71واں یومِ آزادی اورپاکستان میں اسلامی نظام کا خواب؟
13 اگست 2018 2018-08-13

14اگست2018کوپاکستان کی عمر71سال ہو جائے گی۔ہرسال کی طرح اس دن بھی پوری قوم آزادی کی 72 ویں سالگرہ منائے گی۔یقیناًیہ خوشی کادن ہے۔اس دن کوتاریخی اور یادگار بنانے کے لیے 20لاکھ سے زائد مسلمانوں نے اپنے خون کا نذرانہ پیش کیا۔تاریخ انسانیت کی ایک بڑی ہجرت اس دن کی خاطر کی گئی۔ آزادی کے اس دن کو دیکھنے کے لیے لگ بھگ ایک سو سال انتظار کرنا پڑا۔ قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں۔ماؤں بہنوں اور بیٹیوں کی عصمت دری کے اندوہناک سانحات برداشت کرنا پڑے۔بیوی بچوں،والدین اور رشتہ داروں کوآنکھوں کے سامنے ذبح ہوتے دیکھنا پڑا۔خون کی ندیاں عبور کرکے نیا ملک پاکستان بنانا پڑا۔پاکستان کی خاطر دی جانے والی ان قربانیوں کی داستان بہت طویل اور رولا دینے والی ہے۔ قربانیوں سے لبریز اس داستان کاصحیح اندازہ صرف وہی کر سکتاہے جس نے اس کے لیے خون کا نذرانہ پیش کیا۔سوال یہ ہے کہ آخر کس مقصد کے لیے اتنی قربانیاں دینا پڑیں؟ تاریخی حققیت یہ ہے کہ یہ قربانیاں صرف ایک ہی مقصد یعنی اسلام کی سربلندی کے لیے دی گئیں۔ان قربانیوں کا سب سے بڑا ہدف بھی دین اسلام پر مکمل عملداری کے لیے ایک ایسے ملک کا قیام تھا جہاں نہ صرف مسلمان آزادی کے ساتھ اپنے دینی فرائض اور واجبات پر عمل کرسکیں بلکہ دنیا میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے لیے بھی ایک آئیڈیل اسلامی معاشرے کا نمونہ پیش کرسکیں۔مگر بدقسمتی سے ان مقاصد اور اہداف پر 72سال گزرنے کے باوجود مکمل عملدرآمد ہوا ،نہ اس کیلئے کوئی خاطرخواہ اوربھرپور جدوجہد کی گئی ہے۔چنانچہ ہم آج بھی دیکھتے ہیں کہ نظریہ اسلام کے نام پر بننے والی جدید دنیا کی پہلی اسلامی ریاست پاکستان میں معاشی نظام سود پر قائم ہے۔ اسلامی ریاست پاکستان کے آئین کے دیباچے میں یہ لکھا گیا ہے کہ حاکمیت اعلیٰ اللہ کی ہوگی اور قرآن وسنت کے خلاف کوئی قانون پاکستان میں نہیں بنایاجائے گا،اسی طرح جو قوانین اسلام سے متصادم ہوں انہیں اسلامی بنایا جائے گا،مگر ہم دیکھتے ہیں حدوداللہ یعنی قصاص کے معاملے میں آج بھی صدرپاکستان کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ قاتل کو معاف کرسکتاہے،حالاں کہ اسلام کے مطابق قاتل کو معاف کرنے کا حق صرف ورثاء کو حاصل ہے۔اس کے علاوہ دیگر کئی قوانین ہیں جو شرعا اسلام کے متصادم ہیں،مگر انہیں اسلامیانے کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں بعض شدت پسندوں نے ان کوتاہیوں اور کمزوریوں کو سامنے رکھ کر ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھالیے،جس سے ملک میں شدت پسندی کو فروغ ملا،جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔سوال یہ ہے کہ شدت پسندوں کو موقع کس نے دیا؟یقیناًریاست پاکستان اور دین اسلام کی نمائندگی کرنے والوں نے۔