ریاست مدینہ : عمران خان اور چند غلط فہمیاں
13 اگست 2018 2018-08-13

ریاست مدینہ کی بنیاد جس کتاب مقدس (قرآن مجید) کی تعلیمات پر جس ہستی(محمدؐ) نے کھڑی کی تھی۔ آج اس کتاب مجید اور شخصیت دونوں کے بارے میں مسلمانوں اور غیر مسلموں میں چند غلط فہمیاں ہیں جن کا دور کرنا ضروری ہے۔آج کے دور کا مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ قرآن مجید اللہ کی کتاب ہے۔ جو صرف مسلمانوں کے لئے نازل کی گئی ہے۔حا لانکہ یہ سوچ اور فلسفہ خود قرآن مجید کی تعلیمات کے خلاف ہے ۔قرآن کے نازل کر نے والے(اللہ) نے خوداس کتاب مقد س میں تا قیامت لکھ دیا ہے کہ یہ کتاب ،صحفہ ہدایت و رہنمائی تمام انسانوں کے لئے وحی کی گئی ہے۔لہذا مسلمان اس سوچ کو ذہن سے نکال دیں کہ قرآن مجید اللہ نے صرف ان کے لئے نازل کیا ہے۔ اسی طرح ان لو گوں کو بھی یہ سوچ ختم کرنا ہو گی جو قرآن مجید کو صرف مسلمانوں کا کتاب مانتے ہیں۔قرآن سے ثابت ہے کہ یہ تمام انسانوں کے لئے راہ عمل اور زادراہ ہے۔کتاب اللہ کی طرح مسلمانوں میں خاص کر اور دوسری مذاہب کے ماننے والوں میں عمومی طور پر اللہ کے آخری نبی محمد ؐ کے بارے میں یہ عقیدہ ہے کہ وہ صرف مسلمانوں کے نبی ہے۔حالانکہ یہی عقیدہ قرآنی تعلیمات کے بر عکس ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں وحی کر کے لکھ دیا ہے کہ محمد ؐ کو تمام انسانو ں کے لئے رحمت بنا کرمبعوث کیا گیا ہے۔اسی طرح قرآن مجید ہی میں اللہ کا ارشاد ہے کہ تمھارے لئے اگر کوئی ماڈل یعنی نمو نہ ہے تو وہ محمد ؐ کی ہستی ہے۔
اللہ نے خود فیصلہ کرکے واضح کر دیا ہے کہ قرآن مجید اور محمد ؐ صرف مسلمانوں کے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لئے ہے۔اس لئے مسلمانوں کو خا ص کر اور دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کو بھی اس غلط فہمی سے نکلنا چا ہئے کہ قرآن مجید اور محمد ؐ صرف مسلمانوں کے ہیں۔آج کل چونکہ مسلمانوں میں مسلک کی بنیاد پر مختلف فرقے بنے ہو ئے ہیں ،اس لئے ہر طر ف سے کفر کے فتویٰ بھی لگ رہے ہیں۔لہذا یہ وضا حت بھی ضروری ہے کہ مسلمان کو ن ہے؟قرآن مجید اور محمد ؐ کی تعلیمات کے مطابق ہر وہ شخص مسلمان ہے جو دل سے اللہ کی وحدانیت اور محمد ؐ کی رسالت کا تصدیق کر تا ہو،جبکہ زبان سے اس کا اقرار بھی کر تا ہو۔رہی بات گنا ہوں کی تو اس کی سزا اور جزا کے لئے قیامت کا دن اللہ نے یوم حساب کے طورپر مقرر کیا ہے۔ گناہ دو قسم کے ہیں۔صغیرہ اور کبیرہ ۔حقوق بھی دوطر ح کے ہیں۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد۔ قرآن مجید اور محمد ؐ کی تعلیمات سے واضح ہے کہ صغیرہ اور کبیرہ گناہوں کی سزا میں فرق ہے۔حقوق اللہ کے بارے میں بھی واضح احکامات ہیں۔حقوق العباد کا معاملہ ذرا اور بھی سخت ہے۔تاہم حقوق اللہ کے بارے میں فیصلہ یوم القیامت اللہ خود ہی کریں گے۔اللہ کی مرضی معاف کردیں یا سزا دیں۔اس میں کسی اور کا کوئی اختیار نہیں۔
اب جب یہ بات واضح ہو گئی کہ قرآن مجید اور محمد ؐ سب کے ہیں تو پھر اس سوال کا جواب بھی تلاش کر نا ضروری ہے کہ ریاست مدینہ کے ما ڈل کو کون قائم کر سکتا ہے اور کون نہیں؟مثال کے طور پر کوئی غیر مسلم ریاست مدینہ کے قیام کا دعویٰ کر سکتا ہے؟میرے خیال میں بالکل کرسکتا ہے ،اس لئے کہ قرآن مجید اور محمد ؐ غیر مسلموں کے بھی ہیں۔لہذا ریاست مدینہ جو تمام عالم کی فلاح کی ریاست تھی اس کے قیام کے لئے مسلمان ہونا ضروری نہیں۔
