصف کی اہلیہ اور بھتیجی 15 ویں قومی اسمبلی میں پہنچ گئی ہیں۔ پرویز خٹک قومی اسمبلی کا حلف اٹھا چکے ہیں ان کے ساتھ ان کی سالی اور بھتیجی نے قومی اسمبلی کا حلف اٹھایا ہے شفقت محمود نے قومی اسمبلی کا حلف اٹھایا ہے تو اسی اسمبلی میں ن لیگ سے تعلق رکھنے والی دو خواتین زیب جعفر اور مائزہ حمید جو ان کی قریبی رشتہ دار ہیں۔ حلف اٹھایا۔ ذکا اشرف کی ہمشیرہ اور جعفر اقبال کی اہلیہ سنیٹر چوہدری تنویر کی سمدھن عشرت جعفر صوبائی اسمبلی کی رکن بن گئی مریم اورنگ زیب اور ان کی والدہ نے بھی قومی اسمبلی کا حلف اٹھالیا ہے۔ یہاں تک کہ مریم نواز کی سیکرٹری ثانیہ عاشق سابق صدر پاکستان فضل الٰہی کی پوتی تاشفین صفدر بھی حلف اٹھانے والوں میں شامل ہیں۔ کچھ نہیں بدلا پرانے پاکستان کو ہی سنبھال لیں کافی ہے۔ لوٹوں کو ساتھ ملانے کے بعد جو وعدے کیے پورے کریں۔ چہرے ضرور بدل گئے ہیں کسی کی خواہش پر بدل گئے ہیں ایسا ہونا نہیں چاہیے ضیا الحق نے بھی تو پوری پیپلز پارٹی کی قیادت کو نا اہل کر دیا کیا آج پیپلز پارٹی قومی اسمبلی میں ختم ہو گئی۔ 2013 ء سے بہتر کارکردگی کے ساتھ موجود ہے مشرف نے ن لیگ کو 18 سیٹوں تک محدود کر دیا۔ آج بھی ن لیگ ایک کروڑ 30 لاکھ ووٹ لینے والی جماعت، غور کریں سمجھنے کے لیے کافی کچھ موجود ہے۔


ای پیپر