دو قومی نظریہ قیام پاکستان کی بنیاد بنا
13 اگست 2018 2018-08-13

میں اس بات پر جتنا بھی شکر اور فخر کروں کم ہے کہ الحمد اللہ میں سچا اور مخلص پاکستانی ہوں۔ پاکستان میری شناخت، میری پہچان ہے اور دنیا بھر میں میرا مان بھی ہے۔ پاکستان سے میرا وہ رشتہ ہے جو کسی کا اپنے گھر سے ، اپنے خاندان سے ، اپنے ماں باپ سے ہوتا ہے۔ اور مجھے فخر ہے کہ یہ شناخت خود میں نے اور میرے آباء و اجداد نے بڑی قربانیوں کے بعد حاصل کی۔ اس کو برقرار رکھنا اور اس کو مزید بڑھاوا دینا میرے اور میرے خاندان کیلئے اتنا ہی اہم ہے جتنا میرے لئے میرا گھر، میرا خاندان۔ 

14 اگست 1947 کو انگریزوں اور ہندوؤں کی سازشوں اور پر زور مخالفت کے باوجود پاکستان ظہور میں آیا۔ جنوبی ایشیاء کے مسلمانوں نے حضرت قائد اعظمؒ کی قیادت میں قیام پاکستان کیلئے بے شمار اور عظیم قربانیاں دیں۔ لاکھوں مسلمانوں نے اس مقصد کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ قیام پاکستان کا منظر راقم الحروف نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ۔

انگریزوں نے چونکہ مغل مسلم حکمرانوں سے اقتدار چھینا تھا اس لئے وہ کسی صورت بھی پاکستان کا قیام نہیں چاہتے تھے۔ اس لئے انگریزوں کی سرتوڑ کوشش تھی کہ برصغیر میں پاکستان قائم نہ ہو۔ اس طرح ہندو بھی یہی چاہتے تھے کہ ہندوستان کی تقسیم نہ ہو اور نہ ہی پاکستان بنے۔ اس لیے انگریز اور ہندو پاکستان کے قیام کی راہ میں روڑے اٹکار رہے تھے۔ لیکن آفرین ہے قائد اعظم کی فراست اور تدبر پر کہ انہوں نے انگریزوں اور ہندوؤں کی اس سازش کو بخوبی بھانپ لیا اور انہوں نے عزم کر لیا کہ وہ مسلمانوں کیلئے اپنی زندگی میں ہر صورت پاکستان قائم کر کے دم لیں گے۔ یوں اللہ تعالیٰ نے جنوبی ایشیاء کے مسلمانوں کی دعائیں سن لیں اور بابائے قوم کے خلوص اور انتھک محنت کے باعث 14 اگست 1947، 27 رمضان المبارک یعنی شب قدر کے مبارک موقع پر پاکستان دنیا کے نقشے پر ظہور پذیر ہوا۔

اس وقت کی کانگریسی قیادت گاندھی، پنڈت نہرو اور پٹیل کا خیال تھا کہ پاکستان زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکے گا۔ کانگریس کی قیادت نے قیام پاکستان کو دل سے قبول نہیں کیا۔ کانگریس، پنڈت نہرو، اندرا گاندھی، لال بہادر شاستری اور نرسہماراؤ کی قیادت میں پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف رہی اور اس نے پاکستان کو نقصان پہنچانے اور اسے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کیلئے کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ 

مملکتِ خدا داد پاکستان، مسلمانان برصغیر کی عظیم جدوجہد اور لاکھوں جانوں کی قربانیوں کے نتیجے میں معرضِ وجود میں آیا۔ علامہ اقبال ؒ کا خواب اور قائد اعظمؒ کا تصورِ پاکستان ایک ایسی آزاد مملکت کا قیام تھا جو خود مختار ہو، جہاں حقیقی جمہوری نظام قائم ہو، معاشی مساوات، عدل و انصاف، حقوقِ انسانی کا تحفظ، قانون کا احترام اور اَمانت و دیانت جس کے معاشرتی امتیازات ہوں۔ جہاں حکمران عوام کے سامنے جواب دہ ہوں، جہاں فوج آزادی و خود مختاری کی محافظ ہو، جہاں عدلیہ آزاد اور خود مختار ہو اور جلد اور سستے انصاف کی ضامن ہو۔ جہاں کی بیورو کریسی عوام کی خادم ہو،جہاں کی پولیس اور انتظامیہ عوام کی محافظ ہو۔ الغرض یہ ملک ایک آزاد، خود مختار، مستحکم، اِسلامی، فلاحی ریاست کے قیام کے لئے بنایا گیا تھا، لیکن آج ہمارا حال کیا ہے؟ ہم کہاں کھڑے ہیں؟

حقیقت میں پاکستان کا قیام بابائے قوم حضرت قائداعظم کی فراست، تدبر، خلوص اور دور اندیشی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ 40 کی دہائی میں قائد اعظم کی صحت روز بروز بگڑ رہی تھی کیونکہ انہیں تپ دق کی بیماری لاحق تھی۔ قائد اعظم اور ان کے معالج نے اس مرض کا راز افشا نہ ہونے دیا کیونکہ قائد اعظم اس سے بخوبی واقف تھے کہ اگر ڈاکٹروں اور انگریزوں نے مسلمانوں کے خلاف اپنی سازشیں جاری رکھیں تو پھر شاید پاکستان دنیا کے نقشے پر کبھی نمودار نہ ہو سکے گا۔ چوہدری رحمت علی کے بقول Now Or Never کے مطابق پاکستان کا قیام فوری عمل میں آنا چاہیے ورنہ پھر کبھی بھی پاکستان نہ بن سکے گا۔ 

