پاکستان۔۔۔قربانیاں،قیام اور استحکام !

13 اگست 2018

ساجد حسین ملک

اگست کا مہینہ آئے تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم اُن بے مثال قربانیوں کو بھول جائیں، ہم ہزاروں افراد کے تہہ تیغ ہونے کو بھول جائیں، ہم لاکھوں افراد کے اپنے گھروں سے بے دخل کیے جانے اور بے سرو سامانی کے عالم میں مہاجر بننے کو بھول جائیں، ہم بیاس اور ستلج دریاؤں کے کناروں پر بہنے والے خونِ ناحق کی ندیوں کو بھول جائیں، ہم بیل گاڑیوں اور چھکڑوں میں سوار اورپیدل چلنے والے لُٹے پُٹے قافلوں کو بھول جائیں ہم ریل گاڑیوں کے ڈبوں کے اندر اور چھتوں اور دروازوں کے ساتھ لٹکے ہوئے کٹے پھٹے اور زخموں سے چُور بے حال مسافروں کو بھول جائیں، ہم اِکتر سال قبل کے اِن دل دوز مناظر کو کیسے بھول جائیں جن کی جھلکیاں کبھی کبھار ہمیں اخبارات کے صفحات اور ٹی وی کی سکرینوں پر نظر آجاتی ہیں۔یقیناًہم ان مناظر کو نہیں بھول سکتے کہ ان کا تعلق اُس بے مثال جدوجہد سے ہے جو برصغیر جنوبی ایشیاء کے مسلمانوں نے اپنے عظیم قائد محمد علی جناح کی قیادت میں اپنے لیے ایک الگ خطِ ارض حاصل کرنے کے لیے کی ۔ یہ جدوجہد بلا شبہ عدیم المثال تھی۔
یہ ربِ کریم کا احسانِ عظیم تھا کہ اُس نے برصغیر جنوبی ایشیاء کے مسلمانوں کو انتہائی زوال اور انحطاط کے دور میں علامہ ڈاکٹر سر اقبال مرحوم اور قائد اعظم محمد علی جناحؒ جیسے صاحبِ بصیرت اور صاحبِ درد رہنما عطا کیے جو قوم کی ڈگمگاتی کشتی کو کنارے پر لانے کے لیے ناخُدا بن کر سامنے آئے ۔ اقبال جو کہ مفکر تھے ، جو ایک شاعر تھے جو دیدہِ بینا کے مالک تھے اور اپنی شاعری کے ذریعے مسلمانوں کو اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے کا پیغام مسلسل دے رہے تھے اور برصغیر جنوبی ایشیاء کے مسلمانوں کے قومی وجود کے تحفظ کے بارے میں سخت فکر مند رہتے تھے انہوں نے دسمبر 1930 میں اپنے خطبہ الہ آباد میں برصغیر جنوبی ایشیاء کے مسلمانوں کے جُداگانہ قومی وجود کو بنیاد بناتے ہوئے اُن کے لیے الگ ملک کا مطالبہ پیش کر دیا۔ علامہ اقبال ؒ کے خطبہ الہ آباد کو سامنے آئے دس سال ہی گزرے تھے کہ 23 مارچ 1940 کو برصغیر جنوبی ایشیاء کے مسلمانوں نے اپنے میرِ کارواں محمد علی جناحؒ کی قیادت میں منٹو پارک لاہور (موجودہ اقبال پارک) میں منعقدہ آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں قراردادِ پاکستان منظور کر کے ایک الگ آزاد مملکت کے حصول کو باضابطہ طور پر اپنا قومی نصب العین قرار دے دیا ۔ یہ میرِ کارواں کی پکار تھی ، یہ منزل کے تعین کا یقین تھا، یہ منزلِ مقصود کو پانے تڑپ تھی، یہ ایثار ، قربانی اور عزمِ راسخ کا اظہار تھا، یہ عزم و یقین اور قوتِ ایمانی کا اعجاز تھا کہ انگریز حکمرانوں کی شاطرانہ اور منافقانہ چالیں اور ہندو اکثریت کی مخالفانہ سازشیں دھری کی دھری رہ گئیں اور برصغیر جنوبی ایشیاء کے مسلمانوں کے لیے آزادی کا سورج 14 اگست 1947 کو ایک نئی آزاد مملکت کے قیام کی صورت میں طلوع ہوا۔ برصغیر جنوبی ایشیاء کے مسلمانوں کے الگ ملک حاصل کرنے کے مطالبے یعنی قیامِ پاکستان کے محرکات کے بارے میں جتنا بھی غور کیا جائے ، جتنی بھی چھان پھٹک کی جائے ، جس حوالے اور جس پہلو سے جانچا جائے،سیاسی محرکات کو سامنے رکھا جائے، معاشی اور اقتصادی اسباب کو بنیاد بنایا جائے، مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان فکری اور تہذیبی تصادم کو اہمیت دی جائے، مسلمانوں کی مذہبی رواداری اور وسعت نظری پیشِ نظر رکھی جائے اور ہندوؤں کی تنگ نظری پر نگاہ ڈالی جائے ، مسلمانوں اور ہندوؤں کی باہمی آویزشوں کا جائزہ لیا جائے، مسلمانوں کے ایک ہزار سالہ طویل دورِ حکمرانی کے اہم واقعات اور فتوحات پر نظریں دوڑائی جائیں اور اُن کی حکومت کے ختم ہونے کے اسباب کا جائزہ لیا جائے غرضیکہ کوئی بھی رُخ ہو ، کوئی بھی پہلو ہو اور کوئی بھی گوشہ ہو یہ حقیقت واضح طور رپر سامنے آتی ہے کہ مسلمانوں کی الگ قومیت، اُن کا الگ تمدن اور اُن کا جُداگانہ ملی او ر مذہبی تشخص جسے عرفِ عام میں دو قومی نظریہ یا نظریہ پاکستان کہا جاتا ہے وہ بنیاد ہے جس کے تحت انہوں نے ایک الگ مملکت کے حصول کو اپنی منزل قرار دیا۔ یہ کوئی معمولی اتفاق نہیں تھا کہ3 جون 1947 کو تقسیمِ ہند کے منصوبے کا اعلان ہوا تو وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے صرف اتنا ہی کہا کہ ہندوستان میں انتقالِ اقتدار 15 اگست تک کر دیا جائے گا۔ اُس وقت 14 اگست کی تاریخ کا تعین نہیں کیا گیا اور نہ ہی کسی کے وہم و گمان میں یہ بات تھی کہ 14اور 15 اگست 1947 کی درمیانی رات لیلۃ القدر ہو گی جو برصغیر جنوبی ایشیاء کے مسلمانوں کی آرزؤں اور تمناؤں کی تکمیل کی مبارک ساعت بنے گی ۔یقیناًیہ منشائے ربانی تھا کہ یہ خطہِ ارض جو اُس کے نام پر حاصل کیا جا رہا تھا اُس کا قیام لیلۃ القدر کی مبارک ساعتوں میں عمل میں آیا۔ 
پاکستان کے قیام کوتقریباً 7 عشرے ہو چکے ہیں یہ خطہِ ارض جو ہمارے خوابوں ، ہماری اُمنگوں اور ہمارے جذبوں اور ہمارے ولولوں کی سرزمین ہے اسے جسے ہم نے بے پناہ قربانیاں دے کر حاصل کیاہے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ قربانیوں کا یہ سلسلہ آج بھی ختم نہیں ہوا آج بھی ہمیں کئی طرح کی آزمائشوں کا سامنا ہے پاکستان کے دُشمن اس کو ہڑپ کرنے کے درپے ہیں۔سیاسی قوتیں اور سیاسی پارٹیاں عدمِ برداشت کا شکار ہیں اور منفی پراپیگنڈے کے بل بوتے پر ایک دوسرے کو نیچا دیکھانے کے درپے ہیں۔ اس کے ساتھ دہشت گردی، عسکریت پسندی، انتہا پسندی اور مذہبی شدت پسندی کے ناسور کو پوری طرح ختم نہیں کیا جاسکا ہے۔ نسلی، صوبائی اور علاقائی تعصبات بھی اپنی جگہ موجود ہیں۔ قومی اداروں میں اختیارات کا توازن بگڑا ہوا ہے۔ ملکی معیشت تنزلی کا شکار ہے۔ قرضوں کا بوجھ نا قابلِ برداشت ہو چکا ہے ۔ غرضیکہ ملک و قوم کو بہت سارے دیکھے اور اَن دیکھے مسائل، خطرات اور آزمائشوں کا سامنا ہے۔اِس پریشان کن صورت حال سے کیسے نبٹا جائے۔ یقیناًایک چیلنج ہے جس سے عہدہ برأ ہونے کا بوجھ 25جولائی کے عام انتخابات میں ملک بھر میں کامیابی سمیٹنے والی جماعت تحریک انصاف کے کندھوں پر آن پڑا ہے۔ اگلے چند دِنوں میں تحریک انصاف کے چیئرمین جناب عمران خان وزیر اعظم کا منصب سنبھال لیں گے۔ اللہ کریم سے التجا ہے کہ وہ اِن کے دورِ حکومت کو ملک و قوم کے لئے مبارک ثابت کرے ۔یہ مملکتِ خدادادِ پاکستان جو قریہ عشقِ محمدﷺ ہے اللہ کرے ترقی، خوشحالی، استحکام اور عدل و انصاف کی نئی منزلوں کو چھوئے اور صحیح معنوں میں ریاستِ مدینہ کا نمونہ ثابت ہو۔ پاکستان پائندہ باد۔

مزیدخبریں