اہل ملتان نے اعلانِ آزادی کیسے سنا؟
13 اگست 2018 2018-08-13

کسی بھی شہر کواس کے ماضی میں جاکر دیکھناہمیشہ سے ایک دلچسپ موضوع رہاہے۔کون ساشہرآج سے 50برس قبل یا100برس قبل کیساتھا۔اس کے درودیوار کیسے تھے اوراس شہرکے باسیوں کامزاج،بودوباش اورطرز زندگی 50یا100برس قبل کیساتھا۔اسے کھوجنا ہمیشہ سے لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے۔ 50یا100برس کاحوالہ توہم نے برسبیل تذکرہ دیاہے وگرنہ شہروں کی سیکڑوں اورہزاروں سال پرانی تاریخ ہمیشہ سے تحقیق کرنے والوں کامحبوب موضوع رہی۔ہرسال جب بھی ہم پاکستان کاجشن آزادی مناتے ہیں ،ایک سوال ذہن میں ضرور ابھرتاہے کہ 1947میں جب پاکستان قائم ہوا اورجب یہ خطہ ایک آزادملک کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پرابھرا۔اس وقت ملتان کیسا تھا۔ یہاں کے لوگوں نے کیسے اس دن کومنایا۔وہ دن جب ہمیں غلامی سے نجات ملی ،وہ دن جب ہم نے پہلی بار آزاد فضا میں سانس لیا،جب زنجیریں ٹوٹیں توہزاروں سال پرانی تہذیب وثقافت کاامین ملتان کیسا تھا۔ اورآزادی کااعلان سنتے ہوئے یہاں کے لوگوں نے کیا محسوس کیا؟ ملتان کے بارے یہ کھوجنا اس لئے بھی دلچسپی کاباعث ہے کہ 5 ہزار سال کی معلوم تاریخ رکھنے والایہ شہر کوئی پہلی بار توآزادنہیں ہوا تھا۔ یہاں کئی حکمران آئے اور یہاں کے لوگوں پرحکمرانی کرکے چلے گئے۔ 947ء میں جب پاکستان کاقیام عمل میں آیا ملتان شہر کی آبادی جواب 18 لاکھ سے بھی تجاوز کرچکی ہے صرف 87394 نفوس پرمشتمل تھی جبکہ ضلع ملتان کی آبادی جو اب 45 لاکھ سے زیادہ ہے ایک لاکھ 35 ہزارتھی۔ ملتان شہرمیں مسلمانوں کی آبادی 56 فیصد اور ہندوؤں سمیت باقی مذاہب کے لوگوں کی 44 فیصد تھی۔ ملتان کی میونسپل کمیٹی کی آدھی نشستیں مسلمانوں اورآدھی ہندوؤں کے پاس تھیں لیکن ہم بات کا آغاز 1936ء کے نومبرکے مہینے سے کرتے تھے۔یہ وہ مہینہ ہے جب ملتان میں آل انڈیا مسلم لیگ کی پہلی شاخ قائم ہوئی۔آغازعزیزاحمد مرزااس کے پہلے ضلعی صدر اور سعید احمد شاہ بخاری ایڈووکیٹ جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے۔ دیگر عہدیداروں میں محمداکرم خان پراپیگنڈہ سیکرٹری اور ڈاکٹر عبدالستارحامد (جوبعدمیں ملتان کے معروف نیوز ایجنٹ رہے ) شامل تھے۔1939ء مسلم لیگ ملتان کی سرگرمیاں سعیداحمد شاہ بخاری کے گھر تک محدودرہیں جوگھنٹہ گھرکے عقب میں واقع تھا۔1939ء میں سید زین العابدین شاہ گیلانی مسلم لیگ میں شامل ہوئے تواس جماعت میں ایک تحرک پیداہوا۔زین العابدی شاہ گیلانی کو ملتان کابے تاج بادشاہ سمجھا جاتاتھا۔وہ مسلمانوں کے ایک مقبول لیڈرکی حیثیت سے جانے جاتے تھے اوران کی جماعت انجمن فدایان اسلام مسلمانوں کے حقوق کیلئے سرگرم تھی۔مسلم لیگ میں شمولیت کے بعدزین العابدین شاہ گیلانی نے انجمن فدایان اسلام کو بھی مسلم لیگ میں ضم کردیا۔اسی برس علی حسین شاہ گیلانی ،ولایت حسین شاہ گیلانی ،رحمت حسین شاہ گیلانی ،عبدالکریم قاصف اور مختار حسین شاہ گردیزی بھی مسلم لیگ میں شامل ہوگئے۔یہ سب لوگ بعدازاں پارٹی کے مختلف عہدوں پرفائزرہے اور تحریک پاکستان کے ہراول دستے میں ان کا شمار ہوا۔ 23 مارچ 1940ء کے تاریخی اجلاس سے قبل ملتان میں مسلم لیگ کے انتخابات میں سیدزین العابدین شاہ گیلانی کوپارٹی کاضلعی صدر منتخب کرلیاگیا۔ ملتان سے کارکنوں اوررہنماؤں کاجووفدلاہورکے تاریخی اجلاس میں شرکت کیلئے گیا اس کی قیادت زین العابدین شاہ گیلانی نے ہی کی تھی۔اس دوران ملتان میں مسلم لیگ سٹی کاقیام عمل میں آیا۔