قیامِ پاکستان کے وقت برصغیر پاک و ہند میں مسلمان ایک قوم کی حیثیت رکھتے تھے اور اْس قوم کو ایک ملک کی تلاش تھی جب کہ آج 70 برس بعد ملک موجود ہے مگر اِس ملک کو قوم کی تلاش ہے۔ 1947ء میں ہم ایک قوم تھے، اللہ رب العزت کی مدد و نصرت ہمارے شاملِ حال ہوئی اور اْس قوم کی متحدہ جد و جہد کے نتیجے میں ہمیں یہ ملک ملا۔ ابھی 25 برس بھی نہیں گزرے تھے کہ ہم نے باہمی اِختلافات کے باعث آدھا ملک کھو دیا۔ آج آدھا ملک موجود ہے مگر کس قدر دکھ کی بات ہے کہ قوم مفقود ہے۔ اب جب کہ ہماری قوم منتشر ہو چکی ہے، یہ کروڑوں اَفراد کا بے ہنگم ہجوم بن چکا ہے، ہماری قومیت گم ہوگئی ہے، محبت کا جو جذبہ ہم اپنے بچپن اور جوانی کے دور میں دیکھا کرتے تھے وہ بھی ناپید ہوگیا ہے؛ ہم دوبارہ اس قوم کو وحدت میں پرونا چاہتے ہیں۔ ہم اس ملک کو مسلمانوں کی اْمیدوں کے مطابق بنانا چاہتے ہیں لیکن اس کے لیے ہمیں کچھ جرات مندانہ کام کرنے پڑیں گے اور کچھ احتیاطیں برتنی پڑیں گی۔ ہمیں سنجیدہ ہو کر اس ملک میں جاری نظام کو تبدیل کرنا ہوگا۔ کیوں؟ اس لیے کہ پاکستانی قوم کو بے شعور بنا دیا گیا ہے۔ اِنصاف اس وقت مقتدر طبقات کی لونڈی ہے، جمہوریت ان کی عیاشی ہے، اِنتخاب اِن کا کاروبار ہے اور عوام ان کے غلام ہیں۔ 5 سال کے بعد انہیں استعمال کیا جاتا ہے۔ جمہوریت کے نام پر جو کچھ اس ملک میں ہو رہا ہے یہ کسی طرح بھی جمہوریت نہیں ہے۔ نہ یہ حقیقی نظامِ اِنتخاب ہے اور نہ ہی اس طریقے سے کبھی تبدیلی آئے گی۔

آزادی ایک بہت بڑی نعمت ہے 14۔ اگست 2018ء کو ہم پاکستان کی 71 ویں سالگرہ منائیں گے مگر افسوس 71سال گزرنے کے باوجود ہم اپنی قومی زبان اردو کو سرکاری زبان کا درجہ نہیں دلا پائے۔ ہم نے آزاد قوموں جیسا طرز عمل اپنایا ہی نہیں ہم آج بھی فکری طور پر غلام ہیں۔ ہمارے نوجوانوں کی آنکھوں میں ماسکو ،پیرس اور مغرب کے رنگین نظارے بسے ہوئے ہیں جبکہ حکمران لندن اور واشنگٹن کی چوکھٹ پر ماتھا ٹیکنے کو اپنے اقتدار کی ضمانت سمجھتے ہیں۔ ہزارخامیوں کے باوجود پاکستان میں ایک ایسا طبقہ بھی موجود ہے جو وطن عزیز کی ترقی و خوشحالی اور سلامتی و استحکام کی خاطر دن رات مصروفِ عمل ہے۔ آج اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم اور اسی محب وطن طبقے کی بے لوث کاوشوں کی بدولت پاکستان ملت اسلامیہ کی پہلی اور دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت ہے۔ پاکستان کے الخالد،الضرار ٹینک اور جے ایف تھنڈر طیارے دنیا میں اپنی ایک منفرد پہچان رکھتے ہیں۔ ہماری بہادر افواج نہ صرف فضاؤں بلکہ سمندر کی گہرائیوں اور ارضِ پاک کے چپے چپے کی حفاظت کرنا بخوبی جانتی ہیں ہمارے حتف،شاہین اور غوری میزائل دشمن پر ہیبت طاری کیے ہوئے ہیں۔

آج پاک فوج کی کمان ایک ایسے سپہ سالار کے ہاتھ میں ہے کہ جو وطن عزیز کی حفاظت کی خاطر اپنی جان ہتھیلی پر لئے پھرتا ہے۔ قا ئد اعظم محمد علی جناح سے حد درجہ محبت کرنے والے اور علامہ اقبال کی ‘‘عقابی روح ’’ کے حامل یہی لوگ ہی اس پاک دھرتی کی سالمیت و بقا کے ضامن اورپاکستان کا سرمایہ و افتخار ہیں۔

پاکستان ہرگز ایک معمولی حیثیت رکھنے والا ملک نہیں ہے۔ پاکستان کا خواب علامہ اقبالؒ نے دیکھا، اسے معرض وجود میں لانے کیلئے مسلمانان برصغیر نے لاکھوں شہدا کا خون دیا، اس کی فکری اور نظریاتی اساس کلمے پر رکھی گئی۔ ہمیں پھر سے وہی قائد اور علامہ والا پاکستان چاہیے اس کیلئے اس ملک کے ہر ذی روح کو صرف اور صرف وطن عزیز کی خاطر سوچنا ہوگا۔


ای پیپر