اب آتے ہیں ملکی حالات کی طر ف ،قومی انتخابات کے بعد مرکز میں اکثریتی پارٹی تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے پاکستان میں مدینہ ماڈل کے نفاذ کا اعلان کیا ہے۔لیکن کئی لوگ ان پر تنقید کر رہے ہیں۔خاص کر جو اپنے آپ کو مذہبی یا دینی طبقہ کہتے ہیں۔عرف عام میں آپ اسے علماء کرام یا مذہبی سیاسی جماعتیں ہی سمجھ لیں۔تو چلئے اس سوال کا جواب ڈھونڈ لیتے ہیں کہ کیا عمران خان کو ریاست مدینہ کے ماڈل کے نفاذ کا اختیار حا صل ہے؟میرے خیال میں قرآن مجید اور محمد ؐ کی تعلیمات میں کہیں بھی یہ قدغن مو جود نہیں کہ عام مسلمان ریاست مدینہ کے ماڈل کو نافذ نہیں کرسکتا۔نہ ہی یہ کہی پر لکھا ہوا ہے کہ گنہگار مسلمان اس ماڈل کے نفاذ سے دور رہیں اور نہ ہی کہی پر یہ لکھا ہوا ہے کہ مذہبی طبقہ ،دیندار افراد،علماء کرام یا دینی سیاسی جماعتوں کے علاوہ اور کوئی ریاست مدینہ کے ماڈل کو نافذ کرنے کا اختیار نہیں رکھتا۔
جب قرآن مجید اور محمد ؐ کی تعلیمات میں ایسی کوئی قدغن نہیں تو پھر کیوں اہلیاں جبہ ودستار عمران خان سے ایسا تو قع نہیں رکھتے؟اس سوال کا جواب تلاش کرنا بھی مو جودہ صورتحال میں ضروری بھی ہے اور لازم بھی۔قرآن مجید اور محمد ؐ کی تعلیمات میں یہ بات واضح ہے کہ اگر سلامتی چاہتے ہو تو پورے کے پورے دین میں داخل ہو جاؤ۔اس کے ساتھ یہ بھی ارشاد ہے کہ جو تم کر نہیں سکتے وہ کہہ کیوں دیتے ہو۔اب آپ خود ہی فیصلہ کر لیں کہ کیا عمران خان کی زندگی ان دو ایتوں سے مطا بقت رکھتی ہے؟اگر نہیں تو کیا اقتدار میں آنے کے بعد وہ پورے کے پورے اللہ کے دین میں داخل ہو جا ئیں گے؟ کیا وہ وہی کچھ کہیں گے جو وہ کریں گے؟
اگر صورتحال یہی ہو تو پھر ان کے لئے گنجائش مو جود ہے۔جی ہاں اللہ کا ارشاد ہے کہ وہ تمام گنا ہوں کو بخش دینے پر قادر ہے۔لیکن اگر وہ ایسا رویہ اختیار نہیں کر تے یا صورتحال اس کے برعکس ہو تو پھر بھی عمران خان سے کوئی یہ حق چھین نہیں سکتا کہ وہ ریاست مدینہ کے ماڈل کو نفاذ کرنے کی بات نہ کریں۔البتہ دو نقاط سمجھنے کی ضرورت ہے۔وہ یہ کہ اللہ نے شرک کے علاوہ ہر گناہ کو معاف کرنے کا وعدہ کیا ہے۔دوسرا یہ کہ قرآن سے استفادہ وہی لو گ کر سکتے ہیں جو متقی ہو۔جن کی چند ابتدائی خصوصیات اللہ نے سورت البقرہ میں بیان کی ہے۔
یہ بات بھی یا د رہے کہ اگر آپ غیر مسلم ہے اور مدینہ ماڈل قائم کرتے ہیں تو یہ آپ کے لئے دنیاوی زندگی میں نیک نامی کا سبب بن سکتا ہے، لیکن اخروی فلا ح یا نجات کا ذریعہ نہیں ،اس لئے کہ اخروی نجات کے لئے ایمان کا لانا فرض ہے۔نبی کریم ؐ کے چچا ابو طالب آپ ہی کے طرفدار تھے لیکن ایمان نہ لانے کی وجہ سے وہ اخروی نجات سے محروم ہے۔بہر کیف قرآن و سنت کی تعلیمات کی روسے ریاست مدینہ کے ماڈل کے نفاذ کے لئے کسی مذہبی سیاسی جماعت کا ہونا شر ط نہیں ،بلکہ عام مسلمان حتیٰ کہ غیر مسلم بھی مدینہ ماڈل کو نافذ کر سکتا ہے۔اس لئے کہ قرآن مجیدکی تعلیمات اور محمد ؐ کی سیرت صرف مسلمانوں کے لئے نمونہ نہیں بلکہ تمام انسانیت کے لئے قرآن کی تعلیمات اور محمد ؐ کی سیرت ماڈل اور نمونہ ہے لہذا جو کوئی بھی چا ہئے وہ اس ماڈل اور نمونے پر نہ صرف عمل کر سکتا ہے بلکہ اس کے قیام کے لئے جدوجہد بھی کر سکتا ہے۔


ای پیپر