پرانے پاکستان کا آخری 14 اگست

13 اگست 2018

آصف عنایت

70 سال مکمل ہوئے نہ جانے کیوں تحریک آزادی ہند کے سپاہی اس بار تو بہت یاد آئے سر سید سے لے کر قائداعظمؒ اور اُن کے ساتھیوں تک حتیٰ کہ بھگت سنگھ بھی! بلکہ ہٹلر بھی جس سے جنگ کے دوران گورے نے ساتھ دینے کی شرط پر ہمیں آزادی کا وعدہ کیا وعدہ کے حوالے سے میرے سینئر وکیل خواجہ جاوید کہتے تھے اگر گورے کے پاس ایک جنرل ضیاء ہوتا تو کبھی آزادی نہ ملتی کیونکہ نوے دن موت تک چلتے !کبھی میں سوچتا ہوں کہ ہندوستان اور پاکستان تو 14 ، 15 اگست 1947ء کو آزاد کر دیئے گئے کیا یہ دن کشمیریوں کی غلامی اور اُن پر مظالم کے نئے دورکا آغاز تھا۔ صحیح کہتے ہیں کہ تحریک پاکستان حصول پاکستان سے زیادہ پر خلوص اور حسین تھی کشمیر کو دیکھا جائے تو تحریک پاکستان ابھی باقی ہے اور اُن حالات میں باقی جب 1947ء میں آزاد ہونے والے وطن عزیز کا بڑا حصہ الگ ملک بنگلہ دیش بن چکا۔ جس کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے کہ یہ سانحہ کیوں کر ہوا؟ وہ قومیں کبھی آگے نہیں بڑھتیں جو اپنی تاریخ کو مسخ کرتی ہیں تاریخ ہی مستقبل کے درست فیصلے کرنے میں لیبارٹری ثابت ہوا کرتی ہے ہمارے ہاں تاریخ کے ساتھ کھلواڑ بھرپور ڈھٹائی کے ساتھ ہوا اور حال میں بھی ایسا ہی ہے۔ دانشور جانبدار، مسیحائی اور مذہب کاروبار بن چکے۔ پاکستان میں پیدا ہونے والے مہاجر قومی موومنٹ بناتے رہے اور جالندھر میں پیدا ہونے والے ڈکٹیٹر 11 اور 9 سال حکومت بھی کرتے رہے اور لسانی ، علاقائی ، مذہبی اور جہادی تنظیمیں بھی بناتے رہے۔ 
وطن عزیز کی آزادی تو سیاست دانوں اور عوام کی قربانیوں اور تاریخی قربانیوں سے ہوئی مگر 33 سال حکومت ڈکٹیٹروں نے کی۔ دنیا بھر میں سیاسی قتل ہوا کرتے ہیں جیسے گاندھی، کینیڈی، ابراہم لنکن لیکن ان کے قتل کسی ادارے،حکومتی یا بین الاقوامی سازش کا نتیجہ نہ تھے۔ جیسے ہمارے ہاں جناب لیاقت علی خان، جناب ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کامعاملہ رہا۔ 
مسز لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی وجہ سے تقسیم ہند نہرو کی خواہش کے قریب تر ہوئی چلیں جیسی بھی ہوئی اور دنیا کا بدترین گھٹیا ترین ملک ہماری ہمسائیگی میں آ گیا۔ اعتزاز احسن کہتے ہیں ہندوستان برا ہمسایہ تھا مگر دشمن اس کو فوج نے بنایا برا ہمسایہ ہو اور دشمن نہ ہو ایسا کبھی ہوا نہیں، سازشوں اور قانون کی عدم بالادستی کی شروعات تو جنرل گریسی کی قائداعظمؒ کے حکم کی خلاف ورزی سے شروع ہوئی جو قائد نے اُس کو کشمیر کی آزادی کی تکمیل کے لیے فوجوں کو حکم دینے کے لیے کہا تھا مگر گریسی نے حکم نظر انداز کیا سازش سازش اور سازش یہی وطن عزیز کی نمایاں تاریخ رہی۔ انصاف کی دستیابی کا یہ عالم رہا کہ حمید گل کے ساتھ مل کر ایک مقبول ترین کرکٹر کو سیاسی جماعت کانام ہی تحریک انصاف رکھنا پڑا۔ تحریک پاکستان سے ہماری تاریخ تحریک انصاف میں داخل ہونے جا رہی ہے۔دیکھیے یہ 14 اگست پرانے پاکستان کا آخری 14 اگست ثابت ہو گا یا وہی مشروب بوتل بدل کر بیچا جائے گا۔ وطن عزیز میں پاک فوج کی بے مثال قربانیاں ہیں، قابل فخر کردار ہے، لاجواب ادارہ اور باکمال لوگ ہیں۔ دوسرے اداروں کی کارکردگی کے معدوم یا منفی ہونے کی وجہ سے احساس ہوتا ہے یا کم از کم نئی نسل اور بچے عوام اور سیاستدانوں کی قربانیوں اور حکمت عملی کے نتیجے میں یاد رکھے جانے والے تاریخی تہوار 23 مارچ ، 14 اگست وغیرہ بھی افواج پاکستان کے تہوار سمجھے جاتے ہیں۔ یہ ساری ابتری محض اس وجہ سے آئی کہ ہمارے سٹیک ہولڈرز کا مزاج ہی اُس ادارے کا قانون بن گیا عدلیہ کی تاریخ میں جسٹس رستم خان کیانی دکھائی دیتے ہیں جو قانون کی حکمرانی کے پاسبان رہے ورنہ تو ہر دور میں عدلیہ کا کردار چیف جسٹس کے تابع رہا ہے جسٹس ڈوگر، جسٹس چوہدری افتخار، موجودہ چیف جسٹس اور ان کے درمیان آنے والے جسٹس صاحبان کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ چپڑاسی سے لے کر صدر مملکت تک ہر کوئی قانون اور آئین نہیں اپنے مزاج کے تابع ذمہ داری انجام دیتا رہا۔ آئین و قانون کی عدم پاسداری کی وجہ سے ستر سال میں ہماری قوم ستر ٹکڑوں میں ہوئی ۔ نفرت، منافقت، ریا کاری، گالی اور ڈنڈا ہتھیار بن گئے۔ ان حالات میں قوم تعویز گنڈے کرنے والوں کے چکروں میں پڑ گئی، عدالت میں مقدمہ ہے کیا بنے گا؟ فلاں مسئلہ ہے کیا ہو گا جبکہ باقی دنیا میں بھی جرائم ہوتے ہیں ہم سے زیادہ ہوتے ہیں لیکن عام آدمی کو پتا ہوتا ہے کہ قانون یہ ہے لہٰذا فیصلہ یہ ہو گا۔ انصاف کی عدم دستیابی (انصاف سے مراد صرف عدالتی نہیں معاشی، سماجی ، سیاسی اور معاشرتی انصاف بھی ہوتا ہے۔ اگر معاشی، معاشرتی، سماجی، اخلاقی انصاف ہو تو عدالتی انصاف کی ضرورت بہت کم رہ جاتی ہے)نے دکھیوں کو توہم پرست بنا دیا، تعویذ گنڈے والوں کے پیچھے لگا دیا۔ اس کاروبار میں اتنے بہروپیے آئے کہ جناب مفتی عبدالخالق، جناب قبلہ انجینئر آصف مجید جناب قبلہ مقصود احمد بٹ، مولانا حسن صاحب، جناب باوا نسیم اعوان صاحب جیسے حقیقی صاحب تصوف تک کم لوگ پہنچ پائے۔ ہماری معاشرت میں ذمہ داری کو ذاتی طاقت میں بدل دیا گیا۔کرپشن کے خلاف بنائے گئے ادارے خود کرپٹ ہو گئے اور خود ساختہ درخواستوں کے ذریعے حکومتی محکموں کے افسروں اور اہلکاروں کو خوب لوٹا گیا، کیا کبھی احتساب کا نعرہ لگانے والوں نے سوچا کہ احتساب کرنے والوں کا احتساب کون کرتا ہے؟ کوئی نہیں کیونکہ ان اداروں کو طاقتور اس لیے بنایا جاتا ہے کہ مخالفین کو کچلا جائے مگر وہ مخالفین کو کچلنے کے ساتھ ساتھ اپنے الگ روزگار کا بندوبست کرتا ہے اُن کی دسترس میں آنے والے محکمے اُن کے لیے چراہ گاہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ رویوں، شخصیات ، پالیسیوں ، اخلاقیات میں تضاد اور کھلا تضاد ہمیں ستر سالوں میں جو دے گیا اللہ کرے نئی حکومت اُن دکھوں کا مدادا بن سکے اب تو تینوں بڑے سٹیک ہولڈرز ایک پیج پر ہوں گے مگر عددی طور پر زیادہ نظر آنے والی اپوزیشن میں شامل راہنما گڑھی خدا بخش کے قبرستان کو ذہن میں لا کر زرداری اور بلاول بھٹو جبکہ قیدی نواز شریف اور قیدی بھتیجی کے ہوتے ہوئے اپوزیشن کرنے کا تجربہ نہ رکھنے والے شہباز شریف اپوزیشن نہیں کر پائیں گے بلکہ اتحاد ہی قائم رہنا مشکوک ہے۔ یہ اپوزیشن مقدمات میں لتھ پت ہے بڑی نہیں بلکہ کمزور ترین اپوزیشن ہے۔ لہٰذا الٹا سیدھا اب کی بار سب حکومت کا ہے اب یہ حکومت سوچے کہ وزیراعظم ہاؤس کی بجائے عام گھر میں رہ کر نیا وزیراعظم سکول کی فیسوں اور ڈاکٹروں کی فیسوں میں کمی لا سکے گا۔ عام آدمی گھر بنا پائے گا، بنیادی ضرورتیں پوری ہو پائیں گی۔ کوئی عام آدمی اپنے گھر میں کمرے کی کنڈی لگا کر بھی خوف کے بغیر سو پائے گا محکمہ جاتی ڈکٹیٹر شپ ختم ہو پائے گی، ڈاکٹروں کی غفلت جرائم کے زمرے میں آئے گی ۔ نجی ٹی وی چینلز پر ذاتی یا سیاسی رائے کی بجائے عوام کی رائے سننے کو ملے گی اگر نہیں تو پھر یہ سب کیا کہلائے گا؟ اقتدار کے پہلے 100 دن کا ایجنڈا پورا ہو گا کہ نہیں امید کی جانی چاہیے کہ اگلے 14 اگست کو بشرط زندگی ہم نئے پاکستان میں داخل ہو چکے ہوں گے نہ کہ پرانے پاکستان کے لیے کہتے پائے جائیں گے کہ تیری یاد آئی نئے پاکستان کے بعد۔

مزیدخبریں