ان تمام رہنماؤں کی کوششوں کے نتیجے میں مسلم لیگ ملتان میں ایک مقبول جماعت کی حیثیت اختیار کر گئی۔ سٹی مسلم لیگ کادفترپْل شوالہ میں قائم ہو گیا اورپاک گیٹ ،کڑی افغاناں، مسجد ولی محمد ،سوتری وٹ ،قدیر آباد، بوہڑگیٹ ، لوہاری گیٹ کے علاقے مسلم لیگ کی سرگرمیوں کامرکزبن گئے۔وہ مسلم لیگ جوپہلے صرف ایک مکان تک محدودتھی اب اس کے جلسے بھی منعقدہونے لگے۔عام خاص باغ ،باغ لانگے خان اورعید گاہ گراؤنڈ مسلم لیگ کے جلسوں کاگڑھ بن گئے۔ان جلسوں میں مختلف شہروں سے بھی رہنماخطاب کیلئے آتے تھے۔ان رہنماؤں میں ممتازاحمد خان دولتانہ ،سردارشوکت حیات خان، عبدالستار خان نیازی ،عاشق حسین بٹالوی اور پروفیسر عنایت اللہ کے نام خاص طورپرقابل ذکرہیں۔ایم ایس ایف نے ایمرسن کالج کو(جوچوک کچہری میں اس جگہ قائم تھا جہاں اب گرلز یونیورسٹی موجودہے) سرگرمیوں کا مرکز بنایا۔ جیسے جیسے تحریک زورپکڑتی گئی ملتان میں جلسے جلوس شدت اختیار کر گئے۔ ہندوؤں اورمسلمانوں کے درمیان جھڑپیں ہونے لگیں ،کبھی بوہڑگیٹ اورکبھی چوک بازارمیں بلوہ ہوجاتا۔ایسی ہی ایک لڑائی کے دوران حسن پروانہ قبرستان کے عقب میں واقع سبزی منڈی کو نذرآتش کردیاگیا۔آگ کے شعلے شہرمیں دوردورتک دکھائی دیتے تھے۔ 25جنوری 1947ء کوپنجاب یونینسٹ حکومت کے خلاف عیدگاہ گراؤنڈ میں ایک بڑاجلسہ منعقد ہوا جس میں مسلم لیگ کے تمام عہدیدار شریک ہوئے۔جلسے کے بعد دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جلوس نکالاگیا۔ جس کے نتیجے میں مسلم لیگ کی ساری قیادت گرفتار ہو گئی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تحریک میں شدت آتی گئی۔ خواتین ،نوجوان اوربچے ،بوڑھے سب اس تحریک میں شامل ہوگئے اورپھر وہ تاریخ ساز لمحہ آیاجب پاکستان حقیقت بن گیا۔ 14 اگست کی شب جب ریڈیوسے پاکستان کے قیام کااعلان نشرہواتواس رات ملتان جاگ رہاتھا۔مختلف بازاروں اور محلوں میں لوگ یہ اعلان سننے کیلئے جمع تھے۔ایک شور تھاکہ جس میں کان پڑی آوازسنائی نہ دیتی تھی۔71 برس پہلے کے ملتان میں رات اس طرح نہ جاگتی تھی جیسے اب جاگتی ہے،لوگ آٹھ نوبجے گھروں کوچلے جاتے تھے۔بجلی ہر گھرمیں موجودنہیں تھی ،گلی محلے بہت ویران ہوجاتے تھے لیکن اس رات ویرانی نہیں تھی۔ لوگ گلیوں میں گھوم رہے تھے۔ 12بجے کا انتظارکررہے تھے۔اس تمام ترچہل پہل کے باوجود ایک خاموشی تھی۔انتظار کے لمحات تھے کہ جوگزرہی نہیں رہے تھے اورانتظارکرنے والوں میں عورتیں بھی شامل تھیں اوربچے بھی ،عورتیں بھی اپنے گھروں میں ریڈیوکے گردبیٹھی تھیں اور پھرجیسے ہی آزادی کا لمحہ قریب آیالوگ مختلف مقامات پر جمع ہوناشروع ہوگئے،بوہڑگیٹ ،پْل شوالہ ،سوتری وٹ،پاک گیٹ، لوہاری گیٹ ،کڑی افغاناں ،گھنٹہ گھر، چوک بازار میں ریڈیوکے گرد ہجوم بڑھنے لگااورپھروہ لمحہ آ گیاجب غلامی کی زنجیریں ٹوٹ گئیں۔ ریڈیوپاکستان کا نام سنائی دیا۔ایک خواب شرمندہ تعبیرہوگیا۔سناٹاختم ہو گیا وہ گلی کوچے جہاں چندلمحے پہلے خاموشی تھی ،پاکستان زندہ باد،قائداعظم زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھے۔آنکھوں سے آنسوچھلک پڑے۔خوشی کے آنسو،ان دکھوں سے نجات کے آنسو جنہیں ملتان کے باسی صدیوں سے جھیل رہے تھے۔لوگ ایک دوسرے سے گلے مل رہے تھے۔ دھرتی کے بیٹے اب دھرتی کے مالک بن گئے تھے۔وہ سراٹھاکر جینے کے قابل ہوگئے تھے۔اس رات آسمان پر چاند موجودنہیں تھاوہ اماوس کی ایک رات تھی مگرملتان ہی نہیں برصغیرکے تمام مسلمانوں کیلئے وہ رات اپنے دامن میں بہت سی روشنیاں سمیٹ کرلائی تھی۔دورکسی محلے میں ایک ڈھول بجا اورپھراماوس کی اس روشن رات میں زندگی جھومرڈالنے لگی۔


ای پیپر