اگر ریاست پاکستان ازخود یا اسلام کی نمائندگی کرنے والے ریاست پاکستان کو مجبور کرتے اور مسلسل جدوجہد کرتے تو غیراسلامی قوانین کو باآسانی 72سالوں میں اسلامی بنایا جاسکتاتھا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام کی نمائندگی کرنے والے علماء کرام 72سالوں سے ملک میں دین اسلام کی تعلیم وتبلیغ کے لیے کوشاں ہیں اور انہوں نے ملک میں اسلامی نظام کے قیام کے لیے وقتا فوقتاتحریکیں بھی چلائیں اور اب بھی ملک میں اسلام کے عملی نفاذ کے یہی سب سے زیادہ خواہاں ہیں،مگر 72سالہ تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو شروع میں اگرچہ اس کے لیے سنجیدہ جدوجہد جاری رہی جس کا نتیجہ 1973میں آئین پاکستان اور بعدازاں جنرل ضیاء ا لحق مرحوم کے دور میں اسلامی نظام کی عملی نفاذ کی کوششوں کی صورت نظرآتاہے ،لیکن گزشتہ تین دہائیوں سے ان کوششوں میں مزید کوئی پیش رفت ہوئی ،نہ اس طرف کوئی خاطرخواہ توجہ دی گئی،بلکہ گزشتہ تین دہائیوں سے اسلام کی نمائندگی کرنے والے علماء کرام نے اقدامی کوششوں کو بھلاکر دفاعی پوزیشن اختیار کررکھی ہے ،جسے حکمت ومصلحت نے مزید سرد کردیا ہے اور وہ اس پوزیشن سے اب پیچھے ہٹتے نظر آرہے ہیں۔اس کا اندازہ گزشتہ سال ختم نبوت حلف نامے میں تبدیلی کی مبینہ سازش کوسامنے رکھ کر کیا جاسکتاہے کہ کس طرح ختم نبوت پر ڈاکہ ڈالنے والوں کی سازش پر خاموشی برتی گئی،مجال ہے آج تک کسی نے سازشیوں کو بے نقاب کرکے عبرتناک سزادینے کا مطالبہ کیا ہو،بلکہ پارلیمنٹ کے اندر موجود" سیاسی علماء" نے اس سازش کو"اجتماعی گناہ" کا نام دے کر اصل مجرموں کو راہ فرار کا موقع دیا۔افسوس کی بات یہ ہے کہ ختم نبوت حلف نامے میں تبدیلی کرنے والے سازشیوں کو ابھی تک بے نقاب نہیں کیا گیا۔سابق وزیرقانون زاہد حامد کو اگرچہ وقتی طور پر قربانی کا بکرا بناکر قوم کو خامو ش کروادیاگیا،بعدازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی اس معاملے پر فیصلہ دیا،مگر اس میں بھی اصل ذمہ داروں کابالکل تعین نہ کیا گیا،نہ ہی راجہ ظفرالحق کمیٹی کی رپورٹ میں اصل ذمہ داروں کو متعین کیاگیا۔

بہرحال ماضی میں جو کوتاہیاں اور غلطیاں ہوئیں ان سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔بدقسمتی سے ہمارے ہاں پہلے تو غلطیوں کو تسلیم نہیں کیا جاتا،اگر تسلیم بھی کرلیا جائے تو ان کا ازالہ کرنے اور آئندہ ان سے بچنے کے لیے کوئی منصوبہ نہیں بنایاجاتا۔اس لیے ہمیں سب سے پہلے اس بری روش کو ختم کرنا ہوگا پھر سنجیدگی سے غورکرنا ہوگا کہ آخر72سالوں کے بعد بھی اسلام کے نام پر بننے والے ملک پاکستان میں مکمل اسلامی نظام کیوں نافذ نہ ہوسکااورکیسے ملک میں اسلامی نظام مکمل طورپر نافذ ہوسکتاہے؟۔مذکوربالا ماضی کے کچھ تلخ حقائق کے بعدہمیں مستقبل میں درپیش مشکلات کو سامنے رکھ کرشارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم منصوبے بناناہوں گے۔اس کے لیے ہمیں برادراسلامی ملک ترکی میں اسلام پسندوں کی کارکردگی سے سبق سیکھنا ہوگا کہ کیسے انہوں نے3مارچ1924ء میں خلافت عثمانیہ کے سقوط کے بعد کمال اتاترک کے سیکولرانہ نظام( جس نے ملک میں اذان اور دیگر شعائر اسلامی پر مکمل پابندی لگادی تھی) کو ملک سے ختم کیا۔ترکی میں اسلام پسندوں کی جدوجہد خلافت عثمانیہ کے سقوط سے شروع ہوئی جس میں 1950سے 1960تک عدنان مندریس، بعد ازاں 1960سے1999تک نجم الدین اربکان اور ان کے رفقاء کار کی جدوجہد کا ایک طویل سفر ہے۔اسلام پسندوں کی مسلسل کی جانے والی ان کوششوں کا ثمرہ2001ء میں رجب طیب اردوان کی حکومت کی صورت ملا جو گزشتہ 16سالوں سے ترکی کو اسلام کے سفر پر کامیابی کے ساتھ لے کر چل رہے ہیں۔ گزشتہ 16سالوں میں اردوان کی کامیابیوں کا رازدین اسلام سے مکمل کمٹمنٹ اور اس کے لیے لانگ ٹرم پالیسیاں ہیں۔چنانچہ اردوان نے رفتہ رفتہ ملک کے نظام میں تبدیلیاں کیں۔جدیدریاست کو چلانے کے لیے جن باصلاحیت اور ہنرمند افراد کی ضرورت تھی ان افراد کو تیار کیا گیا ،پھر انہیں آہستہ آہستہ نظام میں سیٹ کیا گیا۔ابھی تک اردوان اسی پالیسی پر گامزن ہیں،تبھی تو سولہ لگ گئے ،لیکن پھر بھی ترکی مکمل طورپراسلامی نظام میں ڈھل نہیں سکا۔شاید اس کے لیے مزید اتنا وقت یااس سے کم وقت درکارہو۔جب کہ اردوان کے ان 16سالوں کے لیے ترکی میں اسلام پسندوں نے تقریبا 70 سال سے زائد عرصہ محنت کی ،مظالم اور مشقتیں براداشت کیں۔ترکی میں اسلام پسندوں نے جتنی طویل جدوجہد کی پاکستان میں اتنی طویل جدوجہد کی ضرورت نہیں۔کیوں کہ یہاں کمال اتاترک کی طرح مسلط کیا گیا سیکولر نظام نہیں،یہاں کی عوام اور معاشرہ ابھی تک اسلام پسند ہیاور اسلام کو پسند کرتاہے۔چنانچہ یہاں مکمل اسلامی نظام کے لیے زیادہ وقت کی ضرورت نہیں ،بس سنجیدگی کے ساتھ غورفکرکرکیمستقل طورپر لائحہ عمل اپنانے کی ضرورت ہے۔اس کے لیے تین اہم ترین منصوبوں پر اسلام پسندوں کو کام کرنا ہوگا۔1 :تعلیم،2:میڈیا اور3:معیشت۔تعلیم کے ذریعے جدید ریاست کو چلانے والے ایسے باصلاحیت افراد تیار کرنا ہوں گے جن کے اندر حمیت اسلام اور نظریہ پاکستان راسخ ہو بھلے حلیے سے وہ جیسے بھی ہوں۔اسی طرح میڈیا کے ذریعے قوم کی ذہن سازی کرنا ہوگی ،ان کے اندر دین اسلام کی محبت اور حمیت پیدا کرناہوگی،دشمنان اسلام جس طرح میڈیاوار کے ذریعے قوم کے ذہنوں کو خراب کررہے ہیں اس سے قوم کو باخبر کرکے ان کے مقابلے کے لیے تیار کرناہوگا۔اسی طرح ان دونوں منصوبوں کو آگے بڑھانے کے لیے معاشی وسائل پیدا کرنا ہوں گے۔مادیت کو گالی سمجھ کر اس سے بھاگنا کوئی علقمندی نہیں،بلکہ مادیت ہی کو سب کچھ سمجھنا غلط ہے۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جہاں عالم دین ،داعی اور مبلغ تھے وہیں بڑے بڑے تاجر بھی تھے۔چنانچہ عشرہ مبشرہ میں سے پانچ صحابی حضرت ابو بکر صدیق، حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان، حضرت زبیر بن عوام، حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہم تاجر تھے۔امام ابوحنیفہؒ اور امام بخاریؒ جہاں عالم تھے وہیں بہت بڑے تاجر بھی تھے۔انڈونیشا،ملائیشیا وغیرہ میں اسلام کی آمد کا اصل ذریعہ مسلمان تاجر تھے۔افریقا کے 13ملک آج اسلامی ہیں جو مسلمانوں تاجروں کی مرہون منت ہیں۔اس لیے پاکستان میں اسلام پسندوں کو تعلیم،میڈیا کے ساتھ معیشت پر بھی توجہ دینا ہوگی۔جہاں علماء کرام تاجروں کے ذریعے بڑے بڑے مدارس چلارہے ہیں،وہیں ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے جدید ریاست کو جن باصلاحیت افراد کی ضرورت ہے ان کی تیاری اور میڈیا کے لیے لیے خود اور دیگر تاجروں کیساتھ مل کر کوشش کرنا ہوگی۔اگرچہ ان تینوں منصوبوں کے نتائج میں وقت لگے گا،لیکن اگر اسلام پسند ان تینوں منصوبوں پر پوری کمٹمنٹ کے ساتھ عمل کرنا شروع کردیں توآئندہ 10سے 20 سالوں میں پاکستان دنیا کی آئیڈیل اسلامی ریاست بن جائے گی،جہاں اسلامی نظام مکمل طور پر نافذہوگا۔یقینایہی وہ ریاست ہوگی جس کا خواب 72سال پہلے 20لاکھ سے زائد شہدا نے دیکھا تھا۔


ای پیپر